Voice of Asia News

تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دیا جائے ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکے چیف مارکیٹنگ آفیسر عدنان علی طور کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو:محمد قیصر چوہان

ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکا شمار تعمیراتی کے شعبے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اپنی چھت کے عوامی خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں یہ ادارہ تعمیراتی صنعت میں رول ماڈل کے طور پر نمایاں ہونے کیلئے پرعزم ہے۔ جو اراضی کو تعمیر کر کے عوام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا سلوگن ’’ ایڈوانس دیں ،گھر لیں اور کرایہ نہیں قسط دیں ‘‘ ہے۔ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کا مشن پندرہ سے تیس ہزار روپے کرایہ دینے والے افراد کو ان کا اپنا ذاتی گھر دینا ہے۔گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیاء‘‘ نے ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکے چیف مارکیٹنگ آفیسر عدنان علی طور سے ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے
سوال: عدنان بھائی آپ تعمیرات کے شعبے سے کب اور کس طرح منسلک ہوئے؟
عدنان علی طور: میں نے اپنے چند مخلص دوستوں سے مشاورت کے بعد تعمیرات کے شعبے کو اپنایا ہے۔ ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکا نام تعمیراتی صنعت میں اعتماد سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ ہمارے تمام پروجیکٹس اپنے مقررہ وقت پر تعمیر ہوئے اور لوگوں کو بروقت قبضہ ملا اور اسی وجہ سے لوگ آج ہمیں اچھے رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکی فہرست میں شامل کرتے ہیں اب تک کسی کو بھی ہم سے کوئی شکایت نہیں ہے۔بلکہ لوگ ہمارے ہر پروجیکٹس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ متعلقہ محکموں میں بھی جا کر معلوم کریں گے تو آپ کو کسی قسم کی شکایت سننے کو نہیں ملے گی۔
سوال: مستقبل کے حوالے سے ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کی کے پلاننگ ہے؟
عدنان علی طور: مہنگائی کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ اس وجہ سے بہت تنگ ہیں اس لیے ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کا ارادہ ہے کہ اپنے ہم وطنوں کو سستی رہائش فراہم کی جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک ’’لوکاسٹ ہاؤسنگ‘‘ پروجیکٹس شروع کیا ہے ۔اس پروجیکٹ کا نا م ملک کے معروف اسٹیج اداکار اکرم اُداس کے نا م سے الاکرم ٹاؤن ہے ۔جو رنگ روڈ ایسٹرن بائی پاس ،سیالکوٹ لاہور موٹروے انٹرچینج سے چار سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سوال:جناب! سستے مکانوں کی تعمیر کیلئے کیا آ پ کوحکومت کا تعاون حاصل ہے ؟
عدنان علی طور: جی نہیں! آج تک ڈیوزارئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزنے حکومتی اشتراک سے کبھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ البتہ ہمارااپنا جو پروگرام ہے ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ اگر حکومت غریب لوگوں کو چھت فراہم کرنا چاہتی ہے تو لو کاسٹ ہاؤسنگ کالونیاں بنانے کیلئے زمین دے ہم اس میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے سستے معیاری مکانات بنا کر دیں گے۔
سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس میں کنسٹرکشن کے میٹریل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو کس طرح اس مہنگائی کے دور میں آپ سستے مکانات بنا کر دیں گے؟
عدنان علی طور:دیکھئے! اس میں سب سے اہم چیز زمین ہوتی ہے۔ زمین سستی ہے تو رہائش مہنگی نہیں ہو گی۔ اس میں میٹریل کے حوالے سے بہت سی چیزیں دی ہوئی ہیں جن میں ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے مگر زمین کی قیمت زیادہ ہو تو مشکل ہو جاتی ہے۔
سوال:شہر کے اندر رہائشی منصوبوں کے حوالے سے آپ کا اتنا کام دکھائی نہیں دیتا اس کی کیا وجہ ہے؟
عدنان علی طور:جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا کہ شہر میں زمینیں بہت قیمتی ہیں اس لیے ممکن نہیں کہ شہریوں کی رینج کے مکانات بنا کر دیئے جائیں کیونکہ وہ تو پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ البتہ حکومت نے شہر میں بلند عمارتوں کی تعمیر کیلئے بھی قانون سازی کی ہے اور اس کے بعد آپ دیکھیں شہر کے مضافاتی علاقوں میں کثیر منزلہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس نئے رجحان سے ہم رہائش گاہوں کی قلت پر قابو پا لیں گے۔ مسئلہ صرف بجلی و پانی کا ہے اگر ایک پر قابو پا لیا جائے تو یہ صنعت بہت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے اور اس سے دیگر بہت سی صنعتوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ اب تک جتنے بھی منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں ان میں جنریٹر کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی اب سولر انرجی سسٹم پر غور کیا جا رہا ہے امید ہے کہ اس نظام کے ذریعے ہم بجلی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اس میں بھی ایک مسئلہ ہے کہ یہ مہنگا بہت ہے۔ لیکن پھر بھی اس بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔ یقیناًکوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔
سوال: آپ کے تعمیر کردہ منصوبوں کو دیگر رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکے منصوبوں سے کس طرح کمپیئر کیا جا سکتا ہے؟
عدنان علی طور: ہمارے پروجیکٹ اور دیگر رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزکے پروجیکٹس میں سب سے اہم انفرادیت یہ ہے کہ یہ اپنے وقت پر اور یقینی طور پر تعمیر ہو گا بلکہ اس حوالے سے تو ہم نے زیادہ تر تعمیراتی کاموں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ ہمارے پیچھے پیچھے اور ہم آگے آگے بھاگتے دکھائی دیں اور دوسری بات یہ کہ ہم شفاف کاروبار پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنا پروجیکٹ ایسے لوگوں کو فروخت کریں جو سرمایہ کار نہ ہوں۔ کیونکہ اکثر سرمایہ کار واجبات کی ادائیگی میں مسائل پیدا کر دیتے ہیں اور آخر تک پریشان کئے رکھتے ہیں۔ ہمارا یہ پروجیکٹ دیگررئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کے منصوبوں سے سستا ہے جب کہ معیار کے اعتبار سے بھی کسی سے کم نہیں ہو گا۔ یہ پروجیکٹ رہائشی اور کاروباری طرز کا مکس منصوبہ ہے جس میں وہ تمام سہولیات موجود ہوں گی جو آج کے جدید منصوبوں میں موجود ہونی چاہئیں۔ اس میں رہائشی حصہ تک پہنچنے کیلئے بالکل الگ راستہ دیا گیا ہے۔ منصوبہ پانی جدت اور وسعت کے باعث لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے کافی ہے جب کہ اس معیار کا انتہائی مناسب قیمت میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہو گا۔
سوال:رئیل اسٹیٹ شعبے کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
عدنان علی طور: جس ملک میں امن و امان کا مسئلہ ہو وہاں معیشت کو زنگ لگنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ملک میں بد امنی اور سیاسی خراب صورتحال کے باعث اس صنعت میں پہلے جیسی تیزی نہیں رہی ہے۔ اب تو زمینوں پر قبضے تو معمول بن چکے ہیں۔ ہر جگہ مارا ماری ہے۔ کوئی بھی اپنا پیسہ پھنسانا نہیں چاہتا۔
سوال:رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزاوربلڈرزکے حوالے سے یہ شکایت عام ہے کہ وہ منصوبہ جان بوجھ کر تاخیر سے مکمل کرتے ہیں اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
عدنان علی طور: ایسا بالکل نہیں ہے۔ بلکہ 90 فیصد ڈویلپرزاوربلڈرز اچھے کام کرنے والے ہیں۔ 10 فیصد ایسے ڈویلپرزاوربلڈرزبھی ہیں جن کے پروجیکٹ سرمائے یا پھر دیگر وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں ڈویلپرزاوربلڈرز کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اپنے منصوبے کو مکمل کرے، پروجیکٹ کی بروقت تکمیل میں بلڈر کا فائدہ بھی ہے اور نیک نامی بھی جو اس کے بزنس کو مزید فروغ دیتی ہے۔ منی بجٹ اور مہنگائی بھی پروجیکٹ کی تعمیر میں تاخیر کا باعث ہوتا ہے۔ پروجیکٹ کی ریکوری نہ آنے سے بھی تعمیراتی کام تعطل کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات پروجیکٹ مکمل نہیں ہو پاتے ڈویلپرزاوربلڈرز کے ڈیفالٹ کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اب ڈویلپرزاوربلڈرز پہلے پیسے لے کر اور فنڈنگ کا انتظام کر کے پروجیکٹ کا اعلان کرتا ہے۔ بعض اوقات این او سی متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے حاصل کرنے کے باوجود بھی پروجیکٹ سیاسی صورتحال کی نظر ہو جاتا ہے اور ایسے قوانین نکال لئے جاتے ہیں جس سے پروجیکٹ کا کام تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس سے بلڈر کا تو نقصان ہوتا ہی ہے مگر الاٹیز کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پروجیکٹ کی این او سی میں بھی دو سال سے زائد عرصہ لگ جاتا ہے ایسا سسٹم ہونا چاہیے کہ اگر ٹائٹل کلیئر ہو، کاغذات مکمل ہوں تو 15 دنوں میں این او سی جاری کر دینی چاہیے تاکہ پروجیکٹ کو مارکیٹ کیا جا سکے پھر کوئی اعتراض قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
سوال: قبضہ مافیا کی کارروائیوں سے تعمیراتی صنعت کس حد تک متاثر ہوئی ہے
عدنان علی طور: مافیا نے تعمیراتی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آج سرمایہ کاری ہوئی تو کل قبضہ کر لیا جائے۔ ملک کے دیگر شہروں کی نسبت کراچی میں زمینوں پر قبضے کے واقعات کے شرح زائد ہے۔ ہاؤسنگ پروجیکٹ میں عوام کے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے الاٹیز کو چاہیے کہ وہ پروجیکٹ کی اشتہاری مہم پر بھروسہ کرنے کے بجائے پروجیکٹ کی این او سی ضرور دیکھیں اور جب اطمینان ہو جائے تو پروجیکٹ میں بکنگ کرائیں۔ لوگوں کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ لگانے کے فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ اگررئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرزاوربلڈرز کو مائنس کر دیا جائے تو ملک میں بلڈنگز ہوں گی اور نہ ہی ہاؤسنگ سکیمیںآئیں گی، لوگ فٹ پاتھوں پر رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
سوال:رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت پر ملکی سیاست کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے ؟
عدنان علی طور: تعمیراتی صنعت سیاسی صورتحال پر سب سے زیادانحصار کرتی ہے۔ سیاسی استحکام، مضبوط معیشت اور امن و امان کی تسلی بخش صورتحال تعمیراتی صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا بھر میں گولڈن، فارن کرنسی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، اس کے برعکس پاکستان میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو زیادہ منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران بد امنی کے واقعات نے تعمیراتی صنعت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں جس سے تعمیراتی صنعت میں سرمایہ کاری بھی کسی حد تک متاثر ہوئی ہے۔میڈیا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ٹاک شوز کو میدان جنگ بنانے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کریں اور حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے تاکہ عوام میں خوف پیدا نہ ہو۔ تعمیراتی صنعت کو سیاسی عدم استحکام اور بد امنی کے بڑھتے واقعات نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ سیاسی عدم استحکام بد امنی کے بڑھتے واقعات کے نتیجے میں پاکستان سے سرمایہ کاری ملائیشیا، سنگاپور، دبئی سمیت دیگر ممالک میں منتقل ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے وہاں کوئی بھتہ مافیا نہیں۔ بیرونی ممالک میں سہل طریقہ کار اور سرمایہ کار دوست پالیسی مرتب کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحاان غالب ہے۔ اگر ملک میں حالات سازگار ہوں تو پاکستان سے سرمایہ کاری کیونکر منتقل ہو۔ سرمایہ کاری پرُ امن ماحول سے مشروط ہے۔پاکستان کی معاشی، سیاسی اور امن و امان کی صورتحال میں بدسطور بہتری آ رہی ہے ۔پاک فوج نے ’’آپریشن ردُالفساد‘‘ شروع کر رکھا ہے اس کی کامیابی سے نوجوان نسل کو محفوظ پاکستان ملے گا،آپریشن ردُالفساد کے ذریعے پاکستان میں فساد برپا کرنے والے فسادیوں کا خاتمہ جاری ہے ۔پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان میں جلد ہی امن کا سورج طلوع ہو گا۔ پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے ’’آپریشن ردُالفساد‘‘ کی وجہ سے ملک بھر میں دہشت گردی کرنے والی تنظیموں ، گروہوں،ان کے سہولت کاروں ، سرپرستوں اور مالی مدد گاروں کا قلع قمع ہورہا ہے۔
سوال:تعمیراتی صنعت کی ترقی کیلئے حکومتی کردار کے بارے میں کیا کہیں گے؟
عدنان علی طور: دنیا بھر میں رئیل اسٹیٹ میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس جانب خاص توجہ نہیں دی جاتی یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ڈویلپرزاوربلڈرز نے ہی اس صنعت میں سب سے زیادہ کام کیا اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کئے۔ گورنمنٹ سیکٹر نے تعمیراتی صنعت میں زیادہ کام نہیں کیا۔ حکومت چاہیے تو غریب آدمی کے ذاتی گھر کا خواب بآسانی پورا کر سکتی ہے۔ حکومت پرائیویٹ پبلک پارٹیز شپ کے تحت ہاؤسنگ سکیمیں متعارف کرائے۔ نجی شعبہ کے ساتھ جوائنٹ وینچر بھی کرے، سستی ہاؤسنگ سکیموں کیلئے ملک بھر میں زمین کی کمی نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے غیروں سے اُمیدیں باندھنے کے بجائے بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنے وطن میں سرمایہ کاری کرنے کی جانب راغب کیا جائے ملک میں امن ہو تو بیرون ملک مقیم سمندر پار پاکستانیوں کی کثیر تعداد اپنے وطن میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کیلئے تیار ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ ان کا سرمایہ اور جان محفوظ ہے۔
سوال: صارفین کو متوجہ کرنے کیلئے اشتہارات میں بہت بڑھ چڑھ کر اور کچھ چیزوں کو تکنیکی انداز میں مناسب کر کے پیش کیا جاتا ہے ایسا کیوں ہے؟
عدنان علی طور: دیکھئے جی! ہم کسی کو دھوکہ نہیں دیتے لیکن اشتہارات کی تکنیکی تو صرف متوجہ کرنے کیلئے ہوتی ہے جب بھی صارف سائٹ پروزٹ کیلئے آتا ہے تو ایک ایک چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے۔ البتہ یہ کہاجا سکتا ہے کہ کچھ ڈویلپرزاوربلڈرز ایسے بھی ہوتے ہیں جو دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں لیکن اس حوالے سے آباد کارروائی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ محکمے نے خاصی چیزوں کی پابندی عائد کی ہے۔ تاکہ کوئی عوام کو دھوکہ نہ دے سکے۔ ویسے ہم ہر ایک بات اپنے صارف کو ابتدا میں ہی واضح کر دیتے ہیں کیونکہ اب الاٹیز بہت باشعور ہو چکے ہیں وہ ان معاملات کو پکڑ لیتے ہیں جن میں دھوکہ ہو۔ ہماری تو ہر چیز صاف ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔
سوال: ڈویلپرزاوربلڈرز مختلف قسم کے منصوبے متعارف کراتے رہتے ہیں لیکن پارکنگ پلازہ جیسا کوئی منصوبہ اب تک متعارف نہیں کرایا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟
عدنان علی طور: ویسے توہرڈویلپرزاوربلڈرزاب اپنے منصوبے میں پارکنگ کی جگہ کافی کھلی رکھتا ہے۔ تاکہ اس کے صارفین کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے باقی رہی بات پارکنگ پلازہ کی تو اس بارے میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ کوئی بھی ڈویلپرزاوربلڈرزانفرادی طورپر اس طرح کے منصوبے میں ہاتھ نہیں ڈالے گاکیونکہ ایک تو یہ لانگ ٹرم منصوبہ ہے اور دوسرا یہ کہ مہنگا ترین پروجیکٹ ہوتا ہے۔ ہاں البتہ اگر حکومت تعاون کرے تو اس طرح کے منصوبوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت شہر میں جگہیں فراہم کرے تو یہ کام آسان ہو جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ بلڈرز سے 10 سالہ یا اس سے کم و بیش مدت کے معاہدے کرے زمین فراہم کرے جس میں بلڈر معاہدے کے مطابق اس عمارت سے فائدہ حاصل کرتا رہے پھر اسے واپس حکومت کیلئے سپرد کر دے تو پھر اس سہولت کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سوال: منصوبوں کی بروقت تکمیل نہیں کی جاتی اور الاٹیز پریشان گھومتے رہتے ہیں، ایسا کیوں ہوتاہے؟
عدنان علی طور:عمومی طور پر یہی بات بیا ن کی جاتی ہے کہ ڈویلپرزاوربلڈرز کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے جبکہ الاٹیز کی وجہ سے بھی بعض منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ صارفین بروقت ادائیگی نہیں کر پاتے بسا اوقات متعلقہ محکموں کی وجہ سے یا پھر حالات کی خرابی وغیرہ بھی تاخیر کا سبب ہوتی ہے۔ لوگ بھی اپنے فائدے کے لیے فلیٹس بک کراتے ہیں جب قیمت چڑھ رہی ہوتی ہے تو قسطیں بھرتے ہیں جونہی قیمتیں گرتی ہیں تو بہانوں سے فائلیں واپس کر کے اپنے پیسے واپس مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا میں کھل کر ذکر نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آباد ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کر رہا ہے جو الاٹیز کو پریشان کرتے ہیں۔ ویسے بھی آباد اس وقت کارروائی کرتا ہے جب کسی الاٹیز ی جانب سے شکایت موصول ہوتی ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں تعمیراتی شعبے میں مزید جدید رجحانات متعارف کرانے کیلئے کس قسم کے اقدامات کئے جانے چاہئیں؟
عدنان علی طور: دیکھئے موجودہ وقت میں پہلے ہی جدید رجحانات کو اپنایا گیا ہے لیکن اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اس کیلئے میرے خیال میں ایک بین الاقوامی تعمیراتی کانفرنس منعقد کی جانی چاہیے جس میں اس شعبے سے تعلق رکھنے والی عالمی شخصیات کو مدعو کیا جائے اور آئیڈیاز کا تبادلہ کر کے ملک کو فائدہ پہنچایا جائے۔ ویسے تو ہم بیرون ممالک جاتے ہیں اور وہاں کی تعمیراتی صنعت کا جائزہ بھی لیتے ہیں لیکن اگر کانفرنس کی طرح کی تقریب منعقد کی جائے تو یقیناًاس کا بہت فائدہ ہو گا۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہم نے مارکیٹنگ اور ڈیزائننگ میں نئے اسٹائل اپنائے ہیں جو ہمارے اپنے تجویز کردہ ہیں چونکہ ہمارے ہاں ریسرچ و رک کافقدان ہے اس لیے ہمیں خاطر خواہ نتائج نہیں مل پاتے۔ البتہ بین الاقوامی سطح پر پیش ہونے والے انداز سے آئیڈیاز لینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر ازخود اس پر تخلیق کرتے ہیں۔
سوال: اب تک اس شعبے کو صنعت کا درجہ نہیں دیا جا سکا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تعمیراتی امور پر اس کا کچھ اثر پڑتا ہے؟
عدنان علی طور: جی بالکل! اگر اس شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیاجائے تو یقیناًاس سے اس شعبے کے حالات کافی بہتر ہوں گے اور متعلقہ حکومتی ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر کے لوگ اس شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے مزید اقدامات کریں گے۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ اسے جلد ہی صنعت کا درجہ دے دیا جائے تاکہ اسے سہولیات حاصل اور کام کی رفتاری میں تیزی آئے۔ اگر اس شعبے کو ترقی ملتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے وابستہ دیگر بہت سی صنعتوں میں بھی تیزی آئے گی اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور سرمایہ کاری بھی آئے گی۔
سوال: عموماً عوام ڈویلپرزاوربلڈرز پر یقین نہیں کرتے تو اس صورتحال میں آپ نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے کہ لوگ آپ پر اعتماد کریں؟
عدنان علی طور: جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ہم اپنے اس پروجیکٹ کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور ہم نے اس کی بھرپور تشہیر کرنے کے بجائے کام پر توجہ دی ہے تاکہ ایک مکمل چیز دیکھ کر عوام کا ہم پر اعتماد قائم رہے اور ہمیں بھی کام کرنے میں مزہ آئے۔
سوال: آپ کے نزدیک کا میا بی کا راز ؟
عدنان علی طور: سخت محنت، صاحب کردار ہونا اور نظم و ضبط، کامیاب زندگی کے یہ تین اصول ہیں، زندگی میں شکست عارضی ہوتی ہے، فتح منزل کے حصول کا دوسرا نام ہے پاکستان کے عوام، نوجوان اور ملک میں پوٹینشل موجود ہے صرف مخلص، ایماندار، اور خوف خدا رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے جو اس ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔میں پاکستان کی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ ملک کے وسیع ترمفاد میں پاکستان کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام امن رواداری اور انسانیت کا مذہب ہے ہمارے دین کے روشن خیال اقدار کی اساس قرآن کے احکامات اور ہمارے بزرگوں کی شاندار روایات ہیں جوامن و آشتی اور اعتدال پسندی کو فروغ دیتی ہیں عوام یہ عزم کریں کہ وہ روشن خیال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کریں گے اور اقوام عالم اور مختلف تہذیبوں اور تقافتوں کے درمیان باہمی مفاہمت اور احترام کو فروغ دیں گے کیونکہ ہم امن پسندقوم ہیں ہماری خواہش ہے کہ ہم عزت وقار، خوشحالی اور ترقی کی بنیادوں پر اپنی زندگی بسر کریں اور ان مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہیں تاکہ پاکستان میں امن و استحکام کی فضا پیدا ہو جس سے عوام کی سماجی اور معاشرتی ترقی ممکن ہوسکے۔
سوال: آپ قوم کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
عدنان علی طور: ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ نعمتیں دی ہیں۔ اس ملک کے اندر دنیا کی ذہین ترین قوم رہ رہی ہے۔ پھر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل سے بھی خوب مالا مال کیا ہے۔ یہاں پٹرول ، ڈیزل، گیس، کوئلہ اور دریا ہیں۔ یہاں زبردست قسم کی قیمتی معدنیات ہیں۔ زرخیز زمین ہے۔ یہاں دنیا کا بہترین دریائی نظام ہے چاروں موسم ہیں۔ یہ بہت بڑی نعمتیں ہیں بہت بڑی دولت ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان تعلیم میں پیچھے ہے، صحت میں پیچھے ہے، پاکستان غریب اور پسماندہ ہے، پاکستان غلام ہے۔ امن و امان نہیں ہے، مستقبل خطرناک نظر آرہا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے، ناہل، غدار،چور اور بددیانت قیادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غریب پیدا نہیں کیا ہے۔ عوام اگر اپنے ووٹ کی قوت اور طاقت کو امانت اور دیانت سے استعمال کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ طاقت پاکستان کو بدل سکتی ہے۔ یہ پاکستان کے مستقبل کو سنوارسکتی ہے۔ میری یہ درخواست ہے کہ پانچ سال کے اندر پاکستان ایشین ٹائیگر ہی نہیں، اگر دیانتدار قیادت کو یہاں حکومت کا موقع مل جائے۔قوم سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ دیانتدار قیادت کوآگے لائیں ان کی پشتیبانی کریں۔تعلیم، صحت، ترقی، لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات اور بد امنی اور غلامی سمیت ساری لعنتیں کرپٹ اور مفاد پرست لیڈر شپ کے تحائف اور کڑوے کسیلے پھل ہیں ، یہ سب ختم ہو جائیں گے اور پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا۔
سوال: آپ نئے گھر بنانے والوں کوکیا پیغام دینا چاہیں گے؟
عدنان علی طور: میں یہ کہوں گا کہ صرف ڈویلپرز اوربلڈرز ہی نہیں بلکہ صارفین کی جانب سے بھی ڈویلپرز اور بلڈرز کو کافی مسائل کا سامنا ہوتا ہے اس لیے ہم سب کو اپنی اپنی جگہ شفاف معاملات کرنے چاہئیں تاکہ کام میں تاخیر اور بدمزگی پیدانہ ہو۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے ملک میں کام کروں تاکہ میرا ملک معاشی طور پر مضبوط ہو اور میرے لوگوں کو روزگار مہیا ہو۔ اپنے تمام ہم وطنوں کو یہی سوچ اپنانے کا پیغام دوں گا تاکہ دنیا بھر میں ہمارا بہتر تشخص قائم ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے