Voice of Asia News

پاکستانی سمندری حدود کی محافظ پاک بحریہ :تحریر: محمد قیصر چوہان

گوادر کے راستے ہونے والی نقل و حمل کا تحفظ پاک بحریہ کا اہم ترین مشن ہے
پاک بحریہ (Pakistan Navy) پاکستان کی بحری حدود اور سمندری اور ساحلی مفادات کی محافظ ہے۔ یہ پاکستان کی دفاعی افواج کا حصہ ہے۔ پاک بحریہ(نام رپورٹنگ: PN) پاکستان کی دفاعی افواج کے بحری جنگ وجدل کی شاخ ہے۔ یہ پاکستان کی 1,046 کلومیٹر (650 میل) لمبی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اور اہم شہری بندرگاہوں اور فوجی اڈوں کے دفاع کی ذمہ دار ہے۔ پاک بحریہ 1947 ء4 میں پاکستان کی آزادی کے ساتھ ہی وجود میں آئی۔ بحری دن 8 ستمبر 1965ء کو پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پاک بحریہ پاکستان کی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت میں ملکی اور غیر ملکی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ پاکستان کے دفاع کے لیے پاک بحریہ کا موجودہ اور بنیادی کردار ہے۔ اکیسویں صدی میں پاک بحریہ نے محدود بیرون ملک آپرشنز کیے اور پاکستان انترکٹک پروگرام کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاک بحریہ جدت و توسیع کے مراحل سے گزر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے۔ 2001ء سے پاک بحریہ نے اپنی آپریشنل گنجائش کو بڑھایا اور عالمی دہشت گردی، منشیات سمگلنگ اور قزاقی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری میں ت?زی لائی۔ 2004 میں پاکستان نیٹو مشترکہ ٹاسک فورس CTF۔150 کا رکن بن گیا۔ پاکستان کے آئین کے تحت صدر پاکستان پاکستانی مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے۔ چیف آف نیول اسٹاف (CNS) جوکے چار ستارے والا ایڈمرل ہوتا ہے پاک بحریہ کا سربراہ ہوتا ہے جس کو وزیر اعظم پاکستان صدر پاکستان سے مشاورت کے بعد مقرر کرتا ہے۔ چیف آف نیول اسٹاف سویلین وزیر دفاع اور سیکرٹری دفاع کے ماتحت ہوتا ہے۔
مسلح افواج کی ریکونسٹوشن کمیٹی نے ہندوستانی بحریہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا۔ پاک بحریہ کو 2 سلوپ، 2 فریگیٹس، چار مانیسویپر، دو بحری ٹرالر ، چار بندرگاہ لانچز اور 358 اہلکار ملے جن میں 180 ٹیکنیکل افسران اور 34 ریٹنگ اہلکار تھے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کو 200 آفسرزاور 300 سیلرز ملے۔ جن میں کموڈور ایچ ایم ایس چوہدری سینئر ترین آفسر تھے۔ پاک بحریہ کے سامنے کافی اہلکاروں، آپریشنل اڈوں کی کمی کے علاوہ ٹیکنالوجی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کسی عفریت کی طرح کھڑے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ کامیابیاں پاک فوج کا مقدر بنتی گئیں اور آج الحمد اللہ پاک بحریہ کے پاس 63 بحری جہاز اور 101 ایئر کرافٹس ہیں۔ پاک بحریہ کے فعال ملازمین کی تعداد 25000 ہے۔ اضافی میرین کی تعداد 2000 ہے۔ کوسٹ گارڈ کی تعداد 2500 سے زائد ہے۔ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے فعال ڈیوٹی 2000 اہلکار ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 ریزرو اہلکار موجود ہیں۔ پاک نیوی کے اہلکاروں کی کل تعداد تقریباً 35 ہزار 700 ہے۔ پاک فوج کے پاس اس وقت اگسٹا آبدوزوں کے علاوہ 3 ایکس کرافٹ آبدوزیں بھی ہیں۔ ایکس کرافٹ آبدوز مائنز کی منتقلی، تارپیڈ وفائر کرنے اور محدود آپریشنز کیلئے کمانڈوز کی لانچنگ جیسی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ آبدوزیں ہاربون میزائل، اینٹی شپ میزائل اور ایگزوسیٹ میزائل فائر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ الخالد ٹینک بھی پاک نیوی کا حصہ ہے۔ جو خشکی اور پانی دونوں میں چل سکتا ہے۔ الخالد ٹینک نائٹ وژن کی بدولت رات کو بھی آپریشنل سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ پاک نیوی کے پاس جلالت 2 کلاس اور جرأت کلاس دو طرح کی میزائل براور کشتیاں ہیں۔ جو بے خبری میں دشمن کے جنگی تیاروں کے برخچے اڑا سکتی ہیں۔ پاک بحریہ چین سے تیز رفتار اور ٹارگٹ کو جلد ٹریس کر لینے والی دو MRTP-33 اوردوMRTP-15 کشتیاں حاصل کی ہیں۔ یہ کشتیاں ایٹنی شپ میزائل C802/803 سے لیس ہیں۔ پاک نیوی جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار پاکستان نیول ائرڈیفنس سسٹم بھی لگا چکی ہے۔ جو پاک نیوی کی طاقت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملکی دفاع کیلئے نیک شگون ہے۔
بین الاقوامی ماحول اس وقت مسلسل تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بحری امور کے شعبے میں سمندروں کا کنٹرول اسٹرٹیجک نقطہ نظر سے ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں انجام پانے والے دو منصوبے ایسے ہیں جو بحری نقطہ نظر سے ہمارے مستقبل پر گہرے اثرات کی گواہی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک پاک چین اقتصادی راہداری ہے جو گوادر کو جہاز رانی، علاقائی تجارت اور رابطے کا مستقبل کا مرکز بناتے ہوئے شمالی بحیرہ عرب تک براہ راست رابطے کی سہولت فراہم کرے گی۔ دوسرا، پاکستانی سمندری حدود میں توسیع ہے جس کی بدولت 200 ناٹیکل مائل تک پھیلے ہمارے خصوصی اقتصادی زون میں 50 ہزار مربع کلو میٹر کونٹینینٹل، شیلف کا اضافہ ہے جس سے پاکستان کی سمندری حدود 200 ناٹیکل مائل سے بڑھ کر 350 ناٹیکل مائل ہو گئی ہے۔ یہ 50 ہزار اضافی کونٹینینٹل شیلف بے پناہ وسائل بشمول آئل اور گیس سے مالا مال ہے جہاں سمندر کی تہہ اور زیر تہہ موجود وسائل کے ہمیں بلا شرکت غیرے حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ ان دونوں کی بدولت حاصل ہونے والے میری ٹائم خزانوں کی شراتک سے مستفید ہونے اور ان کی حفاظت کے سلسلے میں ہماری ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمارے ایک طرح بحیرہ عرب میں بیرونی قوتیں تقریباً مستقل طور پر موجود ہیں جبکہ دوسری جانب متلون مزاج پڑوس اپنی حاکمانہ اور جابرانہ سوچ کے تحت اپنے بحری اسلحہ میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ یہ وہ چند قابل ذکر حوال ہیں جو ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ ہم سیاسی اور عسکری دونوں سطحوں پر نہ صرف ہر دم چوکس رہیں بلکہ اپنی انفرادی افادیت کوبرقرار رکھیں۔ پاکستان نیوی اپنی مختلف کاوشوں اور علاقائی و بین الاقوامی بحری افواج کے ساتھ مل کر متنوع سرگرمیوں کی بدولت مشترکہ علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کے قیام کے سلسلے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان نیوی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بھرپور لگن اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے وطن کی سرحدوں کے دفاع اور ملک کے میری ٹائم اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پر عزم ہے ۔ پاکستانی قوم کواپنی مسلح افواج پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اور پر عزم طریقے سے ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے ۔ پاکستان نیوی کے آفیسرز، چیف پیٹی آفیسرز، سیلرز اور سویلینز اپنی لگن، دلیری، شجاعت اور ثابت قدمی سے مادر وطن کو ہر قسم کے خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار بطریق احسن ادا کررہے ہیں۔
پاک بحریہ کی تاریخ فتوحات سے بھری پڑی ہے۔ جب وطن کے بیٹوں نے دشمن کو خاک چٹائی اور بھارت پوری دنیا منہ دکھانے کے لائق نہ رہا۔ 1965 کی جنگ میں پاک بحریہ نے بھی جارحانہ کردار نبھایا۔ پاک بحریہ کی پہلی طویل رینج آبدوز پی این ایس / ایم غازی کو 2 ستمبر کو کموڈور نیازی کی کمان میں بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت و اجتماعی پر نظر رکھنے اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کیلئے تعینات کیا گیا۔ 8/7 ستمبر کی درمیانی رات ایک پاکستانی سکوارڈن جو چار تباہ کن (ڈیسٹرائٹر) ایک فریگیٹ، ایک کروز اور ایک آبدوز پر مشتمل تھا نے کموڈ ور ایس ایم کے زیر کمان بھارتی فضائیہ کے دووارکا کے ساحلی قصبہ میں موجود ریڈار بیس پر حملہ کیا۔ ریڈار سسٹم کی تنصیبات تباہ کرنے کے بعد سکوارڈن تیزی سے دووارکا سے نکل گیا۔ انڈین نیوی بوکھلاہٹ اور خوف کی بدولت کوئی بھی جوابی کارروائی نہ کر سکی۔ کم وسائل اور محدود نفری کے باوجود آپریشن دووار کا میں کامیابی پر پاک بحریہ کی اعلیٰ صلاحیتوں اور بے مثال کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ نیوی کی کارکردگی کو شاندار بنانے کیلئے 1966 میں نیول سپیشل سروسز گروپ کی بنیاد رکھی گئی۔
پاک بحریہ نے 1980 میں بے مثال ترقی کی۔ اس کا جنگی بیڑا 8 سے بڑھ کر 16 جہازوں تک آیا گیا۔ پاکستان نے فوجی سازو سامان پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے فرانس سے اگسٹا آبدوزوں کی خریداری (بشمول ٹیکنالوجی کی منتقلی) کے معاہدہ پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ شدید ہندوستانی احتجاج اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود انجام پایا اور ا س سے پاک بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں تین گنا اضافہ ہوا۔
ملک میں 2010 کے سیلاب میں پاک بحریہ نے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاک بحریہ نے( آپریشن مدد )کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ۔سیلاب زدگان کیلئے 43 ہزار8 سو 50 کلو گرام خوراک اور امدادی سامان پہنچایا، 5 ہزار 7 سو کلو کے تیار کھانے اور 5 ہزار کلو گرام کی خوراک سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سکھر میں ہنگامی بنیادوں پر پہنچائی۔ پاک بحریہ نے بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ 26 دسمبر 2004 کو آنے والے سمندر طوفان نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ سمیت متعدد ممالک میں تباہی مچا دی۔ پاکستان نے ان ممالک میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کیلئے دو جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق، پی این اس نصر اور ایک لاجسٹک پورٹ جہاز بھیجا۔ یہ جہاز تین ہیلی کاپٹروں، ملٹری و سول ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے لیس تھے۔ پاک بحریہ نے مالدیپ کی حکومت کی مدد کرتے ہوئے جزائر میں پھنسے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے انخلا کو یقینی بنایا۔
پاک بحریہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ پاک بحریہ کے زمینی لڑاکا دستوں نے پاک آرمی کے ہمراہ مغربی سرحدوں پر ہونے والی طالبان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ہندوستان کے تربیت یافتہ طالبان کے پانچ دہشت گردوں نے 22 مئی 2011 کو پاک نیوی کے بحری اڈہ پی این ایس مہران پر حملہ کیا۔ اس دہشت گردانہ حملہ میں نیوی کے 18 اہلکار شہید ہوئے جبکہ 16 اہلکار زخمی ہوئے۔ پاک نیوی کے ایس ایس جی کمانڈوز نے دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملہ کو ناکام بنا دیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ حملہ کرنے والے پانچوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ گوادر پورٹ کی حفاظت کی حساس ذمہ داری بھی پاک بحریہ کے نڈر، بہادر اور بے خوف جوانوں کے کندھوں پر ہے۔ جسے نبھانے کیلئے پاک نیوی نے اپنے چاک و چوبند دستے تعینات کر رکھے ہیں۔
پاک بحریہ نے کچھ امن کارروائیوں میں جن میں خاص طور پر 26 دسمبر 2004 ء کو ہونے والا سانحہ سونامی تھا حصہ لیا۔ پاکستان نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ م?ں امداد اور بچاؤ کے کام میں مدد کرنے کے لیے بحری جہاز روانہ کیے۔ پاکستان بحریہ کے روانہ کردہ بحری جہازوں میں دو جنگی بحری جہاز، پی این ایس طارق،پی این ایس نصر اور لوجسٹک سپورٹ جہاز شامل تھے۔ بحریہ کے سابق سربراہ چ?ف آف ن?ول اسٹاف ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد کریم اللہ کی ہدایات کے تحت، فوری طور پر پاک بحریہ کے جہازوں نے مالدیپ کی حکومت کی مدد کرتے ہوئے جزائر سے وہاں پھنسے سیاح/مقامی لوگوں کے انخلا ء کو یقینی بنایا۔ پاک بحریہ نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سفارتی اور مالی امداد کے ساتھ دو مزید جہاز انڈونیشیا اور سری لنکا کے لیے بھیجے۔ بعد ازاں پاک بحریہ نے ایک امدادی مشن کے تحت سری لنکا کو دو مزید بحری جہاز پی این ایس خیبر اور پی این ایس معاون بھیجے۔ ان جہازوں کا تعلق 140th مرین ایکسپڈیشنری فورس سے تھا اور یہ تین ہیلی کاپٹروں، فوجی اور سویلین ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس سے لیس تھے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان میں ادویات، طبی آلات، خوراک، خیمے، کمبل بڑی مقدار میں بھیجیگئے۔ امدادی کاروائیوں کا دائرہ بنگلہ دیش تک پھلایا گیا اور پاکستان کی دیگر مسلح افواج کے یونٹوں کو لے کر پاکستان بحریہ کے جہاز، بنگلہ دیش میں دسمبر 1971ء کے بعد پہلی بار پہنچے۔ بحریہ، فوج اور فضائیہ نے امدادی کاروائیوں کے زریعے بنگلہ دیش میں سول انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کی۔
پاک بحریہ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا۔سال 2017 میں جہاں وطن عزیز کے دیگر شعبوں میں کامیابیاں و کامرانیاں دیکھنے کو ملیں، وہیں پاک بحریہ نے بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کی۔پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں سی کنگ ہیلی کاپٹر سے کھلے سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔فائر کیے گئے میزائل نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر پاک بحریہ کی مہارت کا لوہا منوایا۔2017 میں چین کے تعاون سے پی این ایس ڈاکیارڈ میں تیار کی گئی جدید تیز حملہ آور میزائل جنگی کشتی بھی پاک بحریہ کے فلیٹ میں شامل کی گئی۔تربت میں نیول ایئر اسٹیشن پی این ایس صدیق فعال ہوا، جس سے پاک بحریہ کو وقت کے تقاضوں کے مطابق میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز میں مدد ملے گی۔
2017میں سابق نیول چیف ایڈمرل ذکاء اللہ کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری ایوارڈ’کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلینس’ سے نواز گیا۔دوسری جانب پاک بحریہ کے موجودہ سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو ترک آرمڈ فورسز کا اعلی عسکری اعزاز ‘لیجن آف ترکش آرمڈ فورسز’ دیا گیا۔2017 میں پاک بحریہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان نیوی کی سب میرین سعد پر بورڈنگ اور سیلنگ کی۔شاہد خاقان عباسی آبدوز پر کھلے سمندر میں جانے والے ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بنے۔2017 میں پاک بحریہ نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی کثیر القومی مشقوں ‘امن۔2017’ میں چین کے تین بحری بیڑوں سمیت روس کے 3 اور امریکا کے 4 جنگی بحری جہاز بھی شریک ہوئے۔ ان مشقوں میں جاپان کے 2 پی تھری سی اورین طیاروں نے بھی حصہ لیا، جبکہ انڈونیشیا، آسٹریلیا، برطانیہ اور ترکی بھی مشقوں میں شریک ہوئے۔
2017 میں اطالوی بحریہ کے جہاز کیریبنئیر نے خیر سگالی دورہ کیا اور پاکستان نیوی کے ساتھ کھلے سمندر میں مشترکہ بحری مشق بھی کی۔پاک بحریہ نے ‘تحفظ ساحل’ کے نام سے کئی مشقیں منعقد کیں جن کا مقصد بندرگاہوں، ساحلی پٹی خصوصاً گوادر پورٹ اور پاک۔چین اقتصادی راہدری (سی پیک) کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، پاک بحریہ کے علاوہ پاکستان ایئرفورس اور پاک آرمی بھی ان مشقوں میں شریک رہی۔پاک بحریہ کی ‘تحفظ ساحل’ مشقیں۔2017 میں چینی بحریہ کے ٹاسک گروپ نے پاکستان کا خیرسگالی دورہ کیا اور 3 بحری جنگی جہازوں پر مشتمل ٹاسک گروپ نے پاک بحریہ کے جہازوں کے ساتھ کھلے سمندر میں مشترکہ بحری مشقیں بھی کیں۔پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس سیف نے چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ پانچویں مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت کی۔ ان مشترکہ مشقوں میں پی این ایس سیف اور چین کی بحریہ نے زیرِ آب اور فضائی اثاثوں کے ساتھ حصہ لیا۔جنوبی اور وسط ایشیائی ممالک میں بڑھتی معاشی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کررہے ہیں اور بحری تجارتی راہداری کے تحفظ کے تناظر میں پاک بحریہ کا کردار انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان اور چین نے 57 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ریل، سڑک اور پائپ لائنوں پر مشتمل کئی کلو میٹر طویل اقتصادی راہداری کے ایک منصوبے کی تعمیر کا آغاز کیاہے اس راہداری کا ایک سرا چین کے مغربی صوبے سنکیانک کے شہر کا شغر اور دوسرا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحل پرواقع بندرگاہ گوادر پر واقع ہے۔ اقتصادی راہداری کے تین روٹ ہیں۔ مشرقی، وسطی اور مغربی ۔ اور ان کی گزرگاہ اس طرح متعین کی گئی ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبے بشمول گلگت ، بلتستان اور آزاد جموں کشمیر اس سے مساوی طورپرمستفید ہوسکیں۔ سی پیک ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے اوراس سے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ جنوبی وسطیٰ، مغربی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے علاوہ مشرقی وسطیٰ، افریقہ اوریورپ کے ممالک بھی اقتصادی اور تجارتی فوائد حاصل کر سکیں گے، اس منصوبے میں چونکہ سڑکوں، ریلوے اور تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کے ساتھ توانائی اورصنعتی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے اس لیے تمام تر توجہ زمینی راستے سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون سے حاصل ہونے والے فوائد پر مبذول ہے۔ اسی وجہ سے اس کی تنصیبات اور ان پرکام کرنے والے چینی انجینئر اورماہرین کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پاک فوج کے سپرد کی گئی ہے۔اس مقصد کیلئے فوج کی ایک علیحدہ ڈویژن تشکیل دی گئی ہے جو اقتصادی راہداری کی تعمیر کے دوران اور اس کے بعد بھی تنصیبات کی حفاظت کے فرائض سرانجام دے گی، تاہم اس اقتصادی راہداری کا ایک اور بعض تبصرہ نگاروں کی نظر میں سب سے اہم پہلو گوادر اور کراچی کی بندرگاہ سے جانے اور یہاں تک پہنچنے والے تجارتی سامان سے لدے پھندے بحری جہازوں کی حفاظت سے تعلق بھی رکھتا ہے اور چونکہ یہ تمام جہاز بحیرہ عرب سے گزر کر گوادر اور کراچی کی بندرگاہ تک پہنچیں گے اس لیے پاکستان بحریہ پر ان بحری تجارتی راستوں اور ان کو استعمال کرنے والے بحری تجارتی جہازوں کی حفاظت کی خصوصی طور پرذمہ داری عائدہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان نیوی اتنی اہم ذمہ داری نبھانے کیلئے ضروری سازوسامان اور وسائل سے لیس ہے؟ لیکن اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ’’سی پیک‘‘ کے جیوسٹرٹیجک پہلو کی اہمیت کو مزیدواضح کرنے کیلئے نہ صرف موجودہ بلکہ ماضی سے بھی چندحقائق کاحوالہ دینا مفید ثابت ہو گا۔ بحیرہ عرب جس کے بلوچستان سے ملنے والے تقریباًایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ ساحل پرگوادر کی بندرگاہ واقع ہے، بحیرہ ہندکا مغربی بازو کہلاتا ہے۔ خلیج بنگال اس کا دوسرا یعنی مشرقی بازو ہے۔ بحیرہ عرب کی طرح خلیج بنگال بھی اپنے جغرافیائی محل و قوع کی وجہ سے سٹرٹیجک اہمیت کی مالک ہے لیکن آج سے پانچ سو برسوں سے زائد عرصہ قبل جب مشہور پر تگیزی ملاح و اسکوڈے گامانے ہندوستان کے مغربی ساحل پر ممبئی کے قریب کالی کٹ کے مقام پرقدم رکھا تو بحیرہ عرب جو اس سے پہلے ایرانیوں، رومنوں اور عربوں کی تجارتی اورجنگی سرگرمیوں کا مرکز تھا، یوپی طاقتوں کے درمیان بحر ہند پر بالادستی حاصل کرنے کی کشمکش میں کلیدی حیثیت اختیار کر گیا۔ بحر ہند کے دفاع اوراس پر مکمل بالادستی کے حصول میں بحر عرب کی اہمیت کو سب سے پہلے پرتگیزی امیر البحر جو گواکا گورنر بھی تھا البوقرق نے تسلیم کیاتھا۔ آبنائے ہرمز کے قریب ایک جزیرے سکوٹرا پربحری اڈہ قائم کرکے پرتگیزوں نے پہلے سیلون (سری لنکا) اور اس کے بعد آبنائے ملا کر پر قبضہ کر کے بحر ہند اپنا تسلط قائم کر لیا۔ بحر ہند کے مغرب، مشرق اور وسط میں واقع ان تین اہم مقامات پر قابض ہو کرپرنگیزیوں نے بحر ہند کے علاقہ میں اپنی سلطنت کی بنیادیں رکھیں جو زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ سیلون پرو لندیزیوں کا قبضہ ہونے کی وجہ سے پرتگیزی سلطنت چند مقامات تک جن میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر گوا اور دمن اور ہانگ کانگ کے قریب ان کی نو آبادی شامل تھی۔ ولندیزی بھی سیلون پراپنا قبضہ دیر تک برقرار نہ رکھ سکے۔ انگریز جو کہ بحرہند کے علاقے میں سترھویں صدی میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے سیلون کو ولندیزیوں سے چھین لیا اور پھر کولمبو کے علاوہ مغرب میں عدن اور مشرق میں سنگاپور میں بحری اڈے قائم کرکے بحر ہند پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ بحرہند میں اپنی مضبوط پوزیشن کو انگریزوں نے انیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان پر قبضہ کرنے کی دوڑ میں نہ صرف فرانسیسیوں کوشکست دی بلکہ اپنے ان ہی اڈوں کے بل بوتے پردوسری جنگ عظیم میں خلیج بنگال میں جاپانیوں کی پیش قدمی روکنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ موجودہ دور میں بحر ہند کی اہمیت میں ایک بنیادی تبدیلی آچکی ہے اوراب یہ سمندرایک عظیم تجارتی شاہراہ بن چکا ہے۔ ہرسال تقریباً 70 ہزار بحری جہاز مختلف تجارتی سامان جن میں مشرق وسطیٰ اورخلیج فارس کے ممالک کے تیل کی برآمدات کا سب سے زیادہ حصہ ہوتا ہے ، لاد کر بحرہند سے گزرتے ہیں۔ خود چین کے استعمال میں آنے والے تیل کی کل مقدار 1.6 ملین بیرل یومیہ میں سے 2.3 ملین بیرل یومیہ یعنی 52 فیصد، مشرق وسطیٰ سے بحرہند کے راستے آبنائے ملا کا سے گزرتی ہے۔ سی۔پیک کی تعمیر سے نہ صرف اس تیل کا بڑا حصہ بلکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے دیگرخادم مال کم فاصلہ طے کر کے چین کے مغربی حصے میں پہنچے گا۔ اس سے لاگت میں بھی کمی ہو گی اور وقت بھی بچے گا۔ اس کے علاوہ چینی مصنوعات پر مبنی برآمدات کم وقت میں کم لاگت پرمشرق وسطیٰ، افریقہ اوراس سے آگے یوری ممالک کوبھیجی جا سکیں گی اس کے ساتھ پاکستان اور ملحقہ خطوں سے دیگر ممالک جن کی تعداد 60 کے لگ بھگ ہے، اپنی تجارت سی پیک کے ذریعے شروع کریں گے تو بحر ہند کے مغربی حصے میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں بے تہاشا اضافہ ہوجائے گا۔ ایسی صورتحال میں تسلی بخش میری ٹائم سکیورٹی کی فراہمی کامسئلہ نمایاں اہمیت اختیار کرسکتا ہے اور اس کیلئے پاکستان نیوی کو اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں تک پاکستان نیوی کے تجربے اور کارکردگی کا تعلق ہے اس میں نیوی شاندار ریکارڈ کا مالک ہے۔ بحر عرب اور خلیج عدن کے آس پاس بحری قزاقوں کی سرکوبی میں پاکستان نیوی نے شاندار کردار ادا کیاہے۔ پاک نیوی کمبائنڈ ٹاسک فورس (CTF)150 کا حصہ ہے۔ 25 ممالک کے بحری جہازوں پر مشتمل اس فورس کا پاکستان آٹھ مرتبہ کا چکاہے۔ یہ فورس 2004 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد بحر ہند کے مغربی حصے میں دہشت گردی، اسلحہ منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔ پاکستان نیوی نے ان کارروائیوں میں بھرپورحصہ لے کر نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں اس طرح 2009 میں جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بحری قزاقوں کے خلاف آپریشن کے حق میں قرارداد منظور کی تو پاک بحریہ نے بین الاقوامی بحری افواج کے اتحاد کمبائنڈ ٹاسک فورس 151 میں شمولیت اختیار کی۔ پاک بحریہ اس کمبائنڈ ٹاسک فورس کی کمان 7 بار سنبھال چکی ہے۔ پاکستان نیوی نے دیگر یعنی امریکا، جاپان، سنگاپور اور نیٹو کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر 5 لاکھ مربع ناٹیکل میل کے رقبہ میں گشت کر کے متعدد مشکوک جہازوں کوقبضے میں لیا اور متعدد تجارتی جہازوں پر قزاقوں کے حملوں کو ناکام بنایا۔ گزشتہ برس پاکستانی اور دیگر کئی ملکوں کے شہریوں جو یمن کی خانہ جنگی میں محصور ہو گئے تھے ان سب کو بحفاظت نکالنا، پاکستان نیوی کی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس طرح 2005 میں سونامی سے متاثرہ مالدیپ کی بندرگاہ ’’مالی‘‘ میں امدادی کارروائیوں کے ذریعے بھی پاکستان نیوی نے اہم خدمات سرانجام دی تھیں۔ قدرتی آفات کی صورت میں ریلیف آپریشن میں مزید تجربہ اور مہارت حاصل کرنے کیلئے پاکستان نیوی 2007 سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکسر سائزز میں باقاعدہ حصہ لے رہی ہے لیکن سی پیک کی تعمیر سے تجارتی سر گرمیاں اور جہازوں کی آمدو رفت اتنی بڑھ جائے گی اس کیلئے پاکستان نیوی کو اپنا سائز بڑھانا پڑے گا۔ اگرچہ چین سے ٹریگیٹ اور آبدوزیں خریدنے کے بعد پاکستان نیوی کی استعداد میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اور پاکستان نیوی اب بھی علاقے کی ایک طاقت اورنیوی شمار ہوتی ہوتی ہے تاہم سی پیک کی تکمیل کے بعد بحری دفاعی ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔ ان میں بندرگاہوں کی حفاظت اور پاکستان کے علاقائی سمندر کی حدود کی نگرانی کے فرائض شامل ہیں۔ ان اقدامات کے بغیر گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں میں تجارتی بحری جہازوں کی
محفوظ آمدورفت ممکن نہیں لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ قومی دفاعی بجٹ میں نیوی کاحصہ بہت کم ہے۔ سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بندرگاہوں کی حفاظت، علاقائی سمندر کی حدود میں سخت نگرانی،بحری جہازوں کی حفاظت اور میری ٹائم سکیورٹی کے دیگر چیلنجوں کامقابلہ کرنے کیلئے پاکستان نیوی کے وسائل اور استعداد میں اضافہ کیاجائے۔ زمینی تجارتی راستوں کی حفاظت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن سمندر کے راستے تجارتی جہازوں کو مختلف خطرات سے بچانا بھی بہت ضروری ہے۔بلاشبہ پاک بحریہ پاکستان کا فخر ہے۔ جس کے کارہائے نمایاں کی بدولت دشمن پر خوف، بے بسی اور بوکھلاہٹ طاری ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے