Voice of Asia News

سی پیک منصوبہ ۔۔۔۔پا ک چین ترقی کا سفر:تحریر: محمدقیصرچوہان

چین اپنے مغربی صوبوں کی پسماندگی اور مسلسل جاری ایغور تحریک کے پیشِ نظر، چین سنکیانگ اور دیگر پسماندہ صوبوں کی تیز رفتار ترقی کا خواہاں ہے تاکہ انہیں مغربی صوبوں کے برابر لایا جاسکے۔ ان خوابوں کی تکمیل کیلئے چین کو گوادر کے راستے بحیرہ عرب میں گرم پانیوں تک رسائی کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا یہ راستہ سب سے چھوٹا اورسب سے سستا ہے۔اس مقصد کو مدِنظر رکھتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نے2013میں اسلام آباد کا دورہ کیا۔پاکستان کاقدرتی طورملاجغرافیائی محل وقوع اس قدر اہمیت کاحامل ہے کہ پاکستان پوری دنیا کی تیل، گیس ،زراعت، صنعتی و معدنی پیدوار اور منڈیوں کے درمیان پل بن سکتاہے۔اس قدرتی محل وقوع کی اہمیت اورافادیت کومدنظر رکھتے ہوئے چین نے پاکستان کے ساتھ مل کر’’پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ‘‘ سی پیک بنانے کافیصلہ کیاہے جوکاشغر سے شروع ہو کرگوادر تک جاتاہے۔پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے، گوادر سے کاشغر تک تقریباً 2442 کلومیٹر طویل ہے۔یہ منصوبہ مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے اس پر کل 57 بلین ڈالر لاگت کا اندازہ کیا گیا ہے۔ راہداری چین کی اکیسویں صدی میں شاہراہ ریشم میں توسیع ہے۔یہ تاریخ منصوبہ20 اپریل 2015ء کو پاکستان میں چینی صدر کے دورے کے دوران، مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 51 یادداشتوں پر چین اور پاکستان کے درمیان منصوبوں پر دستخط ہوئے تھے۔ راہداری کے بڑے منصوبے جو دوطرفہ تعاون سے ہیں۔گوادر بندرگاہ 2015ء سے لے کر اگلے 40 سال تک کیلئے چین کے حوالہ کر دی گئی ہے۔اگرچہ سی پیک پاکستان کیلئے ’تاریخی‘ ثابت ہو سکتا ہے، چین کیلئے یہ ملک کی عالمی اقتصادی قوت کو بڑھانے کے عظیم تر منصوبے کا حصہ ہے۔ چینی حکام راہداری کے منصوبے کو وسیع تر پالیسی کا ’پہلا منصوبہ‘ قرار دیتے ہیں۔ ’ایک پٹی، ایک سڑک‘ جس کا مقصد چین کو اس کی ایشیا، افریقا، یورپ اور اس کے آگے مزید منڈیوں سے جوڑنا ہے۔ نئی شاہراہِ ریشم بحرِ ہند اور جنوب چینی سمندر میں چین کی بحری آمد و رفت کو محفوظ بنانے کیلئے وسط ایشیا اور سمندری راستے کے ذریعے چین کو یورپ سے منسلک کرے گی۔ سی پیک چین کو دنیا کی تقریباً نصف آبادی سے جوڑ دے گا۔ گوادر کے راستے بحرِ ہند تک رسائی چین کے بحری جنگی بیڑوں اور تجارتی جہازوں کو ابنائے ملاکا سے گزرنے کی پابندی سے آزاد کر دے گی۔ اور یوں چین اپنے ’ملاکا مخمصہ‘ سے جان چھڑا لے گا۔
پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ایک طرف تو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنائے گا تو دوسری طرف چین کو نمبر ون معاشی قوت بھی بنادے گااور یہ وہ عظیم منصوبہ ہے جس کے ذریعے چین اپنی مصنوعات کے لیے نہ صرف نئی منڈیاں بنانا چاہتا ہے بلکہ دیگر ممالک میں اثر و رسوخ بھی بڑھانے کا خواہشمند ہے اس منصوبے کا آغاز 2013 میں چینی صدر شی چن پنگ نے کیاتھا۔ انہوں نے ایشیاء یورپ اور افریقہ کے 60 سے زائد ممالک میں ’’شاہراء ریشم اقتصادی زمینی پٹی‘‘ اور اس کی سمندری ساتھی اکیسویں صدی کی ’’بحری شاہراہ ریشم‘‘ پر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مالی سرمایہ فراہم کرنے میں چین کے رہنما کردار کا تصور پیش کیا ان علاقوں کی مشترکہ آبادی ساڑھے 4 ارب بنتی ہے چین کاوسط ایشیا اور جنوب مشرق ایشیا میں ریلویز شاہراہوں اور پائپ لائنز اور بندرگاہوں کا جال بچھانے کے اس عظیم الشان منصوبے سے نئی دہلی میں بے چینی اوراضطراب بڑھتا جا رہا ہے بھارت کوسی پیک کے منصوبے سے سب سے زیادہ پریشانی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے خلاف روز اول سے سازشوں میں مصروف ہے ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پاکستانی حکومت کو مزید موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہزاروں کلومیٹر ریلویز، موٹرویز، لاجسٹک سائٹس اور بندرگاہوں کا ایک مربوط نظام ہے۔چین یومیہ60لاکھ بیرل تیل بیرون ملک سے درآمدکرتاہے جس کاکل سفر12000کلومیٹر بنتاہے جبکہ یہی سفرسی پیک کی تکمیل کے بعدسمٹ کرمحض3000کلومیٹر رہ جائے گا جس کے باعث چین کوتیل کی سالانہ تیل کی درآمدت پر20ارب ڈالربچت ہوگی جبکہ پاکستان کو تیل کی راہداری کی مدمیں5 ارب ڈالریعنی پانچ کھرب یاپانچ سو ارب روپے سالانہ ملیں گے۔ سی پیک صرف چین کیلئے نہیں بلکہ روس کیلئے بھی انتہائی سودمندہے کیونکہ وہ بھی اپنی تجارت اس خطے سے کرناچاہتاہے اس کیلئے روس کے پاس صرف دوہی راستے ہیں ایک ایران کی چاہ بہاربندرگاہ جس کی گہرائی11میٹر سے زیادہ نہیں جبکہ دوسراراستہ گوادر کاہے جو دنیا کی تیسری سب سے گہری بندرگاہ ہے۔وسطی ایشیا ء کی ریاستیں دنیا کا دوسراسب سے بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ رکھتی ہیں جن کووہ ان ممالک تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ روس اور وسطی ایشائی ممالک گوادر کی بدولت پاکستان پر انحصارکرینگے۔ایک اندازے کے مطابق 80 ہزار ٹرک روزانہ چین، روس اور وسطی ایشیاء کے ممالک سے گوادر کی طرف آمدورفت کرینگے۔ پاکستان کو صرف ٹول پلازے کی مد میں ہی 20سے 25 ارب کی بچت ہوگی۔سی پیک منصوبوں کاپہلا مرحلہ رواں برس کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے کے منصوبے2020ء اور تیسرے مرحلے کے پروجیکٹ2030ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ تاہم سی پیک منصوبے کے ثمرات پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعدہی پاکستانی عوام تک ملناشروع ہو جائیں گے۔
پاک چین اقتصادی راہ داری کیلئے تین راستوں کو نشان زَد کیا گیا ہے۔مغربی راستہ: مغربی راستہ گوادر سے شروع ہو کر تربت، پنجگور، ناگ، بسیمہ، سہراب، قلات، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ڑوب، ڈیرہ اسماعیل خان، میانوالی، حسن ابدال، اسلام آباد سے گزرے گا۔درمیانی راستہ: درمیانی راستہ گوادر سے شروع ہو کر کوئٹہ اور پھر بسیمہ، خضدار، سکھر، راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ، بھکر سے ہوتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے گا۔مشرقی راستہ: مشرقی راستہ گوادر، بسیمہ، خضدار، سکھر، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، لاہور/فیصل آباد، اسلام آباد اور مانسہرہ سے گزرے گا۔سی پیک منصوبے کے تحت گوادر پورٹ میں توسیع و اپ گریڈیشن،گوادر شہر میں ائیرپورٹ سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی، انڈسٹریل پارک کاقیام، مغربی اور مشرقی روٹس پرگوادر سے لے کر چینی سرحد تک موٹر وے نیٹ ورک، بڑے شہروں کیلئے رابطہ سڑکیں، ریلوے ٹریکس میں توسیع وانقلابی اپ گریڈیشن اور تیل کی پائپ لائنز وغیرہ شامل ہیں۔ان منصوبوں کے متعلقہ علاقوں میں لامحالہ معاشی اوراقتصادی اثرات مرتب ہوں گے۔ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر ان علاقوں میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کے ایک نئے دور کے آغاز کاسنگِ میل ثابت ہوں گی۔ روزگار کے بے شمار مواقع میسرہوں گے۔غربت کے خاتمے کیلئے یہ مواقع لاکھوں خاندانوں کو غربت کی بیڑیوں سے آزاد کر سکیں گے۔ اگر تمام منصوبے پروگرام کے مطابق مکمل ہو گئے تو زیادہ تر علاقوں میں کاروبار، صنعت اور تجارت کا روایتی انداز اور طرز ہمیشہ کیلئے بدل جائے گا۔سی پیک کا اصل مقصد اہم یورپی اور ایشیائی معیشتوں کو انفراسٹرکچر، تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کرناہے۔ اس منصوبے کے تحت دو طرح کے عالمی رابطے قائم کرنا مقصود ہے ، ایک جانب سلک روڈ کے ذریعے اقتصادی رابطہ یعنی سلک روڈ اکنامک روڈ جبکہ دوسری جانب(میری ٹائم سلک روٹ)زمینی راستے کے منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے ٹریکس، تیل اور گیس پائپ لائنز اور اس سے منسلک کئی دیگر منصوبے ہیں جن کے ذریعے وسطی چین کے علاقے زن جیانگ کو ابتداء میں وسطی ایشیا سے مربوط کر نے کا پلان ہے۔ بعدمیں اس انفراسٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو، ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم اوراٹلی کے شہر ونیس تک لے جانے کاارادہ ہے۔ان منصوبوں کے لئے ایک مخصوص سڑک کے بجائے اس بیلٹ یاکوریڈور کو پہلے سے موجود زمینی راستوں یعنی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ ساتھ جوڑاجائے گا۔ یوں چین، منگولیا،روس، وسطی چین اور مغربی ایشیا، انڈو چا ئنا کا علاقہ، چائنا، پاکستان،بنگلہ دیش، چائنا، انڈیا اور میانمارکو آپس میں ملانے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ دوسری طرف سمندری نیٹ ورک کے ذریعے بندر گاہوں اور ساحلی علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں کو زمینی راستوں سے مربوط کرنے کا پروگرام ہے تاکہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء سے لے کر مشرقی افریقہ تک اور بحیرہ قلزم تک تجارتی راستوں کا وسیع اور مربوط نظام قائم کر دیا جائے۔ اس منصوبے میں65پینسٹھ ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ آبادی کے اعتبار سے دیکھیں تو ساڑھے چار ارب افراد ان منصوبوں سے مستفید ہوں گے۔ ان ممالک اور آبادی کی مجموعی قومی آمدنی کو جوڑ لیں تو یہ عالمی جی ڈی پی کا چالیس فی صد بنتا ہے۔ اس وسیع و عریض منصوبے کیلئے وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری چین نے اٹھائی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کیلئے چین نے نیو سلک روڈ فنڈ کے نام سے 57 ارب ڈالر مختص کئے ہیں۔ اس فنڈ کیلئے چین اپنے زرمبادلہ کا کچھ حصہ صرف کرے گا جبکہ حکومت کے دیگر سرمایہ کاری اور مالی ادارے بقیہ وسائل فراہم کریں گے۔ اس فنڈ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک کے ذریعے مزیدایک سوارب ڈالر کے قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے۔انفراسٹرکچرکے ان منصوبوں سے منسلک نو سوسے زائدصنعتی اورتجارتی منصوبوں کیلئے چائنا ڈویلپمنٹ بینک نوسوارب ڈالرکے وسائل فراہم کرے گا۔یوں اپنی وضع اور نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد اور کئی ملکوں کے درمیان مربوط منصوبہ ہے۔اب اگر پاکستان کی بات کی جائے توسی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان کے لئے یہ ایک انتہائی نادروسنہری موقع ہے کہ اس منصوبے سے اپنے بہترین معاشی مفادات اورمتناسب علاقائی ترقی کے مطابق اس سے فائدہ اٹھائے۔ بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان براہ راست اس منصوبے کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ دوسرے صوبے روڈ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہوں گے۔منصوبوں کی تیاری، ان میں مقامی صنعتوں کی شمو لیت، مقامی لیبر اور افرادی قوت کی کھپت سمیت بہت سے حساس اور دور رس اہمیت کے معاملات اس پرو جیکٹ کے فوائدکے حصول میں اہم کردار کریں گے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق سی پیک کے ذریعے 150ارب ڈالرکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔اس میگا منصوبے کے ذریعے رابطوں کو بڑھانے سے پاکستان کوتجارتی مواقع میسرہوں گے اوردنیا کی 70 فیصدسمندری تجارت پاکستان کی2بڑی بندرگاہوں کراچی اور گوادر کے راستے ہو گی۔گوادر متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، سعودی عرب اور ملحقہ خطوں کے ساتھ درآمدات اور برآمدات کا تیز ترین ذریعہ بن جائے گا۔مختصر یہ کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان دنیا میں ایک مستحکم اقتصادی قوت کاحامل ملک بن کے ابھرے گا۔ اسی وجہ سے پاکستان مخالف طاقتوں اور گروہوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں جوکہ پاکستان کو پھلتاپھولتا نہیں دیکھ سکتیں جبکہ سی پیک منصوبے پرسب سے زیادہ مخاصمت بھارت کوہے جس نے سی پیک منصوبے کی ابتداء سے ہی سازشوں کا جال بننا شروع کردیا تھا۔ بلوچستان میں بدامنی اورعلیحدگی پسندتحریکیں،کنٹرول لائن پربلااشتعال فائرنگ،باڈرپرسرجیکل اسٹرانک کاڈھونگ رچانے سمیت دیگرہتھکنڈے اس منصوبے کو سبوتاژکرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔بھارت اس منصوبے کوروکنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیارہے۔مختلف صوبوں میں سی پیک کی مخالفت میں اٹھنے والی انتہائی خفیف آوازوں کے پیچھے بھی بھارت کامکروہ چہرانمایاں ہے۔واضح رہے کہ مختلف سیاسی اور قوم پرست جماعتیں سی پیک کے خلاف آوازیں بلند کررہی ہیں جس کیلئے وفاق وعسکری قیادت کو چاہیے کہ انہیں آن بورڈلیکر ان کے جائزمطالبات کوپوراکریں مگرتمام سیاسی وقوم پرست جماعتوں کو چاہیے کہ ملک وقوم کے وسیع تر مفادات ،سالمیت اورخوشحالی کیلئے اس عظیم منصوبے کے خلاف صرف اپنے ذاتی مفادات کیلئے ہرزہ سرائی سے گریز کریں۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی وقوم پرست جماعتوں نے ماضی میں بھی عوام کے مفادات کیلئے بنائے جانے والے بڑے منصوبوں کوسیاست کی نذرکرکے پاکستان کی ترقی میں رکاؤٹ ڈالی اگر اس بارایساکیا گیاتوانہیں سخت ترین عوامی ردعمل ومذاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی ترقی ،سا لمیت اورخوشحالی کے ضامن سی پیک منصوبے کی تکمیل کیلئے قوم کا ہرفرد خواہ اس کی وابستگی کسی بھی سیاسی،مذہبی جماعت سے ہو یا کسی بھی علاقے وزبان وقوم سے ہوکو چاہیے کہ مل کر ملک کی ترقی میں حائل رکاؤٹوں کومشترکہ جدوجہدکرکے اس عظیم ترین منصوبے کوپایہ تکمیل تک پہنچاکرپاکستان کوترقی کے ناختم ہونے والے سفرپرگامزن کریں۔
پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ نے اس بات کوسچ ثابت کردیاہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کوہ ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری ہے۔ چین کی جانب سے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پراستوار ہو گی اورپاکستان بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام حاصل کر ے گا۔ پاک چین اکنامک کوریڈور اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم اور چین کا عظیم تحفہ ہے۔ عظیم دوست خطہ کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری سی پیک منصوبہ کی شکل میں پاکستان کوتجارتی سرگرمیوں کامرکز بنانے میں مدد فراہم کررہا ہے۔ گوادربندرگاہ سے وسطیٰ ایشیا تک سڑک اور ریل سے منسلک ہو جانے سے پاکستان اشیاء کا تجارتی حب بن جائے گا اور خطہ کی تجارت گوادر اور پاکستان کے راستے سے ہو گی جس سے پاکستان کے تمام صوبوں میں معاشی ترقی کاانقلاب آجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن اس منصوبہ کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔ یہ حقائق اب کھل کر سامنے آچکے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے الگ سے ایک ڈیسک قائم کیا ہواہے اور اس کیلئے ابتدائی طور پر پچاس کروڑ ڈالر کی رقم مختص کر رکھی ہے جس کے ذریعے پاکستان میں تخریبی عناصر کی مدد کر کے یہاں پرعدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں پرعمل کیا جا رہاہے ’’را‘‘ کے پاس دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز کو ناکام بنانے اور بھارت کیلئے خطرہ بننے والی دہشت گردی کو بے اثر بنانے کے علاوہ یورپ ممالک سے پاکستان کو فوجی سازو سامان کی فراہمی رکوانے کا نصب العین بھی ہے سی پیک کے خلاف بننے والے ڈیسک کی نگرانی ’’را‘‘ کے موجودہ چیف بذات خود کررہے ہیں اور وہ براہ راست بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو رپورٹ کررہے ہیں۔ بھارتی سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے پاک فوج نے سی پیک کی حفاظت اور نگرانی کیلئے الگ سے فورس قائم کردی ہے تاہم اس ضمن میں حکومت اور سیاسی رہنماؤں کوبھی اپنا کردارادا کرنے کی ضرورت ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی اہمیت کااندازہ تو بھارت کے اس منصوبے کے خلاف شدید رد عمل سے ہی لگایا جا سکتا ہے جب سے پاکستان اور چین نے اکنامک کوریڈور کا اعلان کیا ہے بھارت کی اضطرابی کیفیت چھپائے نہیں چھپ رہی پہلے تو اس نے اعلانیہ منصوبے کی مخالفت کی اب اس کے خلاف سازشوں پر کمر بستہ ہوگیا ہے چین تک تو بھارتی رسائی مشکل ہے لیکن پاکستان کاہر وہ علاقہ جواقتصادی راہداری روٹ کا حصہ ہے میں دہشت گردی اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچستان اس کا خاص ہدف ہے کیونکہ بھارت اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہاں احساس محرومی کا شکار بلوچی اس کی سازش کا شکار ہوجائیں گے دوسرا ایرانی بلوچستان (سیستان) کے رہنے والے بھی علیحدگی کی تحریک کا حصہ بننے کو تیار ہوں گے حالانکہ پاکستان اتنا غافل نہیں کہ وہ بھارت کو سازشوں کے جال بنتے دیکھتا رہے جہاں تک علیحدگی کے مذموم بھارتی عزائم کا تعلق ہے جس کا اظہار بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خود کرچکے ہیں اس پر بلوچستان کے عوام نے جس شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ وہ بھارت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ چین بھارتی سازشوں کو کچلنے کیلئے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اسی لیے چین کے ایک با اثر تھنک ٹینک نیب بھی بھارت کوخبردار کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں مداخلت بند کرے۔ تھنک ٹینک کے مطابق اگر سی پیک کو کوئی نقصان پہنچا تو چین مداخلت کرے گا چینی مفکرین نے بھارتی وزیراعظم کے بلوچستان کے متعلق بیان پر بھی تشویش کااظہار کیا تھا۔ چین جیسے مخلص دوست کے ہوتے پاکستان کو متفکر ہونے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ بھارتی سازشوں سے چوکنا رہنا ضروری ہے پاک چین اقتصادی راہداری یقیناًبہت بڑامنصوبہ ہے جس سے غربت ختم ہو گی اور خطے میں امن آئے گا بھارت اسی لیے اس منصوبے کا مخالف ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی اور وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ خطے کا کوئی دوسرا ملک ترقی کرے ۔

qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے