Voice of Asia News

شہد کے استعمال سے جلد کو نکھارنے میں مدد ملتی ہے

لاہور(وائس آف ایشیا)شہد کے استعمال سے نہ صرف جسم کو اندرونی طور پر فائدہ پہنچتا ہے بلکہ باہری طور پر بھی ہمیں مدد پہنچتا ہے ۔ شہد میں وٹامن اور منرلس پائے جاتے ہیں جیسے آئرن‘کیلشیم ‘پوٹاشیم‘سوڈیم‘وٹامن بی اور سی ساتھ ہی اس میں انزائم اور انیموایسڈ بھی ہوتا ہے ،یہ مانا جاتا ہے کہ زیادہ مقدار میں شہد کے استعمال سے وزن بڑھنے لگتا ہے جب کہ اس میں چینی سے کم کیلوری ہوتی ہے ،اس کے علاوہ شہر میں بہت سی خوبیاں پائی جاتی ہیں جب سے جلد کو نکھارنے میں مدد ملتی ہے ۔ جلد میں نکھار لانے ‘چوٹ ٹھیک کرنے اور جلن میں شہد فائدہ پہنچاتا ہے ۔ایگزیما اور ڈرمیٹا ئٹس میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے ،یہ ایک بہترن قدرتی موسچرائزر بھی ہے ،اگر جلد رف ڈرائی اور پینی ہے تو شہد لگا کر اسے ٹھیک کیا جاتا ہے ،ایک لیموں کا رس ملا کر صبح خالی پیٹ پینے سے جسم میں چستی پھرتی بنی رہتی ہے اور اس سے انرجی اور غذائیت بھی ملتی ہے ،گرم چائے پینے کے بجائے کولڈ چائے پئیں ،لیموں کا رس ،شہد اور برف کا استعمال کر کے چائے بنائیں ۔اس میں کافی کم کیلوری ہوتی ہے اور گرمی کے لئے بہتر بھی ہے ،ایک گلاس گنگنے پانی میں ایک چمچہ شہد ملا کر اسے سونے سے کچھ وقت پہلے پئیں ،اس سے نیند اچھی آتی ہے کیونکہ اس سے جسم کو کریلیکنگ ملتا ہے ،تغذئے کی کمی کا اینمیا والوں کو ٹانک کے طور پر ایک دو چمچہ شہد ایک گلاس پانی کے ساتھ ضرور پینا چاہئے ۔ادرک کے جوس کو ایک چمچہ شہد کے ساتھ لینے سے گلے کی خراش اور کھانسی سے راحت ملتی ہے اگر جلد میں خشکی ہو رہی ہو تو جلد دھونے کے بعد شہد لگائیں ،پندرہ بیس منٹ رہنے دیں پھر تازہ پانی سے دھولیں ۔ایک انڈے کی سفیدی کے ساتھ شہد ملا کر چہرے میں نکھار آجائے گا ،شہد کا فیس ماسک بنانے کے لئے ایک چمچہ کے اولن پاؤڈر ،ایک چھوٹا چمچہ شہد اور ایک چمچہ گاجر کارس ،دہی یا انڈے کی سفیدی ملائیں ،اس پیسٹ کو چہرے پر پندرہ بیس منٹ کے لئے لگا رکھنے کے بعد دھولیں ۔دو چمچہ شہد اور دو چمچہ عرق گلاب کو ایک لیٹر پانی میں ٹھیک طرح سے ملا لیں ،فرج میں رکھیں چہرے کو دھونے کے بعد اس سے بھی دھوئیں ،چاہیں تو روئی کی مدد سے اس سے چہرہ صاف کر سکتی ہیں ،ایک لیٹر پانی میں ایک چمچہ شہد ملا کر آخری بار بال دھونے کے لئے استعمال کریں ،بال میں خشکی نہیں رہے گی اور چمک بھی آجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے