Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر اسی ماہ میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کے دوران 18نوجوان شہید کیا

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کے دوران مارے گئے 6نوجوانوں کی لاشیں دینے اور شناخت جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ شہری ہلاکتوں کیخلاف لوگوں کا احتجاج جاری ،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ،کپواڑہ میں فوجی کیمپ کے باہر لوگوں کا دھرنا،وادی میں تعزیتی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز،دکانیں اور بازار بند،انٹر نیٹ سروس معطل ہے،رمضان کے دوران نام نہاد جنگ بندی میں بھارتی فورسز نے 18نوجوانوں کو شہید کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں 6نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا جن کی لاشیں تحویل میں لی گئی تھیں ۔بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کیرن سیکٹرمیں دو ھی پو سٹ کے قریب فوج کے4/4گورکھا رجمنٹ نے جنگجوؤ ں کے ایک بڑے گروپ کو اس پار داخل ہونے کی کوشش کے دوران گھیر لیا جس کے بعد طرفین کے درمیان کھمسان کی جھڑپ شروع ہوئی ۔ فوج نے فوری طور علاقہ کے ایک بڑے حصہ کو محاصرے میں لیکر جنگجو کو فرار ہونے کی تمام راستو ں کی بند کیا ۔ کافی دیر تک جاری اس جھڑپ میں یکے بعد دیگرے فوج نے 6جنگجوؤ ں کو شہید کیا۔اس کارورائی میں فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔جنگجوؤں کی لاشیں تحویل میں لے لی گئی ہیں ۔دوسری جانب مقامی لوگوں نے واقعہ کو فرضی جھڑپ قرار دیا ہے اور پیر کو کپواڑہ میں فوجی کیمپ جا کر لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا کہ شہداء کی میتیں ان کے سپرد کی جائیں تاکہ ان کی اسلامی طریقے سے تدفین کی جائے اور مارے جانے والوں کی شناخت اور ان سے برآمد ہونے والی دستاویزات کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاہم بھارتی فورسز نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد لوگوں نے فوجی کیمپ کے باہ ردھرنا دے دیا جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔بھارتی فوج نے لاشوں کی حوالگی کیلئے حکام بالا سے رابطہ کیا ہے جہاں سے جواب کا انتظار تھا۔دوسری جانب شہری ہلاکتوں کے خلاف وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا اور مظاہروں کے دوران لوگوں نے بھارتی فورسز اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں بھارتی فورسز نے آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے۔وادی میں تعزیتی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز،تجارتی ادارے ،دکانیں اور بازار بند رہے جس کے باعث روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔اس دوران کپواڑہ اور شوپیاں سمیت کئی علاقوں میں انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی معطل رہی اور سکیورٹی کو الرٹ رکھا گیا ۔واضح رہے کہ دو روز قبل کیرن سیکٹر کے کچھل پوسٹ پر فوج اور جنگجوؤ ں کے درمیان جھڑپ میں 6راشٹریہ رائفلز کے دو جوان شدید طور زخمی ہوئے جن میں ایک اہلکار سکھ ویندر سنگھ بعد میں فوجی اسپتال بادامی با غ سرینگر میں زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھا ۔کپوارہ ضلع میں رمضان فائر بندی کے دوران کرناہ ،مژھل ،کیرن اور قاضی آ باد ہندوارہ علاقوں میں مجموعی طور پرفوجکے ہاتھوں 18نوجوان شہید ہو چکے ہیں ۔ ان میں کرناہ کے شمس بری پہا ڑ پر جھڑپ میں جنوبی کشمیر کے کولگام اور پلوامہ سے تعلق رکھنے والے دو جنگجو شامل تھے جن کی نعشو ں کو پہلے وڈون کرناہ میں سپرد خاک کیا گیا اور بعد میں ان کے گھر والو ں کی شناخت کے بعدان کی نعشو ں کو ان کے لو احقین کے حوالہ کیا گیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے