Voice of Asia News

سرزمین کشمیر گزشتہ ستر برس سے نہتے کشمیریوں کے خون سے لالہ زار بنائی جارہی ہے‘ گیلانی

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے بھارتیفوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیری طالب علم طفیل احمد متو کو آٹھویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے 2010ء میں طفیل متو کوشہید کردیاتھا۔ اس کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی کشمیرمیں شروع ہونے والے عوامی انتفادہ کے دوران بھارتی فوجیوں نے 120سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیاتھا ۔سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ سرزمین کشمیر گزشتہ ستر برس سے نہتے کشمیریوں کے خون سے لالہ زار بنائی جارہی ہے۔انہوںنے 2010ء کی عوامی تحریک کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں 120سے زائد نہتے کشمیریوں کے قتل کو ظلم و بربریت اور سفاکیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی قابض فورسز نے اسکولوں کے طلباء کو نشانہ بنا کر اپنی بہادری ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔سیدعلی گیلانی نے کہا کہ آٹھ برس بعدبھی نہتے کشمیریوں کے قاتل فوجی اہلکار آزاد گھوم رہے ہیں اور انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی گھنائونی اور انسانیت سوز کارروائیوںکی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ اگر اس قتل ناحق میں ملوث مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو شاید مزید بے گناہ کشمیریوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ نہ ہوتا۔حریت چیئرمین نے 2010ء میں 120نہتے کشمیریوں کے قتل پر بھارتی فوج اور قابض انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جتنا ذمہ دار گولی چلانے والا ہے اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری اسے ایسا کرنے کا حکم دینے والا ہے اور دونوں کو سزا ملنی چاہتے ۔ سیدعلی گیلانی کی ہدایت پر سید محمد شفیع، محمد شفیع لون اور امتیاز احمد شاہ پر مشتمل حریت کانفرنس کے ایک وفدنے شہید طفیل متو کے گھر جاکر متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کیا اور شہید کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ادھر تحریک حریت جموںو کشمیرکے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے ایک بیان میں شہید طفیل متو کی آٹھویں برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ طفیل متو کوبھارتی فورسز نے 2010ء میں ننگی جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کیا۔انہوںنے کہاکہ طفیل گھر سے حصول تعلیم کیلئے نکلا تھا کہ فورسز نے اس بے گناہ طالب علم کو شہید کردیا۔ انہوں نے کہا گزشتہ 8سال سے طفیل کےقاتل اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اورمتاثرہ خاندان آٹھ برس بعد بھی انصاف کا منتظر ہے ۔انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں کوئی بھی کشمیری محفوظ نہیں ۔اشرف صحرائی کی ہدایت پر عمر عادل ڈار اور شفیق احمد پر مشتمل وفد نے شہید طفیل متوکے گھر جاکر اہلخانہ کے ساتھ تعزیت کی اور شہید طفیل متو کو خراج عقیدت پیش کیا۔محمد یوسف نقاش، ظفر اکبر بٹ،محمد سلیم زرگر ،غلام محمد میر، خواجہ فردوس اور ینگ مینز لیگ کے چیئرمین نے بھی طفیل متو کو خراج عقیدت پیش کیاہے۔ پیپلز فریڈم لیگ کے ایک وفد نے امتیاز احمد شاہ کی قیا دت میں طفیل متو کے گھر جا کراہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے