Voice of Asia News

ملاوٹ سے دودھ بنا کرلاکھوں قیمتی انسانی جانوں سے کھیلا جارہاہیں رپورٹ : جمال احمد

دودھ ایک غذائیت بخش غذا ہے جسے کروڑوں لوگ روزانہ استعمال کرتے ہیں ایک گلاس دودھ انسان کو پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹ، کیلشیم، میگنیشئم اور قیمتی وٹامنز فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 40 ارب لیٹر دودھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ دودھ تقریباً تریسٹھ لاکھ جانوروں (گائیں، بھینسوں) سے ملتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دودھ کے کاروبار سے دس لاکھ خاندان وابستہ ہیں۔ قومی جی ڈی پی میں اس کاروبار کا حصہ 11.30 فیصد ہے۔ سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ دودھ میں ملاوٹ کے بھی نت نئے طریقے سامنے آگئے۔ حتیٰ کہ حیوان نما انسان کیمیائی مادوں سے مصنوعی دودھ بنا کر گاہکوں کو زہر پلانے میں لگے ہیں۔ کراچی ،لاہور ، راولپنڈی سمیت دیگر وطن عزیز کے بڑے شہروں میں ایسا مضر صحت دودھ عام ملتا ہے۔ دودھ میں پانی ملانا ملاوٹ کا قدیم ترین طریقہ ہے۔ مدعایہ ہوتا ہے کہ دودھ کی مقدار بڑھ جائے مگر پانی ملانے سے دودھ کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔ اگر پانی آلودہ ہے تو وہ دودھ کو مضر صحت بھی بنا دیتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دودھ کو دیر تک محفوظ کرنے کی خاطر پہلے پہل پاکستانی گوالوں نے کیمیائی مادوں کا استعمال شروع کیا۔ دراصل لوگوں کی اکثریت صبح سویرے دودھ نکالتی ہے۔ یہ دودھ پھر چند گھنٹے بعد شہروں کو سپلائی ہوتا ہے۔ چنانچہ دودھ کو خراب ہونے سے بچانے اور محفوظ رکھنے کیلئے گوالے اس میں جراثیم کش (جراثیم مارنے والے) کیمیکل مثلاً ہائیڈروجن پیرا آکسائیڈ، فارملین، پنسلین، بال صفا پاؤڈر، بوریکس وغیرہ ملانے لگے۔ٹھنڈا دودھ خراب نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ دودھ تا دیر ٹھنڈا رکھنے کی خاطر اس میں برف، یوریاکھاد، ایمونیم سلفیٹ وغیرہ کی بھی آمیزش ہونے لگی۔ رفتہ رفتہ گوالوں کو علم ہوا کہ کھانے کا سوڈا (بیکنگ سوڈا) اور کاسٹک سوڈا بھی دودھ کو تادیر محفوظ رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ کیمیکل بھی ملائے جانے لگے۔ آہستہ آہستہ دودھ میں کئی اشیاء کی ملاوٹ معمول بن گیا۔
اصلی دودھ سے چکنائی نکال لینا بھی ملاوٹ ہی کی قسم ہے۔ یہ کام ڈبا بند دودھ بنانے والی کمپنیاں انجام دیتی ہیں اور گوالے بھی یہ چکنائی پھر مکھن، گھی، مارجرین وغیرہ کے طور پر الگ سے فروخت ہوتی ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ یوں خریدار کو کم چکنائی و غذائیت والا دودھ ملتا ہے۔
دودھ کا ذائقہ ظاہری حالت اور خوشبو بڑھانے کیلئے بھی اس میں مختلف اشیاء کی ملاوٹ عام ہے۔ مثلاً ڈیٹرجنٹ دودھ کو گاڑھا کرتا ہے۔ بلیچنگ پاؤڈر دودھ میں شامل کی گئی مختلف اشیاء کا رنگ دور کرتا اور قدرتی چمک بحال کر دیتا ہے۔ مصنوعی رنگ دودھ کو سفید کرتے ہیں۔ پنسلین بھی دودھ گاڑھا کرتی اور خوشبو بڑھاتی ہے۔ آخر میں میٹھا کرنے والے کیمیکل دودھ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یاد رہے لیکنوز(مٹھاس) کی وجہ سے اصلی دودھ کچھ زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔
گاڑھا پن خالص دودھ کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ لہٰذا چالاک گوالے قدرتی اور مصنوعی دونوں قسم کے دودھ میں مختلف اشیاء مثلاً سوڈیم کلورائیڈ، یوریا، کپڑے دھونے کا پاؤڈر، ایس این ایف مادے، نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ) ، پسے سنگھاڑھے، کیلشیم ہائڈرو آکسائیڈ، سکم ملک پاؤڈر، پینٹ وغیرہ ملاتے ہیں تاکہ وہ گاڑھا ہو جائے۔ مدعا یہ بھی ہوتا ہے کہ دودھ خریدنے والی کمپنیوں کے لیکٹو میٹر ملاوٹی اجزا نہ پکڑ سکیں۔ (لیکٹو میٹر دودھ کا گاڑھا پن چیک کرنے میں کام آتا ہے) جبکہ خالص دودھ میں ملاوٹ کرنے والی اشیا میں چینی، نمک، ہینزوک ایسڈ، سیلسیا ملک ایسڈ کاربونیٹس اور ہائی کاربونیٹس اور ایمونیم سلفیٹ بھی شامل ہو چکے۔
مصنوعی دودھ کوئی غذا نہیں بلکہ جوتے، پنکھے اور کمپیوٹر کی طرح ایک مصنوعہ یا پراڈکٹ ہے۔اس دودھ میں چکنائی پیدا کرنے کی خاطر کھانا پکانے کا تیل کام آتا ہے۔ ڈیٹرجنٹ یا کپڑے دھونے کا پاؤڈر پانی اور تیل کو اچھی طرح حل کر دیتا ہے۔ کاسٹک سوڈا اس لیے ملاتے ہیں تاکہ مصنوعی دودھ میں تیزابیت جنم نہ لے ورنہ وہ دودھ کو کھٹا کر دیتی ہے۔ یوریا دودھ میں ایس این ایف جیسا اثر پیدا کرتی ہے۔ مصنوعی دودھ میں اصلی دودھ اس لیے شامل کیا جاتا ہے تاکہ دودھ جیسا ذائقہ آسکے۔ یہ مصنوعی دودھ بنانے کا خرچ فی لیٹر 40 روپے سے بھی کم ہے۔ مگر یہ مارکیٹ میں 80 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا ہے۔ مہنگا ہونا ایک طرف خاص بات یہ ہے کہ یہ مصنوعی دودھ انسانی صحت کیلئے بہت خطرناک ہے۔
ملاوٹ شدہ دودھ کے ذریعے انسان کو نشانہ بنانے والی بیماریوں ٹائیفائیڈ، ہیضہ، پیٹ کے امراض، ہڈیوں اور جلد کی بیماریاں، ہیپاٹائٹس، ہائپر ٹینشن، تیزابیت، غنودگی طاری رہنا، ذہانت میں کمی، بال جھڑنا، بالوں کا قبل از وقت سفید ہو جانا، بچہ وقت سے پہلے پیدا ہونا، صبر و برداشت میں کمی آجانا، گردوں کی خرابیاں، گنجا پن، غم و غصے میں اضافہ، دل کی شریانوں کے امراض بڑھ گئے ہیں ۔ ان سب طبی خرابیوں سے بچنے کیلئے خالص دودھ نوش کرنا چاہیے اور مصنوعی دودھ کو تو ہاتھ تک نہیں لگانا چاہیے۔ بے حد افسوس انسانی لالچ و ہوس نے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ عظیم غذائی نعمت کو سفید زہر بنا دیا ہے۔
ہر گوالا چاہتا ہے کہ اس کی گائے یا بھینس زیادہ دودھ دے تاکہ وہ اپنی آمدن بڑھ سکے۔ آمدن بڑھانے کی یہی تمنا اب تمام اخلاقی حدود پار کر چکی ہے۔ بہت سے گوالے اب جانوروں کو آکسی ٹوسین ہارمون کاٹیکا لگاتے ہیں جو دودھ کی پیداوار میں پچاس فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔ گویاٹیکا لگانے سے گوالے کو ایک جانور سے پانچ کلو کے بجائے دس کلو دودھ ملتا ہے۔ گوالے دودھ کی مقدار بڑھانے کیلئے حیوانوں کو ایک ہارمون، بووائن سوماٹو ٹروپین کا ٹیکا بھی لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بی آر ایس ٹی بوسٹن انجکشن بھی گائے ، بھینس میں دودھ کی مقدار بڑھتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق جانوروں کا دودھ بڑھانے میں استعمال ہونے والے انجکشن سے جانوروں میں بیماریوں کے ساتھ ساتھ دودھ شہریوں میں بریسٹ کینسر، جلد بلوغط ، بچوں میں جنسی تبدیلیوں اور فحاشی کی جانب راغب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ زائد منافع بٹورنے کے لیے بھینسوں کے مالکان دودھ میں اضافے کیلئے بوسٹن انجکشن لگاتے ہیں جس میں موجود ہارمونز مذکورہ جانور کے ساتھ ساتھ انسانوں کیلئے بھی خطرناک ہیں۔جس سے نہ صرف جانوروں کا میٹا بولک بلکہ تولیدی نظام بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے اور جانوروں کے پیدا ہونے والے بچھڑوں کے درمیان طویل وقفہ یا پھر اکثر جانور بانجھ پن کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے مویشی پالنے والے افراد کو بعد میں شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے اس حوالے سے لائیو سٹاک کی جانب سے بھینسوں کے مالکان کو کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی۔جس کی وجہ سے بھینسوں کے مالکان زیادہ مقدار میں دودھ حاصل کرنے کیلئے بی آر ٹی ایس فارمولے والے انجکشن کا استعمال کرتے ہیں جبکہ اس انجکشن کے استعمال سے حاصل ہونے والا دودھ انسانوں کیلئے بھی مضر صحت ہوتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق بی آر ٹی ایس فارمولا جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے کیو نکہ انجکشن میں موجود ہارمون جس طرح جانور میں دودھ بڑھانے کی صلاحیت میں اضافے کرتے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی دودھ کے ذریعے داخل ہو کربڑی تبدیلی رونما کرتے ہیں جو تشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہے بچیوں اور بچوں کا وقت سے قبل بڑے ہو جانے کی وجہ ان کے جسم میں ان ہارمونز کا بڑی تعداد میں روزانہ داخل ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کہ بیشتر ممالک اس کے استعمال پر پابندی لگاچکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے اس کے خلاف فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آئندہ نسل کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔
وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ملاوٹ شدہ دودھ بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کرے اور انہیں سخت سزائیں دی جائیں تاکہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والے عناصر عبرت پکڑ سکیں۔

jamalahmad50000@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے