Voice of Asia News

مسئلہ کشمیر بھارت کے آئین سے بالا تر ایک تنازعہ ہے ترجمان حریت کانفرنس

سری نگر(وائس آف ایشیا)حریت ترجمان اعلیٰ غلام احمد گلزارنے مسئلہ کشمیر کو بھارت کے آئین سے بالا ایک مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں بھارت کے آئین کے اندر اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل تلاش کرنا ایک ناممکن عمل ہے۔ حریت ترجمان نے حریت کانفرنس کے اٹل موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ریاستی عوام کے امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے حریت کانفرنس کا پانچ نکاتی فارمولہ بھارت کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے راہنما خطوط فراہم کرنے کا آئینہ دار ہے جس میں کسی بھی مذاکراتی عمل کو پٹری پر لانے کے لیے بھارت کو مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو قبول کرنا شرطِ اول قرار دیا گیا ہے۔ حریت ترجمان نے بھارت کی موجودہ فرقہ پرست حکومت کو نشۂ اقتدار میں دھت ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کے خلاف گولیوں کی برسات کئے جانے کی دھمکیاں سرزمین کشمیر پر اب بہت فرسودہ ہوچکی ہیں۔ ریاستی عوام پچھلے 70برسوں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک درجنوں جلیاں والا باغ جیسے خونین سانحات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے آئے ہیں اور اب تک چھ لاکھ سے زائد انسانی جانوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا جا چُکا ہے، لاکھوں کی تعداد میں حریت پسند لوگوں کو قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا جاچُکا ہے، ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو زیرِ حراست قتل کیا جاچُکا ہے، عفت مآب خواتین کے دامن عصمت کو تار تار کیا جاچُکا ہے اور کھربوں روپئے مالیت کی جائیدادیں تلف کی جاچُکی ہیں۔ حریت ترجمان نے کہا کہ ان بیش بہا قربانیوں کو بھارتی آئین کے تحت مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے لیے نہیں، بلکہ ریاستی عوام کو اپنے پیدائشی حق یعنی حقِ خود ارادیت کے آبرومندانہ حصول کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے