Voice of Asia News

انصاف کی تلاش میں پولیس کی کارکردگی صفر:محمد جمیل بھٹی

ہمارے ملک میں عام آدمی کو انصاف کی فراہمی ہمیشہ ایک خواب رہا ہے۔ محکمہ پولیس میں پائی جانے والی کرپشن، روایتی سست روی، جرام کو روکنے میں عدم دلچسپی اور سست عدالتی نظام کی وجہ سے مظلوم انصاف کے حصول کیلئے برسوں تھانوں اور کچہریوں کے چکر لگاتا ہے، اس کے باوجود انصاف سے محروم ہی رہتا ہے۔ مجبوراََ وہ خودکشی کرلیتا ہے۔ بااختیار افراد کی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھنے والے بے گناہ بھی جیلوں میں پڑے سڑتے رہتے ہیں لیکن پولیس کی طرف سے کیس کا چالان عدالت میں پیش ہی نہیں کیا جاتا۔
پاکستان کے آئین میں اس بات کی وضاحت کے باوجود کہ کوئی بھی عہدیدار یا اہلکار ملک میں درج ہونے والی کوئی بھی ایف آیی آر نہیں روک سکتا، اس کے باوجود ضمیر فروش دولت کی لالچ میں اپنی دکانداری چمکانے میں لگے رہتے ہیں۔ جبکہ غریب اور مظلوم سالہا سال تھانے اور کچہریوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں اور جب کہیں شنوائی نہیں ہوتی تو تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، بلکہ رہی سہی پونجی تھانے کچہریوں کے چکر میں گنوا بیٹھتے ہیں۔ کوئی مظلوم اگر کسی پولیس اہلکار کے پاس اپنا کیس لے کر جاتا ہے تو وہ پہلے ہی اچھی طرح تسلی کرلیاتا ہے کہ اس کے پاس رشوت یا سفارش ہے۔ اس کے بعد وہ مطلب کی بات کرتا ہے اور رپورٹ درج کرتے ہوئے بھی نزرانہ لیتا ہے جبکہ غریب کی رپورٹ درج کرواتے ہوئے بھی ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے ہی قصور دار ٹھہرا کر دھرلیا جاتاہے۔ جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تھانے سودے بازی کے اڈے اور بہت جگہ تو پولیس ہی تمام کام کا سرانجام پولیس ہی بن چکی ہیں۔
کرپٹ ایس ایچ اوز نے شریف شہریوں کو ڈاکوؤں، بھتہ خوروں، قبضہ مافیا اور اشتہاریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ محکمہ پولیس کے ایس ایچ اوز کی زیرنگرانی جوا، جسم فروشی اور منشیات فروشی کے اڈے چلائے جاتے ہیں۔ محکمہ پولیس کا ادنیٰ سے ادنیٰ اہلکار بھی اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتا ہے اور معمولی سی بات پر آپے سے باہر ہوجاتا ہے یہی نہیں کم و بیش محکمہ پولیس کے کئی اہلکار ہر جگہ اور ہر موقع پر اس قسم کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور تو اور بعض اوقات خرید و فروخت میں بھی اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہیں۔ دکاندار ان لوگوں کا منہ تکتے رہتے ہیں۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران میں جب جمہوری نظام آیا اور جمہوری ادارے قائم ہوئے تو سب سے پہلے اس بات پر زور دیا گیا کہ قانون کی بالادستی قائم ہو اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوں کیونکہ صرف اسی صورت میں انصاف ممکن تھا۔ انگلستان میں خصوصاََ مفکرین کا ایک گروہ جو افادیت پسند کہلاتا تھا۔ انہوں نے معاشرتی ترقی اور قومی آہنگی کیلئے قانون کی بالادستی کو ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق انصاف اور مساوات اسی صورت میں قائم ہوسکتی تھی جبکہ قانون کی نظروں میں سب برابر ہوں۔
اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ قربانیاں ملک میں عدل و انصاف اور قانون کے نافذ کیلئے دی گئی ہیں۔ ہماری پولیس اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مظلوموں کی بے بسی میں مزید اضافہ کررہی ہے۔ ہر نئی آنے والی حکومت نے عام آدمی کو اسکے گھر کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے تو کئے مگر آج تک ان دعوؤں پر پورا نہ اتر سکی۔ چنانچہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق آج صورتحال یہ ہے کہ مظلوم خودسوزی اور خودکشیوں پر مجبور ہوچکے ہیں۔ آئے دن حوا کی بیٹیاں درندوں کی وحشت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں تو دوسری جانب طاقتور اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صاف بچ نکلتے ہیں۔ پولیس کی کارکردگی صفر ہے اور بھی اپنے کھاتے بھرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ان کی بلا سے مظلوم جائے بھاڑ میں۔
پنجاب حکومت نے جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے اپنے دعوے سچ نہ کر پائی جس کی سے وجہ مقصد عوام کو جلد انصاف کی فراہمی اور بے گناہوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنا تھا۔ جس کی وجہ سے لوگ انصاف کیلئے دربدر بھٹکتے رہے اور ظلم بڑھتا ہی گیا۔
لاہور چھ پولیس ڈویڑن میں منقسم ہے۔ یہاں تقریباََ 100 پولیس سٹیشن ہیں۔ داتا دربار پولیس سٹیشن کی منتھلی ڈیڑھ سے تین لاکھ تک ہے ، دیگر تھانوں کا حال بھی درجہ بہ درجہ ایسا ہی ہے لاہور کے پولیس سٹیشنز جہاں پولیس آفیسر کی ایک بڑی تعداد ہے جو مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او گزشتہ کئی سالوں سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے۔ وہ کئی بار معطل کئے جانے کے باوجود کچھ عرصہ بعد دوبارہ واپس آ جاتے ہیں۔
ملک کے دیگر صوبوں اور شہروں میں بھی پولیس اس قسم کے کارنامے سر انجام دے رہی ہے۔ سندھ نمبر وان پر اس کے بعد پنجاب بھر بلوچستان اور کے پی کے پولیس کے کارہائے نمایاں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ جو ناجائز دھندہ کرنے والوں کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ تھانوں میں حقدار کے ساتھ ناانصافی معمول کا حصہ ہے۔ اعلیٰ پولیس افسروں کی دوستیاں اور تعلقات جعل سازوں اور بدنام زمانہ افراد سے گہری ہیں اس کے اردگرد ان کے پولتو منجران کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے انہیں ’’ سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹس دیتے ہیں۔ قابل غورامریہ ہے کہ جس ملک میں قانون بنانے والے ہی قانون کو نظر انداز کر دیں اور سرکردہ افراد بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا نہ بھولیں تو اس ملک کا ’’اللہ ہی حافظ ہے‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ’’کوئی بھی معاشرہ کفر کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم اور ناانصافی کے ساتھ نہیں۔‘‘ آج ہم تاریخ کے جس نازک موڑ پر کھڑے ہیں یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ ہر روز ملک میں کہیں نہ کہیں بے گناہوں کے خوف سے چیختے رہ جاتے ہیں۔ مگر کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ اس سنگین المیے پر قابو پانے کیلئے پولیس اور عدلیہ سے بدعنوان اہلکاروں کو نکال باہر کرنا ہوگا اور شفاف اور بے لوث افراد کا تقرر کرنا ہوگا۔ ایسی منصوبہ بندی اور پالیسی کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی اہلکار سفارش اور رشوت لینے کے متعلق سوچ بھی نہ سکے۔ حکومت کو اس سلسلے میں ٹھوس اور جامع پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔ ذرائع ابلاغ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے