Voice of Asia News

کرکٹ کھیلنے پر والد کے ہاتھوں خوب پٹائی ہوتی تھی کپتان وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کا انٹرویو: محمد قیصر چوہان

 کرکٹ کھیلنے پر والد کے ہاتھوں خوب پٹائی ہوتی تھی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کا
’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو22مئی 1987 کو کراچی میں جنم لینے والے سرفراز احمد کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اس شہر سے تعلق رکھتا ہے جس نے پاکستان کو وسیم باری، راشد لطیف اور معین خان سمیت کئی عمدہ وکٹ کیپرز دیئے ہیں۔ دائیں ہاتھ کے بیٹسمین کے طور پر اس کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔ کراچی کی سخت جان کرکٹ میں خود کو منوانے والے کھلاڑی نے جب جونیئر عالمی کپ کیلئے پاکستانی ٹیم کی قیادت سنبھالی تو اس وقت تک وہ ایک ایسا کھلاڑی تھا جسے کلب یا انڈر 19 سطح پر ہی پہچانا جاتا تھا مگر2006 میں انڈر 19 ورلڈ کپ کی فاتح ٹرافی کے ساتھ واپسی نے اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کر دیا پھر سرفراز نے کراچی ڈولفین، کراچی ہاربر، پاکستان اے، پی آئی اے ،پاکستان انڈر19 ، سندھ او ر کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی ٹیمو ں کی کپتانی کے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دیئے۔ یارکشائر کاؤنٹی کی جانب سے بھی اپنی صلاحیتوں کے جو ہر دکھائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد میں قائدانہ صلاحیتوں کو بھانپ کر اسے پاکستان کی T20 اور ون ڈے کرکٹ ٹیموں کا کپتان بنایا۔ٹیسٹ کرکٹ میں36 ٹیسٹ کی 63اننگز میں 12مرتبہ ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے2089 رنز بنائے۔ ان کا سب سے زیادہ اسکور112 رنز ہے، 3سنچریاں اور13 نصف سنچریاں بنانے چکے ہیں۔95کیچز کے ساتھ 17 اسٹمپ آؤٹ کئے ہیں۔ون ڈے میں سرفراز احمد نے 75میچ کی57 اننگز میں1644 رنز اسکور کئے ہیں، ان کا بہترین اسکور105 رنز ہے۔2سنچریاں اور7 نصف سنچریاں شامل ہیں،71 کچز اور22 اسٹمپ بھی کرچکے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں سرفراز نے32 میچوں کی 23اننگ میں363 رنز بنائے جس میں76 رنز بہترین اسکور ہے۔سرفراز احمد نے ٹیسٹ ڈیبیو14سے 18جنوری2010میں آسٹریلیا کے خلاف ہوبارٹ میں کیا ۔پاکستان ٹیسٹ میچ 231رنز سے ہارگیا تھا۔ آخری ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔10سے14 مئی2017 تک جاری ٹیسٹ میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی اور یہ ٹیسٹ مصباح الحق اور یونس خان کے کیئریئر کا آخری ٹیسٹ تھا۔سرفراز نے پہلی اننگ میں نصف سنچری54) (بنائی تھی۔ون ڈے میں ڈیبو بھارت کے خلاف18 نومبر2007 کیا، جس میں پاکستان نے31 رنز سے کامیابی حاصل کی سرفراز کی بیٹنگ نہیں آئی ۔سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان نے میں سری لنکامیں کھیلے گئے انڈر19 کرکٹ ورلڈ کپ2006 میں بھارت کو ہراکر چیمئپن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔پاکستان نے بھارت کو38 رنز ہراکر ٹرافی اپنے نام کی انور علی نے39 رنز دیکر5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے بھارتی ٹیم کو71 رنز پر پولین بھیج دیا۔سرفراز احمدپہلے کپتان ہیں جنہوں پاکستان کو آئی سی سی چمئپنز ٹرافی کا ٹائٹل جتوایا۔گزشتہ دنوں ’’وائس آف ایشیاء‘‘ نے پاکستان کیT20 ،ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سے جو گفتگو کی وہ قائین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال:پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی پر آپ کے کیا احساسات ہیں ؟
سرفراز احمد:میں پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی پر بہت خوش ہوں۔ورلڈ الیون کی آمد کے بعد پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحال ہو چکی ہے اس کا تمام تر کریڈٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چےئر مین نجم سیٹھی کو جاتا ہے جنہوں نے ملک کے ویران میدان آباد کرنے کیلئے جو محنت کی وہ رنگ لے آئی۔میں آئی سی سی اورورلڈ الیون کے کرکٹرز کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے پا کستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی میں مدد کی ۔اب تمام ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو پاکستان آ کر میچز کھیلنے چاہیں کیونکہ ورلڈ الیون سے کامیاب سیریز نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کھیلوں اورکھلاڑیوں سے محبت کرنے والا ایک پر امن ملک ہے۔
سوال: آپ کو چیمپئنز ٹرافی کی جیت کا کس حد تک یقین تھا؟
سرفراز احمد:ویسٹ انڈیز کے ٹور میں مجھے ون ڈے ٹیم کی قیادت دی گئی، تجزیہ کاروں نے کہنا تھا کہ آسان سیریز ہے ویسٹ انڈیز کمزور حریف ہے اس کو ہرانا مشکل نہیں ہوگا۔لیکن میری نظر میں ویسٹ انڈیز کو اس کے گھر میں شکست دینا آسان نہیں مشکل ٹاسک تھا۔ اس کے ساتھ ہمیں چیمئپنز ٹرافی میں شرکت کیلئے کوالیفائی کرنے کے بھی لالے پڑے ہوئے تھے۔اس صورتحال میں اللہ کے فضل سے اور لڑکوں کی محنت سے ہم نے ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر پہلی منزل یعنی چیمئپنز ٹرافی میں شرکت کی انٹری حاصل کی ۔آئی سی سی ون ڈے میں آٹھویں پوزیشن حاصل کرکے ہم نے ایونٹ میں شرکت کیلئے سیٹ کنفرم کی۔ لندن جانے سے قبل کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان کی ٹیم فائنل تو دور کی بات تھی سیمی فائنل میں بھی پہنچ جائے تو یہ سرفراز الیون کا بڑا کارنامہ ہوگا۔ ایونٹ میں روایتی حریف بھارت سے پہلا مقابلہ اس کے بعد ورلڈ نمبر ون جنوبی افریقہ اور اس کے بعد سری لنکا سے ٹاکرا تھا۔ صورتحال اچھی نہیں تھی لیکن اللہ پر بھروسہ اور مضبوط ایمان کی وجہ سے امید تھی ہم نے اچھا پرفارم کیا تو ہم ٹرافی جیت سکتے ہیں۔ہمارے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان اگر ایک بھی میچ جیت لے تو بڑی بات ہوگی ،پہلے ہم پر پریشر ڈال دیا گیا، میرا کیرئیر کا بھی یہ بہت بڑا امتحان تھا۔ آئی سی سی ٹرافی میں پہلا مقابلہ بھی بھارت کی مضبوط ٹیم جس کی بیٹنگ لائن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کتنی مضبوط ہے ،بھارت کے خلاف پہلا میچ میں ہم نے بہت خراب کھیل پیش کیا اور 124رنز کی بڑی شکست کے بعد ٹیم منجمنٹ اور سینئر پلیئرز کے ساتھ جونیئر نے عہد کیا اور اس امید کے ساتھ ہم اپنا نیچرل کھیل پیش کرکے ایونٹ میں واپسی ممکن ہوسکتی ہے۔ بھارت کے خلاف جو غلطیاں ٹیم سے اور مجھے سے کپتانی میں ہوئی اس سے ہم نے سبق سیکھا اور پھر وہ ہوا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں ،جس نے ہمیں اتنی عزت اور کامیایباں عطا فرمائیں۔ اس کے بعد پوری پاکستانی قوم کابے حد مشکور ہوں جس نے بھر پور سپورٹ کیا۔ اس کے ساتھ دنیا میں جہاں بھی پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں موجود ہیں جو میدان میں آئے اور ہماری ٹیم کی حوصلہ افزائی کی اوردن رات دعائیں اور پیغامات سے پاکستانی ٹیم نے ایک یونٹ بن کر ٹرافی جیت کر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سر بلند کیا ۔
سوال: چیمئپنز ٹرافی کے پہلے میچ میں بھارت سے شکست کے بعد احمد شہزاد کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کس کا تھا ؟
سرفراز احمد: میر ے لےئے احمد شہزاد جیسے سینئر کھلاڑی کو ڈراپ کر کے نا تجربہ کار فخر زمان کو کھلانا ایک بڑا ہی مشکل فیصلہ تھا کیونکہ احمد شہزاد ٹیم کا مستقبل رکن اور بہترین کرکٹر ہے،لیکن ٹیم منجمنٹ کے مشورے کے بعد فخرزمان کو چانس دیا۔اس کے ساتھ ہی وہاب ریاض کے ان فٹ ہونے کے بعد جنید خان کو ٹیم میں جگہ دی۔ دونوں پلیئرز نے اپنی کارکردگی ثابت کی اور پاکستان نے جو جنوبی افریقہ کے خلاف ڈی ایل قانون کے تحت 19رنز سے کامیابی حاصل کرکے جیت کے سفر کا آغاز کیا وہ ٹرافی کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا۔
سوال: جب آپ نے چیمئپنز ٹرافی اٹھائی تو کیسا محسوس کیا ؟
سرفراز احمد: یہ مرحلہ آیا میں کبھی نہیں بھول سکتا۔یہ میری زندگی کا یادگار ترین دن تھا جب ہم نے بھارت کو شکست دیکر پا کستان کو چیمئپنز ٹرافی کا پہلی مرتبہ چیمئپن بنوایا ۔اس قبل50 اوورزکی کرکٹ کا 1992ورلڈ کپ ہم نے رمضان کے مہنیہ میں 25سال قبل عمران خان کی قیادت میں جیتا تھا۔18جون 2017 کا دن اوراس لمحہ کو نہیں بھول سکتا۔ٹیم کا ہر رکن اور ٹیم منجمنٹ سب خوش تھے۔ قوم جشن منارہی تھی ان کی عید سے پہلے ہی عید ہوگئی تھی۔سب کرکٹرز نے بھی بہت سپوٹ کیا ان کا بھی شکریہ اورجس طرح ہمیں وی آئی پی پروٹوکول میں اپنے گھروں تک پہنچایا گیا،ہم پر جس طرح پھولوں کی بارش اور پیار نچھارو کیا گیا میں قوم کے اس پیا ر کو زندگی بھر کو نہیں بھول سکتا۔
سوال: چیمئپنز ٹرافی جیسے بڑے ایونٹ میں ٹیمیں کوئی رسک نہیں لیتی لیکن آپ نے تین کرکٹرز کو ڈیبیو کرایا؟
سرفراز احمد: اللہ کا شکر ہے ہم نے جن پلیئرز پر اعتماد کیا اور میگا ایونٹ میں ان لڑکوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ اپنے اولین میچ میں کیا اس پر ان کی جیتنی تعریف کی جائے کم ہے ہم نے پہلے اوپنر فخر زمان کو کھلایا اس نے ثابت کیا اور پھر ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا نہیں پڑا، آل راؤنڈ فہیم اشرف کو موقع ملا اس نے اپنی صلاحتیوں سے ثابت کردیا کہ وہ درست انتخاب تھا اس کے بعد فاسٹ بولر رومان رئیس کو موقعہ دیا گیا تو اس نے بھی اپنے سلیکشن کو درست ثابت کیا۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے انشاء اللہ قوم کو ایسی خوشیاں دیتے ہیں ہمیں سپورٹ کی جائے، کوئی ٹیم بھی جان بوجھ کر نہیں ہارتی ،جب پرفارمنس نہ ہو سکے تو بھی ہمیں سپورٹ کی جائے، جیت ہوتی ہے تو بلے بلے اور شکست پر تمام توپوں کا رخ پلیئرز کی طرف ہوتا ہے ،ہم بھی انسان ہیں ،ہمیں دعائیں اور پیار چاہئے اس کے بدلے میں ہم اپنی سوفیصد کارکردگی سے آپ کو سرخرو کرنے کی کوشش کریں گے۔
سوال: اب آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کرکٹ کے کھیل کے ساتھ کس طرح منسلک ہوئے؟
سرفراز احمد: میرا تعلق ایک کراچی کے ایک مذہبی گھرانے سے ہے ،میرے والد کا نام شکیل احمد ہے ۔ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہے،بڑے بھائی شفیق احمد ،ان کے بعدمیں سرفرازا حمدپھر بہن ہیں جن کی شادی ہوچکی ہے پھر تین چھوٹے بھائی ہیں۔مجھے حافظ قرآن بنانا والد کی خواہش تھی ، میں نے حافظ قرآن بن کر والد کی خواہش پوری کر دی ۔میں مولوی نہیں ہوں لیکن مذہب سے بہت لگاؤ ہے ، بچپن ہی سے نعت پڑھنے کا شوقین ہوں جبکہ کرکٹ کھیلنے شوق بھی بچپن ہی سے تھا ۔کرکٹ کھیلنے پر والد کے ہاتھوں خوب پٹائی ہوتی تھی۔مئی2015 میں میر ی سیدہ خوش بخت سے شادی ہوئی ۔ فروری 2017میں بیٹا عبداللہ پیدا ہوا۔
سوال: سرفراز یہ بتائیں کرکٹ کھیلنے کا باقاعدہ آغا آپ نے کب کیا تھا اور قومی ٹیم تک آنے میں کتنی محنت کی؟
سرفراز احمد: میں نے کرکٹ کھیلنے کا باقاعدہ آغاز 2001 میں کیا تھا اور کے سی سی اے زون نمبر 6 کی طرف سے انڈر 15 کرکٹ میں کھیلا تھا۔ میں پاکستان کرکٹ کلب کی جانب سے کھیلتا ہوں جہاں سابق ٹیسٹ کرکٹر اعظم بھائی نے میرے کھیل کو نکھارنے میں بھرپور مدد فراہم کی۔ جب میں اعظم بھائی کے پاس گیا تھا تو میرے اندر کھیل کے لحاظ سے کئی خامیاں تھیں اور میری وکٹ کیپنگ بھی بہت اچھی نہیں تھی بلکہ میں صرف بیٹنگ کی طرف توجہ دیتا تھا مگر کلب کے کوچ افتخار احمد کے علاوہ ظفر بھائی نے بھی میری راہنمائی کی جبکہ میرے ساتھ کھیلنے والے چند فرسٹ کلاس کرکٹرز نے بھی مجھے بہتر کھلاڑی بننے میں مدد دی اور آج میں جو کچھ بھی ہوں ان لوگوں کی وجہ سے ہی ہوں۔ میں نے ظہور بوائز سکول کی طرف سے سکول کرکٹ کھیلی اس کے بعد جناح کالج کی طرف سے انٹرکالجیٹ کرکٹ بھی کھیلی۔جبکہ ڈومیسٹک سطح پر کے ای ایس سی کے علاوہ PIA اور کراچی کیلئے بھی تسلسل کے ساتھ کھیلا۔ میرے خاندان میں کچھ لوگ کلب کرکٹ کی سطح تک کھیلے ہیں مگر میں پہلا فرد ہوں جو اس لیول پر کھیل رہا ہے۔
سوال: کرکٹ کھیلنے کے آغاز پر کس وکٹ کیپر کو آپ نے اپنے لیے رول ماڈل بنایا؟
سرفراز احمد: معین خان میرے آئیڈیل ہیں۔ ان کے مفید مشوروں پر عمل کرنے سے ہی میری وکٹ کیپنگ میں واضع بہتری آئی ہے ان کے علاوہ سر ی لنکاکے کمار سنگا کارا اور جنوبی افریقہ کے اے بی ڈویلیئر میرے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں یہ دونوں ہی منفرد طرز کے کھلاڑی ہیں میں ان عظیم کرکٹرز کے تجربے سے بھی بھرپورفائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں سنگاکارا میری کپتانی میں کھیلا تھا اس دوران اس عظیم وکٹ کیپر بلے باز نے مجھے وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ کے شعبے میں نکھار لانے کے علاوہ کپتانی کے فن کی باریکیوں سے بھی آگاہ کیا تھا۔ جن پر میں ان کا بے حد مشکور ہوں۔
سوال:آپ کو کن لوگوں نے سپورٹ کیا ؟
سرفراز احمد: ان لوگوں کو میں کبھی نہیں بھول سکتا جن کی وجہ سے آج میں قومی کرکٹ ٹیم کا ہو ں ،ان کا نام میں فخر سے لیتا ہوں ، جن میں اعظم خان بھائی، معین خان ،ندیم عمر، سراج الاسلام بخاری، ظفر احمداور ساجد خان کی محنت کا بڑا دخل ہے۔
سوال: پاکستان کرکٹ بورڈ نے آپ کو پاکستان کی T20 اور ون ڈے کرکٹ ٹیم کے بعد ٹیسٹ ٹیم کا بھی کپتان بنادیاہے ،آپ کے کیا احساسات ہیں؟
سرفراز احمد: ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی میرے لیے بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے پہلے مجھے T20 اور ون ڈے ٹیم کا کپتان بنایا ۔پھر اب مجھے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی دی ہے جس پرمیں ان کا بڑا مشکور ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے میرے کاندھوں پر جو ذمہ داری ڈالی ہے میں اسے قومی ذمہ داری سمجھ کر پوری ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔ میں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بننے کا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ یہ تو بس اللہ تعالیٰ کا مجھ نا چیز پر خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے اتنی عزت سے نوازا ہے۔ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بہت ہی مشکل اور ذمہ داری والا کام ہے ۔اب ٹیسٹ ٹیم کو نمبر ون بنا نا میرا مشن ہے۔
سوال: 2013 میں جب آپ کو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا تو آپ نے اپنے مستقبل کیلئے کیا سوچا تھا؟
سرفراز احمد: ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد میں اپنے کیریئر کو ختم ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا اس لیے خاصا پریشان تھا لیکن ان حالات میں اعظم بھائی، ظفر بھائی، ندیم عمر اور معین خان نے میرا حوصلہ بڑھایا اور میرے کھیل میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کرانے میں میری مدد کی۔ ان کی بروقت راہنمائی نے ہی میرے ڈوبتے ہوئے کیریئر کو بچایا۔ جن پر میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔
سوال: آپ نے مستقبل کی کیا پلاننگ کی ہے؟
سرفراز احمد: میری اولین ترجیح ہمیشہ پاکستانی ٹیم کی فتوحات رہی ہیں میں خود کو ہمیشہ ایک ٹیم مین کی حیثیت سے دیکھتا ہوں میرا اولین مقصد اور مشن پاکستان کرکٹ ٹیم کو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔ ایک ایسی ٹیم بنانا ہے جو ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑتی رہے جس سے ملک و قوم کا نام روشن ہو۔ کپتان بننے کے بعد میرا اولین ٹارگٹ یہی ہے کہ میں پاکستان T 20 ،ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کو ورلڈ نمبر ون ٹیم بنا دوں۔ T 20 میں ڈاٹ بال کھیلنے کے رجحان کو ختم کروں گا۔ ماڈرن کرکٹ کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بناکر ٹیلنٹ کو درستگی کے ساتھ استعمال کررہا ہوں۔ قومی ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کر نا مشن ہے۔ میرا مقصد یہی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہمیشہ فتح کیلئے بے چین اور بے تاب رہنے والے اسکواڈ میں تبدیل کردوں ایک کھلاڑی اور کپتان ہونے کے ناطے میرا مقصد آنے والے چیلنجز میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ ٹیم کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکوں یہی اس وقت میری اہم ذمہ داری ہے جس کا مجھے پوری طرح سے احساس ہے میں میدان میں تمام صلاحیتیں اور توانائیاں جھونک دینے کا عادی ہوں۔ بطور کپتان میرا مقصد یہی ہے کہ کرکٹ کے ہر میدان میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلندی پر لہرائے میں مشکل ترین حالات میں بھی پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے فتوحات کی راہیں تلاش کروں گا۔
سوال: آپ کا فیورٹ کپتان کون سا ہے؟
سرفراز احمد: ہر کپتان کا اپنا سٹائل ہوتا ہے، کوئی بہت زیادہ جارحانہ انداز اپناتا ہے تو کوئی دفاعی انداز پر کاربند ہوتا ہے۔ میرا پسندیدہ کپتان مصباح الحق ہے انہوں نے مشکل وقت میں جس انداز اور کمٹمنٹ کے ساتھ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کے فرائض سر انجام دیئے وہ میرے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اپنے رول ماڈل کپتان مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
سوال: آپ کے خیال میں اچھے کپتان کو کن خوبیوں کا مالک ہونا چاہیے؟
سرفراز احمد: بہت ساری چیزو ں کا امتزاج لیکن سب سے اہمیت کی حامل چیز یہ ہے کہ وہ کھلاڑیو ں کو سمجھنے اور ان کی اہلیت کو جاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک اچھا کپتان کھلاڑیوں کی ضرورتو ں کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہو۔ جسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کون سی چیز انہیں بہتر کارکردگی کی طرف متوجہ کر سکتی ہے اور وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کس طرح کھیل سکتے ہیں۔ پھر ایک اہم ترین چیز کھلاڑیوں کے ساتھ اچھے روابط بھی ہیں جن کے بغیر کامیابی ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کپتان انتہائی چالاک اور عقل مند دماغ کا مالک ہو جس کی کھیل کے حوالے سے اپروچ بالکل مثبت ہو۔ خود کو کھیل کی رفتار سے ہم آہنگ آنے والے مختلف بلے بازوں کو ذہن میں رکھ کر منصوبہ بندی کرنایہ دیکھنا کہ کس کو کہاں باؤلنگ کرنا ہے۔ وغیرہ ایسی باریکیاں ہیں جو کپتانی کرنے سے ہی سمجھ میں آتی ہے۔ اچھے کپتان کو صرف کھلاڑیوں کی دیکھ بھال ہی نہیں کرنا پڑتی بلکہ اسے کھیل کے مکمل قوانین کا بھی علم ہو جبکہ وہ انسداد نسلی امتیاز، ڈوپنگ اور کوڈ آف کنڈکٹ سے پوری طرح واقفیت رکھتا ہو تاکہ غلطی کا کوئی احتمال نہ رہے۔ کمیونیکیشن دراصل قیادت کا اہم ترین حصہ ہے اور کھلاڑیوں کو نگاہ میں رکھنا کہ وہ کیا کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کیلئے کیا درست ہے اور کیا نہیں۔ اچھا کپتان تمام کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ان کو اچھا پرفارم کرنے پر اکساتا ہے اور میچ کی آخری گیند تک فائٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس شخص کو حکمت عملی کے اعتبار سے پوری آگاہی ہو وہ ایک بہترین کپتان کے روپ میں سامنے آسکتا ہے اچھا کپتان وہی ہے جو تمام کرکٹرز کو ساتھ لے کر چلے ہر ایک کو آپس میں جوڑے رکھے اور ساتھ ہی ان میں کچھ کر دکھانے کی تحریک پیدا کرتا رہے۔
سوال: میدان کے وسط میں کپتان خود اچھی کارکردگی نہ دکھا رہا ہو تو یہ بات اس کو کس حد تک مشکل میں ڈال دیتی ہے؟
سرفراز احمد: اگر کپتان کی پرفارمنس اچھی نہ جار ہی ہو تو اس کا ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ جو کپتان اچھا پرفارم کرتا ہے وہ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کیلئے ایک رول ماڈل ہوتا ہے۔
سوال: ٹیم کے انتخاب میں کسی کپتان کا کردار کیسا ہونا چاہیے؟
سرفراز احمد: ٹیم سلیکشن میں کپتان کا لازمی طور پر ایک کردار ہونا چاہیے۔ سلیکٹروں کو چاہیے کہ وہ ٹیم منتخب کرتے وقت کپتان سے مشاورت ضرور کریں۔ میں کوچ، کپتان، سلیکٹرز اور کھلاڑیوں کے مابین اچھے روابط جبکہ کوچ اور کپتان کی ٹیم سلیکشن میں مشاورت کا حامی ہوں۔
سوال: اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کپتان دوسرے کھلاڑیوں کیلئے رول ماڈل بن کر کھیلنے کے چکر میں خود پر بہت زیادہ بوجھ ڈال لیتے ہیں؟
سرفراز احمد: یہ بات درست ہے اکثر ایسا ہوجاتا ہے۔ آپ کو ہر وقت مثال بن کر کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں کپتانی کو انجوائے کرتا ہوں کیونکہ مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ کپتانی پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ کانٹوں کا بھرا تاج ہے۔ اس لیے میں کپتانی کے بارے میں حد سے زیادہ سوچ بچار نہیں کرتا۔ البتہ ذمہ داری کا مجھے احساس ہے اور اس احساس نے ہی میرے کھیل میں نکھار پیدا کیا ہے۔ مد مقابل ٹیموں کا جائزہ لیتا ہوں کہ وہ کیسے کھیلتی ہیں اور ان کے اہم کھلاڑی کون سے ہیں ان کے خلاف کون سی حکمت عملی اپنا کر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کپتا ن کے طور پر میں اپنی استعداد کا سہارا لیتے ہوئے اپنے باؤلرز کے ساتھ آپس میں فیلڈنگ کے بارے میں کافی بات چیت کرتا ہوں کہ کس بلے باز کے خلاف انہیں کون سی تبدیلی کی ضرورت پڑے گی۔ بطور کپتان میری تمام تر توجہ اس جانب مرکوز ہوتی ہے کہ میری ٹیم کے کھلاڑی اپنی حقیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کر سکیں۔
سوال: کیا لیڈر شپ ایک قدرتی عمل ہے یا پھر؟
سرفراز احمد: لیڈر شپ کا وصف پیدائشی ہوتا ہے۔ ہر شخص لیڈر نہیں بن سکتا۔ مین مینجمنٹ کی صلاحیتیں خدا کی طرف سے دین ہوتی ہیں۔ ان میں مزید نکھار تو پیدا کیا جا سکتا ہے لیکن کسی شخص کو زبردستی لیڈر نہیں بنایا جا سکتا۔
سوال: بطور کپتان ٹاس کرتے ہوئے آپ کی کیا سوچ ہوتی ہے؟
سرفراز احمد: سب سے پہلے تو میں وکٹ کا بغور جائزہ لیتا ہوں پھر جب ٹاس کرنے کیلئے میدان میں اترتا ہوں تو یہی کوشش ہوتی ہے کہ ٹاس جیت جاؤں کیونکہ ٹاس آج کل کی کرکٹ میں فتح حاصل کرنے کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سوال: پاکستان سپُر لیگ سے آپ کو کیا فائدہ ہوا؟
سرفراز احمد: جہاں تک میری بات ہے تو پاکستان سپر لیگ نے مجھے بہت حوصلہ دیا ہے، خصوصاً سرویوین رچرڈز کی کوچنگ کا مجھے بہت فائدہ ہوا ہے، انہوں نے مجھے بہت اعتماد دیاہے جب دنیا کا بہترین کرکٹر آپ کو کھیل کے گر سکھاتا ہے تو پھر آپ کی صلاحیتیں بھی بڑھتی ہیں۔ سرویوین رچرڈز ہمیشہ ہی میرے فیصلوں پر عمل کرواتے رہے۔ ان سے ہی میں نے سیکھا ہے کہ کس طرح کمزور ٹیم کو بھی مضبوط بنایاجا سکتا ہے۔ سر ویوین رچرڈز کہتے تھے کہ ’’کپتان میدان میں ٹیم کولڑاتا ہے اور میدان سے باہر کوچ کی اہمیت بہت ہوتی ہے۔ تم گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کی خامیوں کو دیکھو میں گراؤنڈ سے باہر آنے پرانہیں دور کروں گا۔ ہماراکوئٹہ گلیڈیئٹر میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھی کیمسٹری بن گئی تھی۔ اُمید ہے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں کھلاڑیوں کو کوچز کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملے گا جس سے ان کی صلاحیتیں بھی بہتر ہوں گی۔
سوال: یہ بتائیے کہ کیا چیز کسی ٹیم کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچا سکتی ہے؟
سرفراز احمد: کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی سے ہٹ کر ایک ایسے متحد گروپ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مختلف صلاحیتوں کے حامل مضبوط کردار کے افراد شامل ہوں۔ وہ ایک ساتھ کھیلنے کی ضرورت کو سمجھتے ہوں اور ایک دوسرے کیلئے کھیل سکیں۔ ان میں جیت کی لگن بیدار ہو وہ اپنے ساتھیوں کو اچھی کارکردگی پر اکسا سکیں۔ تخلیقی انداز سے منصوبہ بندی کر سکتے ہوں۔ خطرات مول لینے کی ہمت رکھتے ہوں۔
سوال: کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ کسی وکٹ کیپر کو وکٹ کیپنگ کے علاوہ بیٹنگ کے شعبے میں بھی مہارت کا حامل ہونا چاہیے؟
سرفراز احمد: میں سمجھتا ہوں کہ وکٹ کیپر کیلئے ایک اچھا بیٹسمین ہونا بہت ہی زیادہ مدد گار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ٹیم کو دوہرا فائدہ ہوتا ہے آج کل کی کرکٹ میں تو وکٹ کیپر کو بیٹنگ میں بھی حصہ بننا پڑتا ہے کیونکہ اس سے ٹیم کے توازن کو بہتر کرنے میں مدد مل جاتی ہے۔ میں دونوں شعبوں میں نکھار لانے کیلئے سخت محنت کر رہا ہوں بیٹنگ اور کیپنگ کو پوری یکسوئی کے ساتھ وقت دے کر مسلسل محنت کر رہا ہوں میری بیٹنگ اور کیپنگ میں پہلے کی نسبت بہت بہتری آئی ہے میں دونوں شعبوں میں مزید عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا متمنی ہوں۔
سوال: آپ کے نزدیک اولین ترجیح کسے حاصل ہے وکٹ کیپنگ کو یا پھر بیٹنگ؟
سرفراز احمد: میں دونوں کو ہی برابری کی سطح پر ٹائم دیتا ہوں ویسے وکٹ کیپنگ ہی میری اولین ترجیح ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وکٹ کیپنگ ہی میرا اصل کام ہے میں ٹریننگ کے دوران وکٹ کیپنگ پر ہی توجہ دیتا ہوں لیکن بیٹنگ کے لیے بھی ضرور وقت نکالتا ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اچھی بیٹنگ وکٹ کیپر کیلئے قیمتی اثاثہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ وکٹ کیپر جتنے بھی رنز بنائے گا اس کا فائدہ اس کی ٹیم کو ہی ہو گا۔
سوال: یہ بتائیے کہ باؤلنگ، بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ میں سے زیادہ مشکل شعبہ کون سا ہے؟
سرفراز احمد: بلاشبہ وکٹ کیپنگ کا شعبہ سب سے مشکل ترین ہے کیونکہ وکٹ کیپر ایک پل کیلئے بھی ریلیکس نہیں ہو سکتا اسے دوسرے کھلاڑیوں کی نسبت زیادہ ایکٹو رہنا پڑتا ہے چار روزہ میچ یا ٹیسٹ میچ میں تو پورا دن یعنی 90اوورز وکٹوں کے عقب میں اٹھنا بیٹھنا پڑتا ہے اور ذرا سی توجہ ہٹنے سے کیچ ڈراپ یا اسٹمپ مس ہو سکتا ہے۔
سوال: مختلف وکٹوں پر آپ خود کس طرح ایڈجسٹ کرتے ہیں؟
سرفراز احمد: تیز وکٹوں پر تھوڑا پیچھے کھڑا ہونا پڑتا ہے پھر باؤلرز پر بھی اس کا بہت زیادہ انحصار ہوتا ہے۔ اگر اچھال کم ہو تو اوپر چڑھناپڑتا ہے۔ تاہم وکٹ کیپر کی گیند کی پرکھ پر منحصر ہے کہ وہ خود کو کہاں بہتر محسوس کرتا ہے۔
سوال : جس وقت آپ کیچز کیلئے چھلانگ لگاتے ہیں تو کیا اس وقت وکٹ کیپنگ ایک معمہ نظر نہیں آتی ہے؟
سرفراز احمد: آپ کسی چیز کو یقینی دیکھ کر ہی ڈائیو لگاتے ہیں میرا خیال ہے کہ جب آپ چھلانگ لگا رہے ہوں تو آپ کو 100 فیصد اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ آپ یہ کیچ پکڑ لیں گے اگر آپ ادھوری کوشش کریں گے تو اس طرح سلپ کے فیلڈرز بھی دھوکے میں رہ جائیں گے اور کیچ گر جائے گا لہٰذا چھلانگ لگاتے وقت آپ کو کیچ قابو کر لینے کا یقین ہونا چاہیے۔
سوال: آپ کے خیال میں کیا چیز مشکل ہے، اسپنرز کے خلاف وکٹ کیپنگ کرنا یا پھر فاسٹ باؤلرز پر؟
سرفراز احمد: میرے خیال میں تو اسپنرز کے خلاف وکٹ کیپنگ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ آپ بہت ہی قریب کھڑے ہوتے ہیں۔ اسٹمپس کے قریب کھڑے ہو کر گیند کو قابو کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اسپنرز کے خلاف کیپنگ کر کے آپ کی صلاحیتوں کا صحیح امتحان ہوتا ہے۔ وکٹ کیپرز پیدائشی ہوتے ہیں وہی تا دیر اپنے فرائض ادا کرتے ہیں اور جن کو زبردستی بنایا جاتا ہے وہ جلد دھندلا جاتے ہیں۔سعید اجمل عظیم اسپن باؤلر ہیں ان کے سامنے وکٹ کیپنگ کرنا بہت ہی مشکل کام ہے بالخصوص ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھے اور پانچویں دن ان کی گیندوں پر وکٹ کیپنگ مشکل ترین کام ہو جاتا ہے۔ محمد عامر اور وہاب ریاض کے سامنے وکٹ کیپنگ کرنے میں بڑا مزا آتا ہے۔
سوال: آپ نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ ،ون ڈے اور T20 کرکٹ میں جو رنز اسکور کئے ہیں وہ پریشر میں کئے ہیں، آپ نے پریشر میں کھیلنے کا فن کس طرح سیکھا ہے؟
سرفراز احمد: میں ہمیشہ اللہ سے دعا مانگ کر میدان میں جاتا ہوں اور اللہ کے بھروسے کھیلتے ہوئے کوشش کرتا ہوں کہ گراؤنڈ میں سو فیصد کارکردگی دکھاؤں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے قوم اور میڈیا کا پریشر ہوتا ہے لوگ آپ سے اچھی کارکردگی دکھانے کی توقع کر رہے ہوتے ہیں تو یہ دباؤ والی کیفیت ہوتی ہے اسی لیے مجھے پریشر میں بہترین کارکردگی دکھا کر زیادہ مزہ آتا ہے۔دیکھیں! ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے لیکن جب آپ کے نام کے ساتھ پاکستان لگ جاتا ہے تو میں بیس کروڑ لوگوں کا نمائندہ بن کر اس میدان میں کھیل رہا ہوتاہوں اس لیے مجھے اپنے ہم وطنوں کو مایوس نہیں کرنا۔ میں اس بات پر بہت زیادہ یقین رکھتا ہوں کہ اب تک میں نے جو پرفارمنس دکھائی ہے وہ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کیونکہ آپ کے گھر والے والدین، بیوی، بچے تو دعا کرتے ہیں لیکن عوام نے مجھے جتنی محبت دی ہے وہ بیان سے باہر ہے اور یہ ان کی
محبتوں کا نتیجہ ہے کہ میں پاکستان کیلئے کھیلتے ہوئے پرفارمنس دکھا رہا ہوں۔
سوال: سوئپ آپ کی فیورٹ شاٹ ہے اس پر بہت سے لوگ اور کرکٹ کے ماہرین شدید تنقید کرتے ہیں؟
سرفراز احمد: سوئپ میری فیورٹ ترین شاٹ ہے اس پر میں کئی مرتبہ آؤٹ ہوا ہوں لیکن اسی اسٹروکس کی بدولت میں نے قیمتی رنز اسکور کر کے قومی ٹیم کو فتح دلانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔
سوال: ہر مرتبہ بیٹنگ پر آتے ہوئے پورے ملک کی امیدوں کا مرکز بننا کیسا لگتا ہے؟
سرفراز احمد: میں اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہوں اور ان سے لطف اندوز بھی ہوتا ہوں۔ میں جانتا ہوں قوم کو مجھ سے کیا توقعات ہیں لیکن میں اس احساس کو میدان میں اپنے
آپ پر اثر انداز نہیں ہونے دیتا۔ مجھے علم ہوتا ہے کہ سب کی نظریں مجھ پر جمی ہیں چنانچہ دب کر کھیلنے کی کیا ضرورت ہے میں پوری یکسوئی سے کھیلتا ہوں۔ میں اپنے لیے معیار طے کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہوں۔ میں بیٹنگ کا معیار بہتر سے بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہوں اور میرا خیال ہے میری کارکردگی بہتر ہوتی جا رہی ہے البتہ مجھے اپنی فارم رکھنا پڑے گی۔
سوال: پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بننے سے قبل آپ کن ٹیموں کی کپتانی کر چکے ہیں؟
سرفراز احمد: میں پاکستان کرکٹ کلب کے علاوہ پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی کپتانی کر چکا ہوں اور 2006میں میری قیادت میں پاکستان ٹیم نے بھارت کو شکست دے کر انڈر 19 ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے علاوہ میں کراچی ڈولفین، کراچی ہاربر، پاکستان اے، پی آئی اے ، سندھ او ر کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی ٹیمو ں کی کپتانی کر چکا ہوں۔
سوال: پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈ یشن میں آپ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی کپتانی کرتے ہوئے کمزور سمجھی جانے والی ٹیم کو فائنل تک پہنچایا اس دوران آپ نے عمدہ کپتان اور بیٹنگ کی یہ بتائیں کہ اس بہترین کارکردگی میں سرویوین رچرڈز کی کوچنگ کا کتنا ہاتھ تھا؟
سرفراز احمد: سرویوین رچرڈزدنیا کے بہترین کرکٹر ہیں میر ے خیال سے ان کی کوچنگ سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہوا گو ہمیں ان کے ساتھ کوچنگ کے بہت زیادہ دن نہیں ملے لیکن اس کے باوجود وہ بہت زیادہ اچھے انداز میں ہمیں سمجھاتے رہے۔ پھر گرانٹ فلاور بھی کافی محنت کرتے ہیں۔ میری عادت ہے کہ میں سینئر کرکٹرز سے اکثر کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہوں۔ جاوید میانداد سے جب بھی ملاقات ہوئی ان سے میں نے ٹپس لیں ایسے ہی دھونی سے بھی بات ہوئی اور معین خان بھی مجھے وکٹ کیپنگ میں مدد کرتے ہیں، راشد بھائی سے میں سیکھتا رہتا ہوں اللہ کا شکر ہے کہ سینئرز کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہے اور مجھے کافی فائدہ ہوا ہے۔ بیٹنگ کے دوران میری کوشش ہوتی ہے کہ ڈاٹ بال کم سے کم کھیلوں بس! رنز بنتے رہیں۔ ہاں کبھی کبھی اس چکر میں غلطی بھی ہو جاتی ہے میری کوشش تو ہوتی ہے کہ ہر گیند کو اس کے میرٹ پر کھیلوں لیکن یہ تو کرکٹ ہے کہ آپ سے غلطی ہوتی ہے لیکن میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی غلطی کو سمجھوں اور پھر اس کو نہ دہراؤں پاکستان کرکٹ میں بطور وکٹ کیپر بہت سخت مقابلہ ہے۔ میں اس کو پسند بھی کرتا ہوں۔ میری ساری توجہ اپنا کھیل کو مزید بہتر بنانے پر ہے۔ میں صرف بیٹنگ پر ہی توجہ نہیں دیتا بلکہ میرے لیے کرکٹ کا ہر شعبہ ہی اہم ہے۔ وکٹ کیپنگ کرنے میں مجھے زیادہ مزا آتا ہے اور خود کو وکٹ کیپر بیٹسمین کہلوانا ہی مجھے پسند ہے۔
سوال: پاکستان سپر لیگ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
سرفراز احمد: پاکستان سپر لیگ کا تجربہ شاندار رہا ۔ میرے خیال سے پاکستان کرکٹ بورڈ اس پر مبارکباد کا مستحق ہے ایسی لیگ بہت پہلے ہو جاتی تو ابھی کافی اچھے نتائج پاکستانی کرکٹ پر مرتب ہو چکے ہوتے لیکن جو ہوتا ہے ٹھیک ہی ہوتا ہے۔ لیگ چلتی رہی تو مجھے امید ہے کہ پاکستان کرکٹ کو بھرپور فائدہ ہو گا۔پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا فا ئنل لاہور میں ہونے سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپس کی راہ ہموارہوئی ہے۔ ہم سب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ دیکھتے رہے ہیں اور اس کا ہم سب کو فائدہ بھی ہوا ہے لیکن اب کافی عرصے سے نوجوان کھلاڑیوں کا ڈیبیو بھی غیر ملکی سرزمین پر ہوتا تو اس سے نوجوانوں کو بہت سی مشکلات ہوتی ہیں ایک تو ہمارا ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کے پریشر سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں کر پا رہا ہے۔ میرے خیال سے پاکستان سپر لیگ میں جس طرح عوام نے دلچسپی ظاہر کی ہے اگر یہ لیگ اسی طرح کامیابی سے چلتی رہی تو پاکستان کرکٹ میں ایک وقت آئے گا جب ریجنل اور کلب لیول پر بھی اچھا ماحول بنے گا۔ میرے خیال میں ایمرجنگ کھلاڑیوں کی لیگ میں موجودگی سے ان نوجوانوں کو بھرپور فائدہ ہوا ہے اور ان کھلاڑیوں کو اب مستقل بنیادوں پر غیر ملکی دوروں اور اے ٹیم کے ساتھ رکھنا چاہیے۔ پی ایس ایل جیسے ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہو گا کہ یہاں سے ہمیں فریش ٹیلنٹ ملے گا لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوالٹی بلے باز ملیں تو اس کیلئے آپ کو ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر بنانا ہو گا۔ اس کے دو طریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ کلب کرکٹ کو فروغ دیں اور پھر فرسٹ کلاس کرکٹ پر توجہ دیں اور اس کا معیار بڑھائیں۔ان دونوں طریقوں سے ہی اچھے کرکٹرز دستیاب ہوں گے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھے باؤلرز ہوں گے تو ہی اچھے بلے باز سامنے آئیں گے۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے