Voice of Asia News

بچے کی پرورش میں ماں باپ کا کردار

لاہور(وائس آف ایشیا)بچے کی پرورش میں باپ کا کردارانتہا ئی اہم ہے ۔جس شخص کو اللہ تعالیٰ باپ کا درجہ دیتا ہے توباپ ہونے کے ناطے اس پر بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔خاندان کا سربراہ ہونے کے ناطے باپ کو اپنے بچے کو زمانے کے سردوگرم راستوں سپر چلنے کا ڈھنگ سکھانے کے ساتھ ساتھ اسکی تعلیم وتربیت پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہوتی ہے ۔بچے کی پہلی درس گاہ اسکا اپنا گھر ہوتا ہے جہاں وہ سب سے پہلے سیکھنے کا عمل شروع کرتا ہے۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ باپ کا کردار بچے کی پرورش میں کیوں اتنی اہمیت کا حامل ہے

:

بچے کی ذہنی وسماجی نشونما

bache ki zehni o samaji nashonuma
بڑھنے والی عمر میں ایک بچے کو باپ کی بے انتہا ضرورت ہو تی ہے ۔ جن کے باپ شفیق اور بچے کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے والے ہوتے ہیں وہ بچے زیادہ پر اعتماد اور مثبت سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ ایک باپ کا مزاج ایسا ہو نا چاہیے کہ بچہ کھل کر اپنے دل کی بات کر سکے ۔ خاص طور سے لڑکوں کی بڑھتی عمر میں ایک ایسے باپ کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ اپنے مسائل اور پریشانیاں کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کر سکے ۔ تھوڑی سختی تو لازمی ہے لیکن وہ سختی ایسی نہ ہو کہ بچہ باپ سے دور ہونے لگے ۔ بچہ اپنے باپ سے سماج میں اٹھنے بیٹھے کے طور طریقے سیکھتا ہے ۔ یہ تعلق بچے کی آنے والی سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔

تعلیمی میدان میں کفیل

Talemi maidan main kafeel
بچہ اپنے باپ کو اپنا رول ماڈل مانتے ہیں اور ان ہی کہ نقش قدم پر چل کر زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔ اگر باپ بچے کی تربیت میں حصہ لے اور فعال کردار ادا کرے تو بچہ باپ کی توجہ پانے کے لئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو اس کے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے میں مدد کرے ۔ بعض لوگ اپنے بچوں کو اپنے ہی خواب پورے کرنے پر لگا دیتے ہیں یا ان سے ایسی امیدیں باندھ لیتے ہیں جو ان کے لیے پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچوں پر اپنی خواہشات کا بوجھ ڈالنے سے بہتر ہے انہیں اپنی ایک الگ سوچ رکھنے کی آزادی دی جائے۔

باپ اوربچے کا رشتہ

Father playing with his happy and smiling baby daughter

باپ اور اولاد کا رشتہ بڑا عظیم رشتہ ہے۔ جو بچے اپنے باپ سے قریب ہوتے ہیں وہ زندگی کی کئی دشواریوں سے بچے رہتے ہیں ۔ اگر باپ غصے والا،بے جا پابندی لگانے اور رعب جمانے والا ہوگا تو بچہ بھی انھی رویوں کو اپنائے گا اور اگر باپ شفیق،تعاون کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو تو بچہ بھی مثبت اثر لے گا۔جن بچوں کو باپ سے شفقت،محبت اور تحفظ کا احساس ملتا ہے تو وہ بچے زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔ باپ سے بچے کا یہ تعلق بچے کو اس بات کا احساس دلاتاہے کہ کوئی اس پر نظر رکھتا ہے اور اس کا خیال بھی رکھتا ہے۔

گھریلوتعلقات میں باپ کا کردار

gharelo talukat main baap ka kirdar
جہاں باپ اپنے گھروں سے بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں تو انکے اور بچوں کے درمیان خوشگوارتعلقات استوار نہیں ہو پاتے۔جن بچوں کے باپ انہیں مناسب توجہ اور وقت نہیں دیتے وہ دیگر گھر والوں سے بھی الگ ہونے لگتے ہیں ۔جن والدین میں علیحدگی ہو جاتی ہے ان کے بچے اکثر ماں یا باپ میں سے کسی ایک سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس سے ان کی شخصیت پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ بچے کو ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر یہ دونوں اپنی نا اتفاقیاں بھلا کر بچے کی اچھی پرورش میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے تو بچہ کبھی احساس محرومی میں مبتلا نہیں ہوگا ۔آخر میں یہ ضروری ہے کہ اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ ایک باپ اپنے بچے کوبہترزندگی گزارنے اور زمانے کے ساتھ چلنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے ۔اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ باپ اور اولاد کے درمیان ایک مضبوط اور گہرا تعلق قائم رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے