Voice of Asia News

گوادر بندرگاہ ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا دروازہ تحریر: محمد قیصر چوہان

گوادر بندرگاہ ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا دروازہ تحریر: محمد قیصر چوہان

چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو کارگو کی ترسیل شروع ہونے سے گوادر خطے میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا

گوادر بندرگاہ فعال ہونے سے امریکا اور بھارت حسد کی آگ میں جلنے لگے، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ 50 کروڑڈالر کی رقم سے سی پیک منصوبے کوناکام بنانے کیلئے سر گرم ہو گئی

پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر جو اپنے شاندار محل و قوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔ ’’گوادر‘‘ر اصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوا یعنی ’’کھلی فضا اور در کا مطلب ’’دروازہ‘‘ ہے۔60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی تمام تر ضروریات سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تعمیر سے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ شہر کسی دور میں مچھیروں کی بستی کہلاتا تھا مگرآج یہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گیا، اس کیلئے تاریخ کا مختصر جائزہ لینا ضروری ہے۔
گوادر اور اس کے گردو نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاصل اہمیت کا حامل رہا ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے بیان کی جانے والی تاریخوں جو کہ سینہ بسینہ روایات کہلاتی ہیں ان کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ملتا اس طرح کی ایک روایت کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آگئے۔مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔ ایرانی بادشاہ کاؤس اور افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا۔ اس کا ذکر ایران کی تاریخی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔
جب سکندر اعظم کی افواج نے برصغیر سے اپنی واپسی کا سلسلہ شروع کیا تو اس کی افواج نے پہلے سندھ میں داخل ہونے کے بعد موجودہ کراچی کا رخ کیا جہاں سے وہ لسبیلہ کے راستے بلوچستان میں داخل ہوئے اور وہاں سے ساحل سمندر کے کنارے پر چلتے ہوئے پسنی اور دیگر ساحلی بندرگاہوں کو فتح کرتے ہوئے گوادر پہنچے 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کئے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات، گوادر، پشوکان اور چاہ بہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے یہاں کے علاقے فتح کر کے اپنے ایک جنرل نکولس کو یہاں کا حکمران بنا دیا ۔ سکندر اعظم نے اپنے اہلکار اس بندرگاہ کا نظام سنبھالنے کیلئے اس کے بعد اس کی افواج نے ایران کا رخ کر لیا سکندر اعظم کے مورخین نے اس خطے میں پانی کی بے انتہا کمی کا اظہار کیا۔ البتہ اس خطے میں صرف گوادر بہترین محل وقوع پر ہونے کے باعث نظر انداز بھی نہ ہو سکا جس کی وجہ سے کسی نہ کسی طور یہاں پر ملاح بحری جہاز اور تاجر اس جگہ کو اپنے سفر کی ایک منزل قرار دینے لگے پانی کی کمیابی ایک ایسا مسئلہ تھا جس کی وجہ سے کبھی بھی گوادر اس طرح سے آباد نہ ہو سکا جس طرح اس خطے کے دوسرے شہر اور بندرگاہیں آباد ہو سکیں ہیں قدیم دور میں اس شہر کو تیز کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔
303 قبل مسیح میں برصغیر کے حکمران چندر گپتا نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ جس کے بعد اس کے پوتے اشوک اعظم کی حکمرانی قائم ہوئی جس کی پیدائش موجودہ راولپنڈی کے قریب بتائی جاتی ہے، جس کی تصدیق نہیں ہو سکی مگر اشوکا کا دارالخلافہ موجودہ ٹیکسلا ہی تھا یہ اس امرکا ثبوت ہے کہ اشوکا کی حکومت ہندوستان میں نہیں تھی بلکہ قدیم دور کی عظیم پاکستانی حکومت تھی ملاحظہ کیجئے اشوکا حکومت کی حدود کا نقشہ جس میں دارالخلافہ ٹیکسلا بتایا گیا ہے اگر یہ ہندوستانی حکومت ہوتی تو اس کا دارالخلافہ دہلی یا تھر یاپھر کوئی دوسرا بھارتی شہر ہوتا۔ گوادرکی بندرگاہ بھی ٹیکسلا سے حکومت کرنے والی اشوکا کی ریاست کا حصہ ہی تھی جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے۔سینکڑوں سال گزرنے کے بعد جب خلیفہ دوئم امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا تو مکران بھی اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا تاہم بعد میں یہ علاقہ ایران کے حصے میں چلا گیا۔
711 عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا۔جبکہ 16 ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581 میں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا۔ نہ صرف گوادر بلکہ سندھ کی ٹھٹھہ سمیت بے شمار بندرگاہوں کو لوٹنے کے بعد جلا کر خاکستر کردیا۔یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچکیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اور گچکی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پذیرائی ملی جب انہوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچکی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ 1740 تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچکیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیرخان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔(مسقط) جس کا نام بعد میں حکمرانوں
نے اومان رکھ دیا اس لیے آج کل یہ ریاست اومان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1775 میں مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کیلئے اس علاقے کو مستعار لے لیا یہ معاملہ بلوچستان میں قیام پاکستان کے بعد لکھی گئی کتابوں میں ملتا ہے جبکہ مسقط و اومان میں اور خلیجی ممالک میں تحریر کی گئی کتابوں میں اس طرح کا کوواقعہ نہیں ملتا ہے مسقط و اومان کے حکمران گوادر کی بندرگاہ کو عرب علاقوں سے کے ممالک کی تجارت کیلئے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات، گرم مصالحے، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی۔
1783 میں مسقط کے بادشاہ کی اپنے بھائی سعد سلطان سے جھگڑا ہو گیا جس پر سعد سلطان نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آجانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کیلئے سلطان کے نام کر دیا، یہ معاملہ بلوچستان میں قیام پاکستان کے بعد لکھی گئی کتابوں میں ملتا ہے۔ جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آکر رہائش اختیار کر لی۔ 1797 میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی حکومت حاصل کر لی۔ 1804 میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلیدیوں نے ایک بار پھر گوادر پر قبضہ کر لیا جس پر مسقط سے فوجوں نے آکر اسی علاقے کو بلیدیوں سے واگزار کروایا۔ 1838 کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اسی علاقہ پر ہوئی تو بعد میں 1861 میں برطانوی فوج نے میجر گولڈ سمتھ کی نگرانی میں آکراس علاقے پر قبضہ کر لیا اور 1863 میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا چنانچہ ہندوستان میں برطانیہ کی برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہازوں نے گوادر اور پسنی کی بندرگاہوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ 1863 میں گوادر میں پہلا گھر (ٹیلی گرام آفس) قائم ہوا جبکہ پسنی میں بھی تارگھر بنایا گیا۔ 1894 کو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903 کو پسنی اور 1904 کو اور ماڑہ میں ڈاک خانے قائم کئے گئے۔ 1947 میں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور بھارت اور پاکستان کے نام سے دو بڑی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو گوادر اور اس کے گردو نواح کے علاوہ یہ علاقہ خلیج کی عرب ریاست مسقط و اومان کا حصہ تھا۔
قیام پاکستان کے 11 برس بعد 1958 میں جب پاکستان کے 7 ویں وزیراعظم ملک فیروزخان نون کی حکومت تھی اور سکندر مرزا صدر تھے۔ پاکستان نے 7 ستمبر 1958 کو گوادر کا علاقہ عمان سے 30لاکھ ڈالر کے عوض خریدا۔ اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی 7 اکتوبر 1958 کو وزیراعظم ملک فیروزخان نون کی حکومت سکندر مرزا نے ختم کر دی۔ 20 دن بعد یعنی 27 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو صدارت سے سبکدوش کر کے جلا وطنی پر مجبور کر دیا۔ یوں گوادر کے علاقے کو پاکستان کا حصہ بنانے والے دونوں اہم کردار منظر سے غائب ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے یکم جولائی 1977 کو گوادر کا علاقہ صوبہ بلوچستان میں شامل کر دیا اور اسے نئے قائم ہونے والے ضلع گوادر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر بھی بنا دیا۔ اُس وقت ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ ٹھیک چار دن بعد جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور انہیں پھانسی کے تختے تک پہنچا کر ہی دم لیا۔ یوں گوادر سے جڑا ایک اور اہم کردار ہمیشہ کیلئے دفن ہو گیا۔ 1992 میں حکومت پاکستان نے گوادر کو ایک بڑے ساحلی شہر کے طور پر ڈویلپ کرنے کا حتمی منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا جہاں ڈیپ سی پورٹ بھی موجود ہو جسے پاکستان کی ہائی ویز اور ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو گہرے سیاہ بادلوں نے گھیر لیا۔ پہلے انہیں صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کیا۔ جب وہ عدالتی فیصلے کے تحت بحال ہوئے تو ان سے استعفیٰ لے کر ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ یوں ایک مرتبہ پھر پاکستان کیلئے گوادر کی طرف داری کرنے پر ایک اور سربراہ حکومت کو سزا دی گئی۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت کے دوسرے دور میں پاکستان کیلئے آٹھواں پانچ سالہ منصوبہ تیار کیاجس پر عملدرآمد یکم جولائی 1994 سے شروع ہوا۔ اس منصوبے میں گوادر Deep-sea Port کو ڈویلپ کرنے کیلئے اہداف مقرر کئے گئے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے ہالینڈ کی حکومت سے رابطہ کیا کہ وہ گوادر پراجیکٹ کو فنانس کرے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بعد میں عمان نے گوادر کو ڈویلپ کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں نے کچھ محسوس کرتے ہوئے شور مچا دیا کہ گوادر کو امریکی مفادات کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان محتاط ہوئی اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی بے نظیر بھٹو سے حکومت چھین لی گئی۔ یوں گوادر کا تنازعہ ایک اور حکومت کو لے ڈوبا۔ گوادر کے سلسلے کی اگلی اہم تاریخ 16 مارچ 2002 ہے جب گوادر بندرگاہ کی تعمیر کیلئے پاکستان اور چین کے درمیان بیجنگ میں معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ چین نے اپنے مزاج کے مطابق دن رات محنت کر کے حسب وعدہ پانچ برس میں گوادر Deep-sea Port تیار کردی۔ اب اس کے انتظام اور آپریشن کا مرحلہ آیا تو چین کی بجائے سنگاپور کی کمپنی کواہمیت دی گئی۔
لہٰذا یہ بندرگاہ سنگاپور پورٹ اتھارٹی کو 50 سال کی لیز پردے دی گئی۔ سب جانتے ہیں کہ اس سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے پس پردہ ایک امریکی کمپنی ہی کام کر رہی تھی۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ گوادر پورٹ کو بالآخر امریکا کے حوالے کر دیا گیا۔ لیکن پانچ سالوں میں اس امریکا نواز کمپنی نے انتہائی سست روی سے کام کیا۔ در حقیقت امریکا کا سنگاپور پورٹ اتھارٹی کو گوادر پورٹ کا ٹھیکہ دلوانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ پاکستان اس پورٹ سے کسی بھی قسم کا معاشی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ لہٰذا 5 سالوں میں یہ بندرگاہ مکمل طور پر چلنے کے قابل نہ بنائی جا سکی۔ ایک لحاظ سے سنگاپور پورٹ اتھارٹی نے اپنے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی کی کیونکہ معاہدے کی رو سے سنگاپور پورٹ اتھارٹی نے گوادر بندرگاہ کو مکمل طور پر کام کرنے کے قابل بناناتھا جو وہ نہ بنا سکی۔ لہٰذا حکومتی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پورٹ کا چائنہ کے حوالے کر دیا جائے تاکہ اس پر جلد از جلد کام شروع ہو سکے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ گوادر کو عمان سے خریدنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 1954 میں حکومت پاکستان نے امریکی جیولوجیکل سروے سے اپنی کوسٹ لائن کا سروے کروایا جس کی رپورٹ میں گوادر کے سمندر کو بندرگاہ کیلئے آئیڈیل سائٹ قرار دیا گیا اور حکومت پاکستان نے عمان سے طویل مذاکرات کے بعد 8 ستمبر 1958 کو 10 ملین ڈالر کی خطیر رقم کے عوض 200 سال تک عمان کے زیر تسلط رہنے والے شہر گوادر کو خریدنے کا معاہدہ کیا حالانکہ اس وقت پاکستان کے سرکاری خزانے میں اتنی بڑی رقم موجود نہ تھی اور رقم کی ادائیگی کیلئے ملک کی بڑی شخصیات سے مدد لی گئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کو انتہائی خفیہ رکھا گیاتھا کیونکہ پاکستان کو یہ ڈر تھا کہ اگرعمان کو گوادر کے ساحلی علاقے کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تو شاید وہ اسے فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہو۔
گوادر کی ڈیپ سی پورٹ (گہرے پانی کی بندرگاہ) انتہائی اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔ جو خلیج فارس سے بحر ہند سے ہوتے ہوئے جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرق بعید تک پھیلے ہوئے اس پورے خطے میں پاکستان کی اہمیت دو بالا کر دے گی۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی پہ واقع کراچی شہر سے لگ بھگ 460 کلو میٹر پر ایرانی سرحد سے 75 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقع خوبصورت ترین بندرگاہ گہرے پانیوں کی معروف بندرگاہ ہے۔ صاف شفاف نیلے پانی کا گہرا سمندر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر تا ہے اسی لیے اسے سیاحوں کی جنتکہا جاتاہے۔ گوادر کے ساحل پہ پہنچ کر ہر فرد غیر آلودہ ماحول، سفید ریت اور بیچز اور لہراتا چمکدار سمندری پانی ہر سیاح کو مسحور کر دیتا ہے۔
گہرے سمندر کی گوادری بندرگاہ تعمیرترقی کی شاہراہ، ترقی کے سنہرے دروازے کا حامل ہے۔ یہ بندرگاہ پاکستان کا مستقبل تابناک اور سنہرا بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ اپنی نوعیت کی ایسی بندرگاہ کے طور پر ابھرے گی جو خلیج فارس سے بحر ہند، جنوبی ایشیا اور فار ایسٹ کی اہم ترین بندرگاہ ہو گی۔
گوادر بندرگاہ کا فاصلہ سلطنت آف عمان سے تقریباً 380 کلو میٹر ہے اس طرح جغرافیائی لحاظ سے یہ بندرگاہ اہم ترین مقام پر واقع ہے گوادر پورٹ خلیج فارس کے بالکل دہانے پرآبنائے ہرمز کے قریب خلیج فارس کے بہترین شپنگ روٹ پر واقع ہے اس بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں دنیا کے دو تہائی تیل کے ذخائر موجود ہیں گوادر پورٹ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی بہت بڑھ جاتی ہے کہ یہ بندرگاہ سمندر کی نعمت سے محروم (لینڈ لاک) لیکن توانائی کے وسیع ذخائر رکھنے والے وسطی ایشیائی ممالک ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان اور افغانستان کے انتہائی قریب گرم پانیوں اور گہرے سمندر پر واقع ہے یاد رہے کہ افغانستان اور بیشتر وسطی ایشیائی ممالک کی حدود کسی سمندر سے نہیں ملتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی تمام تر تجارت کا دارومدار دیگر پڑوسی ممالک کی بندرگاہوں پر ہوتا ہے۔
گوادر محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہم جگہ پر واقع ہے۔ اس شہر کو سمندر نے تین طرف سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ہر وقت سمندر ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک خوبصورت اور دلفریب منظر پیش کرتا ہے ویسے بھی گوادر کے معنی ’’ہوا کا دروازہ‘‘ ہے۔ گوا کے معنی ہوا اور در کا مطلب دروازہ ہے۔ گہرے سمندر کے علاوہ شہر کے اردگرد مٹی کی بلند بالا چٹانیں موجود ہیں۔گوادر پر گہرے سمندر (ڈیپ سی) کی بڑی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ 1992 میں حکومت پاکستان کے 8ویں پانچ سالہ منصوبے (1997-1992) میں ہوا تھا اس ڈیپ سی پورٹ کی فزیبلیٹی تیار کرنے کیلئے جیفورڈ اینڈ پارٹنرز اور ٹیکنیکون آف ساؤتھ ایمپٹن، برطانیہ اور کراچی کی ایک کمپنی ٹیکنو کنسلٹ انٹرنیشنل کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں۔پاکستان کی حکومت نے 248 ملین ڈالر کی لاگت سے گوادر پورٹ تعمیر کی اس بندرگاہ کی تعمیر کا ٹھیکہ چین کی ایک کمپنی کو دیا گیا۔
گوادر پورٹ کی تعمیر کا پہلا مرحلہ (فیز ون) 2002 سے 2006 کے عرصے پر محیط تھا اس عرصے میں بنددرگاہ پر کئے گئے تعمیراتی کام پر مجموعی طور پر 248 ملین ڈالر کی لاگت آئی اور یہ مرحلہ دسمبر 2006 میں مکمل ہوا۔ اس مرحلے میں اس بندرگاہ پر تین برتھیں تعمیر کی گئیں ان برتھوں پر 30 ہزار ٹن (ڈیڈ ویٹ ٹن ایچ یا ڈی ڈبلیو ٹی) تک کے وزنی بحری جہاز اور 25 ہزار ٹن وزنی (ڈی ڈبلیو ٹی) کے کنٹینر بردار بحری جہاز لنگر انداز ہونے کی سہولت میسر ہو گئی برتھوں کی لمبائی 602 میٹر ہے ان برتھوں پر بحری جہازوں کو لانے کیلئے 4.5 کلو میٹر طویل چینل ہے اس چینل میں سمندر کی گہرائی 12.5 میٹر ہے اس مقام پر 450 میٹر قطر کا ٹرننگ بیسن ہے ایک 100 میٹر سروس برتھ ہے اس کے علاوہ تمام بنیادی اور مطلوبہ انفراسٹرکچر، کار گوہینڈلنگ ایکوپمنٹ، پائلٹ بوٹ، ٹگ اور سروے کرنے کی سہولت وغیرہ موجود ہے۔
اس بندرگاہ کی تعمیر کا دوسرا مرحلہ 2007 میں شروع ہوا جو تاحال جاری ہے اس منصوبے کے تحت تعمیرات جاری ہیں جن میں چار کنٹینر برتھ، ایک لاکھ ٹن (ڈی ڈبلیو ٹی) وزنی بحری جہازوں کیلئے ایک بلک کارگو ٹرمینل، ایک گرین ٹرمینل، ایک آر او۔ آر او ٹرمینل، دو لاکھ (ڈی ڈبلیو ٹی) وزنی بحری جہازوں (آئل ٹینکرز) کے لیے دو آئل ٹرمینل کی تعمیر اور بندر گاہ پر آنے والے بحری جہازوں کے سمندری چینل کی گہرائی کو بڑھا کر 14.5 میٹر تک لے جانے کے منصوبے شامل ہیں۔
گوادر پورٹ کی ملکیت حکومت پاکستان کی ملکیت میں قائم کی جانے والی ’’گوادر پورٹ اتھارٹی‘‘ کے پاس ہے تاہم اس بندرگاہ کو چین کی ایک پبلک سیکٹر کمپنی چائنا اووسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے زیر اہتمام چلایا جا رہا ہے قبل ازیں 2007 سے 2012 تک اس پورٹ کی سنگاپور کی ایک کمپنی پورٹ آف سنگا پور اتھارٹی (پی ایس اے) انٹرنیشنل کے زیر اہتمام چلایا جا رہا تھا اس بندرگاہ کے فیز ون کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حکومت پاکستان نے یکم فروری 2007 کو پی ایس اے انٹرنیشنل کے ساتھ 40 سال کے عرصے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کے تحت اس بندرگاہ کی بطور ڈیوٹی فری پورٹ اور ڈیوٹی فری ٹریڈ زون تعمیر اور آپریشن شامل تھا اس منصوبے کی تعمیر کے لیے انٹرنیشنل سطح پر ٹینڈرز دیے گئے تھے جن میں مختلف کمپنیوں نے حصہ لیاتھا۔
بین الاقوامی مسابقت کی بلند ترین فضا اور خطے میں موجود دیگر بندرگاہوں کا مقابلہ کر کے زیادہ بزنس حاصل کرنے کیلئے گوادر بندرگاہ پر پورٹ فیس کی شرح بہت کم رکھی گئی اور اس سلسلے میں پی ایس اے انٹرنیشنل کی آپریشنل اور کاروباری لاگت کم کرنے کیلئے اس کمپنی کو ٹیکسوں کی مد میں بڑے پیمانے پر رعایات دی گئیں، ان میں 20 سال تک کارپوریٹ ٹیکس کی مکمل چھوٹ، پورٹ اور فری اکنامک زون کی تعمیر اور آپریشن کیلئے درآمد کی جانے مشینری، میٹریل اور ایکوپمنٹ کی ڈیوٹی فری درآمد اور شپنگ اور بنکر آئل کیلئے 40 سال کیلئے زیرو ریٹ ڈیوٹی جیسی رعایات شامل تھیں۔ ان رعایات کے علاوہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کی جانب سے بھی پی ایس اے انٹرنیشنل کو صوبائی ٹیکسوں، لیوی اور ضلعی ٹیکسوں کی چھوٹ دینے کی ہدایت کی گئی۔اس معاہدے کے تحت گوادر پورٹ اتھارٹی، حکومت پاکستان اس بندرگاہ سے ہونے والی آمدنی میں سے ایک مقررہ شرح سے اپنا حصہ وصول کریں گے جن میں کارگو اور میری ٹائم سروسز سے ہونے والی آمدنی کا 9فیصد اور فری ٹریڈ زون سے ہونے والی آمدنی کا 15فیصد حصہ مقرر کیا گیا تھا یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ پی ایس اے انٹرنیشنل پانچ سے دس سال کے عرصے میں اس بندرگاہ پر آپریشنل سہولتوں کی فراہمی کیلئے 550 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
یہ معاہدہ گوادر پورٹ اتھارٹی اور پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی (پی ایس اے) کی سبسڈی یا ذیلی ادارے کنسیشن ہولڈنگ کمپنی کے درمیان ہوا تھا اس معاہدے کے یہ بندرگاہ کے آپریشن اور انتظام کی ذمہ داری 40 سال کیلئے پی ایس اے کو دی گئی تھی اس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ پی ایس اے آئندہ پانچ سال تک پورٹ کی تعمیر و ترقی کیلئے 550ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، اس معاہدے کے تحت آنے والے علاقے میں ٹرمینل، کارگو آپریشن، میرین سروسز اور فری زون ڈیولپمنٹ شامل تھے، گوادر پورٹ اتھارٹی اس بندرگاہ سے ہونے والی آمدنی کا مقررہ حصہ وصول کرے گی جس میں کارگو آپریشن اور میرین سروسز سے ہونے والی آمدنی کا 9فیصد اور گوادر فری زون بزنس سے ہونے والی آمدنی کا 15 فیصد حصہ شامل ہو گا۔ 40سال تک کے عرصے کیلئے پورٹ آپریشنز اور بندرگاہ کے ترقیاتی کاموں کیلئے درآمد کی جانے والی مشینری اور ایکوپمنٹ پر درآمدی ڈیوٹی وصول نہیں کی جائے گی، 20 سا ل کیلئے پورٹ آپریٹر کو کارپوریٹ ٹیکس کی مکمل چھوٹ ہو گی، 40سال کیلئے شپنگ لائنز اور بنکر آئل کو ڈیوٹی کی مکمل چھوٹ ہو گی، پورٹ آپریٹر کو 20 سال کیلئے تمام مقامی اور صوبائی ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل ہو گی، موجودہ ٹرمینل کے 602 میٹر کے رقبے پر موجود برتھوں کے آپریشنز اور مارکیٹنگ پورٹ آپریٹر کے زیر اہتمام ہو گی اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اس کو 4.2 کلو میٹر کے رقبے پر 14 برتھوں تک وسعت دینے کیلئے سرمایہ کاری کرے گا، میرین سروسز کیلئے پائلٹ ٹگ، ٹگ، مورنگ، ٹریفک کنٹرول، اینکریج، مینجمنٹ اور بینکرنگ پورٹ آپریٹر کی ذمہ داری ہوں گے، بندرگاہ پر بحری جہازوں کیلئے بنائے چینل کی ڈریجنگ اور سمندر کی گہرائی کو مطلوبہ سطح پر رکھنے کی ذمہ داری گوادر پورٹ اتھارٹی کی ہو گی، اس کے علاوہ سکیورٹی اور فائر فائٹنگ کی سروسز بھی گوادر پورٹ اتھارٹی فراہم کرے گی۔
گوادر پورٹ پر ’’پوس گلوری‘‘ نامی پہلا کارگو بحری جہاز 15 مارچ 2008 کو لنگر انداز ہوا، یہ بحری جہاز 70 ہزار ٹن کارگو لے کر آیا تھا اور اس جہاز اور کارگو ہینڈلنگ کی ذمہ داری گراب لائنز شپنگ گوادر نے سر انجام دی تھی۔تاہم اس اہم ترین بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی نہ آسکی، حکومت پاکستان نے اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا اور بالآخر اپنی اس اہم ترین بندرگاہ پر پورٹ آپریٹر کمپنی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، ستمبر 2011 سے یہ خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ حکومت پاکستان گوادر پورٹ اتھارٹی کا انتظام پی ایس اے سے لے کر چین کے حوالے کرنا چاہتا ہے ایک سال بعد 2012 میں چین کی جانب سے اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ وہ گوادر پورٹ کا انتظام سنبھالنے میں دلچسپی رکھتا ہے چین کا خیال تھا کہ گوادر پورٹ کو آئل پائپ لائن حب بنا کر وہ اپنی پٹرولیم مصنوعات کی مقامی ضروریات پوری کرنے کیلئے اس روٹ سے زیادہ آسانی کے ساتھ سپلائی لائن بنا سکتا ہے بالآخر 18 فروری 2013 کو حکومت پاکستان نے گوادر پورٹ بدستور حکومت پاکستان کی ملکیت رہے گا تاہم اس بندرگاہ کو آپریٹ کرنے کی ذمہ داری چین کی ایک سرکاری کمپنی ’’چائنا اووسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی‘‘ کو دے دی گئی۔
اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب 18 فروری 2013 کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری، پاکستان میں چین کے سفیر لیوجیان، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور سینئر افسران کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس تقریب میں معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد گوادر پورٹ کو ہینڈل کرنے کی ذمہ داری پی ایس اے سے لے کر چین کی کمپنی کے سپرد کر دی گئی۔گوادر پورٹ چینی کمپنی ’’چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ‘‘ کے زیر انتظام ہے جو یہاں تیزی سے ترقیاتی کام کروا رہی ہے۔ گوادر پورٹ پر انڈسٹریل زونز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ گوادر پورٹ پاکستان کا دیا گیا اللہ کا بہترین تحفہ ہے۔ اس پورٹ کی قدرتی گہرائی 18 میٹر ہے جسے 22 میٹر تک گہرا کیا جا سکتا ہے جبکہ خطے کی دیگر مشہور بندرگاہوں جبل علی، بندر عباس،چابہار اور دوہا پورٹ کی گہرائی گوادر پورٹ سے انتہائی کم ہے۔ گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد برتھ کی تعداد 13 ہو جائے گی اور پورٹ پر 120 جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے جبکہ خطے کی سب سے بڑی اور مشہور پورٹ جبل علی پر صرف 70 جہاز لنگر انداز ہوسکتے ہیں۔ زیر تعمیر گوادر پورٹ پر 70 ہزار ٹن وزنی جہاز پہلے ہی لنگر انداز ہو چکا ہے جبکہ پورٹ کی تکمیل کے بعد یہاں ایک لاکھ ٹن کے جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے جو خطے میں ایک ریکارڈ ہو گا۔
گوادر پورٹ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے مغربی حصے میں خلیج آف پاکستان کے بالکل بالمقابل واقع ہے گلف سے جاپان اور مغربی ممالک کو ترسیل کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات کا یہ اہم ترین بحری راستہ ہے، گوادر پورٹ کی تکمیل اور مکمل طور پر آپریشنل ہو جانے کے بعد مغربی چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے زیادہ تر کارگو اس بندرگاہ سے خشکی کے راستے بہت آسانی سے بھیجا جا سکتا ہے اس راستے سے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو کارگو کی ترسیل نہ صرف ان ممالک کے لیے بہت آسان اور کم خرچ ہو گی بلکہ اس سے پاکستان کو بھی سالانہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو گی، گوادر پورٹ کارگو کی ترسیل کیلئے اس خطے میں مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، گوادر پورٹ خطے میں کارگو کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیوں کا حب بن سکتا ہے، پورٹ پر کارگو کی ہینڈلنگ، ٹرانزٹ اوردیگر مدات میں وصول کیے جانے ٹیکسوں اور ڈیوٹی سے پاکستان کو ہر سال کروڑوں ڈالر کی آمدنی ہو گی، اس کے علاوہ پاکستان میں ٹرانسپوریشن، لیبر اور دیگر شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے جن سے بالخصوص بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں معیار زندگی بہتر ہو گا۔ گوادر پورٹ کے ذریعے ا ربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی متوقع ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بندرگاہ کے آپریشنل ہونے سے پاکستان میں 20 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ چین اور وسطی ایشیا کے لیے گیٹ وے بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اس کے علاوہ یہ خطے میں اہم ترین تجارتی حب بھی بن سکتا ہے گوادر پورٹ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں سے مسابقت کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں یہ پوری استعداد موجود ہے کہ مستقبل میں یہ خطے کا سب سے بڑا ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور سب سے بڑا تجارتی مرکز بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کی جانب سے چین کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدوں کے تحت پاک چین اکنامک کو ریڈور کی تعمیر بھی شامل ہے اس منصوبے کے تحت گوادر سے چین تک شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کی تعمیر کی جائے گی یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد گوادر سے چین تک پاکستان کے تمام علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں میں زبردست تیزی آئے گی جس سے روزگار کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے اور مقامی افراد کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔
57 ارب ڈالر کا سی پیک منصوبہ تیزی سے حقیقت میں ڈھل رہا ہے جو نہ صرف دنیا میں علاقائی تعاون کا سب سے بڑا منصوبہ بن کر ابھرے گا بلکہ خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو گا۔ گوادر شہر مستقبل میں ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا اقتصادی لحاظ سے ایک اہم شہر بن جائے گا اور یہاں کی بندرگاہ پاکستان کے علاوہ چین، افغانستان، وسط ایشیا کے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذر بائیجان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں آئے گی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا۔ گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے اب لوگوں کی توجہ اس طرف ہو چکی ہے چنانچہ ایسے میں بے شمار فراڈیوں اور دھوکے بازوں نے بھی جعلی اوردو نمبر رہائشی سکیموں اور دیگر کالونیوں کی آڑ میں لوگوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے کیونکہ پاکستان کے دیگرشہروں سے تعلق رکھنے والے افراد گوادر کی اصل صورتحال سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان فراڈیوں کی چکنی چپڑی باتوں اور دلفریب اشتہارات کی وجہ سے ان کے جال میں پھنس کر اپنی جمع پونچھی سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ یہاں ایسی سکیمیں جن کو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے این او سی بھی جاری کر رکھی ہیں مگر ان کی ابھی ابتداء بھی نہیں ہو سکی اور وہ اپنے پوسڑوں اور پمفلٹوں پر دبئی اور ہانگ کانگ کے مناظر اور عمارتیں دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں ویسے بھی گوادر میں پینے کے پانی کی کمیابی ، سیوریج کے نظام کی عدم دستیابی اوردیگر عمارتی سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر بلکہ سرکاری سیکٹر میں بھی کوئی خاص کام شروع نہیں ہو سکا ماسوائے سی پورٹ اور چند ایک عمارتیں جن میں پرل کانٹی نینٹل اور دیگر منصوبوں کے جن پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ جبکہ موجودہ گوادر شہر میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں اور بازاروں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔
گوادر فری پورٹ نہیں بلکہ ٹیکس فری زون شہر ہوگا۔ جی ڈی اے نے این او سی جاری کرتے وقت پرائیویٹ اداروں کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی سکیموں میں پینے کے پانی کا انتظام کریں گے اور سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائیں گے جبکہ سیوریج کے پانی کے نکاس کا بھی ایسا انتظام کیا جا رہا ہے کہ گندا پانی سمندر میں شامل ہو کر اسے آلودہ نہ کرے اور کراچی جیسی صورتحال پیدا نہ ہو اور اس مقصد کیلئے ہر پرائیویٹ سکیم کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ سیویج کے پانی کو صاف کرنے کے ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹ لگائیں اور اس پانی کو گرین بیلٹ اور پارکوں میں استعمال کیا جائے۔ اب گوادر شہر میں آنکاڑہ ڈیم سے پینے کا پانی آتا ہے جو 45 ہزار کی آبادی کے لیے افی تھا مگراب آبادی میں اضافہ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہو گیا اور موجودہ پانی کی مقدام کم پڑ گئی کیونکہ اب گوادر کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جس کے لیے میرانی ڈیم کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ مگر یہ گوادر سے 120 کلو میٹر دور ہے جہاں سے پانی لانا بہت مشکل کام ہو گا جبکہ میرانی ڈیم کے پانی کا سردیوں کی بارشوں پر منحصر ہے اور جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ کئی کئی سال بارشیں نہیں ہوتی ڈیم میں پانی بھی نہیں آئے گا لہٰذا یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ گوادر میں اصل مسئلہ پانی کا ہی ہو گا جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
2012 سے 2016 تک چار برس میں تین بار آنکاڑہ ڈیم خشک ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دورِ اقتدار میں سوڑ اور شادی کور ڈیم کی تعمیر کیلئے ایک ارب روپے کی گرانٹ جاری کی تھی۔ اس وقت گوادر کے ڈپٹی کمشنر طفیل احمد نے انتھک محنت کر کے دونوں ڈیمز تعمیر کروا دیئے تھے۔ مگر گوادر کے شہریوں تک پانی اس لئے نہیں پہنچ سکا تھا کیونکہ پائپ لائن نہیں بچھ سکی تھی۔ پی ایچ ای نے پائپ لائن کی 70 کروڑ روپے کی پی سی ون بنائی تھی۔ جی ڈی اے نے ایک ارب 70 کروڑ روپے بنا کر ڈاکٹر عبدالمالک کو دی تھی انہوں نے اس رقم کی منظوری دے دی تھی۔ لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر پائپ لائن بچھانے کا کام شروع نہیں ہو سکا۔
گوادر میں چین نے بندرگاہ کا کام شروع کیا تو بھارت نے گوادر سے صرف 75 کلو میٹر کے فاصلے پر چا بہار کے ایرانی شہر میں ایک گہرے پانیوں کی بندرگاہ پر کام شروع کر دیا۔ ایران کی یہ پہلی گہرے پانیوں کی بندرگاہ بنائی جا رہی تھی۔ اس سے پہلے ایران کے پاس بندر عباس کی ایک بندرگاہ تھی جو صرف دس ہزار ٹن کارگو کی اہلیت رکھتی تھی جبکہ زیادہ تر جہاز 25 ہزار ٹن کارگو والے ہوتے ہیں۔ اس لیے زیادہ تر ایرانی جہاز دبئی میں مال اتارتے پھر چھوٹے جہازوں میں ایران لے کر آتے۔ بندر عباس ویسے ہی آبنائے مزکی تنگ پٹی میں واقع ہے اور امریکی جنگی بیڑے بھی وہاں گھومتے رہتے ہیں اس لیے ایران کو بھارت نے مدد فراہم کی تاکہ وہاں چا بہار بندرگاہ بنے اور گوادرپورٹ کا توڑ کیا جا سکے۔ کچھ عرصہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت نے کام روکے رکھا۔جیسے ہی 2012میں گوادر پورٹ کا انتظام سنگاپور سے لے کر چین کو دیا گیا تو بھارت نے امریکا کی پابندیوں کی پروا کئے بغیر چا بہار بندرگاہ پر کام دوبارہ شروع کر دیا۔ یہ منصوبہ ایران کے راستے افغانستان اور وسطیٰ ایشیا کی ریاستوں کو ملانے کا ہے۔ اس کیلئے بھارت نے کثیر لاگت سے افغانستان میں دلآرم شہرت سے ایرانی سرحدی شہرز رنج تک موٹر وے بنا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چا بہار سے نوسو کلو میٹر ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے جو بامیان کے افغان صوبے تک جائے گی جہاں ہزارہ قبائل آباد ہیں اور جو ہمیشہ ایران کے اتحادی رہے ہیں۔ وہاں کی ’’آئرن اور ‘‘ کو بھارت کی سٹیل ملز تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان ’’اقتصادی راہداری‘‘ کے منصوبے معاہدے کے بعد اس سے مسابقت میں بہت تیزی آئی ہے۔ بھارتی کابینہ نے چابہار بندرگاہ کیلئے 85.12 ملین ڈالر منظور کئے ہیں جس سے اس کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت ہر سال 22 ملین ڈالر اس بندر گاہ کے انتظام پر خرچ کرے گا۔ سات مئی 2015 کو ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ عباس احمد اخوندی اور بھارتی وزیر جہاز رانی و ٹرانسپورٹ نے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت بھارت دس سال کیلئے یہ بندرگاہ استعمال کرے گا اور دس سال بعد اس پر کی گئی تمام تعمیرات اور مشینری ایرانی ملکیت تصور ہو گی۔ بھارت وہاں ایک کثیر المقاصد کارگو ٹرمینل بنا رہا ہے اور ساتھ ساتھ عارضی مال رکھنے کی بہت بڑی گودی بھی۔ اس بھارت ایران معاہدے کا سرپرست امریکا ہے۔
گوادر پورٹ کے فعال ہونے کو امریکا اور بھارت اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان راہداری کا معاملہ بھارت کیلئے بطور خاص تشویش کا باعث ہے اسے ناکام بنانے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میں ایک علیحدہ شعبہ بنا دیا گیا ہے اور اس کیلئے ابتدائی طور پر50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ملک کے حکومتی حلقوں اور ذرائع ابلاغ سے ’’را‘‘ کی پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر جو رپورٹیں آرہیں، ان کے مطابق بھارت کی حکومت نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کو دوسرا اہم مشن یہ دیا ہے کہ وہ پاک و چین راہداری کو بہر صورت ناکام بنائے۔ ’’را‘‘ کے نئے مقاصد میں انٹیلی جنس کی معلومات کو جارحانہ انداز میں جمع کرنا، پاکستان کے خلاف تخریب کاری، نفسیاتی جنگ، سبوتاژ کی سرگرمیاں اور اہم شخصیات کو قتل کرنا شامل ہے۔ گوادر بندرگاہ کے پوری طرح فعل ہونے میں اگرچہ ابھی کافی وقت درکار ہے تاہم اس دوران پاکستان اور چین کو بھارت کے خطرے سے پوری طرح ہوشیار رہنا ہو گا۔امریکا نے چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ کو خطے میں امریکی مفادات کیلئے خطرہ قرار دے دیا ہے، جبکہ وہ چین کی اقتصادی خوشحالی و ترقی سے پہلے ہی پریشان ہے۔ اس بنا پر وہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے بھارت کو ہر طرح استعمال کرنے کی کوشش کرے گا لہٰذا گوادر پورٹ اور پاک چین اقتصادی راہداری کو پوری طرح فعال کرنے کیلئے دونوں ملکوں کو حفاظت و سلامتی کے مستحکم اور فول پروف انتظامات کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں زیادہ ذمہ داری چین نے لی ہے لیکن گوادر کی بندرگاہ اورپاک چین اقتصادی راہداری پاکستان میں واقع ہے اس لیے ہمیں بھی خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح
چوکس و بیدار رہنا ہو گا۔

qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے