Voice of Asia News

حسن اور حسین نواز اشتہاری قراردیا رپورٹ محمد جمیل بھٹی

سوال: کیا حسن اور حسین نواز پر پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتا ؟

جواب: مریم نواز اور نون لیگ میڈیا سیل مسلسل ایک جھوٹ بول رہے ہیں کہ چونکہ حسن نواز اور حسین نواز برطانوی شہری ہیں اس لیے ان پر پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ میں عرصہ سات سال سے برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم ہوں اور اچھے طریقے سے یہاں کے قوانین جانتا ہوں۔ اس لیے میں نے ایک مقامی لاء فرم سے رابطہ کیا اور ان سے دو ٹوک الفاظ میں سوال کیا کہ اگر ایک برطانوی شہری پاکستان سے منی لانڈرنگ کر کے اپنا پیسہ برطانیہ لائے اور یہاں کاروبار شروع کر لے تو اس کے جرم کا ٹرائل کہاں ہو گا۔

لاء فرم کے سینئر بیرسٹر مسٹر جان سمتھ نے میرے دو ٹوک سوال کا دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ ملاحظہ کیجیے۔ سمتھ نے کہا

فرض کیجیے آپ کے پاس تین سچوئیشنز ہیں۔

اول: آپ برطانوی شہری ہیں اور آپ نے پاکستان میں ایک ایسی ایکٹیویٹی کی ہے جو کہ پاکستان میں جرم نہیں ہے لیکن برطانیہ میں جرم ہے

دوم: آپ برطانوی شہری ہیں اور آپ نے پاکستان میں ایک ایسی ایکٹیویٹی کی ہے جو کہ پاکستان میں جرم ہے لیکن وہ برطانیہ میں جرم نہیں ہے

سوم: آپ برطانوی شہری ہیں اور اپ نے پاکستان میں ایک ایسی ایکٹیویٹی کی ہے جو کہ پاکستان میں بھی جرم ہے اور برطانیہ میں بھی جرم ہے

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس برطانوی شہری کا ٹرائل ہو گا ؟ اور اگر ہو گا تو کس ملک میں ہو گا اور کیا ایک ہی جرم کا ٹرائل دونوں ملکوں میں ہو سکتا ہے ؟

برطانوی قانون کے مطابق اگر کوئی برطانوی شہری کسی بھی دوسرے ملک میں جرم کرتا ہے تو سیکشن 9 ایکٹ 1861 کے تحت اور سیکشن 3 برٹش نیشنلیٹی ایکٹ 1948 کے تحت اس کا ٹرائل اس ملک میں بھی ہو گا اور اگر وہ سزا اس کے جرم کے برابر نہ ہوئی تو بطور برطانوی شہری اس کو سیکشن 9 او اے پی ایکٹ 1861 کے تحت برطانیہ میں بھی سزا سنائی جائے گی۔

کیس مثال: 1983 میں ایک برطانوی شہری نے گھانا میں دو افراد کا قتل کر دیا۔ گھانا نے اپنے قانون کے مطابق ان کا ٹرائل کیا اور شکوک کی بنیاد پر مقدمہ خارج کر دیا جب کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔ لیکن اس برطانوی شہری کو برطانیہ واپس آنے پر گرفتار کر کے ٹرائل کورٹ میں لے جایا گیا اور وہاں اس پر قتل کا مقدمہ چلا کر اس کو اس کے جرم کی سزا دی گئی۔

اس کے بعد میں نے ان بیرسٹر جان سمتھ کو نوازشریف اور حسین نواز کے متعلق بتایا کہ کیسے ان پر منی لانڈرنگ کے چارجز ہیں جن کو وہ ابھی تک ڈیفنڈ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں تو اس سوال کے جواب میں بیرسٹر سمتھ نے کہا

حسین نواز چونکہ نسلی برطانوی شہری نہیں ہے بلکہ اس کی پیدائش پاکستان کی ہے تو اس پر مکمل طور پر پاکستان میں ہی مقدمہ چلے گا اور اگر پاکستانی عدالت ان کے ریڈ وارنٹ جاری کر دے یا برطانوی حکومت سے ان کو مانگ لے تو برطانوی قانون کے مطابق ان کی شہریت کینسل کر کے ان کو پاکستان کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں حسین نواز یا حسن نواز پر سب سے پہلا حق پاکستان کا ہے کیونکہ وہ پیدائیشی برطانوی نہیں ہیں بلکہ ان کی پیدائش پاکستان کی ہے اور انہوں نے بالغ ہونے کے بعد برطانیہ کی شہریت حاصل کی ہے۔

ان تمام باتوں کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ نون لیگ اور مریم نواز اس معاملے میں مکمل طور پر جھوٹ بول رہے ہیں اور برطانوی شہریت کا بہانہ بنا کر حسین نواز اور حسن نواز کو عدالتوں کے سامنے اور مقدمے سے بچایا جا رہا ہے تا کہ چوری اور لوٹ مار کا حساب نہ دینا پڑے۔

کل عدالت نے حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ یہ بہت اچھا اور احسن قدم ہے کیونکہ اب اگر پاکستان کسی بھی موقع پر برطانوی حکومت سے درخواست کرے تو کان سے پکڑ کر اس موٹو گینگ کو پاکستان آنے والی اگلی فلائیٹ میں بٹھا دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے