Voice of Asia News

افغانستان میں ناکامیوں کے الزامات پاکستان پرجارحیت کے مترادف ہیں، احسن اقبال

واشنگٹن (وائس آف ایشیا) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے جانے سے اسٹاک مارکیٹ کو 14 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ۔ بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم کرنا ہو گا ۔ حکومت ، اپوزیشن اور اداروں کی قیادت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح اندرونی طور پر پاکستان کو مستحکم رکھیں ۔ افغانستان میں ناکامیوں کے الزامات پاکستان پرجارحیت کے مترادف ہیں ، کمیونزم کو شکست کی ٹرافی مغرب نے اٹھائی اور پاکستان کانٹے چن رہا ہے ،پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے امریکا کے ساتھ شریک کار بننے کو تیار ہے، جنوبی ایشیائی خطے کو بھارت کے نقطہ نظر سے دیکھنا حالات کو مزید خرابی کی طرف لے جائے گا۔ ورلڈ بینک کے حکام سے ملاقات میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک محض پاکستان اور چین کے درمیان نہیں جنوبی ایشیاء ، چین اور وسطی ایشیاء کو ملانے والا لنک نئی منڈیاں پیدا کرنے اور خطہ کی ترقی کا سبب بنے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نارتھ ، ساؤتھ اور ایسٹ ، ویسٹ راہداریاں بنا کر ہم تین خطوں کو آپس میں ملا سکتے ہیں جن کی آبادی تین ارب افراد پر مشتمل ہے جو کہ دنیا کا نصف ہے ۔ احسن اقبال نے جان ہاپکنز یونیورسٹی میں شرکاء کو قومی ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں سے بھی آگاہ کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر افغانستان میں سیکیورٹی ناکامیوں کے الزامات مددگار ثابت نہیں ہوں گے ۔ یہ الزامات پاکستانی عوام کے خلاف جارحیت کے مترادف ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں پاکستانی عوام نے دی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی خطے کو بھارت کے نقطہ نظر سے دیکھنا حالات کو مزید خرابی کی طرف لے جائے گا، پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں امن و امان کیلئے امریکا کے ساتھ شراکت دار بن کر کام کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی مفاہمت کیلئے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے اور سیاسی مفاہمت ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و خوشحالی کی ضامن ہے، اس لیے پاکستان کو افغانستان میں سیکیورٹی ناکامیوں کا موردالزام ٹھہرانا جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔۔ افغان سرزمین کو پرامن بنانے کیلیے علاقے کے ممالک اور عالمی طاقتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خوددار ملک ہے اس لیے الزام اور اعتماد ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان کسی دوسرے کی جنگ نہیں لڑرہا بلکہ ہم اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ امن کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کی جنگ ہے اور حکومت پاکستان کے اقتصادی وژن کی بنیاد خطے میں امن و استحکام کی بحالی پر ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ افغانستان سے سوویت یونین کی پسپائی کے بعد عالمی برادری ہاتھ جھاڑ کر چلی گئی جب کہ مغربی دنیا کو کمیونزم کے خلاف ٹرافی مل گئی اور پاکستان آج تک کانٹے چن رہا ہے۔ سی پیک کے ذریعہ اربوں ڈالرز کی سرمایا کاری خطہ میں آ رہی ہے ۔ سی پیک سے امن اور علاقائی تعاون کے راستے کھلیں گے ۔ احسن اقبال نے یورپ اور امریکا کو سی پیک میں اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے کی دعوت دی ۔ جبکہ واشنگٹن میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے جانے سے اسٹاک مارکیٹ کو 14 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ۔ بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا اندرونی طور پر مستحکم ہونا ضروری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ نے 14 ارب ڈالرز کا نقصان اسٹاک مارکیٹ میں کیا ہے ۔ ہم اس طرح کے سیاسی بحرانوں کے متحمل نہیں ہو سکتے اور میں سمجھتا ہوں کہ حکومت ، اپوزیشن اور قومی اداروں کی قیادت پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم کس طرح پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم رکھیں تاکہ ان خارجی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے