Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں نامساعد حالات کے دوران تین دھائیوں میں 13 صحافی مارے گئے

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں نامساعد حالات کے دوران تین دھائیوں میں 13 صحافی مارے گئے ۔ مقبوضہ کشمیر کے اخبارا ت کے ایڈیٹرز کی تنظیم کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے کہا ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا(پی سی آئی) نے کبھی بھی ان اموات پر زبان نہیں کھولی۔ پی سی آئی کشمیری صحافیوں کے حوالے سے سر د مہری کا شکار ہے ۔۔گلڈ کے ترجمان کے مطا بق، گلڈ کا ایک وفد پی سی آئی کی ٹیم سے ملاقی ہوا ۔ پی سی آئی ٹیم کی قیادت اس کے چیئرمین کر رہے تھے۔ گلڈ کے وفد نے ٹیم کی توجہ ان کی 1991 کی رپورٹ کرائسس اینڈ کریڈیبلٹی کی طرف مبذ ول کراتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ کشمیر کے میڈیا ادارے کو بے اعتبار کرنے کی پی سی آئی اور حکومت ہند کی ایک مشترکہ کوشش تھی۔ وفد نے کہا کہ گو کہ کنن عصمت دری رپورٹ نے کشمیر میڈیا کی کارکردگی کو متاثر نہیں کیا لیکن پی سی آئی کی اعتباریت پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا اس لئے پی سی آئی کو اس سوالیہ نشان کو مٹانے کے لئے کچھ اقدامات ا ٹھانے ہونگے۔گلڈ ڈلیگیشن نے پی سی آئی ٹیم کو یاد دہانی کرائی کہ گذشتہ تین دہایؤں میں کشمیر میں 13 صحافی تشدد کا شکار ہوئے لیکن پی سی آئی نے کبھی بھی ان اموات پر زبان نہیں کھولی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک ان صحافیوں کے قاتلوں کی نشاند ہی نہیں ہو سکی۔گلڈ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر میڈیا کو روز مرہ درپیش مسائل ، ا خبارات کی اشاعتوں پر قد غنیں ، صحا فیوں خاص کر فوٹو گرافروں پر تشدد، بار بار انٹر نیٹ کو بند کرنا جیسے مسائل ، جن کی وجہ سے کشمیر میڈیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پر بھی پی سی آئی نے ہمیشہ چپی سادھ رکھی۔ گلڈ نے ڈی اے وی پی کی جانب سے وادی کے کئی اخبارات کو بند کرنے کا مسلہ بھی ابھارا۔پی سی آئی چیئرمین جسٹس (ریٹا ئرڈ) سی کے پرساد نے تمام معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گو کہ وہ نہیں جانتے کہ ماضی میں ہوئی باتوں کی کیسے تصحیح کی جائے لیکن مستقبل کے لئے انہوں نے یقین دہانی کی کہ جو بھی مسلہ پی سی آئی کی نوٹس میں لایا جائے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔چیئرمین نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی معاملہ ہو، ای میل کے ذریعے ان کی نوٹس میں لایا جائے وہ اس معاملے کو سلجھانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے