Voice of Asia News

آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے 980سے زائد کشمیری نوجوانوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچا

سری نگر(وائس آف ایشیا) آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے 980سے زائد کشمیری نوجوانوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچا تھا جن میں 280کے قریب نوجوان آنکھوں کی بینائی سے متاثر ہوگئے ہیں جن میں 88کے دونوں آنکھیں جبکہ 192نوجوانوں کی ایک آنکھ کی بصارف مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر اسپتال سرینگر میں ماہ جولائی کے دوران شروع کئے گئے کارنیا ٹرانسپلانٹ سینٹر میں ابتک 20مریضوں کے کارنیا کو تبدیل کیا گیا ہے جبکہ وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 10افراد نے آنکھوں کے عطیہ کیلئے اپنے ناموں کا اندراج کیا ۔تاہم 2016کے نامساعد حالات کے دوران پیلٹ کا شکار ہوکر آنکھوں کی بینائی کھونے والے نوجوانوں میں سے کسی کا بھی کارنیا تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ 2016کے نامساعد حالات کے دوران 24نوجوانوں کے کارنیا کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ واضح رہے کہ آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے 980سے زائد نوجوانوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچا تھا جن میں 280کے قریب نوجوان آنکھوں کی بینائی سے متاثر ہوگئے ہیں جن میں 88کے دونوں آنکھیں جبکہ 192نوجوانوں کی ایک آنکھ کی بصارف مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ صدر اسپتال میں موجود ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دوماہ کے عرصے میں کارنیا سینٹر میں 20افراد کے کارنیا تبدیل کئے گئے جن کو بیرون ریاستوں میں قائم آنکھوں کے بینکوں سے حاصل کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ کارنیا ٹرانس پلانٹ سینٹر میں کارنیا کی تبدیلی میں سب سے بڑی رکاوٹ کارنیا کو دوسری ریاستوں سے برآمد کرانا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی دیگر ریاستوں سے کارنیا کو وادی لانے میں کافی پیسہ خرچ ہوتا ہے جو اسپتال انتظامیہ کو بر داشت کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر اسپتال میں قائم کئے گئے آنکھوں کے بینک میں دس لوگوں نے عطیہ کیلئے ناموں کا اندراج کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی یوم بصارت کے موقعے پر لوگوں میں آنکھوں کے عطیہ کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے تقریبات کا انعقاد لازمی بنتا تھا مگرگورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے تحت کام کرنے والے شعبہ امراض چشم میں کسی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جارہا ہے اور نہ ہی سکمز صورہ کی جانب سے اس ضمن میں کوئی تقریب منعقد ہورہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شعبہ امراض چشم میں نجی سطح پر ٹی وی ٹاک کا انعقاد ہورہا ہے تاہم یہ سمینار عالمی یوم بصارت کے سلسلے میں نہیں ہورہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے