Voice of Asia News

مسلمان ہونے کے لیے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، میجر جنرل آصف غفور

کراچی(وائس آف ایشیا) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، مجھے کسی کو ثبوت نہیں دینا کہ میں مسلمان ہوں کیونکہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے جبکہ مسلمان ہونے کے لیے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں عمل سے ثابت کریں، مغرب ممالک اور بھارتی بھی بنیاد پرست ہیں لیکن ہر بنیاد پرست دہشت گرد نہیں اور ہر دہشت گرد بنیاد پسند نہیں ہوتا،پاکستان اللہ کا تخلیق کردہ سب سے خوبصورت ملک ہے، ہر موسم ہر پھل دریا پہاڑ صحرا سب اس ملک میں ہے،سویت یونین جب افغانستان آیا تو کہا گیا اس سے اسلام کو خطرہ ہے، امریکا کی مدد سے سوویت کو افغانستان سے نکالا تاہم نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا، امریکہ سے لڑنے والوں کو وہاں پناہ نہیں ملی تو پاکستان آگئے۔جمعرات کو جامعہ کراچی میں تقریب کے دوران طلبا سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ جامعہ کراچی آیا ہوں، یہاں آکر لگا کہ خواتین کی یونیورسٹی آیا ہوں تاہم میں نے جامعہ میں طالبات کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ بھی وی سی سے پوچھی۔ سب سے پہلے ہم بنیاد پرستی کے موضوع پر بات کریں گے، انہوں نے کہا کہ بنیاد پرستی کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، میں بھی بنیاد پرست ہوں، مغرب ممالک اور بھارتی بھی بنیاد پرست ہیں لیکن ہر بنیاد پرست دہشت گرد نہیں اور ہر دہشت گرد بنیاد پسند نہیں ہوتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ سب دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلاؤں گا، جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلاوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے بھی پاکستان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مجھے کسی کو ثبوت نہیں دینا کہ میں مسلمان ہوں، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے،انہوں نے کہا کہ ہم اسلام کے اصولوں پر عمل کریں تو دنیا ہمیں اسلامی ملک کے طور پر پہچانے گی، اللہ نے دنیا کو ہر نعمت سے نوازا ہے جبکہ ہر موسم ہر پھل دریا پہاڑ صحرا سب اس ملک میں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے آپریشن ضرب عضب کامیابی سے مکمل کیا، ہم نے مرحلہ وار اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا اور آج پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے