Voice of Asia News

دس ممالک میں لڑکیوں کا سکول جانا مشکل،سوڈان پہلے ،افغانستان کا چوتھانمبرہے،رپورٹ

نیویارک(وائس آف ایشیا)دنیا بھر میں لڑکیوں کے سکول جانے کے حوالے سے مشکل ترین ملک سوڈان ہے ،حال ہی میں معرضِ وجود میں آنے والے جنوبی سوڈان کو جنگ اور تشدد کا سامنا ہے۔ یہاں سکولز تباہ کر دیے گئے اور لوگوں کو جبراً بے گھر کیا گیا۔ لگ بھگ 75 فیصد لڑکیاں پرائمری تک تعلیم مکمل نہیں کر سکیں۔سنٹرل افریقن رپبلک (سی اے آر)کا دوسرانمبر ہے،یہاں 80 بچوں کے لیے ایک استاد ہے۔اس کے بعد نائجرنمایاں ہے،نائجر میں 17 سے 24 سال کی خواتین میں سے صرف 17 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امیر ممالک میں سکولوں کے حوالے سے بحث کے موضوعات میں اہم ہوتا ہے کہ کس مضمون کو زیادہ اہمیت دی جائے، کس میں طلبا کو زیادہ مدد کی ضرورت ہے اور کس میں زیادہ وسائل لگانے چاہیئں۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں سوال انتہائی بنیادی ہوجاتا ہے کہ کیا بچوں کو سکولوں تک رسائی بھی حاصل ہے یا نہیں۔اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں دنیا کے غریب ترین ممالک میں سکولوں کی کمی کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ایک دوسری رپورٹ میں معیارِ تعلیم کے بارے میں بتایا گیا کہ 60 کروڑ بچے سکول تو جاتے ہیں لیکن وہاں کچھ سیکھتے نہیں۔دس ممالک میں سے بیشتر میں لڑکیوں کے سکول نہیں ہیں۔ان بدحال ممالک میں کئی خاندان غریب ہیں یا ان کی صحت خراب ہے، یا پھر وہ غذائیت کی کمی اور جنگ یا لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہیں۔کئی نوجوان لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے جانے کے بجائے کام کرنا پڑتا ہے۔ کئی کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے جس کے بعد تعلیم کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں تاہم بعض ممالک جیسا کے شام کے حوالے سے قابلِ بھروسہ اعداد و شمار نہیں ملے۔لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مشکل ترین ممالک میں پہلے نمبر پر سوڈان ہے ،حال ہی میں معرضِ وجود میں آنے والے جنوبی سوڈان کو جنگ اور تشدد کا سامنا ہے۔یہاں سکولز تباہ کر دیے گئے اور لوگوں کو جبراً بے گھر کیا گیا۔ لگ بھگ 75 فیصد لڑکیاں پرائمری تک تعلیم مکمل نہیں کر سکیں۔سنٹرل افریقن رپبلک (سی اے آر)کا دوسرانمبر ہے،یہاں 80 بچوں کے لیے ایک استاد ہے۔اس کے بعد نائجرنمایاں ہے،نائجر میں 17 سے 24 سال کی خواتین میں سے صرف 17 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔جس کے بعد افغانستان آتاہے ،افغانستان میں لڑکیوں کی نسبت سکول جانے والے لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔پانچویں نمبر پر چاڈہے،اس افریقی ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں متعدد معاشی اور معاشرتی رکاوٹیں حائل ہیں،چھٹے نمبرپرمالی ہے جہاں صرف 38 فیصد لڑکیوں نے پرائمری تک تعلیم مکمل کی۔ساتوں نمبر پر گنی ہے جہاں 25 سال سے زائد عمر کی خواتین اوسطاً ایک برس تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔آٹھویں پربرکینا فاسوہے جہا ںصرف ایک فیصد لرکیوں نے سیکنڈری تک تعلیم مکمل کی۔نویں نمبر پرلائبیریاہے جہاںپرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کی عمر کے دو تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں۔آخری اوردسویں نمبر پرایتھیوپیاہے ہر پانچ میں سے دو لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم کی عمر میں کر دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے