Voice of Asia News

پاکستان اور چین کی لازوال دوستی :شاہد عمران (کوئٹہ)

پاکستان اور چین دوستی اتنی پائیدار ہے کہ اسے محض سمندروں سے گہری، ہمالیہ سے بلند اورشہد سے میٹھی کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے کیونکہ یہ دوستی ان تمام استعاروں سے بلندترہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کاایسا گہرا روحانی ناطہ ہے کہ حالات کیسے ہی ہوں یہ رشتہ بہت ہی مضبوط ہے۔ہرقسم کے گرم سرد حالات کے باوجود نہ تو کسی دشمن کے منفی پراپیگنڈے نے اس رشتے کو نقصان پہنچایا ہے اور نہ ہی کوئی سازش دونوں دوستوں کے درمیان دیوار کھڑی کر سکی ہے۔
عوامی جمہوریہ چین نے 1949 میںآزادی حاصل کرنے کے بعد اپنی انتھک محنت سے ترقی کی منازل طے کر کے خود کو معاشی طور پر اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ آج اس کا شمار دُنیا کی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے ۔چین کا رقبہ 6.9 ملین اسکوائر کلو میٹر اور آبادی ایک ارب 39 کروڑ ہے اس کے 23 صوبے ہیں جبکہ 33 انتظامی ڈویژنز اور 116 شہری حکومتیں ہیں ۔کرنسی یوآن ہے ،صرف ایک سیاسی جماعت ہے جس کا نام کمیونسٹ پارٹی ہے ،چین میں الیکشن نہیں ہوتے ،صدر اور وزیراعظم کا انتخاب پارٹی کرتی ہے ۔چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں ایک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہوا ہے جہاں صدر ،وزیر اعظم،وزیر اور مشیر تیار کےئے جاتے ہیں ۔پورے ملک میں ایک زبان بولی جاتی ہے جس کو منڈین کہتے ہیں ۔تعلیم ،میڈیا ، سوشل میڈیا ، انٹر نیٹ ہر چیز ان کی اپنی زبان میں ہی ہے۔ چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جس کی آبادی دو کروڑ بیس لاکھ کے فریب ہے،شہر میں دو رویہ سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے ، سائیکل اور موٹر سائیکل کیلئے الگ الگ ٹریکس ہیں ، سٹرک کے دونوں اطراف پیدل چلنے والوں کیلئے کشادہ فٹ پاتھ ہے جبکہ صفائی کا بہیرین انتظام ہے ۔چین کی ترقی میں تعلیم ،وقت کی پابندی اور کفائیت شعاری کا اہم ترین کردار ہے ،چینی لوگ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں جبکہ چائے نہیں پیتے بلکہ سبز قہوہ پیتے ہیں۔
اب ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی کا رشتہ کتنا گہرا ہے کہ تاریخ میں یہ تعلق کبھی بھی کمزور نہیں پڑا۔سب سے پہلی بات تویہ ہے کہ چین اورپاکستان کے عوام ایک دوسرے کیلئے محبت اور احترام کاباہمی جذبہ رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کو چین جانے کا موقع ملاہے وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ چینی باشندے پاکستان کیلئے ایسے پیار کا رشتہ رکھتے ہیں جیسے دونوں جڑواں بھائی ہوں۔ چین کے موجودہ سیاسی لیڈر دونوں ملکوں کے عوام کو ’’آئرن یا سٹیل برادرز‘‘ کہتے ہیں اوروقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی دوستی پرکسی موسم نے کوئی برااثرنہیں ڈالا۔وقت نے یہ ثابت کیاہے کہ دونوں ممالک کی دوستی لازوال ہے۔
پاکستان اورچین کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز 1950 میں ہوا تھا۔ پاکستان اسلامی دنیاکا پہلاملک تھا جس نے عالمی برادری کے دیگرچند ممالک کے ساتھ 1950 کے تائیوان، چین تنازع کے فوری بعد چین کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا تاہم دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات 31 مئی 1951 میں قائم ہوئے۔ پاکستان نے چین کو اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمز کارکن بننے میں مدد فراہم کی اور اس کے اسلامی دنیا کے ساتھ روابط اورتعلقات کے فروغ کیلئے اہم خدمات انجام دیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962 کی چین بھارت سرحدی جنگ کے بعد پیداہوئی۔
1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی چین نے پاکستان کو بھرپور مدد فراہم کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادت رابطوں میں گہرائی پیدا ہوئی۔ 1970 میں پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر کے خفیہ دورۂ بیجنگ کے انتظامات کیے اور چین اورمغربی دنیا کے درمیان براہِ راست رابطوں کو ممکن بنایا جس کے نتیجے میں 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن چین کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے مغربی رہنما بنے۔ 1978 میں چین اور پاکستان کے درمیان پہلے اوراب تک کے واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہو گیا۔1980 کی دہائی میں افغانستان میں روسی افواج کے داخل ہونے کے بعد چین نے پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے خطے سے روسی انخلا کا مطالبہ کیا اورافغان جنگ کے پورے دورانیے میں چین بظاہر غیرجانبدار رہا۔
گزشتہ 27 برسوں میں چین اورپاکستان کے درمیان تعلقات اورتعاون میں کئی گنا اضافہ ہواہے اورکئی مشترکہ فوجی اوراقتصادی منصوبوں پرکام کیاجارہاہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں2001 میں الخالد ٹینک، 2007 میں لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر، 2008 میں ایف 22 پی فریگیٹ اورکے 8قرارقرم ایڈوانسڈ تربیتی طیاروں کی تیاری اور دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک شامل رہا۔ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرچکی ہیں۔دفاعی تعاون کے سمجھوتوں کی بدولت 2007 میں چین پاکستان کوہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان جوہر ی توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984 میں دستخط کئے گئے تھے جس کے بعد سے دونوں ممالک اس معاملے پرایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کرتے آرہے ہیں۔ 1999 میں چین کے تعاون سے چشمہ میں 300 میگا واٹ کا جوہری بجلی کاپلانٹ پایہ تکمیل کو پہنچا، اس سلسلے کاایک اورپراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اسی عرصے میں چین نے پاکستانی شہر خوشاب کے نزدیک واقع جوہری مرکز کی تعمیر میں بھی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
امریکا نے پاکستان کے ساتھ بھارت کی طرز پرسویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کامعاہدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا، جس کے بعد چین نے جوہری توانائی کیلئے دو پلانٹس کی تعمیر میں پاکستان کومدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہرکی، جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان کے خلائی پروگرام میں چینی ٹیکنالوجی اورتعاون کا بڑاعمل دخل ہے۔ 1990 میں پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ایک چینی اسٹیشن سے ہی خلا میں بھیجا گیاتھا، جس کے بعد سے باہمی تعاون کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھی دونوں ممالک میں کئی منصوبوں پرقریبی تعاون جاری ہے۔یہ قریبی تعاون اقتصادی میدان میں بھی جاری ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی اورمعاشی لحاظ سے اہم ترین بندرگاہ گوادر بھی چینی تعاون سے ہی تعمیر کی گئی۔ اس کا آغاز 2002 میں ہوا تھا اوراس پر 248 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جس میں چین نے 198 ملین ڈالرفراہم کئے، تعمیرکے تمام مراحل میں چین کی تکنیکی اورافرادی مدد شامل رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان2008 میں فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کئے گئے، جس کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگائے گا۔ دونوں ممالک کی جانب سے کسی بھی ملک کے ساتھ کیاجانے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ تھا۔ 2008 میں ہی دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے کے ساتھ ساتھ ریل روٹ بچھانے پربھی اتفاق کیا۔ ریل کے اس رابطے سے چینی مصنوعات کو براہِ راست گوادر پورٹ تک رسائی ملے گی۔ اس کے علاوہ چین اپنے صوبے سنکیانگ سے منسلک پاکستانی علاقے گلگت، بلتستان میں بھی ہائی ویز اور کئی دیگرپروجیکٹس کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بے شمار منصوبوں میں بھی بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کر رہاہے، جس کاحجم گزشتہ کچھ برسوں میں 13 ارب ڈالرز تک پہنچ گیاہے۔ ان اہم ترین پروجیکٹس میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاورپراجیکٹ، 500 ملین ڈالر کی مالیت سے قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈنگ اورپاک چین فرینڈ شپ سینٹر کی تعمیرشامل تھی۔ اس وقت بھی کئی چینی کمپنیاں پاکستان میں آئل اینڈ گیس ، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، پاور جنریشن، انجینئرنگ، آٹو موبائلز اور انفراسٹرکچر مائننگ کے شعبوں میں کام کررہی ہیں۔ان شعبوں کے علاوہ بھی کئی دیگر پراجیکٹس میں چین کی سرمایہ کاری جاری ہے۔اس کے علاوہ دونوں ممالک قدرتی آفات اوردیگرمشکل وقتوں میں بھی ایک دوسرے کاساتھ دیتے آئے ہیں۔
نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے فوری بعد چین کا دورہ کیا جہاں 5 جولائی 2013 کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے تاریخی مفاہمتی یادداشت پردستخط کئے گئے۔ اس طرح پاکستان اور چین کے وزراء اعظم کی موجودگی میں اقتصادی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہواجو کہ پورے خطے بھر میں تبدیلی لاسکتا ہے اورمشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور چین کے تقریباً تین ارب افراد کی زندگیوں میں ترقی و خوشحالی لا سکتا ہے۔چین کی بے لوث اورہمہ جہت امداد اورتعاون نے ثابت کیاہے کہ چین پاکستان کو خطے میںیا ایشیاء میں اکنامک ٹائیگر کی حیثیت میں دیکھناچاہتا ہے۔ حالیہ منصوبے اس دعوے کی دلیل ہیں۔ ان منصوبوں کا حجم اور سمت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب منصوبے پاکستان کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط تر کرنے کیلئے ہیں۔چین نے سفارتی سطح پر ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید کرے دوستی کا حق ادا کیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے