Voice of Asia News

کشمیری خواتین کے بال کاٹنے کے پراسرار واقعات ۔ مقبوضہ کشمیر بھر میں احتجاج

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند قائدین علی گیلانی ، میرواعظ اور یاسین ملک کی اپیل پر جمعہ کو مقبوضہ کشمیر بھر میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔راجپورہ پلوامہ میں دستی بم پھٹنے سے 2لڑکیاں زخمی ہو گئی ہیں جبکہ پلوامہ ضلع کی کئی دیہات کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بال کاٹنے کے مزید5واقعات پیش آئے ہیں ۔کشمیری خواتین کے بال کاٹنے کے پراسرار واقعات کے خلاف آزادی پسند قائدین علی گیلانی ، میرواعظ اور یاسین ملک نے جمعہ کے روز پر امن احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی جمعہ کے روز اس سلسلے میں درجن بھر علاقوں میں مظاہرے ہوئے بھارتی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا کئی افراد زخمی ہو گئے احتجاجی خواتین نے بڈشاہ چوک دھرنا دیا،جس کی وجہ سے کچھ وقفہ کیلئے ٹرانسپورت کے نقل و حمل میں خلل پڑ ا۔ بنہ گام نوگام میں لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے جلوس برآمد کیا۔ مظاہر ین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے۔ بینروں پربال تراشی کو بند کرؤکی تحریر درج تھی۔مظاہرین نے نوگام روڑ پر بھی دھرنا دیا،جس کی وجہ سے کچھ وقفے کیلئے اس شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل بند ہوئی۔ کشمیر یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی میں احتجاج کیا اور نعرہ بازی کی۔ اسکے علاوہ مائسمہ، بٹہ مالو،رعناواری،پالہ پورہ نور باغ،نوگام،عیدگاہ ،بژھ پور ہ اورپریس کالونی کے علاوہ گاندربل سمیت کئی جگہوں پرمظاہرے کئے گئے۔ بٹہ مالو میں سنگباری اور شلنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے۔اس دوران وادی میں تعلیمی ادارے درس و تدریس کیلئے مقفل رہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ جمعرات کو یونیورسٹی احاطے میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے احتجاجی مارچ کیا ،تاہم وہ جامع کشمیر کے احاطے سے باہر نہیں آئے۔ پولیس نے پہلے ہی تمام مرکزی در وازوں کو سیل کردیا تھا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اگر چہ جمعرات کو یونیورسٹی میں درس و تدریس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا،تاہم یونیورسٹی کے ایم اے بائز ہوسٹل،حبہ خاتون گرلز ہوسٹل،رابعہ بصری گرلز ہوسٹل،قرت العین گرلز ہوسٹل اور غنی کشمیری اسکالرز ہوسٹل میں زیر رہائش طلبہ نے احاطے میں جمع ہوکر احتجاج کیا۔ طلبہ نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے راجپورہ پلوامہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے بیوٹی پارلر پر گرنیڈ داغا جو زور دار دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 2لڑکیاں زخمی ہو گئی ہیں۔ بھارتی فورسز نے راجپورہ کے آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا ہے دریں اثنا مرہامہ اننت ناگ میں نامعلوم افراد نے جموں وکشمیر بینک برانچ پر دھاوا بول کر ملازمین کویرغمال بنایا اور اس دوران 5لاکھ روپیہ لوٹ کر فرار ہوئے ۔جنوبی کشمیر کے زاسو پلوامہ میں دوران شب اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب فوج نے گاوں کا محاصرہ کر نے کے دوران پتھرا ؤ کے جواب میں فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹائر گیس اورسانڈ شلوں کا بے تحاشہ استعمال کیا فوج نے مارپیٹ اور توڑ پھوڑ کے علاوہ درجنوں مکانوں کے شیشے چکنا چور کئے اور لاکھوں روپے مالیت کی اشیا کو تہس نہس کیا گیا۔ جونہی فوج نے علاقے میں تلاشی کاروائی کا آغاز کیا تو لوگ گھروں سے باہر آئے اور آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جس دوران لوگوں نے فوج پر پتھر برسانے شروع کئے۔ فوج نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ٹائر گیس کے گولے داغے جبکہ سانڈ شلوں کا استعمال بھی عمل میں لایا گیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فوج نے بلاجواز عمرو جنس لوگوں کی مارپیٹ کی اور مکانوں کی توڑ پھوڈ عمل میں لاکر درجنوں مکانوں کے شیشے چکنا چور کئے گئے جبکہ لاکھوں روپے مالیت کی اشیا کو تہس نہس کیا گیا۔ادھر اجس بانڈی پورہ اورکرالہ ہار بارہمولہ میں کریک ڈاؤن کے دوران گھر گھر تلاشی عمل میں لائی گئی۔بارہمولہ میں تیز رفتار موبائیل انٹرنیٹ سہولیات گزشتہ ایک ہفتے سے معطل رہنے سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔جموں و کشمیرپیپلز لیگ کے بزرگ و علیل چیئرمین غلام محمد خان سوپوری سمیت6 حریت پسند رہنماوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے ان6 رہنماوں محمد شعبان خان سوپور، غلام محمد خان سوپوری، معراج الدین نائیکو سیلو سوپور، یاور مظفر احمد سوپور، بشیر احمد براٹھ سوپور، ارشاد احمد تیلی، غلام نبی گوجری اور مولوی بشیر احمد پر پر مسلسل تیسری بار پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ہے اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ایک سال تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے ۔ غلام محمد خان سوپوری کو بیماری کی حالت میں تھانہ سوپور سے کٹھوعہ جیل اور، معراج الدین نائیکو سیلو سوپور، یاور مظفر احمد سوپور، بشیر احمد براٹھ سوپور، ارشاد احمد تیلی، غلام نبی گوجری اور مولوی بشیر احمد جموں امپھلا جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حریت کانفرنس کے رہنما نعیم احمد خان کی اہلیہ پروفیسر حمیدہ نعیم کو گھر پر نظر بند کر دیا گیاسانبورہ پانپور میں ایک شخص کی نعش پراسرار حالت میں برآمد ہوئی ہے اسکی شناخت منظور احمد ڈار ولد عبدالرحمان کے بطور ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ وہ3روز سے لاپتہ تھا پروفیسر حمیدہ نعیم نے پر تاپ پارک سرینگر میں احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے