Voice of Asia News

بال کاٹنے کے واقعات کے خلاف طلبہ نے یونیورسٹی میں احتجاج

سری نگر(وائس آف ایشیا) کشمیری خواتین کے بال کاٹنے کے واقعات کے خلاف طلبہ نے کشمیر یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی میں احتجاج کیا اور نعرہ بازی کی۔ اسکے علاوہ مائسمہ، بٹہ مالو،رعناواری،پالہ پورہ نور باغ،نوگام،عیدگاہ ،بژھ پور ہ اورپریس کالونی کے علاوہ گاندربل سمیت کئی جگہوں پرمظاہرے کئے گئے۔ بٹہ مالو میں سنگباری اور شلنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے۔اس دوران وادی میں تعلیمی ادارے درس و تدریس کیلئے مقفل رہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ یونیورسٹی احاطے میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے احتجاجی مارچ کیا ،تاہم وہ جامع کشمیر کے احاطے سے باہر نہیں آئے۔ پولیس نے پہلے ہی تمام مرکزی در وازوں کو سیل کردیا تھا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اگر چہ یونیورسٹی میں درس و تدریس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا،تاہم یونیورسٹی کے ایم اے بائز ہوسٹل،حبہ خاتون گرلز ہوسٹل،رابعہ بصری گرلز ہوسٹل،قرت العین گرلز ہوسٹل اور غنی کشمیری اسکالرز ہوسٹل میں زیر رہائش طلبہ نے احاطے میں جمع ہوکر احتجاج کیا۔ طلبہ نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔ احتجاجی طلبہ نے مانگ کی کہ فوری طور پر شر انگیز سر گرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ادھر نوگام میں قائم سینٹرل یونیورسٹی کیمپس میں بھی زیر تعلیم طلبہ جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔احتجاجی طلبا نے نعرہ بازی بھی کی، انہوں نے بھی بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے۔مومن آ باد بٹہ مالو علاقے میں اس وقت بازار بند ہوئے،جب علاقے میں خاتون کی چوٹی کاٹنے کے تازہ واقعہ کے خلاف لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملوث افراد کو بچانے کا الزام عائد کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے نعرہ بازی کرتے ہوئے جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی۔اس موقعہ پر مظاہرین اور فورسز اہلکاروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں،جس کے دوران شلنگ اور سنگباری کے واقعات بھی پیش آئے۔علاقے میں تناؤ کی سی صورتحال دن بھر جاری رہی۔مائسمہ میں بھی خواتین نے مبینہ بال تراشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔احتجاجی خواتین بڈشاہ چوک تک پہنچ گئیں اور دھرنا دیا،جس کی وجہ سے کچھ وقفہ کیلئے ٹرانسپورت کے نقل و حمل میں خلل پڑ ا۔ بنہ گام نوگام میں لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے جلوس برآمد کیا۔ مظاہر ین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے۔ بینروں پربال تراشی کو بند کرؤکی تحریر درج تھی۔مظاہرین نے نوگام روڑ پر بھی دھرنا دیا،جس کی وجہ سے کچھ وقفے کیلئے اس شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل بند ہوئی۔ ادھر وانگن پورہ عید گاہ میں بھی مبینہ طور پر ایک خاتون کی مبینہ چوٹی کاٹنے کے خلاف لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی، جبکہ ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔پالہ پورہ عید گاہ میں بھی ایک لڑکی کی مبینہ گیسو تراشی کے خلاف لوگ سڑکوں پر آئے اور احتجاج کرتے ہوئے نعرے بلند کئے۔ سعدہ پورہ رعناواری میں بھی خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی اور دھرنا دیکر گاڑیوں کی نقل و حمل روک دی،تاہم بعد میں وہ پرامن طور پر منتشر ہوئیں۔ مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دوران شب نامعلوم افراد نے انکے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے کھٹکھٹائے اور اہل بستی کو خوف میں مبتلا کیا۔عمر ہیر بژھ پورہ میں کسی خاتون کی چوٹی کاٹے جانے کی افواہ پھیلتے ہی مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق عثمان آباد عمرہیر میں لوگوں نے موٹر سائیکل پر سوارتین افرادمشتبہ حالت میں گھومتے پھرتے پایا۔ جب لوگوں نے ان سے پوچھ تاچھ کرنے کی کوشش کی تو وہ کسی طرح رفو چکر ہوگئے۔ اس کے بعد یہاں افواہ پھیل گئی کہ کسی خاتون کی چوٹی کاٹی گئی ہے۔ اس پر مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے