Voice of Asia News

کچھ سیاستدان اور لوگ ایسا ماحول بنا تے ہیں پاکستان غیرمستحکم ہو، طلال چوہدری

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) وزیر مملکت برائے داخلہ محمد طلال چوہدری نے کہا ہے کہ صرف سیاستدانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام اداروں اور تمام ذمہ داروں کو دیکھنا ہے کہ ایسا کام نہ کریں جس سے پاکستان کا نقصان ہو، ہمارے کچھ سیاستدان اور اسی طرح کچھ اور لوگ ایسا ماحول بناتے ہیں کہ پاکستان غیرمستحکم ہو اور وہ آج کچھ حد تک کامیاب ہوئے ہیں، پاکستان کی معیشت جو ابھر رہی تھی وہ ڈوب کیوں رہی ہے، اس کی صرف ایک وجہ ہے، نواز شریف کی نااہلی، ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری عدالت کا احترام ہے، پولیس اور وکلاء کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ عدالت کے احاطہ سے بھی باہر سڑک پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹ پر پیش آیا، یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا، واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں اور وکلاء کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ عدالت کے احاطہ سے باہر سڑک پر پیش آیا۔ سکیورٹی عدالت کے لئے ہی سڑک پر لگائی گئی تھی۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ قابل احترام عدالت ہے۔ ہمیں عدالت کے احترام اور کارروائی کو مناسب طریقے سے چلانے کے حوالے سے سکیورٹی کے اور دوسرے انتظامات کرنا پڑتے ہیں اور وہ انتظامات ہمیشہ کئے جاتے ہیں۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پہلی تاریخ پر میڈیا کے ایک بھائی کے ساتھ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد ہم میڈیا کے دوستوں کے ساتھ بیٹھے۔ میڈیا نے عدالت اور انتظامیہ سے مل کر جو ایس او پی بنایا اس پر عمل کیا۔ فیصلہ کے مطابق میڈیا کے کچھ رپورٹرز عدالت میں جاتے ہیں، باقی تمام لوگ عدالت کے احاطہ میں رہتے ہیں مگر عدالت کے اندر نہیں جاتے۔ عدالت میں 32 سے 35 افراد کی جگہ ہے۔ وہاں پر پراسیکیوشن کی ٹیم نے آنا ہے اور وکلاء نے آنا ہے اور میڈیا کے بھائیوں نے بھی بیٹھنا ہے۔ آج کا واقعہ افسوسناک ہے یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ واقعہ رش ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ ہم وکلاء اور بار کے ساتھ بیٹھیں گے اور ایک طریقہ کار بنائینگے کہ آئندہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ وکلاء اندر بھی جائیں اور کارروائی بھی چلتی رہے۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری عدالت کا احترام اور اس کی کارروائی ہے۔ اس کے بعد وکیل اور صحافی اہم ہیں۔ ہمیں سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس بات کو ضروری بنانا ہے کہ عدالت کی کارروائی میں کوئی خلل نہ پڑے۔ آج کے واقعہ کی مذمت بھی کی گئی ہے اور اس کی تحقیق بھی کر رہے ہیں اور عدالت نے بھی اس کی تحقیق کا حکم دیا ہے۔ آج کے واقعہ میں کوئی سیاسی رہنما یا کارکن ملوث نہیں تھا۔ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر عدالت سے بہت باہر ہوا ہے۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے مجھ سے کوئی رپورٹ نہیں مانگی، وہ قابل عزت ہیں۔ اس واقعہ پر مریم نواز کو بھی افسوس ہوا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور کہا ہے کہ وزارت داخلہ معاملہ کو دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور مرد کارکنوں کا احترام ہماری قیادت اگر نہ کرتی تو اتنی بڑی پارٹی کیسے بنتی۔ لاکھوں اور کروڑوں ووٹ کیسے ملتے۔ ہمیں کارکنوں کا احترام کرنا بھی آتا ہے۔ انہیں جگہ دینا بھی آتا ہے اور میرے جیسے کئی کارکن صرف کارکن اسمبلی ہی نہیں بلکہ وزیر بن کر سامنے کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سماعت کے موقع پر کارکن خود آتے ہیں۔ کارکن سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں میں بھی سماعت کے موقع پر آتے ہیں۔ ہمارے 10 سے 15 رہنما عدالت جاتے ہیں اور ان کا نام بھی لسٹ دے کر کلیہر کروایا جاتا ہے۔ ہمیں حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کرنی چاہئے۔ ورنہ حقیقت ایک نہیں تو دوسرے دن سامنے آ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل واویلا ہے کہ پاکستان کی معیشت بیٹھ رہی ہے۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج گر رہی ہے۔ پاکستان معیشت جو ابھر رہی تھی وہ ڈوب کیوں رہی ہے۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے نوازشریف کی نااہلی، یہ نااہلی کیسے ہوئی۔ ہم تو بار بار کہتے تھے کہ یہ سازش ہو گی اور سازش کے اثرات اب سامنے نظر آ رہے ہیں۔ اب لوگ پریشان ہیں سی پیک خطرے میں لگ رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ ڈوب رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت پر اثرات آ رہے ہیں۔ یہ اثرات آنے تھے۔ یہ فیصلہ کیوں ہوا؟ کیوں ایسا ماحول بنایا گیا کہ جس سے پاکستان غیرمستحکم ہو اور غیرمستحکم ہم نے خود کیا ہے۔ پاکستان میں استحکام رکھنا اداروں اور سیاستدانوں کی زمہ داری ہے۔ ہمارے کچھ سیاستدان اور اسی طرح کچھ اور لوگ ایسا ماحول بناتے ہیں کہ پاکستان غیرمستحکم ہو اور وہ آج کچھ حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ادارے اپنا کام کریں ادارے اس بات کا احساس کریں اور ایسا ماحول پاکستان میں نہیں بننا چاہئے جس سے پاکستان کی معیشت، استحکام اور مستقبل پر کوئی آنچ آئے۔ آج یہ سوالات صرف اس وجہ سے اٹھے ہیں کہ اچھے بھلے وہ پاکستان جو ابھر رہا تھا وہ پاکستان جو اندھیروں سے اجالوں کی طرف جا رہا تھا وہ پاکستان جہاں کوئی ایک روپیہ نہیں لگاتا تھا، کروڑوں اربوں ڈالر سی پیک میں لگ رہے تھے۔ وہ پاکستان جس کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین سٹاک ایکسچینج تھی۔ آج لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔ آج عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر اثرات آ رہے ہیں۔ ہمیں صرف سیاستدانوں کو نہیں تمام اداروں کو بھی اور تمام ذمہ داروں کو بھی یہ دیکھنا ہے کہ ایسا کام نہ کریں جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے