Voice of Asia News

سانحہ کوئٹہ سول ہسپتال کا مبینہ سہولت کار پولیس مقابلے میں ہلاک

کوئٹہ(وائس آف ایشیا) کوئٹہ پولیس نے سانحہ سول ہسپتال کے سہولت کار دہشت گرد کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔گزشتہ سال 8 دسمبر کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں بم دھماکے سے 73 افراد جاں بحق اور 65 زخمی ہوئے جن میں بڑی تعداد وکلا کی تھی۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) کے مطابق گزشتہ رات کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ پر دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا جس میں پولیس کی فائرنگ سے ایک دہشت گرد مارا گیا جس کی شناخت اسفندیار کے نام سے ہوئی اور یہ دہشت گرد سانحہ سول ہسپتال کا سہولت کار تھا۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کارروائی میں دہشت گرد کے ایک ساتھی کو بھی گرفتار کرلیا گیا جس کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری پولیس اورسکیورٹی فورسزکی بہادری اورجرات کی مثال نہیں ملتی، دہشت گردی کی جنگ میں سیکیورٹی فورسزکی قربانیاں لازوال ہیں، صوبے میں دہشت گردوں کو ٹکنے نہیں دیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ سانحہ سول ہسپتال کا ماسٹر مائنڈ اپنے چار ساتھیوں سمیت پشین میں فورسز کی کارروائی کے دوران مارا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے