کشمیر سے متعلق آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھڑ چھاڑتباہ کن ہو گی ،مزاحمتی قیادت

سرینگر (وائس آف ایشیا ) مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک نے عمر عبداللہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35A میں بھارتی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی مداخلت ،چھیڑ چھاڑ یا اسے ختم کئے جانے سے متعلق عزائم ہمارے لئے انتہائی فکر مندی کا باعث ہیں ،کیونکہ اس کی آڑ میں متنازعہ ریاست کے سلسلے میں اقوم متحدہ کی جانب سے رائے شماری کرائے جانے کے عمل کو متاثر کرنے اورریاست کی آبادیاتی تشخص اور اس کے مسلم اکثریتی شناخت کو زک پہنچنے کا شدید احتمال ہے۔ قیادت نے عمر عبداللہ کے اس بیان کی شدید نکتہ چینی کی ،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آزادی پسند قیادت کو دفعہ 35A کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔ مشترکہ قیادت نے واضح کیاکہ 35Aمیں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی گئی یا اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو گزشتہ70سال پر محیط ریاستی عوام کی جدوجہدآزادی اور اس سلسلے میں دی قربانیاں رائیگاں جانے کا شدید احتمال ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس حصول اقتدار کی خاطر گرگٹ کی طرح اپنے رنگ بدلتی رہی ہے۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ کبھی یہ لوگ اٹانومی کا راگ الاپتے ہیں اور کبھی 1953سے قبل کی پوزیشن کے لئے آسمان سر پہ اٹھاتے ہیں اور کبھی مستی میںآکر حق خودارادیت کا نعرہ بھی بلند کرتے ہیں ۔ مشترکہ قیادت نے کہاکہ جموں کشمیر کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اقتدار کے ایوان پر قبضہ جمانے کے لئے یہ لوگ کسی بھی حد کو پار کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے 1938میں مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرکے جموں کشمیر میں تاریخ کے دھارے کا رخ ہی بدل دیا اور اسے13جولائی1931کے خونِ شہدا سے غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے کا مقصد بھارتی نیشنل کانگریس سے قربت اور اقتدار حاصل کرنا تھا ۔نیشنل کانفرنس کے اس فیصلے کے نتیجے میں گزشتہ85سال سے ریاستی عوام تلخ اور جانگسل حالات کا سامناکر رہے ہیں اور بالخصوص ہماری نوجوان نسل کوبھارتی فوج کے ذریعے بڑی بے دردی اور بے رحمی سے تہہ تیغ کیا جارہا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے 1948میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل میں ان کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے میں منظور کی گئی کئی قرادادوں کے نتیجے میں جب اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بین الاقومی برادی سے وعدہ کرتے ہوئے ریاست میں رائے شماری کرائے جانے کا وعدہ کیا تومرحوم شیخ صاحب ہی تھے جنھوں نے اس مطالبے کی مخالفت کی تھی۔ مزاحمتی قیادت نے مرحوم شیخ عبداللہ کی کی کتاب ” آتش چنار”کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی جموں کشمیر میں فوج بھیجنے پر راضی نہ تھے لیکن شیخ محمد عبداللہ نے انہیں بھارت کے” سیکولر روایات کو بچانے” کے لئے اصرار کرکے راضی کرلیا ۔انہوں نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ نے عوامی نمائندہ کی حیثیت سے اس وقت کے مہاراجہ کو جموں کشمیر کی ریاست کو بھارت کے سپرد کرنے کے لئے دباؤ ڈالااور اس بات کا ذکر خود مرحوم نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے ۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مزاحمتی قیادت نے کہا کہ جب اقوام متحدہ نے سر اون ڈکسن کو متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں رائے شماری کے عمل کو عملانے کے سلسلے میں ایک نمائندہ کی حیثیت سے جائزہ لینے کے لئے تعینات کیا تویہ مرحوم شیخ محمدعبداللہ ہی تھے جنھوں نے 27اکتوبر1950 کو بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو آئینی جواز بخشنے کے لئے آئین ساز اسمبلی کو تشکیل دئے جانے کا فیصلہ لیا ۔ مزاحمتی قیادت نے عمر عبداللہ کو تاریخ کے حوالے سے یاد دلایا کہ تحریک آزادی کشمیر کو اس وقت ایک اورشدید دھچکہ پہنچا جب شیخ محمد عبداللہ نے قوم کو سرنگوں کیااورعوامی قربانیوں اور لوگوں کے جذبات کا خون کرکے 1975 میں اندرا عبداللہ ایکارڑ کے تحت رائے شماری کے مطالبے کو ترک کیا اور اپنے اقتدار کے لئے راہ ہموار کی ۔ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ انہیں دوسروں کے لئے پند و نصائح کا پٹارا کھولنے کے بجائے اورعوامی قربانیوں کے پیش نظر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے اور اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ عوام کو اس مصیبت اور مصائب کے طوفان سے کیسے نکال پائیں جن کا سامنا وہ صرف نیشنل کانفرنس کی تاریخی غلطیوں کی وجہ سے کررہے ہیں۔ مزاحمتی قائدین نے محبوبہ مفتی کے اس بیان کہ مذہبی رواداری صرف جموں میں ہی موجود ہے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ مذہبی رواداری کو قائم رکھا ہے اور آئندہ بھی قائم رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ موصوفہ کو صرف اپنی کرسی اقتدار کی فکر ہے، اسے جموں کشمیر میں ہورہا ظلم وجبر دکھائی نہیں دے رہا ہے اور ناہی اسے کشمیریوں کے جینے مرنے سے کوئی فرق پڑرہا ہے۔ قائدین نے محبوبہ مفتی کو یاد دلاتے ہوئے واضح کیا کہ جب پورا برصغیر تقسیم ہند کے گہرے زخموں سے چور چور تھا بلکہ جموں میں بلوائیوں اور ہندوانتہا پسندوں نے ایک ہی دن 5لاکھ مسلمانوں کو ذبح کیا۔ لیکن ہمارے دین، ہمارے مذہب، ہمارے ملی اقدار اور معاشرتی بندھنوں نے صبر کا پیمانہ چھلکنے نہیں دیا۔ قیادت نے کہا کہ اس وقت بھی جموں میں تمام اقلیتوں کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص ستایا اور خوف ہراس کا شکار بنایا جاتا ہے اور انہیں 47 دہرانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کو دبانے کے لیے ہتھیار بند ریلیاں نکال کر انہیں خوفزہ کررہی ہیں، جبکہ کشمیر میں اس وقت بھی ہماری صدیوں پرانی روایات برقرار ہیں۔