Voice of Asia News

بستر پر پیشاب کا نکل جانا

لاہور(وائس آف ایشیا)بستر پر پیشاب نکل جانےکا مطلب کیا ہے۔آپ کا بچہ رات کو اپنے پیشاب پر کنٹرول نہیں کر پاتا اور بستر پر پیشاب نکل جاتا ھے۔بچے کو اس بات کو سمجھنے میں مسلہ ھوتا ھے کہ دن کے وقت بھی اسے یہ احساس کرنے میں مشکل پیش آتی ھے کہ مثانہ بھرا ھوا ھے اور بغیر کسی وجہ کے دن کا خیال کیے بغیر پیشاب نکل جاتا ھے۔ دن کے وقت پیشاب نکل جانے کو ڈورنال اینوریسیس کہتے ہہیں۔ یہ دونوں مختلف قسم کی صورت حال ھے۔چھوٹے بچوں میں پیشاب کا نکل جانا ایک عام بات ھے۔ یھ پانث سال کی عمر تک کے10 بچوں میں سے ایک کو ہوتا ہے اور 15 سال کی عمر تک کے نوجوان بچون میں کم ھو کر تعداد00 1 میں2 کی رہ جاتی ھے۔ غیر ارادی طور پررات میں پیشاب کا نکلنا بچے کے بڑھنے کا ایک عام عمل ھے۔ اسے آپ پاٹی ٹریننگ کی ناکامی نہ سمجھیں۔ ھر بچہ اپنے مثانے پر کنٹرول کا مختلف پیمانہ رکھتا ھے۔ 3 سال کی عمر تک بہت کم بچے ھوتے ھیں جن کا بستر خشک رھتا ھے۔ زیادہ تر بچے 3 سے 8 سال کی عّمرسے بستر کو خشک رکھنا شروع کر دیتے ھیں۔ جب تک آپ کا بچہ اس منزل تک نہ پہنچ جائے آپ کو بڑے صبرو تحمل کا مظاھرہ کرنا ھو گا اور بچے کا حوصلہ بڑھانا ھو گا

وجوہات

زیادہ تر آپکے بچے کا پیشاب اس وقت نکلتا ھے جب وہ گہری نیند سو رھا ھوتا ھے اور اٹھنا نہیں چاھتا۔ یہ چیز زیادہ تر مورثی ھوتی ھے اگر آپ بچپن میں بستر گیلا کرتے تھے تو بہت ممکن ھے کہ آپ کا بچہ بھی کرے گا بہت کم معاملات میں ایسا ھوتا ھے کہ اسکی وجہ ٹائپ 1 ذیابیطس ھوتی ھے یا پھر پیشاب کی نالی میں نقص ھو سکتی ھے، لیکن اس سے صرف رات کو بستر ھی گیلا نہیں ھوتا اس کی علامات دن تک محیط ھوتی ھیں۔ اگر دن میں کوئی علامات ظاھر نہیں ھوتیں تو اس کا مطلب ھے کہ آپ کا بچہ بالکل تندرست ھےجذباتی ھونا یا پھر مضطرب رھنا، نئے گھر میں شفٹ ھونا یا بہن بھائیوں کے ساتھ برتاؤ ، بچے کی خوداری کا مجروح ھونا، یہ ردعمل بچے میں پیدا ھو سکتا ھے اگر بچے کا علاج یہ سمجھ کر کیا جائے کہ یہ اس کا مسلہ ھے۔ جبکہ یہ مسلہ صرف لانڈری دھونے کا ھے

ڈاکٹر سے رابطہ کب ضروری ہے ؟

اگر بچہ 6 سال کی عمر کے بعد بھی بستر گیلا کرتا ھے تو ڈاکٹر سے ملاقات کا ٹائیم لیکر اس سے ملنا ضروری ھےاگر 6 مہینے کے خشک وقفے کے بعداچانک بچہ بستر گیلا کرنا شروع دیتا ھے تو ڈاکٹر سے ملنا ضروری ھو جاتا ھے

علاج اور ادویات

دن کے وقت پیشاب نکلنے کی وجھ اگر ڈاکٹر کو کوئی جسمانی بیماری لگتی ھے تو ڈاکٹر کوئی دوا تجویز کر سکتا ھے جیسے کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے لئے ایٹی بائیوٹکس دی جا سکتی ھیں۔ٴرات کے وقت پیشاب کے اخراج کو روکنے کے لئے ڈاکٹر ھارمون کی دوا جسے ڈیسموپریسن کہتے ھیں تجویز کر سکتا ھے جو صرف سوتے وقت کام آتی ھے

رات کے وقت پیشاب کے اخراج میں بچے کی کیسے مد د کی جائے

آپ کے بچے کو ضرورت ھے کہ آپ اسے سمجھیں اور اسکی ھمت بڑھائیں۔اسکی خشک راتوں کی تعریف کرنا مزید کام نیہں کرے گا۔ کیونکہ بچے کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ھوتا ھے کہ رات کو بستر گیلا کرنے میں کوئی شرم نہیں ھے جب کہ خشک راتوں کی تعریف کی جائے۔ بچے کو پیار سے یہ یاد دلایا جا سکتا ھے کہ سونے سے پہلے پیشاب کرے۔ لیکن رات کو  نیند سے اٹھا کر پیشاب کرانا زیادہ تکلیف کا باعث ھو سکتا ھے۔ زیادہ تر بچے بغیر علاج کے ھی بستر پر پیشاب کرنا بند کر دیتے ھیں

اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے بچے کی ھمت بندھائیں

آپ متواتر بچے کے بستر کی چادریں دھو دھو کر تنگ آ چکی ھوں گی لیکن بچے کو سزا دینے اور بے عزت کرنے کی بجائے اسے یقین دلائین کہ یہ ھرگز اس کی غلطی نہیں ھے اور وقت کے ساتھ سب ٹھیک ھو جائے گاخاندان کے دوسرے لوگ بھی اس صورت حال پر پریشان ھوں گے لیکن اپنے بچے کو انکے مذاق اور چھیڑ چھاڑ کا نشانہ نہ بننے دیں

اپنے بچے کی مد د کے لئے عام فہم نکات

اپنے بچے کو آدھی رات کو باتھ روم میں جانے کی یاد دھانی کرائیں

خیال رھے کہ باتھ روم میں جانے والا راستہ صاف ھو

سونے سے پہلے باتھ روم میں جانے کے لئے بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔ دوسری صورت میں سونے سے کچھ دیر پہلے باتھ روم میں جانے کا کہیں اور پھر سوتے وقت کہیں

میٹرس پر پلاسٹک کور ڈال دیں

صبح کے وقت جب آپ صفائی کریں تو اس میں بچے کی عزت نفس کا خیال کرتے ھوئے اسے اپنے ساتھ صفائی میں شامل کریں

کلیدی نکات

چھوٹے بچوں میں بستر کو گیلا کرنا ایک عام بات ھے

مثانے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ھر بجے مین مختلف ھوتی ھے

اگر بچہ 6 سال کی عمر کے بعد بھی رات یا دن میں بستر گیلا کرتا ھے تو ڈاکٹر سے ملاقات کا ٹائیم لیکر اس سے ملنا ضروری ھے

علاج میں بچے کی خود اعتمادی کی بحالی بار بار باتھ روم جانے کا یاد کرانا شامل ھے

بچے کو سزا دینے اور بے عزت کرنے سے بچے کے مثانے پر کنٹرول کرنے میں اضافہ نہیں ھو سکتا

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے