Voice of Asia News

پستہ موسم سرما کا خاص تحفہ:تحریر: جمال احمد

خشک میوے اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ موسم سرما میں میوہ جات کا استعمال بڑی رغبت سے کیا جاتا ہے انسان زمانہ قدیم ہی سے ان کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ میوے مہنگائی کے باعث عام آدمی کی دسترس میں نہیں ہیں تاہم اس کے باوجود ہر شخص موسم سرما میں اپنی حیثیت کے مطابق ان کا استعمال کرتا ہے۔ ان میوہ جات کی افادیت آج بھی قائم ہے۔ خشک میوہ جات میں اخروٹ، بادام، کاجو اور پستہ بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ان کا عام استعمال اب امیروں تک محدود ہے البتہ کھانے پکانے خاص کر میٹھی ڈشوں میں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں پیداواری لحاظ سے سستے ہونے کے باعث بڑے ذوق شوق سے کھائے جاتے ہیں سردیوں ے موسم میں نمک لگے ہوئے پستے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اگرچہ منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کی غرض سے استعمال کیے جاتے ہیں تاہم ان کی غذائی و دوائی افادیت بھی بہت زیادہ ہے۔ پستے میں حیاتین پائی جاتی ہے اس ے علاوہ کیلسئم اور پوٹاشیم بھی اچھی خاصی مقدار میں ہوتے ہیں پستے کو خوش ذائقہ ہونے کے باعث مٹھائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ طب مشرقی کے مطابق یہ حرارت غریزی پیدا کرتا ہے۔ اعضائے ریئسہ (دل، جگر اور دماغ) اور معدے کے لیے مفید رہے اس کا مصلح (ضرر سے بچانے والا) نمک ہے یہی وجہ ہے کہ موسم میں نمک لگا پستہ کھایا جاتا ہے اس سے منہ کا ذائقہ ہی نہیں بدلتا، بلکہ یہ کھانے میں بہت مزیدار ہو جاتا ہے، حافظے اور دماغ کو طاقت دیتا ہے جسم کو فربہ کرتا ہے، معدے اور گردوں کو تقویت بخشتاہے جسمانی قوت کو بڑھاتا ہے، جگر کے سدوں کو کھولتا ہے اور خون کو صاف کرتا ہے، کھانسی میں مفید ہے بلغم کے فساد کو دور کرتا ہے اس کا استعمال حد اعتدال میں ہی مناسب ہے وگر نہ خون گرم ہو کر پتی اچھل جاتی ہے جس میں جسم پر خارش ہو کر ووڑے پڑ جاتے ہیں۔ 100گرام پستے میں 594 حرارے (کیلوریز) ہوتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ماہرین طب و صحت کا کہنا ہے کہ اگر پستہ آپ کی غذا کا حصہ ہے تو یہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ خون کے تھکے ختم کرتا ہے اور شریانوں کے سکڑنے اور تنگ ہونے کے عمل کو بھی روکتا ہے ماہرین نے اپنی تحقیقات میں بتایا ہے کہ مٹھی بھر پستے کھانے سے امراض قلب کے خطرے سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے، ماہرین نے ایک گروپ کو روزانہ تین اونس پستے کھلائے تو ایک ماہ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے مجموعی کولیسٹرول میں 8,4 فیصد کمی واقع ہوگئی جبکہ مضر صحت کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) 11,6 فیصد کم ہو گیا صرف یہی نہیں بلکہ مضر صحت کولیسٹرول مفید صحت کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) میں تبدیل ہو گیا۔ جن غذاؤں میں پستہ شامل کیا جاتا ہے ان غذاؤں کے استعمال کرنے والوں میں مفید صحت کولیسٹرول کے مقابلے میں مضر صحت کولیسٹرول کی مقدا ر کم رہتی ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ میوہ انسانی جسم کو امراض سے بچانے میں معاون ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ماہرین طب و صحت نے سلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں جو تحقیق کی اس کے مطابق آغاز میں شرکا کو اوسط درجے کی غذائیں کھلائی گئی جن میں 35 فیصد غذائیں مکمل طور پر چکنائی اور گیارہ فیصد سیر شدہ چکنائی پر مشتمل تھیں دو ہفتوں تک یہ غذائیں کھلائی گئیں اس کے بعد غذا میں تبدیلی کرتے ہوئے تین مختلف طریقے آزمائے گئے اور ان شرکاء کو ایسی غذائیں فراہم کی گئیں جو کولیسٹرول کی سطح میں کمی کرنے کے ساتھ ہی کسی حد تک کم چکنائی پر مشتمل تھیں۔ ایک غذا میں پستے کی آمیزش نہ تھی دوسری غذا میں ڈیڑھ اونس پستے تھے جبکہ تیسری غذا میں تین اونس پستے شامل تھے ان تینوں غذائی طریقوں میں سے دو طریقہ غذا جس میں تین اونس پستے شامل تھے فائدے مند ثابت ہوئی، یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ پستے میں بہت بڑی مقدار میں مائع تکسید اجزاء پائے جاتے ہیں جو عام طور پر گہری سبز پتوں والی سبزیوں میں ہوتے ہیں۔
jamalahmad50000@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے