Voice of Asia News

ما حولیاتی آلودگی کے سبب ٹوٹتے گلیشئر پوری دُنیا کیلئے خطرہ بن گئے: محمدقیصرچوہان

گلوبلائزیشن کے اس دور میں انسان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی بے پناہ ترقی ، مختلف النوع ایجادات، گونا گوں تحقیقات سے اپنے طرز زندگی کو بہت بہتر اور آسان بنا دیا ہے لیکن معیار زندگی کو بہتر بنانے کی ان کاوشوں کے قدرتی ماحول پر بہت بھیانک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ماحول کے آلودہ ہونے کا منطقی نتیجہ مختلف خوفناک بیماریوں اور گلوبل وارمنگ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ہماری صحت ہمارے ماحول سے بے حد تک وابستہ ہے۔ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں اس میں انسان، جانور، موسمی حالات، چرند پرندے، پودے اور درخت، ہوا، پانی، سورج، بادل، کھیت اور کھلیان ، دریا اور نہریں سب کچھ شامل ہے۔ اگر تھوڑی دیر ماحول کو فراموش کرنے کی کوشش کریں تو یہ بیکار ہو گا کیونکہ ماحول ایک دائمی چیز ہے۔ گھر کا ماحول، باہر کا ماحول، سکول کا ماحول، آفس کا ماحول غرض کہ ماحول سے ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔ آج ہماری فضا پانی اور زمین میں کیمیائی مادوں اور نقصان دہ عناصر کی آمیزش خطرناک حد تک ہو چکی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کی بہت سی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ صنعتکاری کا فروغ، جنگلات کا خاتمہ، غذائی اجناس کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لئے کھاد میں کیڑے مار ادویات اور اسپرے کا استعمال، لاکھوں من الیکٹرانک کوڑا، جس میں کمپیوٹرز، مانیٹرز، کی بورڈ، موبائل فونز اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔
فضائی آلودگی جب بڑھتے بڑھتے اس نہج تک پہنچ جائے جہاں زمین کا اوسط قدرتی درجہ حرارت ہی بڑھ جائے اسے گلو بل وارمنگ کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم ایک اصطلاح ’’کلائی میٹ چینج‘‘ بھی استعمال کرتے ہیں اس اصطلاح کو موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو ہمارے وطن عزیز میں چار چار مہینوں کے چار موسم آتے تھے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اب ان موسموں کا دورانیہ بگڑ چکا ہے موسم گرما دورانیہ بھی چکا ہے جبکہ سردیوں کے موسم کا دورانیہ چار ماہ سے کم ہو چکا ہے۔ خزاں اور بہار کے موسموں کا دورانیہ سکڑ کر ایک سے دو مہینے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہمیں نگاہ رکھنی چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی جانوں پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جانور، پودے اور زراعت کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے ہماری زراعت کوبری طرح سے متاثر کیا ہے ان تبدیلیوں کی بناپر بارشوں کا سائیکل بھی تبدیل ہو کر رہ گیاہے مثال کے طور پر جو بارشیں جولائی کے آخر میں ہوا کرتی تھیں اب یہ بارشیں ایک ماہ کی تاخیر کے ساتھ اگست کے آخر کے میں شروع ہوتی ہیں۔ اس سے وہ سبزیاں، پھل اور فصلیں جن کی بوائی بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی کی جاتی تھی ان کی بوائی میں ایک ماہ تاخیر ہو رہی ہے۔ آپ نے بھی نوٹ کیا ہو گا کہ مون سونکی جو بارشیں جولائی اور اگست میں شروع ہو جایا کرتی تھیں اب کہیں جا کر ستمبر میں ان کا آغاز ہوتا ہے جب بارشیں تاخیر سے ہو ں گی تو لامحالہ فصلوں کی بوائی کا سیزن بھی ایک ماہ آگے منتقل کرنا لازم ہے۔ اب ہمیں اس تاخیر کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ دوسر اہم بات یہ ہے کہ ہوا، پانی پرندے اور جانور انسانوں کے بنائے ہوئے بارڈرز کو تسلیم نہیں کرتے انہوں نے ایک سے دوسری جگہ جانا ہی ہے۔ جب وہ ایک سے دوسری جگہ جائیں گے تو لا محالہ ان علاقوں کی آلودگی بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔
سویڈن کا شمار دنیا کے صاف ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ 1970 وہاں کی جھیلوں میں موجود مچھلیاں مرنا شروع ہو گئیں اس صورتحال پر سویڈن کے سائنسدان سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور اس بات کی تہہ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر لی کہ ہمارے جھیلوں کی مچھلیاں کیوں مرنا شروع ہو گئی ہیں؟ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ مچھلیاں ایک خاص قسم کے تیزاب کی وجہ سے مر رہی ہیں جو امریکا کی فیکٹریوں سے فضا میں شامل ہو کر ہوا کے ذریعے سویڈن تک پہنچ رہا ہے۔ تب دنیا نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ جو وجوہات ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہیں ان کا تدارک کرنا ہے اوراس مقصد کیلئے 1972 میں ماحولیات کے حوالے سے پہلی عالمی کانفرنس سویڈن کے شہرسٹاک ہوم میں ہوئی جسے کانفرنس آف ہیومن انوائرمنٹ کا نام دیا گیا تھا اسی کانفرنس میں ماحولیات کے حوالے سے عالمی قوانین وضع کئے گئے۔
لوگوں کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہیے کہ کوڑے کرکٹ کوآگ لگانا بھی جرم ہے اس عمل سے بہت زیادہ فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ آلودہ ہوا جب سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے تو کینسر، ٹی بی اور پھیپھڑوں کے امراض کا باعث بنتی ہے جبکہ آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض جنم لیتے ہیں،ہیپاٹائٹس اور گردوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ماحول کو آلودہ کر کے انسان نے اپنے لیے خود ہی گڑھا کھود لیا ہے۔ اب ہمارے پاس نہ پانی صاف نہ ہوا اور نہ ہی غذا، ہم نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر نے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کو شروع کر دیا لیکن اس کے نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا۔
مغربی ممالک نے مدد کے نام پر تیسری دنیا کے غریب ممالک کو اپنی ضائع شدہ اشیاء کا ڈسٹ بن بنا دیا۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں من الیکٹرانک کوڑا جس میں ریفریجریٹرز، ٹی ویز، موبائل فونز اور دیگر کئی اقسام کی اشیاء شامل ہوتی ہیں وہ سب پاکستان آتا ہے جو ری سائیکلنگ کے عمل سے گزرتے ہوئے نہ صرف خارج ہونے والی انتہائی مہک گیسوں کی وجہ سے کینسر جیسے موذی امراض کا سبب بن رہا ہے بلکہ فضائی اور زمینی آلودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کوڑے سے نکلنے والی سونے اور چاندی جسی قیمتی دھاتوں کے لالچ میں مقامی تاجر اس کوڑے کے نقصانات سے بے خبر اس کی درآمد میں ہر سال اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ پندرہ سال بعد اس کے نتیجے میں ہونے والے گھمبیر اثرات سے بے خبر سرکاری ادارے اس کے تدارک کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کر رہے۔ اگرچہ پاکستان میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں کہ جس کے تحت ایسی اسکریپس ملک میں داخل نہ ہو سکیں جو انتہائی خطرناک ہوں اور عوام کی صحت کیلئے مضر ہوں۔ مگر بعض اداروں کے کچھ عمل کاروں کی وجہ سے اس کی درآمد بآسانی ہو رہی ہے۔ملک کے بڑے شہروں میںیہ کوڑا جگہ جگہ نظر آتا ہے جس کو بعض پلاسٹک کا کام کرنے والے افراد خرید کر اسے پگھلاتے ہیں تاکہ اس سے تیار ہونے والے پلاسٹک دانہ سے دیگر چیزیں بنائی جائیں۔ جبکہ کمپیوٹر کے کوڑے سے سونا اور چاندی جیسی دیگر قیمتی دھاتیں بھی اس کاروبار کے بڑھانے میں اہم وجہ ہیں۔
آلودگی کی مختلف اقسام میں مثلاً زمینی آلودگی، آبی آلودگی، ہوائی آلودگی، شور کی آلودگی، آلودگی خواہ کسی بھی قسم کی ہواس سے انسانی صحت اور قدرتی ماحول ہت بڑی طرح متاثر ہوتا ہے۔ جس فضا میں ہم سانس لیتے ہیں ہوا کا ایک ذریعہ ہے۔ ہم آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہمارے جسم میں ہر لمحہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ کرتے ہیں اور آکسیجن کو جسم کے کون کونے تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کارکردگی زندگی کے پہلے دن سے آخری دن تک برقرار رہتی ہے۔ فضا میں دوسری گیسز بھی ہوتی ہیں اور وہ گیسز ہماری سانس کے ساتھ ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہیں اور باہر نکل جاتی ہیں۔ گاؤں دیہاتوں کی فضا چونکہ آلودگی سے پاک ہوتی ہے اس لیے وہاں رہنے والا شخص نسبتاً زیادہ صحت مند ہوتا ہے۔ مگر شہر کے رہائشی اتنے خوش نصیب نہیں ہوتے۔
شور کی آلودگی بھی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے جسے ہمارے ملک میں کسی بھی طور پر اہمیت نہیں دی جا رہی۔ حالانکہ یہ ان دیکھی آلودگی ہماری زندگیوں، صحت، جسمانی اور ذہنی اور ترقی پر براہ راست اور بلاواسطہ بہت زیادہ اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
مثلاً: شور کے حد کے زیادہ بڑھ جانے سے یہ سننے کی جس کو بری طرح سے متاثر کرتی ہے۔ اگر اس کا مقابلہ گرمی اور روشنی کی آلودگی سے کیا جائے تو صوتی آلودگی کے عناصر یا پارٹیکلز ہمیں کہیں نہیں دکھائی دیں گے مگر آواز کی لہریں قدرتی لہروں کی موجودگی میں خطرات بڑھا دیتی ہیں۔ سائنسدانوں کے ریسرچ کے مطابق اگر کوئی شخص مسلسل شور کے ماحول میں زندگی بسر کرتا رہے تو اس کے سننے کی حس بتدریج زائل ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی شور کی آلودگی جس میں ٹریفک کا شور شامل ہے کی وجہ سے انسان اعصابی تناؤ، بے چینی اور طبیعت میں چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنریٹر یا مشینوں کی آواز کی وجہ سے یا اچانک تیز گھنٹی سے نیند ٹوٹ جاتی ہے یا اس میں خلل آجاتا ہے تو انسان کی طبیعت میں بے سکونی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور ذہنی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ زرق برق روشنی جہاں ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک، دل کو فرحت و نشاط اور ذہن ودماغ پر خوشی و مسرت کے لافانی نقوش چھوڑ جاتی ہے وہیں ہم سے اس کی بھاری قیمت بھی چکا لیتی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ رات کی روشنی صحت انسانی کیلئے خطرہ ہے۔ نیز سینے کے سرطان، مایوسی اور دیگر امراض کے روز افزوں واقعات کا اہم سبب ہے۔ بہت سی جنگلی جانوروں اور پودوں کے لیے رات میں روشنی زہریلے عناصر کے مانند ضرر رساں ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں ٹریفک کا دھواں بھی کئی بیماریاں پھیلانے کا سبب ہے۔ملک کے بڑے شہروں کی فضا گاڑیوں کے دھویں سے آلودہ ہے۔ علاوہ ازیں کچرے کے ڈھیر میں بھی آگ لگا دی جاتی ہے جس کا دھواں بھی مضر صحت ہے۔
ماحولیاتی آلودگی اور گرم ماحول سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور ٹمپریچر کے بڑھنے کی وجہ سے خواتین کی جسمانی کارکردگی تیس فیصد جبکہ دماغی کارکردگی پچاس فیصد تک رہ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین ڈپریشن، ٹینشن اور فرسٹرینشن کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ فضائی آلودگی کے سبب لوگوں کو سانس کی مختلف الرجیز کے علاوہ دمہ کی بھی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی یا موسموں میں تغیر کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ نمایاں ہونے لگے ہیں اور دنیا کے تمام خطوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیش آنے والے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ حقیقت یہ ہے زمین کا درجہ حرارت بڑھنے لگا ہے اور یہ عمل مسلسل کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 2016-17جدید تاریخ کے گرم ترین سال تھے جس میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ امریکا کے نیشنل اوشینک اینڈ ایمٹو سفیریک ایڈمنسٹریشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق2016-17 میں بھارت،کویت اور ایران میں غیر معمولی اور قیامت خیز گرمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب قطب شمالی میں برف پگھلنے کی رفتار میں بھی خطرناک اضافہ ہو گیا۔ مذکورہ رپورٹ کیلئے سال بھر میں زمین اور سمندر کے اوسط درجہ حرارت کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 1880 سے جب سے موسم کا ریکار رکھنے کا آغاز ہوا ہے تب سے یہ تاریخ کا گرم ترین سال ہے۔ امریکی ماہرین کی اس تحقیق سے موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کی تیز رفتاری کی طرف پریشان کن اشارہ ملتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گو یہ اضافہ نہایت معمولی ہے تاہم مجموعی طور پر یہ خاصی اہمیت رکھتا ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلائمنٹ چینج کس قدر تیزی سے رونما ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ 5 بار ٹوٹ چکا ہے۔ سنہ 2005، سنہ 2010، اور اس کے بعد سنہ 2014، سنہ 2015 ، سنہ 2016۔ رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں اس اضافے کی وجہ تیل اور گیس کا استعمال ہے جس کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین اور دیگر زہریلی (گرین ہاؤس گیسیں) پیدا ہوتی ہیں۔ ایک اور وجہ ال نینو بھی ہے جو سال 2015 سے شروع ہو کر 2016 کے وسط تک رہا تھا۔ ال نینو بحر او قیانوس کے درجہ حرارت میں اضافہ کو کہتے ہیں جس کے باعث پوری دنیا کے موسم پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ عمل ہر 4 سے 5 سال بعدرونما ہوتا ہے جو گرم ممالک میں قحط اور خشک سالیوں کا سبب بنتا ہے جبکہ یہ کاربن کو جذب کرنے والے قدرتی ’’سنک‘‘ جیسے جنگلات، سمندر اور دیگر نباتات کی صلاحیت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے جس کے باعث وہ پہلے کی طرح کاربن کو جذب نہیں کر سکتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بے تحاشہ تیز رفتار صنعتی ترقی بھی زمین کے قدرتی توازن کو بگاڑ رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2018سال پچھلے سال کے مقابلے میں سرد ہونے کا امکان ہے تاہم ’’لانینا‘‘ کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔ لانیناال نینو کے برعکس زمین کو سرد کرنے والا عمل ہے۔ مذکورہ رپورٹ جاری کرنے والے ادارے نے کچھ عرصہ قبل ایک اور رپورٹ جاری کی تھی جس میں دنیا بھر میں ہونے والے 24 سے 30 ایسے غیر معمولی واقعات کی فہرست بنائی گئی تھی جو اس سے پہلے کبھی ان علاقوں میں نہیں دیکھے گئے۔ یہ غیر معمولی مظاہر سال 2015 میں رونما ہوئے تھے۔ ان میں کراچی کے 2000شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والی قیامت خیز ہیٹ ویو بھی شامل ہے۔ ادارے کے پروفیسر اور رپورٹ کے نگران اسٹیفنی ہیئرنگ کا کہنا تھا کہ دنیا کو تیزی سے اپنا نشانہ بناتا کلائمٹ چینج دراصل قدرتی عمل سے زیادہ انسانوں کا تخلیق کردہ ہے اور ہم اپنی ترقی کی قیمت اپنے ماحول اورفطرعت کی تباہی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ غیر معمولی تو ضرور ہے تاہم غیر متوقع ہر گز نہیں اور اب ہمیں ہر سال اسی قسم کے واقعات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ اسی گرمی میں اضافے کی وجہ سے دنیا کے سرد ترین براعظم اٹارکیٹٹا میں دنیا کے دس بڑے آئس برگ میں سے ایک آئس برگ ٹوٹنے کے قریب ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ برف کا یہ تودہ پانچ ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔ ریسرچر لارسن اور ماہر سائنسدان ایڈرین لیک مین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی برف کے بڑے حصے میں دراڑ کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برف کے اس ویوہیکل حصے کو باقاعدہ ٹوٹنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ارد گرد کی برفانی چٹانیں دراڑ سے محفوظ ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پانچ ہزار اسکوائر فٹ برف کے اس تودے کی موٹائی 350 میٹر اور پر 20 کلو میٹر طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف کا یہ ٹکڑا سمندر میں جا گرے گا۔ ریسرچرلارسن اور ماہر سائنسدان ایڈرین لیگ مین نے ممکنہ خدشے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات مستقبل میں مزید خطرات کو دعوت دیتے نظر آتے ہیں جس کا فوری سدبات ہونا چاہیے۔ ماہر ریسرچر لارسن نے بین الاقوامی خبر رسان ادارے کو بتایا کہ اس قسم کا واقعہ 1995 اور 2002 میں بھی پیش آیا تھا جس کا سبب بھی ماحولیاتی تبدیلی ہی تھا۔ واضح رہے کہ یہ عمل صرف قطبین پر ہی نہیں پوری دنیا میں جاری ہے اور پاکستان بھی ان میں شامل ہے جہاں گلیشئرز کے ٹوٹنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ تاہم یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس قدر فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
۔ واضح رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے جہاں قطبوں کے بعد کرہ ارض کے سب سے بڑے گلیشئرز پائے جاتے ہیں اس وقت دنیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے وقوع پذیر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران علاقے میں بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے قدرتی آفات کے واقعات نے مقامی آبادی کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے اور ضروری ہے کہ وہ ماحولاتی تبدیلی اور سا کے اثرات کا سامنا کرنے کے طریقے سیکھیں۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے لوگوں کو شعور دینا ہو گا نصاب میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے مضامین نصاب میں شامل کرنا ہوں گے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 100 برس میں دُنیا کا اوسط درجہ حرارت 0.6 ڈگری بڑھا ہے اور خدشہ ہے کہ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت گرین ہاس گیسز کے اخراج میں اضافہ جاری رہا تو رواں صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں 5.8 ڈگری تک اضافہ ہو جائے گا۔جس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے۔انٹار کیٹکا سمیت دُنیا بھر کے گلیشیر ز پگھل جائیں گے۔جس سے اکثر جزیرے اور ساحلی شہر زیر آب آجائیں گے۔گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑتا ہوا اخراج ہے جس کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔اگر اسی رفتار میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو اسکی وجہ سے طوفان ،قحط سالی ،سیلاب ،ہیٹ سٹروک ،گلیشئرز کا پگھل جانا اور غذائی قلت جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ خطرناک نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے کاربن ڈائی آکسا ئیڈ اور گرین ہاس گیسز کے اخراج کو کم سے کم کیا جائے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے