Voice of Asia News

کمر کے درد کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑے گا

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ) بے ترتیب کھانے پینے اور بھاگ دوڑ بھری زندگی کے نتیجے میں کمر درد کی پریشانی کو عام طورپر لوگ زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگر ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شروعاتی دور میں درد کو نظر انداز کرنا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے ۔عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او)کے ایک سروے کے مطابق ملک میں 30سال کی عمر سے زیادہ کا ہر پانچواں شخص کسی نہ کسی وجہ سے کمر کے درد کی پریشانی میں مبتلا ہے ۔ڈاکٹر اس کے لئے سڑک حادثوں میں اضافے کے علاوہ لانگ ڈرائیو اور کمپیوٹر پر ایک ہی پوزیشن میں گھنٹوں بیٹھ کر کام کرنے سمیت دیگر عوامل کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ حال ہی میں برسوں سے کمر کے درد سے متاثر مریضوں بالخصوص نوجوان طبقہ کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے ۔ کمرکے درد سے پریشان ان کے پاس ہر روز آنے والے کئی مریض ایسے ہوتے ہیں جنہیں برسوں پہلے کوئی چوٹ لگی تھی یا ان کے باقاعدہ کے معمول میں موٹر سائیکل پر طویل سفر، کمپیوٹر پر دیر تک کام کرنے کے بوجھ کے علاوہ فاسٹ فوڈ کی ضرورت سے زیادہ مقدار وغیرہ شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شہروں میں ٹریفک کے بڑھتے بوجھ کی وجہ سے آئے دن ہونے والے حادثات میں خاصا اضافہ ہوا ہے جبکہ اسپیڈ بریکروں کی بڑھتی تعداد میں، لیپ ٹاپ یا موبائل لے کر گھنٹوں ایک پوزیشن میں بیٹھنے کا رجحان، جنک فوڈ کے وسیع استعمال سے بڑھتا موٹاپا وغیرہ ہڈیوں پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول کے بچوں کے شانوں پر بھاری بھرکم بیگ اور نوجوانوں کے لیپ ٹاپ بیگ ہڈی کے مسئلے کو فروغ دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر  نے بتایا کہ ہڈی کے امرا ض کی شروعاتی نشانیاں پتہ چلتے ہی اسے ورزش اور دواؤں کی مدد سے دور کیا جاسکتا ہے مگر ڈاکٹر کے صلاح میں لیٹ لطیفی اور خاص علامات پر سرجری آخری علاج ثابت ہوتا ہے ۔ریڈھ کی ہڈی اور کشیروکا کے درمیان ڈسک سی بنی ہوتی ہے ۔ ان کے درمیان میں خلیے ہوتے ہیں۔ ریڈھ کی ہڈی دماغ سے لے کر کمر کے نچلے حصے تک جاتی ہے ۔کمرمیں ہونے والا درد عام طور پر پٹھوں، اعصاب، ہڈیوں، جوڑوں یا ریڑھ کے دیگر ڈھانچے میں محسوس کیا جاتا ہے ۔ اس درد کو اکثر گردن میں درد، کمرکے اوپری حصے کے درد، کمر کے نچلے حصے کے درد یا ٹیلبون کے درد (ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کی ہڈی میں) میں تقسیم کر سکتے ہیں۔یہ مسلسل یا کچھ وقفہ پر بھی ہو سکتا ہے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ کمر کے درد کی سرجری نوجوان، درمیانی عمر والوں یا بزرگوں کیلئے الگ الگ ہو سکتی ہے ۔ان کے لئے ایک جیسے علاج کے طریقہ کار گر نہیں ہوگا۔مثلاً نوجوانوں میں عام طور پر کمر کے درد کے پیچھے ڈسک پرولیپس عنصر ہوتا ہے جبکہ 40 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں میں اسپاڈلائٹس، کینال کی اسٹینوسس مسائل پائے جاتے ہیں جبکہ بزرگوں میں ہڈی میں چونے کی کمی سے عام طور پر آسٹیوپوروسس اور کمر کے پیچھے جوائنٹ میں گٹھیا یعنی آسٹیو ارتھاٹس کی بیماری ہوتی ہے ۔
….ڈاکٹر   نے بتایا کہ ڈسک پرولیپس یا اسلپڈ ڈسک کے مسئلے سے مبتلا مریض کو ہفتوں تک کمر کے نیچے درد رہتا ہے ۔ خاص قسم کی ورزش اور ادویات سے آرام نہ ملنے پر سرجری کے ذریعے ڈسک ایکسیجن کیا جاتا ہے جس سے مریض کچھ ہی وقت میں پہلے کی طرح صحت مند ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سائٹکا کے معاملے میں کمر کے نچلے حصے میں مریض کو ناقابل برداشت درد ہوتا ہے ۔اسپاڈلائٹس میں ڈسک کا اندرونی حصہ یعنی نیکلیس خشک ہوجاتاہے جبکہ کینال اسٹینوسس میں نسیں سکڑجاتی ہیں۔ تینوں صورتوں میں مریض کی سرجری کی صورت میں کینال وائڈنگ کے ذریعے مریض کا علاج کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ سرجری پیچیدہ ہوتی جاتی ہے ۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ عام طور پر ڈاکٹر سرجری سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے لئے اے بی سی ڈی ای فارمولے کو اپنایا جاتا ہے ۔ اے کا مطلب سکائی، سکائی سے آرام نہ ملے تو ،بی کا مطلب جیل کا استعمال اس کے بعد سی یعنی ورزش اور پھر ڈی مطلب منشیات کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے جبکہ آخر میں ای مطلب کی ایپی ڈیورل اسٹیرایڈ انجکشن کو ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے میں لگایا جاتا ہے ۔اس انجکشن سے آپس میں چپکی نسیں مختلف ہو جاتی ہے جبکہ رگوں کی سوجن میں بھی آرام ملنے سے درد خود کار طریقے سے غائب ہو جاتا ہے ۔ اگر ان اقدامات سے بھی مریض کو آرام نہ ملے تو اس صورت حال میں سرجری آخری متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ سرجری مائکروڈیس ایٹومی طریقہ سے کی جاتی ہے جس میں کمر میں ایک انچ چیرا لگا کر خوردبین کے ذریعے خراب ڈسک کو نکال دیا جاتا ہے یا دبی خلیات کو الگ کر دیا جاتا ہے ۔ آپریشن میں تقریباً ایک گھنٹے کا وقت لگتا ہے اور ایک ہفتے کے آرام کے بعد انسان صحت مند ہوکر معمول کے کام کاج نمٹا سکتا ہے ۔ اس آپریشن میں تقریباً 30 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے اور کم سے کم 98 فیصد صورتوں میں یہ کارگر رہتا ہے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے