Voice of Asia News

چینی کے زائد استعمال سے رواں سال اموات کی شرح میں اضافہ

لاہور(وائس آف ایشیا)چائے ہو یا پھر میٹھی ڈشز ان کے بغیر کھانا کچھ نامکمل سا لگتا ہے لیکن یاد رہے کہ یہ میٹھی ڈشز جس چینی سے بنی ہوتی ہیں وہ انسان کو موت کے منہ میں بھی لے جاسکتی ہے کیوں کہ ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چینی ملی غذائیں کھانے اور مشروبات سے اس سال ڈیڑھ لاکھ لوگ زندگی کی بازی ہار گئے۔امریکا میں کی گئی تحقیق یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں چینی ملی غذائیں کھانے اور مشروبات کے استعمال سے لوگ شوگراور دل کی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس سال اس طرح مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ 84 ہزار سے بڑھ گئی ہے جس میں صرف امریکا میں مرنے والوں کی تعداد 25ہزارہے جب کہ گزشتہ سال ایک لاکھ80 ہزار افراد چینی سے موت کا شکار ہوئے تھے۔تحقیق کے اہم رکن فرائیڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی کے ڈین کا کہنا ہے کہ یہ عالمی کیمونٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ شربت اور دیگر غذاو¿ں میں چینی کی مقدار کو کم کرنے کوششیں تیز کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کولڈ ڈرنک اور جوسز میں موجود شوگر موٹاپے کا باعث بنتا ہے جو شوگر اور دل کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ کرتا ہے۔ٹفس یونیورسٹی آف میساچیوسیس میں اس تحقیق میں سائنس دانوں نے اس بات کا بہت قریب سے جائزہ لیا کہ چینی ملے ڈرنکس سے دنیا بھر میں موٹاپے سے تعلق رکھنے والی بیماریوں سے کتنے لوگ موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ محققین کاکہنا ہے کہ ایک لاکھ33 ہزار افراد شوگر، 45 ہزار اموات دل کی بیماریوں سے جب کہ ۶ ہزار450 اموات کینسر سے ہوئیں۔ تحقیق کے دوران دنیا بھر کے ۵۰ممالک کے افراد کے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ لیا گیا جس سے یہ انکشاف سامنے آیا کہ دنیا بھر میں چینی کے استعمال میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔تحقیق کے بانی گیتان جیلی سنگھ کا کہنا ہے کہ تحقیق کے دوران 20 ممالک ایسے تھے یہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ چینی استعمال کی جاتی ہے جن میں ۸کا تعلق لاطینی امریکا اور کیریبین سے ہے جب کہ میسیکو جہاں10 فیصد لوگ شوگر کی بیماری کا شکار ہیں وہاں 30 فیصد اموات 45 سال کے عمر کے لوگوں کی ہیں جو بہت زیادہ شوگر کوٹڈ شربت استعمال کرتے تھے جب کہ جاپان جہاں لوگ بغیر چینی کے مشروبات پینا پسند کرتے ہیں وہاں اس طرح کی بیماریوں سے اموات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق امریکا میں ایک شخص روزانہ  22 چمچے چینی کا استعمال کرتا ہے جب کہ مشروبات ان کے ڈرنکس کا بنیادی حصہ ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق لوگ غذاو¿ں اور مشروبات کا مزہ بڑھانے کے لیے چینی کا اضافہ کرتے ہیں لیکن یہی چینی ایک طرف تو ان کا وزن بڑھا دیتی ہے تو دوسری طرف دل کو بھی کمزور کرسکتی ہے۔ امریکی ڈایا بیٹیز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 12 اونس یا 355 ملی میٹر سوڈے میں 10 چمچے چینی موجود ہوتی ہے اس لیے لوگوں کو ان مشروبات سے پرہیز کرنا چاہئے کیوں کہ یہ چینی انہیں موت کے قریب لے جارہی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے