Voice of Asia News

اسٹرابیری گنٹھیا اور جوڑوں کے د رد میں فائد ہ مند

  لاہور(وائس آف ایشیا)اسٹرابیری کی افادیت کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹرابیری گلاب کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اسے محبت کی علامت اور صحت کی ضمانت بھی کہا جاتا ہے چھ سو سے زائد اقسام کی اسٹابیریز پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آئسکریم، ملک شیک و دیگرمشروبات، میٹھے پکوان اور سلاد کی جان ہے۔ 94 فیصد امریکیوں کے ساتھ ساتھ اب (پاکستان میں اس کی وافر کاشت کی وجہ سے) پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد اسٹرابیری استعمال کر رہی ہے۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق اسٹرابیری کا روزانہ استعمال انسانی جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور صحتمند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے نیز فولیٹ اور مانع تکسید اجزا سرطان سے بچائو کرتے ہیں اسی وجہ سے اسٹرابیری کھانے والا کینسر جیسے مہلک مرض کا شکار نہیں ہوتا، اسٹرابری میں فائبر (غذائی ریشہ) سیلی کون، پوٹاشیم، میگنیشیم، جست، آیوڈین ‘فولک ایسڈ، فلیوونائڈز، فائیٹو کیمیکلز’ وٹامن بی ?، بی?، بی? اور میگنیز کی کافی مقدار پائی جاتی ہے، حکیم خالد نے کہا کہ اسٹرابیری میں بیس مختلف اجزا اینٹی ایجنگ صلاحیت رکھتے ہیں جس کے باعث یہ جھریوں اور بڑھاپے سے بچا کر انسانی جسم کو جوان رکھتی ہے۔ اسٹرابیری جوڑوں کے درد اور گنٹھیا کے مرض میں فائدہ مند ہے۔ امراض چشم میں انتہائی مفید ہے ‘بینائی کے نقائص’ بصری اعصاب کی تقویت’ آنکھوں کی انفیکشن میں کارآمد ہے۔
اسٹرابیری میں موجود فائٹو کیمیکلز کولیسٹرول لیول کو نارمل رکھتے ہیں جبکہ یہ پوٹاشیم اور میگنیشیم کی بدولت ہائی بلڈ پریشر میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اسٹرابیری کھانے سے قوت مدافعت بحال رہتی ہے جس کی وجہ سے نزلہ زکام سمیت بیشتر اقسام کی انفیکشینز سے بدن انسانی محفوظ رہتا ہے۔ اسٹرابیری میں موجود فائٹو نیوٹرنٹس ‘سوجن یعنی ورم کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسٹرابیری میں ایک معدنی جز بورون پایا جاتا ہے جو خواتین کے جسم میں زنانہ ہارمونز کی سطح بڑھا دیتا ہے جس سے یہ بیشتر نسوانی امراض میں بھی فائدہ مند ہے اس میں موجود فلیو نائڈز مزمن امراض ‘سرطان، امراض قلب، بلند فشار خون ‘دانتوں کے امراض اور ہڈیوں کی کمزوری میں فائدہ مند ہیں، اسٹرابری کھانے سے پیاس کم لگتی ہے اسٹرابری کا بیرونی استعمال رنگت میں نکھار کے علاوہ ایکنی و چھائیوں کو دور کر کے چہرہ خوبصورت بناتا ہے۔ گردے، پتے اور جگر کے پیچیدہ امراض کی صورت م
یں اسٹرابریز کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے