Voice of Asia News

’’امریکی وار آن ٹیرر‘‘ :محمد قیصر چوہان

افغانستان دنیا کا سب سے پسماندہ ملک ہے۔ یہ ملک عالمی طاقتوں کی ہوسِ ملک گیری کی وجہ سے تقریباً30 برس سے آگ و خون اور بارود کی آگ میں جل رہا ہے۔ 1979 میں سوویت یونین نے اپنے آلہ کاروں کی مدد سے انقلاب کے نام پر افغانستان پر قبضہ کیا جو سوویت یونین کے لیے ایک رستا ہوا ناسور بن گیا اور افغانستان میں شکست کمیونسٹ ایمپائر کے انہدام کا سبب بن گئی۔ افغانستان کے مجاہدین آزادی نے پہلے برطانیہ جیسی بڑھتی ہوئی سامراجی طاقت کے خلاف مزاحمت کی۔ اسی مزاحمت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آزاد قبائلی علاقوں کی تشکیل کی۔ برطانیہ کی تاریخ کو بھولتے ہوئے سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا جو اْس کے لیے مہنگا پڑگیا، اور وہ شکست کھاگیا، لیکن پاکستان کے حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت نے امریکی سازشوں کو کامیاب بنایا اور افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور اپنی فتح کا ثمر حاصل نہیں کرسکا۔ دوسرا مرحلہ وہ تھا جب امریکہ نے ساری دنیا پر بلاشرکت غیر اپنی حکمرانی کا اعلان کرنے کے لیے افغانستان پر قبضے کا فیصلہ کیا۔ اْس وقت سرد جنگ کا دور ختم ہوچکا تھا اور امریکہ یونی پولر ورلڈ کا بلاشر کت غیر قائد تھا، اس لیے کسی ملک یا کسی طاقت کو یہ جرات نہیں تھی کہ وہ پوچھے کہ دنیا کے سب سے پسماندہ ملک پر جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کا کیا جواز ہے؟ ’’امریکی وار آن ٹیرر‘‘ اوّل دن سے جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ امریکہ نے دھمکی دے کر پاکستان کے حکمرانوں کو آلہ کار اور کرائے کا سپاہی بنایا۔ چونکہ یہ جنگ جھوٹ کی بنیاد پر قائم تھی اس لیے امریکہ اور پاکستان میں تناؤ اورکشیدگی پیدا ہونا فطری بات تھی۔ امریکہ نے پاکستان کے حکمرانوں سے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی نام نہاد جنگ اہلِ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔ لیکن ہوا کیا؟ پاکستان جو امن کا جزیرہ تھا اب دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ یہ سلسلہ جنرل پرویزمشرف کے دور سے اب تک جاری ہے۔ جو بات پہلے دوسرے اور تیسرے درجے کے عہدیداروں یا ذرائع ابلاغ کے توسط سے کہی جاتی تھی وہ اب امریکی صدر نے بھی کہنا شروع کردی ہے۔ یعنی پاکستان دہشت گردوں کا سرپرست اور ان کو پناہ دینے والا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان خود بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے اور حکومت اور ریاست کے ذمے داران یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔ امریکہ نے پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے کیے، مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کیے جس نے قومی یک جہتی کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود امریکی صدر نے پاکستان کے حکمرانوں کو ’’دھوکے باز‘‘ قرار دیا۔ یہ وہ بات تھی جو نائن الیون سے پہلے ایک امریکی مجسٹریٹ نے کہی تھی کہ پاکستانی چند ڈالروں کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں۔ پاکستان کو یہ ذلت و رسوائی اْن ضمیر فروشوں کی وجہ سے اٹھانی پڑ رہی ہے جو امریکی آلہ کار بن جاتے ہیں۔ چونکہ امریکہ اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ جیتنے میں ناکام ہوچکا ہے، اور اْس کے پاس اس شکست کی کوئی تعبیر موجود نہیں ہے، اس لیے اْس نے پاکستان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر ایسے آثار نظر آتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے اندر براہِ راست کارروائی کرے گا جس طرح وہ پاکستان میں ڈرون حملے کرتا رہا اور اْسے پاکستان کے اندر سے مدد ملتی رہی۔ اہلِ پاکستان امریکی جنگ کی قیمت ادا کرتے رہے اور پاکستان کی اشرافیہ قیمت وصول کرتی رہی۔ اب نوبت یہ آگئی ہے کہ امریکی براہِ راست پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لیے براہِ راست حملے کی دھمکی کا اشارہ کررہے ہیں۔ یہ امریکہ کے لیے بظاہر ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ اس لیے کہ افغانستان کے اندر مزاحمت جاری ہے۔
افغانستان جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے درمیان پایا جاتا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے افغانستان کو جنوبی ایشیا کے خطے میں شامل کرنے کا اصل مقصد افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار دینا ہے جبکہ بھارت کا افغانستان سے کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے۔ یہ کام امریکہ نے اس لیے کیا ہے کہ وہ سات سمندر پار سے یورپی اقوام کے فوجی اتحادنیٹو کی مدد سے افغانستان پر قابض ہے، لیکن افغانستان سے جغرافیائی طور پر متصل ممالک پاکستان، ایران، چین، روس اور اس کی اتحادی ریاستوں کا براہِ راست کردار قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جبکہ افغانستان میں امن پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی امریکی جنگ ڈیڑھ عشرے سے زائد مدت سے جاری ہے، اس جنگ کو امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ قرار دیا تھا، لیکن اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے عالم اسلام کا ہر ملک امریکہ کی لگائی ہوئی دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے ڈھونگ کی طرح امریکہ نائن الیون کے حادثے کے اصل ذمے داروں کے شواہد بھی دنیا کے سامنے پیش نہیں کرسکا، لیکن اْس نے اسامہ بن لادن کو دہشت گردی کا ذمے دار اور ملاّ عمر کو اْسے پناہ دینے کا مجرم قرار دے کر ایک عالمی جنگ چھیڑ دی۔ آج نہ ملاّ عمر زندہ ہیں، نہ اسامہ بن لادن، لیکن نام نہاد امریکی وار آن ٹیرر جاری ہے۔ امریکہ کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، جدید ترین جاسوسی ٹیکنالوجی ہے، فضا سے زمین پر بمباری کرنے کی سہولت ہے، اس سب کے باوجود امریکہ پوری فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود اپنی کامیابی کا اعلان نہیں کرسکا۔
گزشتہ ایک عشرے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی عالمی سیاست نے کم از کم تین مسلمان ملکوں کو تباہ کردیا ہے‘ جن میں عراق‘ افغانستان اور لیبیا شامل ہے۔ شام اور یمن کا حال بہت ہی خراب ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ باقی مسلمان ملکوں کی صورتحال بھی اچھی نہیں ہے۔افغانستان کی حکومت اور فوج تو ایک دائرے میں بے اثر ہوچکی ہے۔ امریکہ نے 17 برس کی مدت میں اس بات کی پوری کوشش کی کہ وہ کٹھ پتلی فوج او رپولیس کا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے‘ لیکن ایسا ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ عراق کی طرح افغانستان میں اپنی آلہ کار اور کٹھ پتلی حکومت اور فوج قائم نہیں کرسکا ہے‘ جو اپنے ہی شہریوں کو کچلنے کا کام کرسکے۔ اس وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور‘ سب سے بڑی جنگی ٹیکنالوجی‘ جو زمین کے ذرے ذرے کی جاسوسی کرسکتی ہے۔ جو ایک آپریشن روم کے محفوظ ٹھکانے میں بیٹھ کر جس کو چاہے فضائی حملے سے ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کرسکتی ہے۔ وہ افغانستان جیسے پسماندہ ملک میں اپنی فتح کا اعلان نہیں کرسکی ہے۔ اس شکست کے نتیجے میں جوسب سے برا نتیجہ حاصل ہوا ہے وہ مسلم امّت کی تبدیل شدہ ذہنی تشکیل ہے۔ دہشت گردی کی نام نہاد امریکی جنگ‘ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ نہیں بلکہ فروغ دہشت گردی کی جنگ ہے۔ اس سلسلے میں دہشت گردی کے اعداد و شمار دیکھ لیے جائیں‘ جو اس جنگ کے بعد پیش آئے ہیں۔ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کے نام پر مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرلیے گئے ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ امریکہ کا مقصد ہی نہیں ہے۔ اس جنگ کے سارے فیصلے امریکی فوج اور اس کے خفیہ اداروں میں ہوتے ہیں۔ یہی خفیہ ادارے دہشت گردوں کی اصل پناہ گاہ ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ سابق فوجی آمر نے اس جنگ میں امریکی شراکت دار بننے کا فیصلہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ امریکی موقف سے قائل ہوگئے تھے‘ انہیں نائن الیون کے شواہد فراہم کردیے گئے تھے کہ اس کی منصوبہ بندی افغانستان کے پہاڑوں کی گئی تھی۔ اور یہ کہ امریکہ کا حقیقی مقصد دنیاکے امن کی ضمانت دینا اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ کولن پاؤل نے دھمکی دے کر اس جنگ میں پاکستان کو کرائے کا سپاہی بننے پر مجبور کیا۔ اس جنگ کو پاکستان کے عوام نے اپنی جنگ تسلیم نہیں کیا۔ اس کے لیے خود امریکی اداروں نے رائے عامہ کے جو جائزے لیے ان کی رپورٹ میں ایک بڑی شہادت ہے۔ امریکی جنگ کو اپنی جنگ منوانے کے لیے پاکستان کے پرامن حصوں کو بھی دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔
امریکہ کے سامنے یہ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان نے امریکی مخالفت اور دباؤ کے باوجود جوہری صلاحیت حاصل کرلی ہے، اور اس سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے مقبول سیاست دان ہوں یا جنرل ضیاء الحق اور غلام اسحق جیسے فوجی اور سول افسر شاہی کے نمائندے، سب نے پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر قسم کے دباؤ کا سامنا کیا اور پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی واحد جوہری طاقت بن چکا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کے مجاہدین کی مزاحمت نے عالمی نقشہ تبدیل کردیا ہے، لیکن جنرل (ر) پرویزمشرف جیسے فوجی آمروں نے امریکی ڈکٹیشن کو خوف میں آکر قبول کرلیا، اسی وجہ سے امریکہ کو پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کا موقع ملا۔ آج ہمارے سیاسی بحران اور انتشار کا سبب بھی یہی ہے کہ امریکہ نے کمزور سیاسی قیادتوں کی پشت پر ہاتھ رکھ کر انہیں سیاسی طاقت کے انجکشن دیے جس کی وجہ سے کرپشن کا بازار گرم ہے۔ آج قوم ایسی قیادت سے محروم ہے جس کے پاس تدبر بھی ہو، جو جرات مند بھی ہو۔ جرات مندی کا تعلق کردار کی مضبوطی سے ہے۔ ہوسِ دولت کے مارے خائن اور بدعنوان حکمران کسی بڑی طاقت کی مزاحمت نہیں کرسکتے۔ یہی آج ہمارا سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے۔ اسی لیے امریکہ دھمکی اور تھپکی کے ذریعے افغانستان کی شکست کو فتح میں بدلنے کا جتن کررہا ہے اور اْسے اس سلسلے میں بھارت کی حمایت اور مدد حاصل ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے