Voice of Asia News

امریکی اور اسرائیلی تھپکی، نریندر مودی کی دہشت گردی عروج پر:محمد قیصر چوہان

بتوں اور گؤماتا کے پجاریوں کی سرزمین بھارت کے معروف شہر گجرات کے ریلوے اسٹیشن پر کچھ دیر کیلئے ٹھہرنے والی گاڑیوں کی بوگیوں کے سامنے ’’چائے گرم، چائے گرم‘‘ کی بلند آواز میں پھیری لگانے والا بابائے قوم مہاتما گاندھی کی قاتل راشٹریا سوام سیوک سنگھ میں شامل ہو کر اس کی ذیلی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارکن اور بعدازاں اس کا رہنما بن کر جب گجرات کا وزیراعلیٰ بنا تو اس نے 2002 میں گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کر متعصب ہندو اکثریت کی حمایت حاصل کی پھر اسی حمایت کے سہارے اور غریبوں کا خون چوسنے والے سور خور ساہو کاروں کی حرام کی کمائی سے 2013 میں بھارت کے الیکشن میں حصہ لیا۔ تو ان انتخابات میں سیکولرازم کے لبادھے سے جب ہندو ازم برآمد ہوا تو گجراتی مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی بھارتی وزیراعظم بن گیا اس کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سفاکی اور تنگ نظری پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہونا شروع ہو گئی ہے۔ بھارت میں جنونی ہندوؤں کی انتہا پسندی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ نر یندر مودی کے دورہ اقتدار میں پڑوسی ملک میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جنہوں نے بھارتی جمہوریت کے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور گؤ ماتا کے پجاری انتہا پسندوں نے سیکولرازم کے دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی ہے۔
1947سے آج تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ نرم گرم رہے ہیں۔ ان میں اکثر نرمی ہماری جانب سے اور گرمی بھارت کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کی نرمی اس کے قومی نظریہ کی عکاسی کرتی ہے جس ملک کی بنیاد ہی امن و سلامتی پر ہو اور جس کا نظریہ انسانوں سے تو کیا، چرند، پرند اور شجر و حجر کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہو، اس کی جانب سے اشتعال صرف مجبوری اور ہنگامی حالت ہی میں ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک یہاں ہندوؤں سمیت تمام غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ بہترین سلوک کا اعتراف خود انہوں نے اور دنیا بھر نے کیا ہے۔ دوسری طرف یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کشیدگی، فائرنگ اور گولا باری کا آغاز ہمیشہ بھارت ہی کی جانب سے ہوا ہے۔ بھارت کی پاکستان سے نفرت کے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا مذہبی اور دوسرا سیاسی۔ بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں نے قیام پاکستان کو روزاول سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی گؤماتا کے دو ٹکڑوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ سیاسی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ارباب کے خیال میں پاکستان کے قیام سے وہ اہم زرعی و معدنی وسائل اور آبادی کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو گئے ہیں۔ بھارت کی اسی کہج فہمی اورخام خیالی کے باعث دونوں ملکوں میں تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ وہاں مسلم کشی کے سیکڑوں واقعات میں اب تک لاکھوں مسلمان شہید ہو چکے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر بھی آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
جھڑپوں کی ابتدا ہمیشہ بھارت کی جانب سے ہوتی ہے جس کے جواب میں پاکستان کو بھی بھرپور کارروائی کرنی پڑتی ہے۔ اس کے بغیر بھارتی فائرنگ نہیں رکتی۔ اس طرح بھارتی فائرنگ اور پاکستان کی جوابی فائرنگ کو غیر ضروری طور پر دو طرفہ جھڑپوں کا نام دے دیا جاتا ہے حالانکہ کشیدگی کا ذمہ دار بھارت ہے۔بھارتی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ ایٹمی اور تباہ کن میزائلی قوت سے لیس دونوں ممالک اب جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی جانب سے کی جانے والی ذرا سی غلطی پورے خطے کو آگ میں جھلسا سکتی ہے پھر نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ کوئی مفتوح۔ جب بھارتی حکومت کو معاملات کی سنگینی کا ادراک ہے تو پھر وہ سرحدوں پر کشیدگی کو کیوں ہوا دے رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے سینکڑوں بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔ 1948، 1965 اور 1971 کی جنگیں 1973 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد خود کو خطے کی قوت قرار دے کر ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت اور سرحدی در اندازی نے افواج پاکستان، اہلیان پاکستان اور حکومت پاکستان کو باور کرا رکھا ہے کہ بھارت کی حربی و فوجی قوت کا مقصد امید اور اس کے مذموم عزائم کا اصل ہدف پاکستان ہی ہے۔ ان 70برسوں میں ہر بھارتی حکومت دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ کرتی رہی ہے بھارت کا شمار امریکا، روس، فرانس اور اسرائیل سے اسلحہ خریداری میں دنیا کے دوسرے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ بھارت کی حکومت کا منشور ہی اکھنڈ بھارت کا قیام ہے۔ بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت کا رہا سہا سیکولر چہرہ بھی باقی نہیں رہا، بلکہ یہ ہندو قومیت کا روپ دھار چکا ہے۔بھارت خطے میں اسلحہ کی دوڑ کی وباء کو پھیلانے کا موجد اور بانی ہے۔ مقام حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ غربت کی لکیر سے نیچے کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے حکمران مہنگے ترین ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری پر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کئے گئے بجٹ کا ایک بڑا حصہ انتہائی بے دردی کے ساتھ خرچ کر رہے ہیں۔ 75کروڑ سے زائد بھارتی شہری دو وقت کی آبرو مندانہ روٹی بھی بروقت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں عوام کو روٹی دینا زیادہ ضروری ہے یا ایٹمی ہتھیار سازی؟ بھا رتی عوام کو روٹی چاہیے، میزائل اور جوہری بم نہیں۔ بھارت کی اس تمام کاوش کا بنیادی مقصد ہمسایہ ممالک کو خائف اور دہشت زدہ کرنا ہے۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ بھارتی حکام یہ ہدف حاصل کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ بھارت کا ’’خصوصی ہدف‘‘ روز اول سے پاکستان رہا ہے۔ اکثر بھارتی حکومتیں اور ارباب حکومت شروع ہی سے پاکستان کو اپنا ازلی دشمن گردانتے رہے ہیں۔ سالانہ میزانیوں میں یہ آئے روز اضافے، یہ میزائل تجربے، جوہری ہتھیار سازی اور و رکنگ باؤنڈری پر گولہ باری محض اس لیے کی جاتی ہے کہ بھارت کے متعصب،بنیاد پرست اور رام راج کے خواہش مند انتہا پسند عناصر کو یہ یقین دلایا دیا جائے کہ بھارت جب چاہے اپنے ’’ازلی دشمن‘‘ کو دہشت زدہ کر سکتا ہے۔ حالانکہ یہ محض خام خیالی ہے۔ بھارتی حکمرانوں اور بھارت میں موجود غالب حیثیت رکھنے والے انتہا پسند عناصر کی کوششوں اور خواہشوں کے باوجود پاکستان کا دفاعی استحکام ناقابل تسخیر ہے۔ یہ امر عام پاکستانیوں کے لیے یقیناًاطمینان کا باعث ہے کہ افواج پاکستان نے آزمائش کے ہر مرحلے اور امتحان کے ہر میدان میں پاکستان کی جغرافیا ئی و نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحی بالادستی کے وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہونے کیلئے خطرناک اور مہلک ترین اسلحے کی اندھا دھنذ دوڑ شروع کر رکھی ہے۔
بھارتی فوج مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، بھارتی فوج کا جب دل کرتا ہے وہ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال گولہ باری شروع کر دیتی ہے۔جس سے پاکستانی فوجی اور شہری شہید ہوتے ہیں۔ نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد لائن آف کنٹرول پر فائرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ لائن آف کنٹرول کا محاذ مسلسل گرم ہے۔ ہر چند روز کے بعد کسی نہ کسی سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے گولہ باری کا واقعہ سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں مسلسل صبر و برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ جوابی کارروائی بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ اسی عرصے میں بھارتی حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اْس کے فوجیوں نے آزاد کشمیر کی حدود میں ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ بھی کی ہے۔ جس کی پاکستان کی جانب سے تردید کی گئی، لیکن یہ دعویٰ پاکستان کے خلاف بھارت کے عزائم کو پوری طرح عیاں کررہا ہے۔ نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کے جارحانہ رویّے میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں انتہا پسند اور دہشت گرد جماعت بی جے پی کو اقتدار میں لانے کی پشت پر عالمی طاقتیں ہیں۔ اس کی شہادت یہ ہے کہ گجرات کے فسادات میں براہِ راست ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد کی وجہ سے نریندر مودی کو خود امریکی ذرائع ابلاغ نے ’’گجرات کا قاتل‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ امریکی حکومت کی جانب سے نریندر مودی کو دہشت گرد قرار دینے کی وجہ سے امریکہ میں اس کے داخلے پر پابندی تھی۔ ان حقائق کے باوجود نریندر مودی کے انتخابات میں منتخب ہونے کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانے میں عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ امریکہ نے نریندر مودی کے چہرے سے ’’دہشت گردی‘‘ کا داغ دھویا۔ بھارت میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی انتہا پسندی کے خلاف جو آوازیں تھیں اْن کو غیر موثر کرنے کے لیے ’’کارپوریٹ میڈیا‘‘ نے اہم کردار ادا کیا۔ بھارت کا کارپوریٹ میڈیا اور سرمایہ داروں کا طبقہ عالمی سرمایہ داری کا شراکت کار ہے، اور یہی طبقہ نریندر مودی اور بی جے پی کا سرپرست ہے۔ اسی تناظر میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان گہرے تعلقات کو نریندر مودی اور نیتن یاہو نے ذاتی دوستی میں تبدیل کردیا ہے۔ امریکہ اور عالمی طاقتوں نے بھارت کو ایشیا و افریقہ کے مسلمان ممالک کے درمیان اسی لیے خصوصی کردار دیا ہے۔ عالمی طاقتوں نے آر ایس ایس جیسی متعصب اور دہشت گردی کا پس منظر رکھنے والی جماعتوں کو مسلم دشمنی کے پس منظر کی وجہ سے آگے بڑھایا ہے۔ یہی طبقہ جنوبی ایشیا میں ہندو مسلم کشیدگی کم کرنے کے راستے میں اصل رکاوٹ ہے۔ بھارت کے مہاتما گاندھی بھی کوئی مسلمان دوست شخصیت نہیں تھے۔ مسلمانوں کے بارے میں اْن کی نمائشی ہمدردی بھی برداشت نہیں ہوئی اور آر ایس ایس کے ایک سیوک ناتھورام گوڈسے نے گاندھی کو قتل کردیا۔ گاندھی کا قاتل ناتھو رام گوڈسے بھارت کے موجودہ حکمران طبقے کا ’’ہیرو‘‘ ہے۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے تاہم جس قدر انسانی حقوق کی پامالی اور لسانی، نسلی و مذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیں شاید ہی کسی ملک میں اس کی نظیر ملتی ہو۔ عمومی طورپر بھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہد آزا دی کو ہی تحریک کے طور پردیکھا جاتا ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پنجاب، تامل، ناڈو، بہار، چھتیں گڑھ، اڑیسہ، ہما چل پردیش، مہارا شٹر سمیت شمال مشرق میں آسام، ناگا لینڈ، منی پورا اور ترقی پورہ سمیت بھارت میں 67 علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی ہیں۔ صرف آسام میں 34 علیحدگی پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ 162 اضلاع پر علیحدگی پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے، علیحدگی کی تحریکیں بھارتی حکومت اور ریاست کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر حصوں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔علیحدگی کی ان تحریکوں نے بھارت کے ریاستی نظام کو بری طرح مفلوج کر رکھا ہے۔ بھارتی فورسز نے علیحدگی پسندوں کی آواز کو دبانے کیلئے ایک عرصے سے کالے قوانین کی آڑ لے رکھی ہے۔
نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم ہی پاکستان اور مسلمان دشمن جذبات ابھار کر بنے ہیں۔ مگربد قسمتی سے وزیراعظم بننے کے بعد بھی اپنا انتہا پسندانہ رویہ تبدیل نہ کر سکے اور منصب سنبھالتے ہی انہوں نے بھارتی عوام کے جذبات کو ہوا دینے کیلئے گاؤ رکھشا کا نعرہ لگایا جس سے بھارت میں مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں اوراقلیتوں میں احساس تحفظ بڑھا اور کشمیر میں تحریک آزادی نے نئی کروٹ لی تو بھارت بھر میں مسلمانوں اور دلت اقلیت نریندر مودی کی شدت پسندی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی۔ کشمیرمیں برہان دانی کی شہادت کے بعد بھارتی فورسز نے کشمیری نوجوانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کئے اور بھار تی فوج کے ہا تھوں کشمیروں کا قتل عا م کا سلسلہ جاری ہے۔بھارت پاکستان کا پانی روکنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں متعدد ڈیمز تعمیرکررہا ہے اس کے علاوہ افغانستان میں بھی پاکستان کی طرف آنے والے دریا پرڈیم کی تعمیر میں بھرپور معاونت کررہاہے۔ اگریہی صورتحال رہی تو خطرہ ہے آئندہ چند ہی برسوں میں پاکستان میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ بھارت پاکستان کو دبانے کے لئے مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہاہے۔بھارتی سکیورٹی فورسز نے سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کرکے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچا رہا ہے۔ بھارتی جنگی جنون کا نتیجہ جوہری تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے جس کا دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے بارے میں عالمی قوتوں کا موقف کتنا ’’منافقانہ‘‘ ہے۔ پاکستان بھارت کشیدگی کا خاتمہ اور دونوں ملکوں میں دوستی پاکستان کی اصل خواہش ہے، لیکن بھارت کے حکمران یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے مسلمان شودر کی حیثیت قبول کرلیں۔ اس خواہش کے لیے بھارت کو امریکہ اور عالمی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ علامہ اقبال امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک کی قوت و طاقت کا مرکز ’’یہود‘‘ کو یہ کہہ کر قرار دے چکے ہیں کہ ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ سمیت ہر مغربی ملک کا اصل حکمران اسرائیل ہے۔ یہی اسرائیل کی طاقت کا اصل راز ہے۔ اس لیے جس قوت کو بھی عالمی طاقت بننے کا شوق ہے، اْسے ’’اسرائیل‘‘ کی حکومت کی حمایت حاصل کرنی ضروری ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان موجودہ تعلقات کا یہی راز ہے۔ اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھارت کا ’’تاریخی‘‘ دورہ کیا تھا۔ بھارت اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات صرف 25 برسوں پر محیط ہیں، لیکن یہ ایسے تعلقات ہیں کہ جو قوموں اور ملکوں کے تعلقات سے بلند نظر آتے ہیں۔ اسی پس منظر میں بھارت کے فوجی سربراہ کی اشتعال انگیز تقریروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں، حالانکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ دونوں ممالک جوہری طاقت ہیں اور پاکستان کی جوہری طاقت ہی براہِ راست جنگ کے سلسلے میں سب سے بڑی روک ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے خلاف امریکی اور بھارتی مشترکہ عزائم کا بھی یہی سبب ہے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں اس عرصے میں عراق، افغانستان، لیبیا اور شام کو کھنڈر بناچکی ہیں۔
محض دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے ،اسرائیل کے ساتھ معاہدے کرنے۔ امریکا کا گلوبل پارٹنر، جوہری اتحادی اور سپلائرز گروپ کا ممبر بننے سے اس کے پاکستان مخالف مذموم اہداف و عزائم تعبیر سے محروم محض اندھے کا مبہم خواب رہیں گے۔ بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے کلکتہ، ممبئی، نئی دہلی، مدارس، بنگلور جیسے میگا شہروں میں بھی کروڑوں شہری فٹ پاتھوں، جھونپٹر پٹیوں، ٹرنک سیور پائپ لائنوں، گرین بیلٹوں، پارکوں، انڈر پاسوں، کھلے بنجر میدانوں اور حفظان صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم غیر انسانی ماحول میں جنم لیتے، پلتے، پروان چڑھتے، جواں ہوتے، شادیاں کرتے، نئی نسل کو جنم دیتے، بیمار پڑتے اور کسمپرسی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے یہیں سے ان کی ارتھیاں اٹھتیں، جوہڑوں کنارے بنائے گئے شمشان گھاٹوں میں ان کا ’’انتم سنسکار‘‘ ہوتا اور ان کی ’’استیاں‘‘ گنگا جل کی نذر کرنے کے بجائے گندے نالوں میں بہا دی جاتی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی حکومت کوجنگی جنون کے بجائے اپنے ملک کی غریب عوام کو غربت سے نکالنے کے جنون میں مبتلاء ہونا چاہیے ۔ جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر حکمران اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔عالمی برادری بھارت کو جنگی جنون سے باز رکھنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کے۔ بہترہوگا عالمی برادری خطہ کو جوہری تصادم سے محفوظ کرنے کیلئے نہ صرف بھارت کے جنگی جنون کو لگام دے بلکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے بھی کوششیں تیز کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے