Voice of Asia News

کیل مہاسوں اور جھریوں کا کامیاب علاج :ڈاکٹر رفیق احمد

لاہور (وائس آف ایشیا)انسان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جلد میں بھی تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں، خاص طور پر چہرے کی جلد بہت جلد متاثر ہوتی ہے۔ خواتین ہر عمر میں خود کو جوان رکھنے کے ٹوٹکے اپناتی ہیں۔ ان کے لیے ماہرین نے ایک طریقہ دریافت کر لیا ہے جس پر عمل کرنے سے وہ مختلف مشکل ٹوٹکے چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ خواتین کو بخوبی علم ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ان کے چہرے کی جلد کی عمر بھی بڑھ رہی ہوتی ہے اور اس کا اندازہ چہرے پر پڑنے والی جھریوں سے ہوتا ہے۔ بعض خواتین کی جلد بہت حساس ہوتی ہے، جو مضر موسمی اثرات کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ اس لیے کم عمر میں ہی ان کے چہرے پر کیل مہاسے اور جھریاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات عمر کے ساتھ چہرے کی جلد پر جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہ خواتین کو عمر سے بڑا بنا دیتی ہیں اس لیے چہرے کی بروقت دیکھ بھال ضروری ہے، ورنہ بڑھاپے کے اثرات چہرے پر جلد رونما ہونے لگتے ہیں، جن کو چھپانا نا ممکن ہوتا ہے۔ خواتین کے حوالے سے یہ بات عام ہے کہ وہ چہرے کی جلد کو جوان رکھنے کیلئے پلاسٹک سرجری یا بوٹکس کرواتی ہیں۔ کئی فنکارائیں ان طریقوں سے استفادہ بھی کر رہی ہیں، لیکن یہ جلد کو جوان رکھنے کی دیرپا طریقے نہیں ہیں۔ خواتین ایسے طریقوں کے اثرات زائد ہونے کے بعد دوبارہ جلدی ماہرین سے رجوع کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ماہرین نے ایسے میں سائنسی تجربات کی روشنی میں خواتین کی اس مشکل کا حل لائٹ تھراپی کی صورت میں ڈھونڈ لیا ہے۔ لائٹ تھراپی اب ہمارے ملک میں مقبول ہو رہی ہے۔ ماہرین نے لائٹ تھراپی کو کیل مہاسے اور جھریاں ختم کرنے کا سہل اور دیر پا علاج قرار دیا ہے۔ لائٹ تھراپی کیا ہے؟ اس کے استعمال سے چہرے پر کس قدر فرق نمایاں ہوتا ہے؟ اس بارے میں جاننے سے پہلے اس لائٹ تھراپی کو سمجھنا ضروری ہے۔
لائٹ تھراپی:
لائٹ تھراپی کو فوٹو تھراپی کہا جاتا ہے۔ طویل عرظے سے مصنوعی روشنی کے ذریعے جلد ی امراض، ڈپریشن، نیند میں خلل کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آپ نے ٹی وی پر یا کسی فلم میں اداکاروں کے پس منظر میں ساحل سمندر پر کچھ لوگوں کو دھوپ سیکتے ہوئے دیکھا ہو گا، دراصل ساحل پر دھوپ میں لیٹے رہنے کا یہ عمل ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ وہ مختلف قسم کے جلدی امراض کا شکار ہوتے ہیں جن کے معالجین انہیں دن میں ایک بار دھوپ سینکنے کا مشورہ دیتے ہیں جسے ہیلیو تھراپی کہا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح لائٹ تھراپی بھی کی جاتی ہے، لیکن اسے ہم سورج کے بجائے برقی روشنی کا استعمال کرتے ہیں، جس کے لیے لیمپ اور دوسرے برقی آلات کی مدد لی جاتی ہے۔ ماہرین نے لائٹ تھراپی سے کئی بیماریوں کا علاج تلاش کر لیا ہے، جن میں چہرے پر پڑنے والی جھریوں اور کیل مہاسوں کا علاج بڑی کامیابی سے کیاجا سکتا ہے۔ لائٹ تھراپی سے نومولود میں یرقان، چنبل، بے چینی، نفسیاتی اور جلدی امراض کا علاج بھی ممکن ہے۔ لائٹ تھراپی کا طریقہ کار نہایت آسان ہے۔ آپ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لیمپ یا کسی دوسرے برقی آلے کی مدد سے بلب یا ٹیوب لائٹ کی روشنی کو اپنے چہرے پر روزانہ ایک آدھ گھنٹے تک پڑنے دیں۔ لائٹ تھراپی میں استعمال ہونے والے بلب کی روشنی عام بلب کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس عمل کے لیے مارکیٹ میں مختلف رنگوں والے بلب بھی فروخت ہوتے ہیں جو مختلف ڈیزائن کے لیمپوں یا دوسرے آلات میں نصب ہوتے ہیں جن سے روشنی شعاعوں کی صورت میں نکلتی ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یورپ میں لائپ تھراپی کی مدد سے خواتین کیل مہاسے اور جھریوں کا کامیاب علاج کر رہی ہیں۔ لیکن کئی ممالک ایسے ہیں جہاں لاائٹ تھراپی کے حوالے سے لوگ ناواقف ہیں۔ لائٹ تھراپی نہایت ہی آسان ہے۔ آپ یہ لیمپ یا ٹیوب لائٹ کے قریب بیٹھ جائیں۔ لیمپ سے آپ کا فاصلہ اتنا ہو کہ آپ بآسانی کسی کتاب یا اخبار کا مطالعہ کر سکیں اور آپ کو اس بات کا بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ روشنی آپ کے چہرے کے مسلسل پڑ رہی ہے۔ طبی ماہرین عام طور پر چنبل، نیند میں خلل اور بے چینی کے لیے بھی لائٹ تھراپی تجویز کرتے ہیں۔ اس بار ماہرین نے خاتون خانہ اور کم عمر میں جن لڑکیوں کی جلد موسمی اثرات کا شکار ہو جاتی ہے، ان کے لیے لائٹ تھراپی تجویز کی ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ لائٹ تھراپی سے چہرے پر پڑنے والی جھریاں اور کیل مہاسے کچھ ہی عرصے میں غائب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ لائٹ تھراپی کرتے ہوئے اس بات کاخیال رکھنا ضروری ہے کہ روشنی کی لہریں آپ کی آنکھوں کے قریب نہ ہوں، اس لیے لائٹ تھراپی کا عمل کامیابی سے کرنے کے لیے معالج سے مشورہ کر لیں کیونکہ برقی روشنی سے آنکھیں متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ بہرحال یہ عمل اتنا خطرناک بھی نہیں ہے کہ آپ لائٹ تھراپی کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیں۔ بس یہ خیال رکھیں کہ لائٹ تھراپی کے دوران روشنی آپ کے چہرے پر کچھ فاصلے سے مسلسل پڑتی رہے اور آپ کی نظر روشنی پر نہ پڑے۔ امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں لائٹ تھراپی کرنے والی خواتین نے اس عمل سے قبل ماہرین سے مشاورت کی جو سوال و جواب کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ اس گفتگو کو پڑھنے کے بعد آپ یہ جان سکتے ہیں کہ لائٹ تھراپی کیا ہے اور کس طرح کی جاتی ہے؟
لائٹ تھراپی کیا ہے اور کیا اس عمل کے ذریعے موسم سرما کے دوران جلد پر پڑنے والے مضر اثرات ختم کئے جا سکتے ہیں؟
ماہرین کا کہناہے:
لائٹ تھراپی میں مصنوعی روشنی کی مخصوص لہریں جلد پر ڈالی جاتی ہیں۔ یہ اتنا آسان عمل ہے کہ کوئی بھی اپنے کمرے میں بیٹھ کر آسانی سے لائٹ تھراپی کر سکتا ہے۔ لائٹ تھراپی کے لیے برقی بلب یا ٹیوب لائٹ استعمال کی جاتی ہے، جسے لیمپ یا کسی ایک بکس میں لگا دیا جاتا ہے جس میں روشنی منعکس کرنے والی سکرین نصب ہوتی ہے تاکہ روشنی کی لہریں سکرین سے گزر کر آپ کی جلد پر پڑتی رہیں۔ یاد رکھیں لائٹ تھراپی کے دوران دوران بلب یا ٹیوب لائٹ کی روشنی کو براہِ راست اپنی جلد پر نہ ڈالیں بلکہ اس کے لیے لیمپ یا بکس کا استعمال کریں۔ مثلاً ایکسرے دیکھنے والے بکس یا اس جیسے بکس میں بلب نصب کر دیں۔ اب آپ اس بکس یا لیمپ کو میز پر رکھیں اور کرسی پر بیٹھ کر کتاب کا مطالعہ شروع کر دیں۔ اس عمل کے دوران روشنی کی طرف نہ دیکھیں اور نہ ہی اپنی آنکھیں بند کریں۔ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے کسی اخبار یا کتاب کا مطالعہ شروع کر دیں یا پھر کھانا کھانے کے دوران بھی لائٹ تھراپی کی جا سکتی ہے۔ جھریوں کے علاج کے لیے لائٹ تھراپی کی مشق کرنے کا دورانیہ ایک دن میں کم از کم پندرہ منٹ اور زیادہ سے سے زیادہ دو گھنٹے بھی ہو سکتا ہے۔ لائٹ تھراپی کرنے کے دورانیے کا انحصار چہرے اور ہاتھوں پر پڑنے والی جھریوں پر ہوتا ہے۔ بعض خواتین کی جلد بہت حساس ہوتی ہے ان کے چہرے اور ہاتھوں کی جلد پر جھریاں عمر ڈھلنے سے پہلے ہی واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ان خواتین کو دن یا رات کے وقت کم از کم ایک گھنٹے تک لائٹ تھراپی کرنی چاہیے اور لڑکیوں کی جلد موسمی اثرات سے متاثر ہو رہی ہو تو وہ بھی آدھا گھنٹہ یہ مشق دہرائیں۔
کیا لائٹ تھراپی کے بعد دھوپ سے جلد متاثر نہیں ہو گی؟
لائٹ تھراپی ایسا عمل ہے جو آپ اپنے گھر پر بند کمرے میں سر انجام دیتے ہیں۔ دھوپ کے حوالے سے کئی مریض یہ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ جب وہ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو سورج کی روشنی میں اپنی صحت کو کافی خوشگوار محسوس کرتے ہیں اور ان کی جلد پر بھی کسی قسم کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
لائٹ تھراپی کس طرح جھریوں اور کیل مہاسوں کو ختم کرنے کا کام کرتی ہے؟
اس اہم سوال پر ماہرین کا کہنا ہے:
یہ تو تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ لائٹ تھراپی خواتین کے چہرے پر پڑنے والی جھریوں کو رفتہ رفتہ دور کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ روشنی سے اس علاج کے حوالے سے اب تک کی جانے والی تحقیق کے مطابق یہ آپ کے خون کی گردش پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جلدی امراض کا شکار افراد دوسرے کئی امراض کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے کسی روشنی کے کسی جسم پر اثر کو واضح کرنا آسان نہیں ہے۔ اگر کوئی خاتون بلڈ پریشر کا شکار ہے تو اس پر روشنی کے اثرات خون کے لیول کے مطابق ہوتے ہیں۔ لیکن لائٹ تھراپی کرنے کا کوئی نقصان نہیں ہے۔
لائٹ تھراپی کے مضر اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
وہ افراد جو درد شقیقہ، ناک کے امراض اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں، لائٹ تھراپی سے ان کی تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے لائٹ تھراپی شروع کرنے سے پہلے ایسے افراد کو اپنے معالج سے ایک بار معائنہ ضرور کروانا چاہیے۔ اس کے علاوہ وہ خواتین جن کی جلد بہت حساس ہے، گرمی دانے اورخارش کی شکایت رہتی ہے ان کے لائٹ تھراپی کا انتخاب درست ثابت نہیں ہوتا ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنا مکمل علاج کروائیں اور اس کے بعد لائٹ تھراپی شروع کرنے سے قبل لیمپ اور برقی لائٹ کا اچھی طرح سے جائزہ لے لیں۔ یورپ میں لائٹ تھراپی کے مراکز بھی قائم ہو چکے ہیں جہاں خواتین روزانہ ایک سے دو گھنٹے تک لائٹ تھراپی کرواتی ہیں۔ ان مراکز میں تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتاہے جو خواتین کو لائٹ تھراپی گھر پر کرنے کے طریقے بھی سکھاتا ہے۔ اگر آپ لائٹ تھراپی کے بارے میں میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے فیملی فزیشن سے بھی مشاورت کر سکتی ہیں کیونکہ 1980 سے میڈیکل سائنس میں جھریوں اور کیل مہاسوں کے علاج کے لیے لائٹ تھراپی کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔
rafiqdr891@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے