Voice of Asia News

قدرتی غذائوں کا استعمال اینٹی بایوٹکس سے بہتر ہے، ماہرین

لاہور(وائس آف ایشیا) برطانوی ماہرین صحت نے کہ اہے کہ دنیا بھر میں اینٹی بایوٹک ادویہ بڑی تعداد میں استعمال کی جارہی ہیں لیکن قدرتی طور پر کئی غذائیں قدرتی اینٹی بایوٹکس کے خواص رکھتی ہیں۔ برطانوی ادارہ برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ’’این ایچ ایس ‘‘کے مطابق ہر 10 میں سے ایک فرد اینٹی بایوٹکس کے مضر اثرات کا شکار ہوتا ہے اور اس سے نظامِ ہاضمہ شدید متاثر ہوتا ہے جبکہ 15 میں سے ایک فرد ان ادویہ سے الرجی کا شکار ہوجاتا ہے۔سائنس دانوں نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اگر اینٹی بایوٹک ادویہ کی جگہ قدرتی اجزا استعمال کیے جائیں تو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ان میں سے پہلا نمبر لہسن کا ہے۔ لہسن کئی اقسام کے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ثابت ہوا ہے جن میں سالمونیلا اور ای کولائی بیکٹیریا سرِفہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اینٹی بایوٹکس سے شفایاب نہ ہونے والے مریضوں کو بھی لہسن کھلایا جاتا ہے۔ہزاروں برس سے زخموں کو ٹھیک کرنے، توانائی کے حصول اور کئی امراض میں استعمال کیا جانے والے شہد میں ہائیڈروجن پراکسائیڈ پر مشتمل اجزا ہوتے ہیں جو زخم کو مزید پھیلنے سے روکتے ہیں اور یہ 60 اقسام کے بیکٹیریا کے خلاف بہت مؤثر ہے۔ اسے میتھی سیلین رزسٹنٹ اسٹیفائیلو کوکس آریئس (ایم آر ایس ای) کے خلاف بھی مؤثر قرار دیا گیا ہے سائنسدانوں کے مطابق ادرک ایک بہترین قدرتی اینٹی بیکٹیریا نعمت ہے۔یہ کئی اقسام کے بیکٹیریا کو ختم کرنے ، نقاہت اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ لونگ پانی میں ای کولائی سمیت کئی اقسام کے بیکٹیریا کو اچھی طرح ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سانسدانوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحتمند زندگی کے لئے ضروری ہے کہ اینٹی بایوٹکس سے گریز کرتے ہوئے قدرتی اشیاء کو غذائوں میں شامل کیا جائے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے