Voice of Asia News

خوشگوار ماحول بھی صحت کا لازمہ ہے

  لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ) گھر ہر شخص کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہوتا ہے جس پر اس کا مکمل وجود ہوتا ہے۔ گھر میں عدم اعتماد یا ٹکراؤ آ جانے پر انسان کی زندگی اور معاشرے کے تئیںنظریہ ہی بدل جاتا ہے۔ وہیں اگر گھر میں پیارمحبت اور خوشحالی ہو تو بڑی سے بڑی مصیبت اور مشکل کا بھی آسانی سے حل نکل آتا ہے۔ جب کنبے کے تمام فرد خوش رہیں گے تو آپ کی زندگی اپنے آپ خوشگوار ہو جائے گی۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہی ہے آخر گھر میں کس طرح ماحول کو خوشگوار بنایا جائے۔ گھر کا مطلب صرف ایک ساتھ رہنا ہی نہیں ہوتا درحقیقت، گھر وہ ہوتا ہے جہاں امن چین اور سکون یا دکھ تکلیف سب مل کر بانٹا جاتا ہے۔ کنبے کے تمام لوگ زنجیر کی کڑی کی طرح آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ زنجیر کی کوئی بھی ایک کڑی اگر کمزور ہوئی تو زنجیر کی پوری طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کی قدر اگر کی جائے تو گھر میں خوشحالی آتی ہے۔ تمام لوگ ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ یعنی گھر میں ایک توازن سا بنا رہتا ہے۔ جیسے ہی یہ توازن بگڑتا ہے رشتوں میں ٹکراؤ آنے لگتا ہے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جوائنٹ فیملی کا کوئی ایک فرد کنبے کے دیگر لوگوں کی پسند ناپسند اور خوشی کا مکمل مکمل خیال رکھتا ہے لیکن بدلے میں اسے وہ دیکھ بھال اور محبت نہیں مل پاتا جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ گھر میں ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں۔ گھر میں تمام لوگوں کی خوشیوںکا اگر خیال رکھا جائے تو آپس میں رشتے ہمیشہ مضبوطی سے بندھے رہتے ہیں۔ بھلے ہی اپنے کنبے کے لوگوں کے ساتھ آپ کو وقت گزارنے کا کم موقع ملتا ہے ایسے میں کوشش کریں کہ جتنا بھی وقت ملے اس میں ایک دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کریں۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ ان کی پریشانیوں کو سمجھیں اور صحیح رہنمائی کریں۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ کنبے میں محبت و گھر میں خوشحالی بنی رہے تو بڑی بڑی خوشیوں کے انتظار میں چھوٹی چھوٹی خوشیوںکو نہ گنوائیں۔ ان مواقعوں پر بھی دل کھول کر خوشی منائیں۔ یعنی ہر پل خوشیوںکے ساتھ گزارنے کی کوشش کی جائے۔ آج کل کی بھاگ دوڑ بھری زندگی میں کنبے کے لوگوں کے ساتھ وقت نہ گزار پانا بھی رشتوں میں دوری کی ایک بڑی وجہ بن گیا ہے۔ بات چیت کی کمی کے سبب غلط فہمیاں اور دوریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ایسی صورت سے بچنے کے لئے رات کا کھانا ایک ساتھ کھائیں اور آپس میں بیٹھ کر باتیں کریں۔ لیکن خیال رہے کہ ان سب کے درمیان گھر کے دیگر افراد کی پرائیویسی کو بھی پوری توجہ دیں۔ حد سے زیادہ کسی کی بھی زندگی میں دخل نہ دیں۔ زیادہ دخل اندازی سے بھی رشتے میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ اکثر گھر اور باہر کے کاموں میں مصروف رہتے ہمارا مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ کرنا عادت سی بن جاتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے آپس میں اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے روٹین سے بریک لیں اور گھر کے لوگوں کے ساتھ کہیں باہر گھومنے جائیں۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو وہ آپس میں مل بیٹھ کر دور کریں۔ اس سے گھر میں ایک نئی توانائی پیدا ہوگی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے