Voice of Asia News

دو قومی نظریہ اور قراردادِ پاکستان : محمدقیصرچوہان

دو قومی نظریہ اور قراردادِ پاکستان 23 مارچ 1940ء برصغیرکی ملّتِ اسلامیہ کی تاریخ کا سنگِ میل ہے کیونکہ اس دن برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کے نمائندوں نے لاہور میں جمع ہوکر مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست کا باضابطہ مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اور اس سلسلے میں منظور ہونے والی قرارداد اتنی غیر معمولی تھی کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اسے قراردادِ لاہور کہا، مگر ہندو پریس نے اس قرارداد کو قراردادِ پاکستان کا نام دیا۔ چنانچہ اس قرارداد کا نام قراردادِ پاکستان پڑگیا۔23 مارچ 1940ء کا دن دو قومی نظریے کی وجہ سے طلوع ہوا تھا۔ قراردادِ پاکستان کے ظہورکا سبب بھی دو قومی نظریہ تھا، اور دو قومی نظریہ لاالٰہ الااللہ محمد الرسول اللہ کے سوا کچھ نہ تھا۔
قراردادِ لاہور 23 مارچ 1940ء کو منظور ہوئی لیکن قائداعظم کے سوانح نگار ہیکٹر بولتھو نے اپنی کتاب Jinnah Creator of Pakistan میں لکھا ہے کہ اس مرحلے کے آنے سے بہت پہلے قائداعظم کے تصورات میں انقلاب رونما ہوچکا تھا۔ مثلاً برطانیہ کے ایک رسالے Time and Tide میں قائداعظم کا ایک مضمون 9 مارچ 1940ء کو شائع ہوا تھا، اس مضمون میں قائداعظم نے لکھا تھا:
’’ہندوستان میں متعدد نسلوں کے لوگ بستے ہیں۔ ان میں سے بہت سی نسلیں اپنی روایات اور طرزِ زندگی میں ایک دوسرے سے اسی قدر مختلف ہیں جتنی یورپ کی قومیں۔ اس ملک میں دو تہائی باشندے ہندو مت کے پیروکار ہیں، اور پونے آٹھ کروڑ مسلمان ہیں۔ ان فرقوں کا اختلاف صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں، ان کے کلچر اور قانون بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اسلام اور ہندو مت دو مختلف تہذیبوں کے مظہر ہیں۔ ہندو مذہب اور سماج کا بنیادی اصول ذات پات کی تفریق ہے اور یورپ سے تعلق و روابط کا اس تفریق پر کچھ زیادہ اثر نہیں۔ اس کے برعکس انسانی مساوات کا تصور اور فلسفہ اسلام میں بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘اس مضمون کے آخری حصے میں قائداعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے دو قوموں کی معنی خیز اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ ہمیں ایک ایسا آئین وضع کرنا چاہیے جو اس حقیقت پر مبنی ہو کہ ہندوستان میں دو قومیں بستی ہیں۔‘‘
دو قومی نظریے کا یہ تصور قائداعظم کی فکر میں راسخ ہوتا گیا اور بعد کے برسوں میں اس کی مزید وضاحت اور صراحت سامنے آئی، مثلاً لاہور میں 23 مارچ 1940ء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا:
’’قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے، مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم ہیں۔ لہٰذا وہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی ایک الگ مملکت ہو جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی بسر کرسکیں۔ ہندو اور مسلمان ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہم اپنے مذہب، تہذیب و ثقافت، اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنے طرزِ تعمیر، اپنے اصول و قوانین، اپنی معاشرت، اپنے لباس غرض یہ کہ ہر اعتبار سے مختلف ہیں۔‘‘
برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کا امتیاز اور اختصاص یہ ہے کہ 19 ویں صدی اور 20 ویں صدی میں انہوں نے اسلام کی اصل روح اور اُمت کے تصور کو جس طرح سمجھا، اُمت مسلمہ کے کسی اور حصے نے ان چیزوں کو اس طرح نہیں سمجھا۔ اس حوالے سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ برصغیر کی ملتِ اسلامیہ خواہ اسلام پر عمل سے کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، مگر اسلام برصغیر کے مسلمانوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اور ان کا جذباتی وجود اسلام سے جتنا متاثر ہوتا ہے کسی اور چیز سے اتنا متاثر نہیں ہوتا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ برصغیر میں جو بڑی تحریک چلی ہے مذہب کی بنیاد پر چلی ہے۔ مسلمانوں نے 1857ء میں انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی شروع کی تو اس کی بنیاد اسلام تھا۔ مسلمانوں نے برصغیر میں خلافت تحریک چلائی تو اس کی بنیاد اسلام اور امت کا تصور تھا۔ یہاں تک کہ ہم 20 ویں صدی کے وسط تک آجاتے ہیں۔ 20 ویں صدی قوم پرستی کی صدی تھی۔ قومیں اپنا تشخص نسل، جغرافیے اور زبان کی بنیاد پر متعین کررہی تھیں۔ دوسری جانب سوشلزم کا غلغلہ برپا تھا اور اسے دنیا کے بڑے حصے میں سکہ رائج الوقت کا درجہ حاصل تھا۔ اس زمانے میں اسلام ریاست اور سیاست اور تشخص کے تعین کے حوالے سے قومی، علاقائی یا عالمی اسٹیج پر کہیں بھی موجود نہ تھا۔ لیکن برصغیر کی ملتِ اسلامیہ نے اس دور میں نہ قوم پرستی کے فلسفے کی جانب دیکھا، نہ سوشلزم کے تصور میں کوئی کشش محسوس کی۔ برصغیر کی ملتِ اسلامیہ نے اپنی تعریف یا Defination متعین کی تو اسلام کے حوالے سے۔ اس اسلام کے حوالے سے جو اْس وقت اْس عرب دنیا کے لوگوں کا تشخص بھی متعین نہیں کررہا تھا جہاں سے اسلام آیا تھا۔ ان علاقوں میں عرب قوم پرستی عروج پر تھی۔برصغیر کے مسلمان ایک بھیڑ اور ایک ہجوم تھے، یہ اسلام کی قوت اور تاثیر تھی کہ اس نے انہیں چند ہی برسوں میں ایک منظم قوم بنادیا۔ مسلمان قوم تو پہلے بھی تھے مگر انہیں اپنی اس قوت کا شعور نہ تھا۔ اسلام کی قوت اور اس کی بنیاد پر ایک ریاست کے قیام کے مطالبے نے جداگانہ قوم اور جداگانہ ملت کے شعور کو اتنی تیزی سے عام کیاکہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ مسلمانوں نے 23 مارچ 1940ء کو الگ ملک کا مطالبہ کیا اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آگیا۔ یعنی ایک خواب صرف سات برس میں شرمندتعبیر ہوگیا۔
دو قومی نظریے کی بنیاد اس وقت ہی پڑ گئی تھی جب 1883 میں بمبئی میں برصغیر کی تاریخ کا پہلا بڑا ہندو مسلم فساد ہوا تھا۔ یہ فساد کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا بلکہ ہندوؤں کے اس مسلسل مخالفانہ پراپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔ جو انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے ’’گؤ رکھشا‘‘ تحریک کے پردے میں مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ ان متعصب ہندو رہنماؤں نے جن میں بال گنگا دھرتلک سب سے نمایاں تھے گنگا پتی دیوتا کا پبلک طور پر جشن منانا شروع کیا۔ اس جشن میں جلوس نکالے جاتے جن میں آگے آگے گنگا باز نوجوانوں کی ٹولیاں ہوتیں اور پیچھے پیچھے بلند آواز میں باجے اور گیت گانے والے ٹولے ہوتے۔ یہ لوگ قصداً ایسے وقت میں مساجد کے سامنے باجے بجاتے جب مسلمان نماز میں مشغول ہوتے۔ تلک نے ہندوؤں میں جنگی جذبات ابھارنے کے لیے شیو اجی کو ہندو قوم کا ہیرو بنایا اور باقاعدہ ’’یوم شیوا جی‘‘ منانا شروع کیا اور اس میں وہ سب کچھ کیا جاتا۔ جو گنگا پتی کے جشن میں ہوتا۔ شیوا جی کے متعلق تقریر کرتے ہوئے تلک یہاں تک کہنے سے نہ چوکتا تھا کہ:
’’شیوا جی نے افضال خان کو دوسروں کی بھلائی کے لیے نہایت اچھے ارادے سے قتل کیا تھا۔ اگر ہمارے گھروں میں چور گھس آئیں اور ہماری کلائیوں میں ان کو بھگانے کے لیے کافی طاقت نہ ہو تو ہمیں بلا جھجھک انہیں بند کرکے زندہ جلا دینا چاہیے۔‘‘
ہندوستان میں گؤر کھشا تحریک، گنا پتی اور شیوا جی کے جشن منانے کے آغاز، نماز کے اوقات میں مسجدوں کے سامنے گانے بجانے پر ہندوؤں کے اصرار اور ان سب کے نتیجے میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات نے برصغیر کی سیاست کا رخ موڑ دیا۔ اس زمانے میں انگریزوں نے ہندوستانیوں کو بھی کاروبار حکومت میں حقیر سی نمائندگی دے کر انداز حکومت میں تھوڑا سا تغیر پیدا کیا۔ چونکہ اپنے ملک میں انگریز کاروبار حکومت میں عوامی نمائندگی کے اصولوں پر کاربند تھا اور عوامی نمائندگی کی بنیاد پر اس طرز حکومت سے مسلمان رہنماؤں نے دل میں پہلی بار یہ احساس پیدا کیا کہ ہم برصغیر میں اقلیت میں ہیں اور انگریزوں کے لائے ہوئے نیابتی اصولوں کے مطابق ان کے نمائندے ہمیشہ اقلیت میں رہیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مرکزی حکومت میں ان کی آواز ہمیشہ غیر موثر رہے گی، لہٰذا کچھ ایسے سیاسی ذرائع اختیار کئے جائیں جن سے ملک کی اجتماعی زندگی میں ان کی آواز موثر اور حیثیت مسلم ہو جائے۔
سرسید احمد خان پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ایک واضح مسلم قومیت کے شعور کو اُجاگر کیا۔ مسلم لیگ کے قیام سے بہت پہلے بلکہ کانگریس کے وجود میں آنے سے بھی پہلے انہوں نے مسلمانوں کو ان کے علیحدہ قومی تشخیص کا احساس دلانا شروع کر دیا تھا۔ جب سرسید احمد خان اس طرح مسلمانان ہند کے حقوق کے لیے سینہ سپر ہوئے تو ان تنگ نظر ہندوؤں کی طرف سے سب سے بڑا الزام یہ لگایا کہ وہ سرکار پرست اور ٹوڈی ہیں اور ثبوت کے طور پر ان کی کتاب ’’وفادار ہندی مسلمان‘‘ پیش کی گئی جس میں سرسید نے ان مسلمان خاندانوں کے حالات درج کئے تھے جنہوں نے 1875 کے ہنگامہ کے دوران انگریز مردوں، عورتوں ار بچوں کو پناہ دی تھی۔ اس کتاب کا مقصد عام مسلمانوں کو انگریزوں کے خوفناک انتقامی جذبہ سے بچانا تھا ورنہ جو شخص 1857 کے بعد لگائے گئے مارشل لاء کے دوران ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ جیسی کتاب لکھ سکتا تھ، جو شخص علی گڑھ کے انگریز کلکٹر اور دوسرے انگریز افسروں کو ایم۔ اے۔ او کالج کی تقریبات میں اس بنا پر دعوت نامے بھیجنے سے انکار کر سکتا تھا کہ انہوں نے کالج کمیٹی کی زمین حاصل کرنے کی کوشش میں خلل اندازی کی تھی جو شخص اپنی تحریروں میں وائسرائے لارڈلٹن کی پنجاب یونیورسٹی اسکیم کے پرخچے اڑا سکتا تھا جو شخص یو۔ پی کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر سرولیم مور سے اس بناء پر ملنے سے انکار کر سکتا تھا کہ گورنر مذکورنے اپنی ایک تقریر میں ان پر غلط بیانی کا الزام لگایا تھا جو شخص آگرہ دربار سے محض اس بناء پر اٹھ کر جا سکتا تھا کہ وہاں نشستوں کی ترتیب میں انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان امتیاز روا رکھا گیا تھا وہ سرکار پرست یا ٹوڈی کیونکر ہو سکتا تھا۔
سرسید احمد خان کی زندگی میں ان کے کچھ ساتھیوں نے ان کے ساتھ بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا تھا۔ مولاناحالی نے مسدس مدو جزر اسلام لکھ کر مسلمانوں کے علیحدہ قومی تشخیص کو مستقل طور پر متعین کر دیا تھا۔ نواب محسن الملک، مولانا شبلی نعمانی، مولانا حسرت موہانی، علی برادران، مولانا ظفر علی خان، الغرض تمام مسلمان اہل فکرو دانش نے ان کے بعد ان کے کام کو ویسے ہی جوش و خروش سے جاری رکھا۔
کانگریس کے فرقہ وارانہ مزاج کو دیکھتے ہوئے بعدازاں مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم قائم کی جائے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں بنگالی مسلمان پیش پیش تھے۔ چنانچہ 1905 میں نواب سلیم اللہ خان نے بنگال میں ’’محمڈن پراونشل یونین‘‘ بنائی۔ اس سے اگلے برس یکم اکتوبر 1906 کو ہندوستان بھر کے مسلمان رہنماؤں کا ایک نمائندہ وفد شملہ کے مقام پر وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملا۔ اس وفد ک قیادت سر آغا خان کر رہے تھے اور اس میں بارہ نمائندے یو۔ پی سے، آٹھ پنجاب سے، چھ بنگال سے اور باقی نو ہندوستان کے دوسرے صوبوں سے تھے۔ وفد کے ارکان گیارہ بجے سے ذرا پہلے وائسریگل لاج ے ہال روم میں جمع ہوئے۔ ان کی کرسیاں ایک ہلالی شکل میں رکھی گئی تھیں جن میں سے ہر ایک رخ سامنے وائسرائے کی کرسی کی طرف تھا۔ ٹھیک گیارہ بجے لارڈ منٹو اپنے سٹاف کے ساتھ ہال میں داخل ہوا اور تمام نمائندے اس کی تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ لارڈ منٹو مہمانوں کی قطار میں ایک ایک نمائندے سے ملا اور اس کے بعد سر آغا خان سے محضر نامہ پیش کیا۔
اس محضر نامہ میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور 1901 کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی چھ کروڑ بیس لاکھ افراد سے تجاوز ہے۔ اس لیے ہم گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ نمائندگی کے کسی بھی نظام کے تحت چاہے وسیع ہو چاہے محدود، ایک ایسی قوم جو عددی اعتبار سے روس کو چھوڑ کر یورپ کے ہر اول درجہ کی طاقت کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے جائز طور پر مطالبہ کر سکتی ہے کہ اسے مملکت میں ایک اہم عامل کی حیثیت سے مناسب انداز میں تسلیم کیا جائے۔
وفد نے واشگاف الفاظ میں کہا ’’جہاں تک انتخاب کا تعلق ہے اس بات کا امکان نہیں کہ جس طرح انتخابی حلقے بنائے گئے ہیں ان میں سے حکومت کی منظوری کے لیے کسی مسلمان کا نام بھیجا جائے، تاآنکہ وہ مسلمان تمام اہم معاملات میں اکثریتی پارٹی کا ہمنواز نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان صوبوں میں بھی جہاں مسلمان آبادی میں ایک واضح اکثریت رکھتے ہیں ان کے ساتھ اکثر اس انداز میں سلوک کیا گیا جیسے وہ ایسے ناقابل اعتنا چھوٹے سیاسی عوامل ہوں جنہیں نظر انداز کر دینے میں کوئی مضائقہ نہ ہو۔
ہر چند اس محضر نامہ کے جواب میں وائسرائے نے کوئی ٹھوس وعدہ نہ کیا لیکن اس نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہر انتظامی ادارہ میں ان کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جائے گا اور جیسا کہ لوگ جانتے ہیں شملہ وفد ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں کامیابی کا ایک مرحلہ ثابت ہوا۔ کیونکہ علیحدہ سیاسی حقوق اور مفادات کا اصول مان کر حکومت برطانیہ نے ان کی جداگانہ قومی حیثیت تسلیم کر لیا تھا۔ جداگانہ انتخاب کا مطالبہ ایک ناگزیر ضرورت تھا کیونکہ مشترکہ انتخاب کے ذریعے منتخب کئے ہوئے ارکان مسلمانوں کے صحیح نمائندے نہیں ہو سکتے تھے۔
16,15 ستمبر 1906 کو لکھنو میں مسلمان زعما کا اجلاس اس غرض سے بلایا گیا تاکہ وائسرائے ہند کو جو محضر نامہ پیش کیا جانا تھا اس کی تفصیلات طے کی جائیں۔ چونکہ اس موقع پر ہندوستان کے تمام صوبوں کے مسلمان اہل فکر اور اہل رائے اصحاب جمع ہوئے تھے اس لیے نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک نے اس اجتماع کو غنیمت سمجھا اور یہ رائے پیش کی گئی کہ تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جائے جو ان کے حقوق کی پوری طرح نگہداشت کرے یہ طے پایا کہ آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے ساتھ ہی جو اس سال دسمبر کے آخری دنوں میں ڈھاکہ کے مقام پر ہونے والا تھا مسلمانوں کی ایک آل انڈیا مسلم کنفیڈریشن کی داغ بیل ڈالی جائے۔ اس خیال کی سب نے تائید کی چنانچہ اتفاق رائے ہو جانے کے بعد مجوزہ جماعت کے نام پر غور و خوض ہوا تو پنجاب کے سر محمد شفیع نے ایک کاغذ پر ’’مسلم لیگ‘‘ لکھ کر آفتاب احمد کو دیا جنہوں نے یہ کاغذ حسن الملک اور وقار الملک کو دکھایا۔ انہوں نے اس نام کو پسند کیا اور متفقہ طور پر یہی نام اختیار کر لیا گیا۔
مسلم لیگ کے قیام کا معتدل مزاج انگریزی اخباروں مثلاً ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ اور لکھنو سے چھپنے والے ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ نے خیر مقدم کیا۔ جبکہ متعصب ہندو اخبارات نے اس کی مخالفت کی۔ وقت گزرتا رہا اور پھر بالآخر وہ دن آگیا جسے یوم پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مارچ 1940 مسلم لیگ، پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے۔ اس روز برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے 34 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کیلئے قرار داد منظور کی۔ جسے قرار داد لاہور یا قرار داد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو نہ صرف مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی بلکہ اسی کی بنیاد پر 7سال بعد 14اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا 34واں سالانہ اجلاس 22سے 24مارچ 1940 کو منٹو پارک میں منعقد ہوا جسے آج کل گریٹر اقبال پارک کہا جاتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اجلاس کی صدارت کی جس میں نواب سرشاہ نواز ممدوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا اور اے کے فضل الحق نے تاریخ ساز قرار داد لاہور پیش کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اسی کے لحاظ سے حل کرنا چاہیے۔ جب تک اس اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا، جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ چل نہیں سکے گا اور صرف مسلمانوں بلکہ انگریزوں اور ہندوؤں کیلئے بھی تباہ کن اور مضر ثابت ہو گا۔ قائداعظم نے کہا کہ لفظ قوم کی ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے اور اس لحاظ سے ان کا اپنا علیحدہ وطن، اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اس طریق پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہو۔
اسلام کا ایک ’’معجزہ‘‘ یہ تھا کہ تحریکِ پاکستان ابتدا میں مسلم اقلیتی صوبوں اور علاقوں مثلاً یوپی، دلی، بہار وغیرہ میں زیادہ مقبول تھی۔ حالانکہ ان علاقوں کے مسلمانوں کو خوب معلوم تھا کہ جداگانہ ریاست کا مطالبہ مسلمانوں کی اکثریت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، چنانچہ پاکستان میں وہی صوبے اور وہی علاقے شامل ہوں گے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لیکن اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کا مسئلہ سیاسی، سماجی یا معاشی مفاد نہیں تھا۔ ان کا مسئلہ ’’نظریاتی مفاد‘‘ تھا، چنانچہ انہوں نے قیام پاکستان کے سلسلے میں تن، من، دھن کی بازی لگادی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ 1946ء تک پنجاب پر خضر حیات ٹوانہ اور یونینسٹ پارٹی کا قبضہ اور غلبہ تھا۔ یونینسٹ پارٹی نہ صرف یہ کہ قائداعظم اور مسلم لیگ کو سخت ناپسند کرتی تھی بلکہ اس میں ہندوؤں اور سکھوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ لیکن برصغیر کے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمان قیام پاکستان کیلئے دن رات کام کررہے تھے۔ یہ اسلام اور اس کے معجزے کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ ایسا معجزہ تھا کہ خود مسلمانوں کی تاریخ بھی اس جیسی کوئی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے