Voice of Asia News

ملکی ترقی کیلئے کردار سازی کو نظام تعلیم کا مر کزبنایا جائے : محمدقیصرچوہان

اللہ پاک نے پاکستان کو بے پناہ مادی و قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ نوجوانوں کی تعداد 50فیصد سے زائد ہے، اسٹریٹجک لوکیشن ہونے کی وجہ سے پاکستان کو دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اس ملک میں چاروں موسم ہیں، ہر طرح کی زمین و پہاڑ ہیں جن میں قدرت کے بے شمار خزانے دفن ہیں، اہم بندرگاہیں ہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام بیش بہا وسائل کے ہو تے ہوئے پاکستان صفِ اوّل کے ممالک میں شامل کیوں نہیں۔جب ہم پاکستان کے اہم مسائل بدامنی، لاقانونیت، کرپشن اور فرقہ واریت کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ان تمام مسائل کا تعلق کردار کے بحران سے ہے۔ ہمارے پالیسی ساز ادارے ابھی تک وہ مطلوبہ نظامِ تعلیم نہیں دے سکے جو معاشرے کے لیے با مقصد اور مفید شہری فراہم کر سکے۔کردار سازی کو نظام تعلیم کا مر کز و محور بنائے بغیر نہ تو ہم ان مذکورہ مسائل کو حل کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعمیر و ترقی کا سفر ممکن ہے۔اسی لیے ہم اپنی نوجوان نسل کو کردار سازی کے مختلف مراحل سے گزار کر معاشرے کا مفید اور کامیاب انسان بنا سکتے ہیں ۔میر ے نزدیک اساتذہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی ، سماجی، اخلاقی اور ذہنی تربیت تعلیم کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے۔
اللہ تعالی نے جتنے بھی انبیا اس کرہ ارض پر بھیجے سب کے پیش نظر انسانوں کی زندگیوں کو سنوارنا اور ان کا تزکیہ نفس کرنا رہاہے۔ خود حضور نبی کریم کے فرائض منصبی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں مختلف مقامات پر جو افعال بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: کہ آپ انسانوں پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، کتاب وحکمت (دانائی) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں یعنی ان کی زندگیوں کو سنوارتے ہیں۔لہذا قرآن وسنت کردار سازی کی تعلیم کی نہ صرف بنیاد فراہم کرتے ہیں بلکہ عملی رہنمائی بھی ہمیں وہیں سے ملتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان کو معاشرے میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو کردار سازی کے نصاب کی بنیاد بنایا جائے۔ پاکستان میں 98 فیصد مسلمان ہیں اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے پیغام کو نہیں سمجھتے۔ علما نے ایمان لانے کے بعدقرآن کریم کے چار حقوق بیان کیے ہیں۔جن میں 1۔ قرآن کی درست تلاوت۔2۔ قرآن کا فہم۔3۔ قرآن پر عمل (انفرادی و اجتماعی)۔4 ۔ قرآن کا ابلاغ شامل ہیں۔
کوئی ذی روح اس دنیا میں ایسا نہیں ہے کہ جس ‘‘سیکھنے ‘‘اور ‘‘سکھانے’’ کے عمل سے گزر نہ ہو۔ نسلِ انسانی کا آغازحضرت آدم علیہ السلام کے وجود سے شروع ہوا اور اگر ہم اس وقت رب رحیم اور فرشتوں کے درمیان ہونے والے مکالمے پر غور کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کے علم میں انسان کا وجود کوئی خاص اہمیت کا حامل نہ تھا۔مگر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔اور پھر آدم علیہ السلام کو تمام اشیا کے ناموں کی تعلیم دے کر ان کو ممتاز اور معتبر ٹہرا دیاجس سے فرشتے بھی لا علم رکھے گئے تھے۔غرض علم کی اہمیت انسان کے وجود کے ساتھ ہی اجاگر کر دی گئی تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسا علم ہے جو اس کے لئے منفعت کا باعث کا باعث ہو ہم دنیا میں مختلف علوم سیکھتے ہیں۔صرف اس لیئے کہ اس کے جاننے کے بعد بہتر ذریعہء معاش حاصل ہو۔جب کہ دنیا میں صرف ایک علم ہے جو کہ انسان کی دنیا میں آنے کے حقیقی مقصد سے آگاہ کرکے اس کی دنیا وی اوراخروی زندگی کیلئے اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے۔اور علم صرف اور صرف قرآن کا علم ہے۔جس طرح زندہ رہنے کیلئے پانی ہوا اور غذا اور انسان کوتن ڈھاپنے کیلئے لباس کی اشدضرورت ہے اسی طرح انسان کی دنیا میں بقا اورآخرت کی فلاح اور روح کی غذا کے لیے اللہ تعالیٰ کاعطا کردہ علم قرآن کریم ہی ہے لہذا جس نے اس کو سیکھ کر عمل کیا وہ ایک کامیاب انسان ٹھہرا۔
میرے نزدیک اُمت مسلمہ کا مستقبل پاکستان سے اور پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ نوجوان نسل کی کردار سازی کو قومی سطح پر ترجیح اول قرار دیا جانا چاہیے کیو نکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھے اور ان پر عمل کیے بغیر کردار سازی ممکن نہیں لہٰذا نوجوانوں کو قرآن سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔قرآن کریم خالق کائنات کا وہ آخری اور حتمی پیغام ہے جس میں انسان کی دنیاوی و اخروی کامیابیوں کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب ہدایت میں پوری انسانیت کے لیے بالخصوص علم نافع، عمل صالح اور فوز وفلاح کے دائمی اصول و ضوابط متعین فرمائے ہیں۔ قرآن کی تعلیمات سے انحراف کر کے مسلمان ذلت، گمراہی، غفلت، مایوسی اور پریشانی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں جا پڑے ہیں۔ اس تشویش ناک صورتحال میں اُمت مسلمہ کو ضلالت و گمراہی، ذلت و جہالت اورانتشار سے نکالنے کے لیے رجوع الی القرآن (قرآن کی طرف لوٹنا) ہی واحد حل ہے۔ عصرِ حاضر میں اُمت مسلمہ کو ذلت و رسوائی اور ہر سطح پر زوال سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ قرآن کی راہ اپنائی جائے اور اس کے ساتھ اپنا تعلق پختہ کیا جائے۔ یہ بات خاص طور پر ذہن نشین کر لیں کہ قرآن مجید کے ساتھ اپنا موثر رابطہ قائم کرنے کے لیے اس کو سمجھنا اور اس کا فہم حاصل کرنا ضروری ہے ۔فہم قرآن کی عظیم دولت کے حصول کے لیے قرآن کے ساتھ تعلیم و تعلّم کا تعلق قائم کرنا قت کا اہم ترین تقا ضاہے۔ جب انسان کا قرآن سے تعلیم و تدریس پر مبنی رشتہ قائم ہوتا ہے تو اس کی زندگی میں خودبخود روحانی کیف کے دروازے کھل جاتے ہیں عمل اور کردار قابل تقلید بن جاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ سلطنت ہند میں اسلام کا پرچار کرنے والے اور ہمارے دلوں کو اسلام کی شمع سے روشن کرنے والے بزرگان دین و اولیاء اللہ تھے جن کے فلسفے اورتعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے سلطنت ہندمیں کروڑوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے آج ہم انہی بزرگان دین و اولیاء اللہ کی تعلیمات کو بھلا کر انہی کو ماننے سے انکاری ہے اور مغربی تہذیب کی یلغار میں بری طرح پھنس چکے ہیں آج اگر ہم بحیثیت امت چاہتے ہیں کہ ہمارے مذہبی و روحانی، مادی و جسمانی، خاندانی، سماجی و معاشرتی، سیاسی و معاشی اور تعلیمی و ثقافتی معاملات درست ہوں تو قرآن مجید فرقان حمید کے ساتھ ساتھ محسن کائناتﷺ کو اپنا رہبر بنائیں صحابہ اکرامؓ کے افکار کی پیروی کرے اور بزرگان دین کی صحبت اختیار کرے کیونکہ انہی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو کو سنوار سکتے ہیں اور وطن عزیز کو در پیش چیلنجز کا با خوبی سامنا کر سکتے ہیں۔
آج کا نوجوان اسلام کے تصورات و نظریات کو سمجھنے میں مشکل اس لیے محسوس کرتا ہے کیونکہ ہر جانب نفرت و اشتعال انگیزی، بے مقصدیت، نفسا نفسی اور انتشار کے سائے منڈلا رہے ہیں آج ثقافت، سیاست، مذہب، معیشت اور قومی سلامتی کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو گونا گوں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسلم تہذیب و ثقافت کا احیاء اور خود اپنے لیے ذہنی و روحانی تسکین اور مسرت و شادمانی کا حصول مشکل نظر آرہا ہے۔ آج کا نوجوان اپنے اصل مقصد کو بھول چکا ہے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی فحاشی، مادیت پرستی، ہوس، مفاد پرستی، ظلم اور جبرنوجوان نسل کے کردار کو تباہ کر رہی ہے ۔ان تمام چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے ایک ہمہ گیر معاشرتی تبدیلی کی ضرورت ہے جو ایک مسلسل جدوجہد کی متقاضی ہے۔جب تک اسلام کے آفاقی پیغام پر گہرا ایمان رکھنے اور دور جدید میں اسلام کے تصورات و تعلیمات کو فروغ دینے والی نسل وجود میں نہیں آجاتی اس وقت تک اس خواب کو حقیقت کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید کی بجائے تعمیری سوچ کو اپناتے ہوئے نوجوانوں کی تربیت کر کے ان کو تعمیر وطن کے پروگرام میں شریک کیا جا سکے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ تمام تر چیلنجز اور مشکلات کے باوجود نوجوانوں کے ایک خاص طبقہ میں مثبت سوچ پروان چڑھ رہی ہے جو تعمیری خطوط پر آگے بڑھتی رہی تو انشاء اللہ ایک بڑی خوشگوار تبدیلی کا ذریعہ بنے گی۔ وطن عزیز کے نوجوان نسل کی روحانی تربیت کرنا،نوجوانوں میں سماجی بہبود کا جذبہ پیدا کرنا، نوجوانوں میں اعتماد کی بحالی اور قومی خدمت کے جذبے کو فروغ دے کر تعمیر وطن کی جدوجہد میں شریک کرنا، نوجوانوں کو معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی اور جنسی بے راہ روی سے بچانا، سماجی اور معاشی استحصال کا خاتمہ کرنا، نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانا، نوجوانوں کو قیام امن کے لیے کوشاں کرنا، نوجوانوں کی کیریئر کونسلنگ، نوجوانوں میں جمہوری رویوں او رقائدانہ صلاحیتوں کا فروغ اور اس کو نکھارنے کیلئے عملی کاوشیں کرنا ملک کے تمام تعلیمی اداروں کے فرائض میں شامل ہو نا چاہیے۔
پاکستان میں بلا امتیاز رنگ و نسل معاشرے میں تعلیم اور ثقافت کے ساتھ ساتھ، امن، محبت، تشکیل کردار،خدمت انسانیت،نوجوانوں کی روحانی، فکری، نفسیاتی، علمی، فنی، معاشی اور سماجی تربیت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ معاشرے کے نوجوانوں کو روحانی اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر وطن اور اصلاح معاشرہ کیلئے تمام تعلیمی اداروں کو کام کرنا چاہیے۔تاکہ نوجوانوں کو ذہنی قناعت، قلبی اطمینان اور روحانی سکون میسر آسکے اور ان کی شخصیت اضطراب، انتشار اور تناؤ سے بچ کر باطنی طور پر مضبوط، مربوط اور پر اعتماد بن سکے۔ جہالت پاکستان کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے جو کہ تعمیر وطن میں حائل بہت بڑی رکاوٹ ہے شہری علاقوں کی نسبت یہ مسئلہ دیہی علاقوں میں شدت کے ساتھ موجود ہے۔اس لئے دیہات اور شہروں کے مضافاتی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے کام کر نے کی اشد ضرورت ہے ۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے