Voice of Asia News

شیر خوار بچوں کی صحت کاانحصار ماں کی صحت

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)شیر خوار بچوں کی صحت کاانحصار بہت سارے عوامل پر ہوتا ہے جن میں ماں کی صحت، حفظان صحت کے نظام میں خامی ،قوت مدافعت میں کمزوری، ناقص غذا اور اسہال جیسی بیماریاں بچوں کی اموات کی اہم اور نمایاں وجوہات ہیں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح اموات میلنیم ڈویلپمنٹ گول کے تحت دی گئی ہدف جو پانچ سال کے بچوں کی اموات پر قابو پانا تھا پر پاکستان کی ناقص کارکرگی کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے برعکس بنگلہ دیش اور نیپال اس ہدف کے حصول کے نزدیک ہیں ۔ بچوں میں بیماریوں میں اضافے سے بڑھتی ہوئی اموات کی شرح پر حفاظتی تدابیر کے طریقہ کار کوفروغ دےکر اور ماں کا اپنادودھ پلا کر قابوپایا جا سکتا ہے ۔مختلف مطالعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بچے کو شروع کے دن سے ہی ماں کا دودھ پلانا اور کم ازکم چھے مہینے تک اس عمل کو جاری رکھنے سے بچوں کی اموات اور اعضاءکمزور ہونے کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔ماں کادودھ انفیکشن ،اسہال ،ایچ آئی وی ،اور ناقص غذا سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر بیماریوں کے خلاف پوری زندگی کےلئے قوت مدافعت پیداکرتا ہے۔ مزیدیہ کہ اس سے بچے کی باقی ماندہ زندگی میںزیبطریس ٹائپ ٹو کاخطرہ بھی کم ہونے کے ساتھ ماو¿ں میں چھاتی کے سرطان کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ مذکورہ بیماریوں سے حفاظت یا ان کا علاج میں پاکستان کا نہایت ناقص کردار رہا ہے۔ بچے مذکورہ بیماریوں سے محفوظ رکھنے کےلئے ماں کا دودھ سب سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم جنوبی ایشائی ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر حالیہ چند دہائیوں میں ماں کادودھ پلانے کا رجحان جمود کا شکار ہے ۔ عالمی صحت کے حوالے 2006کے ایک مشہور تحقیقی رسالے کے مطابق 1990سے 2002کے درمیاں ماں کادودھ پلانے کارجحان صرف سولہ فیصد تھا تاہم 2002سے 2012کے درمیاں اس کی شرح میں کچھ بہتری پیدا ہوئی ہے۔ان سالوںمیں بچوں کوصرف ماں کادودھ پلانے کا رجحان میں 37سے 38فیصد اضافہ ہواہے اس بہتری کے باوجودیہ شرح بنگلہ دیش اورنیپال کی نسبت بہت کم ہے۔وہاں یہ شرح بنگلہ دیشن میں64فیصد اور نیپال میں 70فیصد ہے۔اس تحقیق کے مطابق ان ممالک میں بچوں کی اموات کی شرح کو کم کرنے میں صرف ماں کا دودھ پر انحصار کرنے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں ماں کا دودھ پلانے کے مسئلے کونظرانداز کئے جانے کی بہت ہی وجوہات پیش کی جا سکتی ہیں ۔جوماں کے دودھ اورمستقل صحت مند زندگی کے فوائد کے بارئے میں آگاہی کافقدان خصوصا پہلے چھ مہینے تک صرف ماں کے دودھ پر انحصارکے فوائد سے عدم آگاہی اور بچوں کےلئے مان کے دودھ کے متبادل دودھ میں بچوں کے حفظان صحت کے اصولوں کو نظرانداز کر کے تیار کر کے سرعام بڑھتے ہوئے فروخت وغیرہ شامل ہے۔

بچوں کی غذا کےلئے صرف ماں کے ہی دودھ پر انحصار کرنے کے بارئے میں ناخواندگی اور صحت مند زندگی کےلئے ماں کا دودھ پلانے کے بارے میںحکومتی مہم کی ناکامی کا نتیجہ ہے، ر ہنمائی کے فقدان کی وجہ سے بوتل کے ذریعے بچوں کو دودھ پلانے کا رواج جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے۔درحقیقت یہ بوتل مصنوعی دودھ پلانے کا نیا رواج بن چکا ہے جو ذارئع ابلاغ پر چلنے والی مہنگی مہم اور ڈاکٹر وں کو اس کے عوض میں دیئے جانے والے فوائد نے 40فیصد کی خطرناک صورتحال تک پہنچایا ہے۔ محققیں نے اس پر تجربہ پڑھی لکھی ماو¿ںسے حاصل کیا ہے۔

ماں کے دودھ پلانے کے رجحان میں کمی پر عوامی صحت کے بارئے میں حکام اور پالیسی سازوںکو غور و فکر کرنا چاہے۔ ابھی بھی بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی اور تحفظ صحت کی ترجیحات کی طرف کم ترجیح دی جاتی ہے۔ بریسٹ فیڈنگ اور چائلڈ پروٹیکشن 2002آرڈنیس کی موجودگی کے باوجود حکومت کی طرف سے ماں کا ددھ پلانے کے رجحان کو دوام دینے کی کوشش میںربط و تعلق دکھائی نہیں دیتے ۔ یہ قانون بچوں کےلئے ماں کے دودھ کا متبادل دودھ بنانے پر بڑھتے ہوئے رجحان پر قابوپانے اور صحت کے سہولت بہم پہنچانے کے مطالبہ کا تقاضا کرتا ہے۔

یہ آرڈیننس ماں کے دودھ کے متبادل کے طور دودھ بنانے سے متعلق بین الاقوامی ضابطے کا نتیجہ تھا جس پر1981میں عالمی ادارہ صحت کے تمام ممبر ممالک نے اتفاق کیا تھا ۔اس ضابطے کے مطابق ملکی سطح پر قانون سازی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ہم بچوں کےلئے ماں کے دودھ پر انحصار کرنے کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں ۔عمومی طور پر دو سال تک کے بچوں کےلئے ماں کا دودھ لازمی خوراک کا درجہ رکھتا ہے۔ اس بارئے میں جاری اعداد وشمار میں اس حقیقت کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ دیگر بہت سارئے شعبوں کی طرح یہاں پر بھی قانون پرعمل درآمد کا فقدان بڑا مسئلہ ہے ۔تاہم حالیہ سالوں میں صوبائی اسمبلیوں کی طرف سے ماں کے دودھ پلانے میں اضافہ اور حفاظت کی طرف قوتِ محرکہ وجود میںآئی ہے ۔(اس سلسلے میں) خیبر پختوانخوا ماں کا دودھ پلانے اور شیر خوار بچوں کی خوراک کا ایکٹ منظور کرنے والاپہلا صوبہ ہے۔قانون سازی کا یہ حصہ گزشتہ تین سالوں میں دیگر صوبوں سے منظورہونے والی قانون سازی پر سبقت لے جاتا ہے۔

اس طرح کی جدید قانون سازی قابل ستائش تو ہے مگر جب تک اس قانون پر عمل در آمد کا طریقہ کارمتعین نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس قانوں کا فوری اثر ممکن نہیں ہے ۔ ماں اور بچوں کی خوراک کے بارئے میں وفاقی حکومت کی طرف سے آرڈیننس جاری ہوئے سات سال سے زائد کا عرصہ لگا ہے۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ قانون صوبائی قانون کی طرح نہیں ہوگا تاہم (بدقسمتی سے ) صورتحال اس سے زیادہ مختلف ہونے کی توقع نہیں ہے ۔ (کیونکہ) صوبوں سے مستقل روابط اور بچوں کے حقوق سے متعلق نمائندوں، خوراک کے ماہرین اور عوام میں رابطے کا فقدان ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے