Voice of Asia News

رسول اللہﷺ کا فرمان ہےکلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے

لاہور(وائس آف ایشیا)سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں۔ کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے۔ اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر، لیوکیمیا، ایچ آئی وی ایڈز، ذیا بیطس، بلڈ پریشر ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیزکے علاج میں انتہائی موثر پائی گئی ہے۔ اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان چیئرمین طبی ریسرچ کمیٹی اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کینسر آگہی مہم کے حوالے سے ”ہیلتھ پاک ”کے زیراہتمام منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فلوریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر ا
ور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضراثرات و مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، جن سنگ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایمیون سسٹم کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق سرطان کے حوالے سے کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج میں یقینی پیش رفت ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہورہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبرNCT 00327054کے مطابق کلونجی کوذیا بیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیزمیں فائدہ مند قرار دیا گیا ہے. کینسرکے حوالے سے کلونجی کے مثبت نتائج پرعربی پریس میں بے شمار تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔ میگزین ”السرطان الوربی ”کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق کلونجی آئل کو چوہوں میں معدہ کے کینسر پر مفید پایا گیا۔جبکہ میگزین ”بحاث مضادات السرطان” میں کلونجی کے تیل سے کینسر کے ورم کوختم کرنے کے متعلق ایک مصدقہ تحقیق شائع ہوئی ہے۔ اسی طرح میگزین”الاثنو الدوائی” کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے انسانی دفاعی نظام میں بہتری اورسرطانی زہریلے اثرات میں کمی سے متعلق تحقیق شائع ہوئی ہے۔” النباتات الطبی” نامی جریدے میں کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون (وائٹ بلڈ سیلز)کے مجموعہ کے اثرات پر کامیاب تجربہ شائع کیا گیاہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے