Voice of Asia News

بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیر یوں کا قتل عام اوراقوام متحدہ کی بے حسی:محمدقیصرچوہان

کشمیر محض ایک زمین کا ٹکڑا ہی نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں جنت نظیر خطہ ہے جو اپنے خوبصورت دریاؤں، شفاف اور جگمگاتی جھیلوں اور آبشاروں سے ستاروں کی مانند برستے جھرنوں، گل رنگ و گل رخ کشمیریوں اور وہاں کی پاک حسین تہذیب و معاشرت کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن 70سال کے عرصے سے یہی جنت نظیرخطہ انگریزوں اور ہندو بننے کی ساز باز اور 90 فیصد سے زائد مسلم آبادی پر مسلط ہند مہاراجے کے غلط اور غیر منصفانہ فیصلے کے نتیجے میں خزاں زدہ ہو گیاہے جہاں کے لوگ آج بھی آزادی کی صبح کی متلاشی ہیں۔ جہاں پھولوں کی خوشبوں کی بجائے بارود کی ہمک غالب ہے، جہاں کی سرزمین پھولوں کی رنگینی کی بجائے کشمیریوں کے خون سے رنگیں ہو چکی ہے۔ جہاں معاشی و ثقافتی سر گرمیاں ماندپڑنے سے عوام کی زندگی کی مفلوج ہوتی چلی جا رہی ہے اور اب تو بھارتی حکومت نے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کیلئے جموں کے انتہا پسندوہندوؤں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے، انہوں نے ایک طویل عرصہ کشمیریوں کی اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اور اب جبکہ کشمیری ہندوؤں کے ظلم وستم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں تو بھارتی فوج بھی انہی مظلوم کشمیروں کو بیلٹ گن سے فائرنگ کر کے آنکھوں سے محروم کر رہی ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کی جانب سے حالیہ احتجاجی مظاہروں میں پیش کی جانے والی شہادتیں کوئی نئی بات نہیں بلکہ گزشتہ 70برسوں میں ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں لیکن ان قربانیوں سے ہمیشہ کشمیر کازکوتقویت ہی حاصل ہوئی ہے۔ کشمیریوں کے خون کی آبیاری سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کا پودا اب تک تناور درخت بن چکا ہے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر بن چکی ہے کیونکہ حق اور سچائی کو جبر و تشدد دیا دیگر ہیرا پھیروں سے کچھ عرصے کیلئے آنکھوں میں دھول جھونک کر اوجھل تو کیا جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کیلئے چھپایا نہیں جا سکتا۔ قیام پاکستان کے وقت تو انتہا پسند ہندوؤں کے ساتھ برطانوی سامراج کی قوت بھی تھی لیکن کرشمہ وقوع پذیر ہو کر رہا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نظریے کی بنیاد پر نئی مملکت نمودار ہو گئی۔ پاکستان بننے کے بعد کشمیریوں کیلئے آزادی کی منزل کا حصول زیادہ آسان تھا مگر کچھ اپنوں کی کمزوری اور کچھ غیروں کی سازشوں نے اسے 70 برس گزرنے کے بعد ابھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ بھارت میں جب سے بی جے پی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو ختم کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔بی جے پی کے ایجنڈے میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھی ہے۔بی جے پی ہر قیمت پر چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کشمیر میں کوئی ہندو وزیر اعلی بنادیا جائے ۔اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 35 اے اورآرٹیکل 370 دونوں کو آئین سے نکالنے کا کام بھی اسی مقصد کیلئے کیا جا رہا ہے ۔کشمیر میں تحریک آزادی اب جس مقام پر پہنچ چکی ہے اسے آٹھ لاکھ بھارتی فوج اپنے تمام تر ظلم وجبر کے باوجود سمجھتے ہیں کے ناکام ہو گئی ہے تو بی جے پی کی حکومت نے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی سرکاری کالونیاں آباد کر ناشروع کردی ہیں تاکہ آبادی کا تناسب بدل کر ہندوؤں کو مسلمانوں کے بجائے اکثریت قرار دے دیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں چند دن پہلے بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ شوپیاں، اننت ناگ (اسلام آباد) کے اضلاع میں ’’آزادی، آزادی‘‘ کے نعرے لگانے والوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے سیدھی گولیاں چلائیں۔ گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے چہروں پر فائرنگ کی گئی جبکہ مختلف علاقوں میں جعلی مقابلوں میں بیس سے زائد کشمیریوں کو شہید اور ایک سو سے زیادہ کو زخمی کر دیا گیا۔ حالیہ تحریک آزادی کے دوران بھارتی فوجیوں کا یہ بدترین آپریشن تھا۔ بھارتی حکومت نے بدترین مظالم کو چھپانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں فون، انٹرنیٹ اور ریل سروس کو معطل کر دیا۔ کشمیری شہیدوں کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ فضا ’’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔ پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کرنے کے لئے معمول کے مطابق شہیدوں کے جنازوں کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا ہے۔ بھارتی فوجیوں کے مظالم سے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز مظالم اور بدترین ریاستی دہشت گردی کی یاد تازہ ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ نے کشمیریوں پر کئے گئے مظالم کو درست قرار دیتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو شاباش دی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اسرائیل کے مشورے اور شہہ پر مقبوضہ کشمیر میں وحشیانہ مظالم کئے جا رہے ہیں۔ پچھلے 70 سال سے کشمیر اور فلسطین کے مسائل اقوام متحدہ کے لئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان میں انسانی حقوق کی بدترین اور مسلسل پامالی مشترکہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان مسائل کو انسانی حقوق کے چارٹر کی روشنی میں حل کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر میں تیسرے بنیادی فریق کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے لئے ہر طرح سے اصولی موقف کو سراہا جاتا ہے لیکن عالمی برادری عملی امداد اور حمایت نہیں کرتی، جس کے باعث یہ دونوں مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔ انتہائی خطرناک ہتھیار پیلٹ گن کے استعمال سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ کشمیری نوجوانوں اور خواتین کو اندھا کیا گیا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ پیلٹ گنوں کے بے تحاشا استعمال پر جب عالمی سطح پر بھارت سے احتجاج کیا گیا اور مختلف تنظیموں نے دباؤ ڈالا تو پچھلے سال کے آخر میں مودی سرکار نے موقف اختیار کیا تھا کہ بھارتی فوجیوں کو پیلٹ گن کے استعمال سے روکتے ہوئے اس کی جگہ ایک نیا ہتھیار استعمال کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود بھارتی فوجیوں نے اندھا دھند پیلٹ گنوں کا استعمال کیا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھر میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پھیلی ہوئی انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظمیں اگر کسی ملک میں کسی ایک شخص پر ہی جائزو ناجائز علم کی اطلاع پاتی ہیں تو چیخنا چلانا شروع کر دیتی ہے لیکن بھارت کے زیر تسلط وادی کشمیریوں میں بے گناہ کشمیریوں پر توڑے جانے والے ظلم و ستم کا سلسلہ 70 سال سے دراز ہے لیکن انسانی حقوق کی تحفظ کی تنظیمیں اور دنیا بھر کے ملک خاموشی کے ساتھ یہ تماشا دیکھ رہے ہیں اور عالمی میڈیا کو بھی بھارتی سکیورٹی فورسز کا ظلم و تشدد نظر نہیں آتا۔
مسئلہ کشمیر کو اکتوبر 1947 میں بھارت کے شاطر وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہروخود اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے۔اور انہوں نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے ۔اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں جنگ بندی کرادی تھی اور اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیاجائے۔بھارتی حکومت نے جنگ بندی پر عملدرآمد کے آغاز پر ہی اپنی فوج بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے کشمیر میں پہنچانا شروع کر دی تھی ۔اور جب بھارت نے اپنی فوجی پوزیشن مضبوط کر لی تو بھارت کے شاطر وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ریاست میں رائے شماری کا اپنا وعدہ نت نئی تاویلات میں الجھا کر رکھ دیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نا صرف اقوام عالم کے سامنے عالمی ادارے کے رو برو کیا گیا وعدہ فراموش کردیا بلکہ جموں وکشمیر کو اپنا جز ولاینفک قرار دینے کی رٹ لگانا شروع کر دی۔اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔اس کے برعکس انڈونیشیا کے جزیرے تمور کی عیسائی اکثریت نے آزادی کا مطالبہ کیا تو اقوام متحدہ نے 6ماہ کے اندر اندر رائے شماری کرا کے جزیرہ عیسائیوں کے حوالے کر دیاتھا۔ ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ بڑی عالمی طاقتیں اور عالمی میڈیا اور تمام نام نہاد حقوق انسانی کی تنظیمیں جانبدار ہیں۔بھارت خود کو سیکولو یالا مذہب ریاست کہتا ہے حالانکہ بھارت میں انتہا درجہ کا مذہبی تعصب پایا جاتا ہے اور یہاں مسلمان، عیسائی، سکھ سمیت تمام اقلیتی مذاہب کے لوگ ہندوؤں کے تعصب کا شکار رہتے ہیں اس وقت بھارت میں تقریباً 67 آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔آزادی ہر انسان کا حق ہے اور اگر کشمیری اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں تو ساری دنیا کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کسی طاقت سے نہیں دیا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی خون کی ہولی کھیلنے کا سلسلہ بند کرانے کے لئے عالم اسلام اور عالمی برادری کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بیدار کیا جائے۔ سفارتی محاذ پر نئی کوششوں سے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور سلامتی کونسل میں کشمیریوں کے قتل عام کا معاملہ اٹھا کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاک مذاکرات شروع کرائے جائیں۔ اسے اتفاق کہہ لیجئے کہ بھارتی فوجیوں نے مظالم کی انتہا کی ہے تو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 29 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے 94922 کشمیریوں کو شہید کیا، اب تک سات ہزار گمنام قبریں بھی دریافت ہو چکی ہیں۔ اس سے بھارتی فوجیوں کی طرف سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے مظالم کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ افسوس ناک صورت حال ہے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ بار بار پاکستان اور کشمیریوں کی قیادت حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اور وحشیانہ مظالم کے ثبوت بھی اقوام متحدہ میں عالمی برادری کو پیش کئے ہیں لیکن عالمی برادری کا ضمیر سویا ہوا ہے۔ مخصوص مفادات اور پالیسی کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور شدہ قرارداد پر عملدرآمد نہیں کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت بھارت نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا باقاعدہ تحریری وعدہ کیا تھا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان اب مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی اٹھائے۔ اس کے لئے کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے ملکوں اور دیگر بااثر تنظیموں سے رابطے کرکے حمایت کی جائے۔ اس طرح اقوام متحدہ کے لئے چیلنج بنے ہوئے دونوں مسائل پر زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل ہو سکے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر دباؤ بڑھے گا، اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی فلسطینیوں کے خلاف اندھا دھند مظالم سے روکنے کے لئے دباؤ بڑھایا جا سکے گا۔ بھارتی فوجیوں کی اس بدترین ریاستی دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے علاوہ سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھایا جائے اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی دوٹوک پالیسی کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری کے ضمیر کو جگانے کے لئے سفارتی کوششیں شروع کی جائیں کیونکہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ انسانی حقوق کے تحفظ کا چارٹر مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز پچھلے دو اڑھائی برسوں کے درمیان ہر طرح کے مظالم سے کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے سے دستبردار کرانے میں ناکام رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں حالیہ فوجی مظالم کے خلاف مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے،وقت ضائع کئے بغیر تمام حلقوں سے صلاح مشورہ کرتے ہوئے عملی اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے کا یہی موثر طریقہ ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے