Voice of Asia News

چقندر جسے صحت کے لئے ایک بہترین غذائی ٹانک مانا جاتاہے

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ) چقندر ایک سبزی ہے جسے صحت کے لئے ایک بہترین غذائی ٹانک مانا جاتاہے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار پائی جاتی ہے جو کہ زیادہ تر شکر کی صورت میں ہوتی ہے اور اس میں تھوڑی سی پروٹین اور چربی ہوتی ہے۔ چقندر کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتاہے اور اس کے استعمال سے قبل اس کا چھلکا نکال دیا جاتاہے۔ اس کے پتے تمام سبزتر کاریوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، جن کو تھوڑے سے پانی کے ساتھ اور مختصر وقفہ میں پکانا چاہیے۔ تازے چقندر خوشبو دار ہوتے ہیںاور ان کو جلد اور بآسانی پکایا جاسکتاہے۔ چقندر کے رس کو ایک بہترین سبزی کے رسکے طور پر مانا جاتاہے۔ چونکہ چقندر کا رس دوران خون آکسیجن کی روانی کو بہتر بناتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چقندر کا رس پینے سے کھلاڑیوں میں زیادہ توانائی آتی ہے اور وہ اس طرح اپنے کھیل میں کئی گنا بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔برطانیہ کی ایگزیٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق چقندر کا رس کھلاڑیوں کو چست وتوانارکھتا ہے اور اس کے استعمال سے جسمانی عضلات پر مثبت اثر پڑتاہے، آکسیجن کی روانی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ دوران خون بھی بہتر ہوجاتا ہے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی میں کئی گنا زیادہ بہتری آنا ممکن ہوجاتاہے۔ سائنس دانوں کے مطابق چقندر کا رس بلڈ پریشر کی سطح کو نارمل رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
یہ قدرتی شکر کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ اس میں سوڈیم، پوٹا شیم، فاسفوس، کیلشیم، سلفر، کلورین، آیوڈین، آئرن، کاپر، وٹامن سی اور وٹامن B1,B2پائے جاتے ہیں۔ یہ رس کاربو ہائیڈریٹس کو ہضم کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتاہے لیکن حرارے(کلیوریز) کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ اس میں پروٹین اور امینوایسیڈس بھی زیادہ مقدار میں اور اقسام میں ہوتے ہیں۔چقندر اعلیٰ شفائی یا معالجاتی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔اس میں گردوں اور پتے کی ریزش کو صاف کرنے والی خصوصیت موجود ہوتی ہے۔ اس میں القلی سے متعلق اجزات،پوٹا شیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فولاد بھی زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ جوکہ ایسڈوسین(جسم کی رطوبات میں تیزابیت کی زیادتی جو مرض کی شکل اختیار کرلے)اور ترشہ کو قدرتی طریق عمل سے اخراج کرنے میں کارآمد ہوتے ہیں۔ سرخ چقندر کا رس انسانی خون اور خون کو تشکیل دینے والے اقسام سے متعلق ہوتاہے۔ اس میں فولاد کی اعلیٰ مقدار موجود ہونے کے باعث یہ خون کے سرخ خلیوں کی دوبارہ افزائش کرتا ہے اور انہیں فعال بناتا ہے، جسم کو تازہ آکسیجن فراہم کرتا ہے اور سانس کے پھولنے کے عام نظام میں مدد دیتا ہے۔ تاہم یہ اینیماء یعنی( یعنی خون میں سرخ ذرات کی کمی) کے علاج میں انتہائی کار آمد ہوتاہے۔
سرخ چقندرکا رس جسم کو دیگر اثرات کے محفوظ رکھنے والی طاقتوں کی مستحکم بناتا ہے اور اس کو اینیما کے ایک بہترین علاج کے طور پر ثابت کرتاہے خصوصاً کم عمر بچوں اور کمسن بچوں کے لئے جہاں خون کی تشکیل دینے والے معالجے ناکام ہوجاتے ہیں۔چقندر کا رس یرقان،ورم جگر صفرہ کے باعث ہونے متلی اور قئے ، اسہال اور پیچس کے علاج میں بھی فائدہ بخش ہوتا ہے۔ اس رس میں ایک چائے کا چمچ لیموں کارس شامل کرکے اس کی طبی اہمیت میں اضافہ کیا جاسکتاہے اور ان کے کیفیتوں میں اس رس کو ایک سیال غذا کی طور پر دیا جاسکتا ہے۔ تازہ چقندر کے رس میں ایک کھانے کا چمچ شہد ملا کر روزانہ ناشتے سے قبل استعمال شکمی یا نظام ہضم سے متعلق السر کو شفادینے میں مدد گار ہوتا ہے۔چقندر کے پتوں کو سبزپتے والی ترکاری کے طور پر کھانے چاہیے اور اس کے رس کو لیموں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا بھی یرقان اور شکمی السر میںاہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اس رس کو روزانہ ایک مرتبہ استعمال کرناچاہیے۔چقندر میں پائے جانے والا نشاستہ دار مادہ ایک ضخیم رسوب کے طوراپنا فعل انجام دیتا ہے۔ اس روزانہ استعمال باقاعدہ قبض کی شکایت سے محفوظ رکھتا ہے چقندر کا ڈکاکشن یعنی (کشید) دیرینہ یا پرانی قبض کی شکایت میں اعلیٰ اہمیت کاحامل ہوتا ہے اس کے رس کو رات کو سونے سے قبل نصف تا ایک کپ استعمال کیا جاسکتاہے۔
چقندر کا رس ہائپر ٹینشن یعنی (بلند فشارخون) شریانوں کی اندوری سطح کے سخت ہو جانے قلبی بے چینی اور رگوں کے پھولنے کی شکایت میں بھی کافی اہمیت کاحامل ہوتا ہے۔چقندر کے رس کو گاجر اور کھیرے کے رس میں باہم کر کے استعمال کرنا گردے پتے کی ریزش کے لئے یہ ایک عمدہ ترین شفا کرنے والی شئے ہے، یہ ان دوعضویات سے متلق تمام تکالیف میں بہت فائدہ مندہوتاہے۔چقندر اور اس کے اوپری سرے کو ابالے ہوئے پانی کا استعمال جلد کی سوزش کیل او رمہاسو ںکو دور کرتا ہے اس مقصد کے لیے سفید چقندر کا استعمال بہتر ہوتاہے۔ جلد کی سوزش تین حصے چقندر کے پانی کا ایک حصہ سفید سرکہ کے ساتھ ملاکر آمیزہ تیار کرنے اس امیزہ کو خسرہ اور تیز بخار کی صورتوںمیں ایک اسکن واش کے طورپر بھی استعمال کرنا مفید اور کارآمد ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں چقندر کے کشیدیا ڈکاکشن کے تھوڑے سے سرکہ کے ساتھ ملاکر استعمال کرنے سے سر کی خشکی یا بفاء دور ہوجاتی ہے بفاء کے لئے چقندر کے پانی کو پیا اور روزانہ رات میں ادرک کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے کے ساتھ سر میں اچھے سے مساج بھی کرنا چاہیے اس سے سر کی خشکی یابفاء دور ہوجاتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے