Voice of Asia News

ورزش کیلئے عمرکی کوئی قید نہیں

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)برطانیہ میں ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ عمر میں ورزش کرنے سے ڈیمینشیا (بڑھاپے میں ہونے والا خللِ دماغ) اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔برٹش جرنل آف سپورٹس اینڈ میڈیسن میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں ریٹائرمنٹ کی عمر کے قریب 3500 افراد پر تحقیق کی گئی۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ورزش کرنے والے افراد کا اپنے ہم عمر ورزش نہ کرنے والوں کی نسبت آئندہ آٹھ سال میں صحت مند رہنے کا امکان زیادہ تھا۔ورزش دل کے عارضے، فالج، ذیابیطس، ایلزہائمرز اور ڈیپریشن جیسے بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔آٹھ سال تک جن افراد کا مطالعہ کیا گیا ان میں ہر پانچویں فرد کو صحت مند قرار دیا گیا جسے کسی بڑی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا سامنا نہیں تھا۔صحت مند افراد کے گروپ میں اکثر وہ افراد شامل تھے جو باقاعدگی سے ورزش کرتے تھے اور جو ورزش کرنے والے نسبتاً نئے تھے۔جن افراد نے اپنے عمر کی چھٹی دہائی میں ورزش کی انھیں روزمرہ کے کام کاج میں کم دقت اٹھانی پڑی۔
محققین کا کہنا ہے کہ زندگی بھر باقاعدگی سے ورزش کرنا مثالی ہے لیکن اگر عمر کے اس حصے میں بھی ورزش شروع کی جائے تو یہ بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔محققین کی ٹیم کے سربراہ یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر مارک ہیمر نے کہا کہ ’پیغام یہ ہے کہ اگر آپ بزرگ ہیں تو حرکت میں رہیں۔‘’یہ ایک کہاوت ہے لیکن یہ استعمال کرنے یا کھونے کا معاملہ ہے (use it or lose it)۔ اگر آپ متحرک نہیں رہتے تو فائدہ نہیں ہوتا۔‘ڈاکٹر ہیمر کا کہنا ہے کہ جسمانی طور پر حرکت میں رہنے کا مطلب ورزش گاہ جانا یا دوڑنا نہیں، اس میں پیدل چلنا اور باغبانی کرنا بھی شامل ہے۔برطانوی محکمہ صحت نے تمام بالغ افراد کو جن میں 65 سال سے عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں، ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتے میں ڈھائی گھنٹے تک ضرور کسی نہ کسی جسمانی سرگرمی میں حصہ لیں۔برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ڈورین میڈک نے کہا کہ ’متحرک رہنے کی عادت ڈالنا اچھی بات ہے جب ہمیں پتہ ہے کہ یہ دل کے عارضے اور دیگر بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے