Voice of Asia News

اسکارف کا فیشن میں مقام

 

 لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)اسکارف اوڑھنے کا رواج بہت پرانا ہے جو پچھلے کچھ برسوں سے ایک نیا اور انوکھا فیشن بن چکا ہے۔آج کل تقریباً ہر علاقے کی خواتین بڑے شوق اور اہتمام سے  اسکارف پہنتی ہیں۔اب تو شہروں میں بھی یہ رجحان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ عورتیں اور لڑکیاں اس موڈرن دور میں بھی اپنی تہذیب و تمدن کے اس قدیم اور پرکشش سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے پورے احترام کے ساتھ اسکارف اوڑھنے کو تر جیح دیتی ہیں۔ کئی جدید اور فیشن زدہ علاقوں میں تو خواتین دوران شاپنگ اسکارف اوڑھ کر  اپنے گھروں  سے نکلتی ہیں اور یہ خواتین ایسا کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں بلکہ خود کو اس میں ایزی  اور کسی حد تک محفوظ محسوس کرتی ہیں۔جہاں تک اسکارف اوڑھنے کا تعلق ہے تو دور جدید میں تو نوجوان لڑکیوں کے علاوہ شادی شدہ خواتین بھی اسے اوڑھنے کو تر جیح دیتی ہیں۔ اسکارف اوڑھ کر بھی کام کرنے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی  اور شاپنگ کے لیے جاتے ہوئے بھی وہ خود کو اسکارف  میں ذرا بھی پریشان نہیں ہوتیں، بلکہ بڑی آسانی سے اس میں بھی اپنا کام معمول کے مطابق انجام دیتی ہیں۔آج کے اس جدید دور میں بھی اسکارف نے اپنا مقام نہیں کھویا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رجحان اور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ دور جدید کی خواتیں بھی اسے اوڑھنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتیں۔ اسکارف نے فیشن میں اپنا ایک خاص مقام بنایا ہے۔ کالج کی طالبات ہوں یا گھریلو خواتین، وہ سب ہی اسے فیشن کے طور پر استعمال کرتی ہیںاور مختلف رنگوں میں اسے اپنے کپڑوں کے ساتھ میچ کر کے بھی استعمال کرتی ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔ اسکارف کی ایک خاص بات یہ ہے ایک تو اس کے ساتھ دوپٹے کی ضرورت نہیں پڑتی اور دوسرے اس میں خواتین بہت گریس فل لگتی ہیں۔ ورکنگ ویمن اسکارف کا استعمال زیادہ کرتی ہیں جو دیکھنے والوں پر اچھا تاثر ڈالتا ہے۔پہلے پہل حجاب کے ساتھ برقعے کا رواج عام تھا جس سے روایتی قسم کا پردہ مراد لیا جاتا تھا، تاہم آج کل اس برقعے کی روایت میں کافی حد تک تبدیلی آچکی ہے اور یہ جدید گاؤنز اوراسکارف میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسکارف کا استعمال کم ہونے کے بجائے  مسلسل بڑھتا ہی چلا  جا رہا ہے اور اب مسلم خواتین ہی نہیں  بلکہ مغرب کی خواتین بھی اس رواج کا حصہ بن چکی ہیں۔ سادہ یا پرنٹڈ رنگ بکھیرتے اسکارف تو آج کل بے حد مقبول ہورہے ہیں۔اسکارف کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ دوپٹے کے ساتھ آپ کے حجاب کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ یہ فیشن کے طور پر نہایت گریس فل لگتا ہے۔ اسی لیے تو مغربی خواتین بھی اسکارف کو شوق سے اوڑھتی ہیں۔اسکارف کو بہت سے طویقوں سے اوڑھا جاسکتا ہے۔چاہیں تو اسے حجاب کے طور پر لے لیں یا پھر اگر سائز میں بڑے ہوں تو دوپٹے کے طور پر بڑے آرام سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسکارف اوڑھنے کے فوائد

اسکارف اوڑھنے کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان میں سب سے پہلے آپ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ اسے فیشن کے طور پر لے رہی ہیں یا مکمل حجاب کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اگر آپ اسے فیشن کے طور پر لے رہی ہیں تو کسی بھی انداز سے اسکارف لے لیں، یہ تو  فیشن ہی لگے گا۔ اگر آپ اسکارف حجاب کے طور پر لے رہی ہیں تو اس کے  بہت سے مختلف انداز ہیں، کیوں کہ حجاب کا مطلب شرم و حیا کی پاس داری ہے،  لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بلا ترتیب دوپٹہ اوڑھ لیں،  بلکہ اسے اچھے انداز سے سیٹ کریں۔سر کے ارد گرد اسکارف کو  کلاک وائز یعنی گول انداز میں باندھنا ایک خوب صورت طریقہ ہے جو بہت ہی زبردست اور پیارا لگتا ہے،  لیکن اس کے لیے آپ کو ایک بڑے سائز کے اسکارف کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کے سر اور کندھوں کو بھی ڈھانپ سکے۔بعض خواتین اور لڑکیاں حجاب کے طور پر یہ اسکارف اوڑھتی ہیں۔ ترکی میں یہ رواج بہت عام ہے۔اس کا مقصد سر اور بالوں کو ڈھانپنا ہے۔کچھ ممالک میں خواتین کے لیے اسکارف ضروری قرار دیا جاتا ہے تاکہ وہ جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو اسکارف ضرور اوڑھیں۔ اسکارف کو سر سے پھسلنے سے بچانے کے لیے آج کل انڈر اسکارف کا بھی فیشن عام ہے۔انڈر اسکارف کا فائدہ یہ ہے کہ اسے  پہننے کے بعد آپ ریشمی اسکارف کو بھی اپنے سر کے ارد گرد باندھ سکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے انڈر اسکاف پہنیں، پھر اس پر دوسرا اسکارف بھی لے لیں۔ تکون اسکارف کے لیے آپ اسکارف کے دونوں سروں کو پکڑیں اور چہرے اور سر کے گرد لپیٹتے ہوئے اسے آخر میں پن اپ کرلیں۔ اب اسکارف کے ایک سرے کو اٹھائیں اور اسے چہرے کے گرد لپیٹ لیںاور دوسرے سرے کو اپنے کندھوں پر پن اپ کرلیں۔سٹول کو آخری سرے سے پکڑیں اور دوسرے سرے کو لمبا رکھتے ہوئے پن اپ کرلیں اب دوسرے لمبے سرے کو اٹھائیں اور سر کو اوپر سے گھماتے ہوئے ایک کان سے دوسرے کان تک لا کر پن اپ کرلیں۔اگر آپ کالج یا یونی ورسٹی جاتی ہیں تو آپ کے لیے یہ انداز بہترین ہے۔ اسکارف کو خوب صورت انداز دینے کے لیے آپ اسکارف کو چہرے کے گرد لپیٹیں اور پن اپ کرنے کے بجائے دونوں سروں کو باندھ لیں۔ یہ انداز بھی بہت خوب صورت اور منفرد ہے۔ اگر آپ نقاب استعمال نہیں کرتیں  تو حجاب سے اپنے چہرے اور سر کو ڈھانپتے ہوئے اپنی شخصیت کو چار چاند لگاسکتی ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے