Voice of Asia News

وکٹ کیپر بننا چاہتا تھا قسمت نے فاسٹ باؤلر بنا دیا پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘کو خصوصی انٹرویو محمد قیصر چوہان

کرکٹ کے کھیل کا اصل حسن فاسٹ باؤلرز کے دم خم سے ہے اور فاسٹ باؤلنگ دراصل جارحانہ پن کا دوسرا نام ہے وہ منظر قابل دید ہوتا ہے جب فاسٹ باؤلرز اپنی سوئنگ سے بھرپور تیز گیندوں پر مخالف بیٹسمین کو بولڈ کرتے ہیں یا ایل بی ڈبلیو اور وکٹوں کے عقب میں کیچ کراتے ہیں۔ فاسٹ باؤلرز کسی بھی ٹیم کیلئے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور پاکستان کرکٹ ٹیم اس حوالے سے بڑی خوش قسمت رہی ہے کہ اس کے پاس شروع دن سے ہی ایسے فاسٹ باؤلرز موجود رہے ہیں جنہوں نے اپنی اسپیڈ اور سوئنگ سے بھرپور خطرناک گیندوں کے ذریعے مخالف بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچاتے ہوئے پوئلین لوٹنے پر مجبور کر کے فتح کا پرچم بلند کیا اور میچ ونر باؤلر کہلوائے۔ انہی میں سے ایک نام 28 جون 1985 کو کرکٹ کے کھیل سے بے پناہ محبت کرنے والے شہر لاہور میں جنم لینے والے شیخ وہاب ریاض کا بھی ہے۔ جو عمدہ لائن و لینتھ، اچھی رفتار اور نیچرل آؤٹ سوئنگ گیندوں کے ساتھ مخالف بیٹسمینوں کے دفاع میں دراڑ ڈال کر جنگ جیتنے کا متمنی رہتا ہے۔ وہاب گیند کو دونوں جانب یکساں مہارت کے ساتھ گھمانے کے ساتھ پرانی گیند کے ساتھ ریورس سوئنگ بھی اتنی ہی مہارت کے ساتھ کراتے ہیں۔ سلو گیندوں کی مختلف ورائیٹز نے ان کی باؤلنگ کاٹ کو دو آتشہ بنا دیا ہے۔ گیند کا زاویہ تبدیل کرنے کی غرض سے وہ کریز کا بڑی عمدگی سے استعمال کرتے ہیں وہاب کوئیک آرم ایکشن کے ساتھ بڑی مہارت، مستعدی، ثابت قدمی اور بہادری کے ساتھ باؤلنگ کرتے ہیں۔ کرکٹ ورلڈ کپ 2015 کے تیسرے کوارٹر فائنل میچ میں بھلے ہی پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے اس میچ میں عالمی کپ کی تاریخ کا بہترین باؤلنگ اسپیل کر کے ایسی چھاپ چھوڑی جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ ورلڈ کپ میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے 16 وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کے کامیاب ترین باؤلر رہے۔ ورلڈ پ میں آسٹریلوی بیٹسمین شین واٹسن کو کٹھ پتلی تماشا بنانے والے وہاب ریاض کے باؤلنگ اسپیل نے 80 کی دہائی میں عمران خان کی بھارت کے خلاف طوفانی باؤلنگ، 90کی دہائی میں وسیم اکرم کی سوئنگ اور وقار یونس کی حریف بیٹسمینوں کے پنجوں کو مجروح کرنے والی خوفناک یارکرز کی یاد دلادی۔ اس باؤلنگ اسپیل نے شعیب اختر کی باؤلنگ پر سورو گنگولی کی پسلیوں کے زخم بھی تازہ کر دیئے۔ وہاب ریاض کی تیز گیندوں کے سامنے آسٹریلوی بیٹسمین شین واٹسن بے بس دکھائی دیئے اور طوفانی گیندوں سے بچنے کیلئے پچ پر اچھل کود کرتے رہے۔ وہاب کے اس طوفانی اسپیل کی شین واٹسن، مائیکل کلارک، برائن لارا، کیون پیٹرسن، وسیم اکرم سمیت کئی کھلاڑیوں نے بے پناہ تعریف کرتے ہوئے اسے یادگار قرار دیا۔ وہاب ریاض زندہ دلوں کے شہر لاہور کے معروف بزنس مین شیخ سکندر ریاض(مرحوم) کے صاحبزادے ہیں۔ جو پانچ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ جن کی شادی معروف صنعتکار شاہد چوہدری کی صاحبزادی زینب چوہدری کے ساتھ ہوئی تھی ۔وہاب کی شادی کی تقریب دھوم دھام سے منعقد ہوئی تھی جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی انضمام الحق، سلمان بٹ، کامر ان اکمل، علی، اعزاز چیمہ اور حماد اعظم سمیت دیگر کئی کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی۔ ان کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اختر رسول، سیکریٹری رانا مجاہد، سینیٹر کامل علی آغا، لیاقت بلوچ سمیت بے شمار معروف شخصیات تقریب میں جلوہ افروز تھیں۔ وہاب ریاض جتنے اچھے فاسٹ باؤلر ہیں اتنے ہی اچھے انسان بھی ہیں جو دوستوں پر جان نچھاور کرتے ہیں جن کے دل میں ہمیشہ پاکستان کی فتح کا پرچم بلند کرنے کی اُمنگ رہتی ہے۔ وہاب ریاض نے اب تک 26 ٹیسٹ میچوں میں 83 وکٹیں حاصل کی ہیں۔79 ون ڈے میچوں میں 102 وکٹیں اور 27 ٹی ٹونٹی میچوں میں 28 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیاء‘‘محمد قیصر چوہان نے وہاب ریاض سے ان کی رہائش گاہ پر انٹرویو کیا جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
و ہاب ریاض: میرا تعلق لاہور شہر کی ایک پڑھی لکھی بزنس مین فیملی سے ہے۔ میرے والدین کا تعلق لاہور شہر سے ہی ہے۔ میرے والد محترم کا نام شیخ سکندر ریاض ہے اور وہ بزنس مین ہیں۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں 3 بہنوں اور 2بھائیوں میں میرا دوسرا نمبر ہے۔ سب سے بڑی بہن ہیں ان کے بعد میں اور میرے بعد 2چھوٹی بہنیں پھر چھوٹا بھائی ہے۔ میرے علاوہ 2بہنوں کی شادی ہو چکی ہے۔ جبکہ چھوٹی بہن اور بھائی کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔ بڑی بہن نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور میں نے ایچی سن کالج لاہور سے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔ مجھ سے چھوٹی بہن نے بھی ایم بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے اس سے چھوٹی بہن بی ایس سی آنر مکمل کر چکی ہے جبکہ چھوٹا بھائی بھی اپنی تعلیم مکمل کر چکاہے۔ میں 28جون 1985 کو لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ پہلے ہم لوگ شاہ جمال کالونی میں رہتے تھے۔ اس کے بعد ہم شادمان میں شفٹ ہو گئے پھر ٹاؤن شپ چلے گئے اب ہم لوگ گارڈن ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں۔

سوال: آپ کو کرکٹ سے محبت کس عمر میں ہوئی؟
و ہاب ریاض: کرکٹ سے محبت تب ہوئی جب بیٹ (بلا) میرے قد سے بڑا تھا۔ کرکٹ کھیلنے کا آغاز ٹینس اور ٹیپ بال سے کیا اور شروعات اپنے گھر سے کی۔ پہلے جمعہ کی چھٹی ہوا کرتی تھی۔ میرے ماموں لطیف عرف طیفی اور رضی جبکہ کزنز عادل، ساجد، کاشف، باری، قیصر، راشد، اسد حسن، عمران، رحمان اور شبیر گھر آجایا کرتے تھے تو میں ان کے ہمرہ گھر میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔ ان دنوں مجھے بیٹنگ کابے حد شوق تھا۔ گھر کی کھڑکیوں کے شیشے توڑنے پر والدہ سے ڈانٹ پڑتی تھی۔ میں نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج سے حاصل کی۔ وہاں پر بھی کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔ میں اپنے سکول کی ٹیم کا وکٹ کیپر بیٹسمین تھا۔ میں اننگ کا آغاز کیا کرتا تھا۔ میں ایچی سن کالج کا کلر ہولڈر بھی رہا ہوں۔ ہمارے سکول کے سپورٹس ٹیچر خالد امتیاز صاحب ہوا کرتے تھے۔ سکول ٹیم کے ہمراہ میں مری گھوڑا گلی میں کرکٹ میچ کھیلنے گیا۔ میں ٹیم کا افتتاحی کھلاڑی تھا لیکن کوچ نے مجھے اننگ کے آغاز کے لیے بھیجنے سے انکار کر دیا جس پر میں دلبرداشتہ ہو گیا اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میچ شرع ہوا تو 16 رنز پر ہمارے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ مجھے بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تو میں نے ساتھی کھلاڑی کے ساتھ مل کر ٹیم کو تباہی سے بچایا۔ میں نے 45 رنز بنائے جبکہ بطور وکٹ کیپر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ٹیم کو فتح دلوائی۔ میرے ابو کو پتنگ بازی کا بے حد شوق تھا۔ وہ اکثر پتنگیں اڑانے کے لیے گراؤنڈ میں جاتے تو مجھے ہمراہ لے جاتے جہاں میں دیگر لڑکوں کے ہمراہ ٹیپ بال کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتا۔ یوں میں اپنے شوق کی تسکین کرتا رہااور کرکٹ کے کھیل سے اپنی محبت کو پروان چڑھاتا رہا۔

سوال: کرکٹ کا آغاز تو بطور وکٹ کیپر بیٹسمین کی حیثیت سے کیا لیکن پھر آپ فاسٹ باؤلر کیسے بن گئے؟
و ہاب ریاض: میرا ایک دوست وقاص بڑا ہی اچھا فاسٹ باؤلر تھا۔ اسے دیکھ کر میرے اندر بھی فاسٹ باؤلنگ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ پھر میں نے ماڈل ٹاؤن گرینز کرکٹ کلب جوائن کیا جہاں پر مجھے شعیب ڈار جیسے مخلص کوچ کی رہنمائی ملی جنہوں نے میری صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے علاوہ سعد جنجوعہ، محمد علی اور ٹیسٹ کرکٹر علی نقوی سمیت دیگر کھلاڑیوں نے میری بھرپور مدد کی۔ شعیب ڈار صاحب نے میری قدم قدم پر رہنمائی کی۔ 2000 میں، میں پنجاب کالج میں پڑھتا تھا جہاں میرے ٹیچر عامر صاحب تھے۔ ان کے کہنے پر ٹرائلز دیئے اور کالج کی ٹیم میں سلیکٹ ہو گیا۔ پھر میری تمام تر توجہ کا محور فاسٹ باؤلنگ بن گئی۔ 2001 میں پاکستان انڈر 17 ٹیم کے ٹرائلز ہوئے تو میں نے بھی ٹرائل دیئے اور عمدہ پرفارم کیا جس کی بدولت مجھے پاکستان انڈر 17 کرکٹ ٹیم میں سلیکٹ کر لیا گیا۔ سلمان بٹ ہمارے کپتان تھے۔ میں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پھر 2004 میں انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلا۔ پھر میں نے لاہو کی طرف سے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا لیکن کوئی خاطر خواہ پرفارم نہ کرسکا۔ پھر میں نے سخت محنت شروع کی اور اپنے کھیل میں نکھار پیدا کیا۔ نیشنل بینک کے ڈاکٹر جمیل صاحب نے حیدرآباد کے کوچ منصور اختر صاحب سے بات کی جس کے بعد میں بطور گیسٹ پلیئر حیدرآباد کی ٹیم کا حصہ بنا۔ میں نے لاہور کے خلاف میچ میں 8 وکٹیں حاصل کیں۔ پھر اگلے ہی میچ میں سیالکوٹ کے خلاف 11 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ساتھ 64 رنز بھی بنائے۔ میں نے حیدرآباد کی طرف سے کھیلتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ میں شاندار کھیل پیش کر کے اپنی اہلیت کا لوہا منوایا۔ پھر اگلے برس میرا نام زمبابوے کے خلاف چار روزہ میچ کے لیے آیا تو لاہور کے سلیکٹرز سے میں نے درخواست کی کہ میں زمبابوے کے خلاف چار روزہ میچ میں شرکت کی وجہ سے لاہور کی ٹیم کے لیے ٹرائل میں شرکت نہ کر سکوں گا تو انہوں نے اجازت دے دی اور ٹیم میں شامل کرنے کا وعدہ کیا لیکن بعد میں کھلانے سے انکار کر دیا جس سے میں دل برداشتہ ہوا۔ پھر میں نے دوبارہ منصوبہ اختر صاحب سے بات کی تو انہوں نے حیدرآباد کی طرف سے کھیلنے کا موقع دیا اور میں نے ایک بار پھر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

سوال: آپ کی نیشنل بینک کی ٹیم میں شمولیت کس طرح ممکن ہوئی تھی؟
و ہاب ریاض : مجھے لاہور والے اپنی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھلا رہے تھے اور میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بڑا بے چین تھا۔ تین سال تک تو مجھے کوئی ڈپارٹمنٹ ہی نہیں مل سکا اور نہ ہی لاہور والے کھلاتے تھے تو میں نے حیدرآباد کی طرف سے بطور گیسٹ پلیئر شرکت کر کے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ 2006 میں قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کے بہترین باؤلر کا اعزاز حاصل کیا۔ تو میں نے ڈاکٹر جمیل صاحب سے درخواست کی کہ مجھے نیشنل بینک کی ٹیم میں شامل کرائیں تو انہوں نے خصوصی شفقت کرتے ہوئے مجھے نیشنل بینک کے ریزو پلیئرز میں رکھ لیا۔ ٹورنامنٹ کا لیگ میچ تو مجھے نہیں کھلایا گیا مگر ہماری ٹیم کا سوئی گیس کی ٹیم کے ساتھ سیمی فائنل میچ ہوا تو مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے 7 اوورز میں 23 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو سیمی فائنل جتوایا۔ ڈاکٹر جمیل اور سابق ٹیسٹ کرکٹر تسلیم عارف صاحب (مرحوم) نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور یوں میری جگہ نیشنل بینک کی ٹیم میں بنی۔ پھر میں نے اپنے بینک کی ٹیم کے لیے بڑی سخت محنت کی اور کئی میچز میں عمدہ پرفارم کیا۔

سوال: آپ کی فیملی میں پہلے کسی نے کرکٹ کھیلی ہے؟
و ہاب ریاض: نہیں! میں پہلا فرد ہوں جسے اس طرف آنے کا موقع ملا ہے۔ میرے ماموں اور کزنز صرف ٹیپ بال سے وقت گزاری کے لیے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔

سوال: کیا آپ کے خیال میں جن لوگوں کی فیملی میں کرکٹ کا کھیل رچا بسا ہوتا ہے یا انہیں کھیل کا اچھا ماحول میسر آجاتا ہے وہ جلد اس سے ہم آہنگ ہو کر کامیابی کے زینہ طے کرجاتے ہیں جبکہ آپ کے ساتھ کچھ بھی ایسا نہیں تھا؟
و ہاب ریاض: اسے آپ میری بد قسمتی کہہ لیں کہ میرے ساتھ ایسی کوئی کرکٹر شخصیت نہیں رہی جو مجھے ابتدا سے ہی گائیڈ کرتی لیکن میرے ابو شیخ سکندر ریاض کی حمایت، بھرپور سپورٹ،ذاتی محنت اور لگن کے سہارے ہی میں ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ اس دوران کچھ لوگوں نے مجھے مشورے دیئے جن پر میں ہمیشہ ان کا مشکور ممنون رہوں گا۔ میری فیملی نے ہمیشہ میری سپورٹ کی اور آج میں جس مقام پر ہوں اس میں میری فیملی کی سپورٹ کا بڑا اہم کردار ہے۔ میرے ابو نے مجھے ابتدائی عرصے سے جس طرح حوصلہ دیا اس چیز نے میرے اندر سخت محنت کا جذبہ جگا دیا۔آج میرے ابو اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن میں ان کو بہت مس کرتا ہوں ۔

سوال: یہ بتائی کہ جب آپ نے سنجیدگی کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کی تو کس کرکٹر کو اپنا آئیڈیل بنا کر محنت شروع کی تھی؟
و ہاب ریاض: آل ٹائم گریٹ کرکٹر وسیم اکرم میرے آئیڈیل کھلاڑی ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے اپنے آئیڈیل وسیم اکرم کی طرف سے بھرپور مدد ملی انہوں نے کارکردگی میں بہتری کے لیے مجھے مفید مشور دیئے جن پر عمل کر کے ہی میں نے اپنے کھیل میں نکھار پیدا کیا۔ میری خواہش ہے کہ جس طرح وسیم اکرم نے عالمی سطح پر نام کمایا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ اس طرح میں بھی نام کماؤں اور پاکستان کا نام روشن کروں۔

سوال: آپ نے بتایا کہ آپ بچپن میں ٹیپ بال سے کھیلا کرتے تھے تو یہ بتائیں کہ ٹیپ بال کرکٹ نے باؤلر کی حیثیت سے آپ پر کیسے اثرات مرتب کئے؟
و ہاب ریاض: فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے ٹیپ بال کرکٹ میں آپ کو اپنی تمام تر مضبوطی اس نکتے پر مرکوز رکھنا ہوتی ہے کہ تیز گیندیں کرنا ہیں۔ ٹیپ بال کرکٹ میں خود کو مدمقابل بیٹسمین سے برتر رکھنے کے لیے رفتار ہی واحد سہارا ہوتی ہے اور جب آپ ہارڈبال سے کھیلنا شروع کرتے ہیں تو اچھے پیس کے ساتھ گیندیں کرنا عادت بن چکی ہوتی ہے۔ ٹیپ بال کرکٹ نے میری سپیڈ اور اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ اس نے مجھے ذہنی طور پر مضبوط بنادیا۔ آج یہی چیز میرے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

سوال: آپ ڈومیسٹک کرکٹ کے آغاز پر زیادہ کامیاب کیوں نہ ہو سکے تھے؟
و ہاب ریاض: جب تک آپ کرکٹ زیادہ نہیں کھیلیں گے ہر سطح پر آپ کو کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا تو آپ یہ بات جان ہی نہیں سکیں گے کہ آپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ بعض بلے باز بظاہر بہت آسان محسوس ہوتے ہیں مگر جب ان کو باؤلنگ کی جائے تو علم ہوتا ہے کہ وہ بہت مشکل ہے اور ان کو آؤٹ کرنا آسان نہیں ہے۔ لائن لینتھ اور سوئنگ اور اپنی گیندوں پر کنٹرول تو کھیلنے سے اور تجربہ حاصل کرنے کے بعد ہی آتا ہے۔ عقل وقت، تجربے اور کھیلنے کے ساتھ ہی آتی ہے اور جب آپ کرکٹ کو سمجھتے لگتے ہیں تو یہی وقت ہوتا ہے جب آپ اچھے کھلاڑی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

سوال: 2007 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے قذافی اسٹیڈیم میں فاسٹ باؤلرز کیلئے ایک کوچنگ کیمپ لگایا تھا اس کیمپ میں آپ نے بھی شرکت کی تھی یہ بتائیں کہ وسیم اکرم نے آپ کی کیا خاص مدد کی تھی؟
و ہاب ریاض: وسیم اکرم آل ٹائم گریٹ فاسٹ باؤلر ہیں۔ ان جیسے کھلاڑیوں کا صدیوں میں جنم ہوتا ہے۔ فاسٹ باؤلرز کے کیمپ میں وسیم اکرم نے بائیں ہاتھ سے باؤلنگ کرنے کی وجہ سے مجھے خصوصی توجہ دی تھی۔ مجھے فاسٹ باؤلنگ کے ’’گر‘‘ بتائے اور مجھے بلے باوں کو پھنسا کر کھلانے کے متعلق مفید باتوں سے آگاہ کیاتھا۔ وسیم اکرم نے پہلے تو مجھے ریسٹ کو لاک کر کے باؤلنگ کرانے کے متعلق بتایا۔ پھر ان سوئنگرز کے لیے گیند کو گرب کرنے کے بارے میں بتایا۔ ردھم حاصل کرنے کے بارے میں بھی مفید باتوں سے آگاہ کیا۔ ماڈل ٹاؤن گرینز کلب کے سرپرست اعلیٰ شعیب ڈار صاحب نے میرے اندر موجود ایک فاسٹ باؤلر کو تلاش کیا۔عاقب جاوید اور وسیم اکرم نے میرے کھیل کو سنوارنے میں اہم ترین کردار ادا کیاہے۔

سوال: وہ کون سا ٹرننگ پوائنٹ تھا جو آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم تک لے آیا؟
و ہاب ریاض: 2008 کے ڈومیسٹک سیزن میں نیشنل بینک کی نمائندگی کرتے ہوئے میں نے 9 میچوں میں 51 وکٹیں حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ میں نے جو محنت کی تھی اس کا پھل مجھے پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی صورت میں ملا۔

سوال: پاکستان ٹیم میں نام آنے کی خوشخبری کس نے سنائی تھی؟
و ہاب ریاض: میں دوستوں کے ہمراہ گھوم پھر رہا تھا کہ اچانک ابو کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹا مبارک ہو تمہارا نام پاکستان کرکٹ ٹیم میں آگیا ہے۔ یہ سن کر میں خوشی کے مارے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ پھر میں نے گھر واپسی پر نماز کے بعد شکرانے کے نوافل ادا کئے اور اللہ کے حضور اپنی کامیابی کی دعا کی۔

سوال: ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبو کرنے سے قبل رات کو کیا کیفیت تھی؟
و ہاب ریاض: میچ سے ایک دن قبل رات کو پی سی ہوٹل لاہور میں ہونے والی میٹنگ میں کپتان شعیب ملک نے مجھے بتایا تھا کہ تم کل اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کر رہے ہو تو یہ سن کر بہت زیادہ خوشی ہوئی اور اسی خوشی میں ساری رات نیند نہیں آسکی۔ میں رات کو پانچ یا 6 مرتبہ اٹھااور اپنا کٹ بیگ چیک کرنے لگا کہ کہیں کوئی چیز رکھنا تو نہیں بھول گیا۔ پھر جب نیند آئی تو میں خواب میں بھی میچ کھیلتا رہا۔

سوال: کیاآپ نے کبھی سوچا تھا کہ ایک دن پاکستان کی نمائندگی کریں گے؟
وہاب ریاض: جب کرکٹ کھیلنا شروع کی تو یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان ٹیم کے لیے کھیلوں گا یا مجھے اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع مل جائے گا لیکن جب پاکستان انڈر 17 اور انڈر 19 ٹیموں کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا تو یقین ہوا کہ اگر مزید سخت محنت کروں گا تو پاکستان کے لیے کھیل سکتا ہوں۔ پھر میں نے پاکستان کے لیے کھیلنے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے اور اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے میں نے سخت محنت شروع کر دی کیونکہ کسی بھی شعبے میں کی گئی سخت محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور آپ انتھک محنت کر کے ہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے سنجیدگی سے کرکٹ کھیلتے ہوئے انتھک محنت کو اپناوطیرہ بنا لیا اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ قائم رکھا کہ مجھے میری محنت کا پھل ملے گا اور میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے مجھے میری انتھک محنت کا صلہ بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کی صورت میں عطا کیا۔ میں اللہ تعالیٰ کرم نوازی کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ کرکٹ ایک گلیمرس کھیل ہے اس میں عزت، شہرت اور دولت سب کچھ ہے لیکن اس کو پانے کے لیے راتوں کی نیند اور دن کاچین قربان کرنا پڑتا ہے۔ یہ میری دن رات کی سخت محنت والدین کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم ہے کہ آج میں اس مقام پر ہوں۔

سوال: جب آپ پہلا ون ڈے کھیلنے کے لیے میدان میں اترے تو کس قسم کے احساسات تھے؟
و ہاب ریاض: اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے اور ہر شخص جو کرکٹ کھیلتا ہے وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ اس معراج کو حاصل کر لے اوراس کو پانے کی خوشی کا لطف لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اس مقام تک رسائی کے لیے بڑی سخت محنت کی ہے لہٰذا میں تو بہت زیادہ خوش تھا۔ ڈومیسٹک کرکٹ آپ کتنی ہی کھیل لیں کوئی بھی کارنامہ دکھا دیں مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلنا ایک بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہوتی ہے۔ پھر اللہ کاشکر ہے کہ میں نے زمبابوے کے خلاف اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں 8 اوورز میں 19 رنز دے کر 2 وکٹیں بھی حاصل کیں اور قومی ٹیم میں اپنی شمولیت کو درست ثابت کر دیا۔ کیریئر کی پہلی گیند کرنے سے قبل تھوڑا سا نروس سا تھا لیکن میں نے اللہ کا نام لے کر باؤلنگ شروع کی اور اللہ پاک نے مجھے عزت دی۔ کامیابی سے سرخرو کیا۔ شعیب ملک، یونس خان اور کامران اکمل نے مجھے بھرپور سپورٹ کیاتھا۔

سوال: آپ جونیئر کرکٹ سے ابھرنے والے کھلاڑی ہیں اور آپ یہ بات زیادہ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں کہ اس طرز کی کرکٹ نوجوانوں کو سنوارنے میں کس حد تک معاون ثابت ہوتی ہے؟
و ہاب ریاض: میرا خیال ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ابھارنے کے لیے کرکٹ درکار ہوتی ہے۔ خواہ وہ انڈر 15 اور انڈر 19 یا پھر اسکول کرکٹ ہی کیوں نہ ہو جہاں پر کھلاڑی کچھ کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر اسے آگے چانس ملتا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ کھلاڑیوں کو جونیئر کرکٹ کے بعد پاکستان کے لیے کھیلنے کا موقع دے دیا جاتا ہے کیونکہ اس طرح ان کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے۔ قومی ٹیم کے لئے کھیلنے کا اور اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جونیئر کرکٹ کا بہت اہم کردار ہے جس کی وجہ سے کھلاڑی سیکھ کر اعلیٰ درجے کی کرکٹ تک جا پہنچتے ہیں۔

سوال: آپ کے کیرئیر اور باؤلنگ کو سنوارنے میں کس شخصیت نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے؟
و ہاب ریاض: سابق ٹیسٹ کرکٹرعاقب جاوید ایک عظیم انسان اور بے پناہ صلاحیتوں کے حامل کرکٹر ہیں۔ وہ واحد ایسے کوچ ہیں جنہوں نے میری پانچ سال تک کوچنگ کی، مجھے فاسٹ باؤلنگ کے اسرار اور رموز سکھائے۔ میری باؤلنگ کو سنوارنے میں ان کا سب سے اہم کردار ہے۔ انہوں نے مجھے کرکٹ کے کھیل اور فاسٹ باؤلنگ کی بنیادی باتوں سے آگاہ کیا اور مجھے نیچرل آؤٹ سوئنگ کو کنٹرول کرنے کے بارے میں مفید مشورے دئیے۔ میں عاقب جاوید کی کوچنگ کی بدولت ہی پاکستان کی نمائندگی کرنے کے قابل ہواتھا۔ ان کے علاوہ قومی ٹیم کے کوٹ وقار یونس،وسیم اکرم، نیشنل بینک ڈاکٹر جمیل صاحب، سابق ٹیسٹ کرکٹر تسلیم عارف (مرحوم) منصور اختر،اعجاز احمد، محسن خان اور میرے کلب کے روح رواں شعیب ڈار صاحب نے بھی میری بڑی مدد کی، مجھے کھیل میں نکھار لانے کے حوالے سے مفید باتوں سے آگاہ کیا۔ میں ان سب کا بے حد ممنون و مشکور ہوں۔

سوال: کسی بھی میچ سے قبل آپ کس چیز کی تیاری کرتے ہیں؟
و ہاب ریاض: اعتماد ہی ایک ایسی چیز ہے جو آپ کو بہت زیادہ مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے بغیر بین الاقوامی کرکٹ میں اچھے اثرات مرتب کرنا ممکن نہیں۔ میں ہمیشہ صبر اور سکون کے ساتھ کھیل میں شریک ہوتا ہوں اور مجھے اچھی طرح علم ہے کہ سخت محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔ کھیل میں ڈسپلن کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور آپ کسی بھی کھیل یا زندگی کے کسی بھی شعبے میں اچھا کرنے کے متمنی ہوں تو یہ چیز آپ کے بہت کام آتی ہے۔ رفتار میں کمی بیشی بھی بڑی کارآمد ثابت ہو تی ہے۔

سوال: کیا آپ کے خیال میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے پہلے سے ہی تیاری کرنا پڑتی ہے؟
و ہاب ریاض: میں نیٹ پر سخت محنت کرتا ہوں اور ہر طرح کی گیندیں کرتا ہوں۔ مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتا ہوں۔ وڈیوز دیکھ کر اور تصورات کی آنکھ سے خود کو ان کے مدمقابل محسوس کرتا ہوں اور میچ والے دن حقیقت کی دنیا میں آکر آغاز پر نظر رکھتا ہوں اور فطری انداز میں چیزوں کو قابو کرتے ہوئے کھیلتا رہتاہوں۔ میں نے جتنی بھی مشق اور سخت محنت کی ہے، اس میں ایک پہلو کو مد نظر رکھا ہے کہ ’’بیٹسمین کو بغور دیکھو اور پھر اپنے ٹارگٹ پر باؤلنگ کرو‘‘۔ میں نے کھیل میں کامیابی کے حوالے سے یہ بات سیکھی ہے کہ مثبت سوچ اپنائیں جو کچھ آپ کر رہے ہوں۔ اس کی پشت پناہی کریں اور پھر اچھی کارکردگی کی امید کریں تو کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

سوال: اپنی باؤلنگ کے حوالے سے سب سے اہم چیز آپ کے خیال میں کیا ہے اور آپ مخالف بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کرتے ہیں؟
و ہاب ریاض: میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑھ کر میری ایکوریسی ہی ہے جس پر میں صبر کے ساتھ کام کرتے ہوئے دباؤ بڑھاتا رہتا ہوں۔ میں اپنی گیندوں کی رفتار کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں ہمہ وقت وکٹوں کے حصول میں سرگرداں رہنے کے بجائے دباؤ قائم رکھتا ہوں۔ میں ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت باؤلنگ کرتا ہوں اور پھر یہ امید رہتی ہے کہ آخر کار میں کامیابی حاصل کر لوں گا۔ مخالف بیٹسمینوں کا آؤٹ کرنے کے لیے لائن اور لینتھ پر باؤلنگ کرنا میری اولین ترجیح ہوتی ہے۔ مد مقابل ٹیم کے کھلاڑیوں کو دیکھ کر حکمت عملی ترتیب دیتا ہوں۔ پھر ماحول اور وکٹ کے رویے کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ میں لائن اور لینتھ کے ساتھ میڈن اوورز کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اگر آپ مخالف بیٹسمین کو مسلسل گیندیں ضائع کر رہے ہوں تو پھر وہ دباؤ میں آ کر کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کرتا ہے، جس پر آپ اسے پویلین کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔ میں مخالف بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہمیشہ وقار یونس،عاقب جاویداور وسیم اکرم کی ہدایات کو ذہن میں رکھتا ہوں اور اچھی لائن و لینتھ پر باؤلنگ کر کے بیٹسمین کو غلطی کرنے پر اکساتا ہوں لیکن جب گیند سوئنگ ہو رہی ہو تو آپ کا طریقہ کار کچھ اور ہوتا ہے بصورت دیگر دوسری تراکیب آزمانا پڑتی ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ میں ایک کامیاب کھلاڑی کے طور پر موجود رہنے کے لیے بہت ساری ترکیبیں سیکھنا پڑتی ہیں اور جب کھلاڑی یہ چیزیں سیکھ جاتے ہیں تو پھر کامیابی کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ کھلاڑی ہر بار تیزی کے ساتھ دوڑ کر 145یا اس سے زائد رفتار کی گیندیں نہیں پھینک سکتا بلکہ ہر گیند کراتے وقت اس کو رفتار میں کمی بیشی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہ تنوع اس کی مجبوری ہوتی ہے۔ میرے خیال میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کھلاڑی مد مقابل بیٹسمین کو مسلسل امتحان میں ڈال کر رکھے ، اسے مسلسل سوچنے پر مجبور کرے کیونکہ اسی طرح وہ مخالف ٹائمنگ میں ہلچل مچا سکتا ہے جو کسی نہ کسی طرح غلطی کر بیٹھتا ہے۔

سوال: آپ کے نزدیک ایک اچھے فاسٹ باؤلر میں سب سے اہم چیز کیا ہوتی ہے جو اسے کامیابی سے ہمکنار کراتی ہے؟
و ہاب ریاض: اچھا فاسٹ باؤلر وہی ہوتا ہے جو اپنی خامیوں پر ورک آؤٹ کر کے انہیں جلد از جلد دور کرے۔ نئی اور پرانی گیند کو یکساں مہارت کے ساتھ سوئنگ اور کنٹرول کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ذہنی مضبوطی، مکمل فزیکل فٹنس اور توجہ کے ساتھ کی جانے والی انتھک محنت ہی کسی کو ایک اچھا باؤلر بناتی ہے۔ فاسٹ باؤلنگ کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ ایک کٹھن ذمہ داری ہے، جس کو احسن طریقے سے پوری کرنے کے لیے ذہنی پختگی، جسمانی فٹنس اور تجربہ درکار ہوتا ہے۔ فاسٹ باؤلر بننے کے لیے اچھی خوراک کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔

سوال: آپ فیلڈ میں سب کچھ کر دکھانے پر آمادہ رہتے ہیں۔ یہ چیز آپ میں کس طرح پیدا ہوئی؟
و ہاب ریاض: میرے والد شیخ سکندر ریاض نے مجھ سے ایک بات کہی تھی کہ زندگی میں تم جو چاہو کرنا خواہ کھیل کا میدان ہو یا تعلیم کا اپنا سب کچھ جھونک دو۔ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہو۔ مجھے بچپن میں نیند سے بہت پیار تھا۔ ابو جی نے کہا کہ بیٹا کوئی سویا ہوا شخص کرکٹر نہیں بنا بلکہ کرکٹر وہی بنتا ہے جو سخت محنت کو اپنا شعار بنائے۔ بس یہ بات میرے دل و دماغ میں کچھ اس طرح سے رچ بس گئی اور میں نے پھر انتھک محنت کو اپنا وطیرہ بنا لیا۔

سوال: فاسٹ باؤلرز ایک جداگانہ حیثیت کے حامل ہوتے ہیں اور کسی حد تک جارح مزاج بھی جو بیٹسمین کی نگاہ میں خوف پیدا کر دیتے ہیں۔ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں یا بیٹسمینوں کو دھمکانے کے لیے محض آپ کی اہلیت ہی کام آتی ہے؟
و ہاب ریاض: میں سمجھتا ہوں کہ تمام فاسٹ باؤلرز کو جارح مزاج بننا پڑتا ہے۔ فاسٹ باؤلرز کو ایک مخصوص فطرت کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔ میں ایسی جارح مزاجی کا قائل
ہوں، جس پر کنٹرول کیا جا سکتا ہو۔ آپ کو میدان میں پہنچ کر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آپ مد مقابل بیٹسمین کی وکٹ لینے کے لیے آئے ہیں خواہ اس کے لیے آپ کو باؤنسرز کا سہارا لینا پڑے یا پھر شارٹ گیندوں کا کیونکہ وکٹ پر وکٹ پر مد مقابل بلے باز کو ڈرانے اور دھمکانے کی بھی بہرحال ایک علیحدہ اہمیت ہوتی ہے کیونکہ تماشائی چوکے اور چھکے لگتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ وکٹیں اڑتی ہوئی دیکھنا یا بیٹ کا باہری کونا تلاش کر کے گیند کو وکٹ کیپر یا سلپ میں کھڑے ہوئے فیلڈر تک جانا آپ کے اندر آگ سی بھڑکادیتی ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں بیٹسمین کی نبض پر ہاتھ رکھوں۔ اس کے اعصاب کو شل کروں تاکہ دباؤ کے عالم میں میدان چھوڑ جائے۔

سوال: ایک فاسٹ باؤلر کے لیے اپنی اہلیت کی بنیاد پر کھیلنا کچھ مشکل نہیں ہو جاتا؟
و ہاب ریاض: میراخیال ہے کہ سخت محنت ایک اہم اور بنیادی چیز ہے۔ سخت محنت کئے بغیر آپ خود کو کسی بھی طرز کے کھیل اورسطح پر منوا نہیں سکتے۔ جتنی زیادہ آپ کرکٹ کھیلیں گے اتنا ہی زیادہ سیکھتے چلے جائیں گے۔ میں ہر بال کھیلتے ہوئے اپنی بہتری کی طرف توجہ دیتا ہوں۔ خواہ کسی بھی قسم کا میچ ہو۔ یہ درست ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اہلیت کے ساتھ ہی ذہنی مضبوطی کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن اپنے رن اپ سے دوڑتے ہوئے آنے کے بعد بال پھینکتے وقت میری تمام تر خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس بات کو یقینی بناتا رہوں کہ میں اپنی روٹین پر عمدگی سے گامزن ہوں اورہر چیز اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ہو رہی ہے۔ میں نیٹ پر دوسروں سے کہیں زیادہ ورک آؤٹ کرتا ہوں اور مجھے ایساکر کے لطف محسوس ہوتا ہے۔ فیلڈ میں رہ کر تسلسل کے ساتھ کرکٹ کھیلنا کوئی آسان کام نہیں لیکن میں فیلڈ کے چیلنجز کو مسکرا کر قبول کرنے کا عادی ہوں۔ میں اپنے کام سے بھرپور لطف اٹھاتا ہوں۔ میری توجہ اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ میں بہترین کارکردگی دکھاؤں۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوں لہٰذا میرا اولین مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا رہوں اور مجھے جو کچھ مل رہا ہے اس کا بدلہ اپنی اچھی کارکردگی سے چکاتا رہوں۔ جو کچھ بھی میں کر سکتا ہوں وہ کرتا رہو ں اور اپنے کھیل میں بہتری پیدا کر لوں تاکہ کسی بھی پہلو سے میرے اندر کوئی کمی نہ رہے۔

سوال: دورہ حاضر میں رفتار کی جو دوڑ چل رہی ہے۔ ہر تیز باؤلر شعیب اختر اور بریٹ لی کا ریکارڈتوڑ دینے کے جنون میں مبتلا ہے۔ کیا آپ بھی خود کو اس دوڑ میں شامل رکھنا چاہتے ہیں؟
و ہاب ریاض: شعیب اختر اور بریٹ لی تو ورلڈکلاس باؤلرز تھے۔ ان کی برابری نہیں کی جا سکتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور میں لوگ اچھی رفتار والے باؤلر کو بڑا پسند کرتے ہیں۔ میری اسپیڈ 145 کلو میٹر فی گھنٹہ سے زائدہے جس کوبڑھانے پر مزید توجہ دے رہا ہوں مگر میں ذاتی طور پر یہ خیال کرتا ہوں کہ ٹیم کی فتح اور میری کارکردگی رفتار سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ میری کوشش بنیادی طور پر یہ ہوتی ہے کہ لائن اور لینتھ پر باؤلنگ کرتا رہوں تاکہ میری ٹیم کو اس کا فائدہ پہنچے۔

سوال: کیا رفتار کا جنون فاسٹ باؤلرز کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا؟
و ہاب ریاض: ظاہر سی بات ہے کہ اضافی رفتار کے لیے اضافی محنت بھی درکار ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے لائن اور لینتھ بھی خراب ہو سکتی ہے۔ انجریز بھی ہو سکتی ہیں بلکہ کئی طرح کے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔ ویسے بھی انجریز فاسٹ باؤلرز کے کیریئر کا حصہ ہوتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلسل مشق، مناسب ٹریننگ اور ورزش کی جاتی رہے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

سوال: آپ یہ بتائیں کہ فاسٹ باؤلرز کے لیے اسپائکس کا استعمال ضروری کیوں ہے؟
و ہاب ریاض: : فاسٹ باؤلرز کے لیے ٹرف وکٹوں پر کھیلتے ہوئے اسپائکس کا استعمال بہت ضروری ہے کیونکہ اگر مناسب جوتے نہ ہوں تو ہر وقت انجری کا خطرہ رہتا ہے۔ آپ پھسل بھی سکتے ہیں پاؤں بھی مڑ سکتاہے۔ جوتوں کے نیچے لگی ہوئی کیلوں کی وجہ سے پاؤں زمین پر جم کر پڑتا ہے اور کسی وجہ سے یہ کیلیں ٹوٹ جائیں یا ڈھیلی ہو جائیں تو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

سوال: اب تک آپ نے جو بھی کرکٹ کھیلی ہے، اس میں آپ نے خود میں کیا خامیاں اور خوبیاں محسوس کی ہیں؟
و ہاب ریاض: جتنی کرکٹ آپ کھیلیں گے، اس کے ساتھ ہی سیکھتے چلے جائیں گے۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہر روز آپ کوئی نئی بات سیکھتے ہیں۔ اگر آپ میں سیکھنے کا جذبہ ہے اور آپ کرکٹ کو سمجھ رہے ہیں ورنہ دوسری صورت میں آپ ختم ہو جائیں گے۔ لہٰذامیں ابھی تک سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہوں۔ تجربات کے حصول کے بعد مزید بہتری آئی ہے اور میں پاکستان ٹیم میں فاسٹ باؤلنگ کے شعبے کو کامیابی کے ساتھ آگے لے کر چلوں گا اور مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی فتح کا پرچم بلند کروں گا۔

سوال: آپ نے شعیب ملک، شاہد خان آفریدی،مصباح الحق اور محمد حفیظ کی کپتانی میں میچز کھیلے آپ کی ان کی کپتانی بارے کیا رائے ہے؟
و ہاب ریاض: شعیب ملک ، شاہد خان آفریدی،مصباح الحق اور حفیظ بھائی بڑے محنتی اور مخلص پاکستانی ہیں وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو جھونک کر کھیلنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان سب کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کی کامیابیوں کا گراف بلند ہوا ہے۔ یہ سب ہر حال میں اپنے پلیئرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اورانہیں اچھا پرفارم کرنے پر اکساتے ہیں۔ سینئرز اورجونیئرز کو عزت و احترام دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ اپنے آئیڈیاز شیئرز کرتے ہیں او ر ہر وقت پاکستان کا نام روشن کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ سب اچھی سوچ کے حامل انسان ہیں۔

سوال:سرفراز کی کپتانی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
و ہاب ریاض: سرفرازاحمد ایک بہترین انسان اور فائٹر کپتان ہے ۔وہ ہر وقت اپنے پلےئرز کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا ہے۔سرفراز ایک بیلنس انسان ہے جس کی کھیل بارے سمجھ بوجھ دیگر پلیئرز کی نسبت زیادہ اچھی ہے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ وہ پاکستان کو فتوحات کی راہ پر گامزن کر دے گا۔

سوال: یہ بتائیں کہ کرکٹ کا کھیل آپ کو کس حد تک پسند ہے؟
و ہاب ریاض: کرکٹ کا کھیل میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ میرا پروفیشن ہے، مجھے کرکٹ کا کھیل جنون کی حد تک پسند ہے بلکہ اب تو یہ میرے خون میں رچ بس گیا ہے۔

سوال: فزیکل فٹنس کو بہتر بنانے کے لیے آپ کیا کرتے ہیں؟و ہاب ریاض: میں چونکہ ایک پروفیشنل کرکٹر ہوں اس لیے میں اپنی فٹنس پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہوں۔ قومی ٹیم کے فزیکل ٹرینر نے ایک پروگرام بنا کردیا ہوا ہے۔ جس پ میں باقاعدگی سے عمل کر رہا ہوں۔ میں روزانہ ایک گھنٹہ تک سوئمنگ کرتا ہوں پھر ایک گھنٹہ تک جم ٹریننگ کرتا ہوں۔

سوال: 2015جب آپ کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سر زمین پر منعقد ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں منتخب کیا گیا تو ناقدین نے آپ کی شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے سفارشی قرار دیا تھا تو اس وقت آپ کے کیا احساسات تھے؟
و ہاب ریاض: ہر انسان کا اپنا پوائنٹ آف ویو ہوتا ہے کچھ آپ کو پسند کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد کی نظر میں آپ نا پسند یدہ ہوتے ہیں۔ میں جن کی نظر میں نا پسندیدہ ہوں انہوں نے پہلی مرتبہ میری قومی ٹیم کی شمولیت پر بھی اعتراض کیا تھا اور اب انہی لوگوں نے ایک بار پھر ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی قومی ٹیم میں میرے انتخاب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ میں تنقید سے کبھی نہیں گھبرایا البتہ تنقید برائے تنقید سے دکھ ضرو ر ہوتاہے۔ البتہ ناقدین کی جانب سے کی جانے والی تنقید مجھے مزید سخت محنت اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر اکساتی ہے، جب مجھ پر بے جا تنقید کی گئی تو میں نے خود سے عہد کیا کہ ورلڈ کپ کے میچز میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاؤں گا اور بہترین کارکردگی دکھا کر ناقدین کو غلط ثابت کروں گا اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کی بدولت میں نے ورلڈ کپ کے میچز میں 16 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے خود پر تنقید کرنے والے لوگوں کو جواب دے دیاہے۔

سوال: عالمی کپ میں مخالف ٹیموں کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کے حوالے سے آپ نے جو منصوبہ بندی کی تھی کیا آپ اس میں کامیاب رہے؟
و ہاب ریاض: ورلڈکپ میں مخالف ٹیموں کے بیٹسمینوں کو جلد از جلد آؤٹ کرنے کے حوالے سے میں نے جو منصوبہ بندی کی تھی میں ان کے حصول میں تقریباً90 فیصد کامیاب رہا۔ اگر ہماری فیلڈنگ ساتھ دیتی تو میری پلاننگ مزید کامیاب ہوتی جس کا نتیجہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی فتح کی صورت میں نکلتا۔

سوال: ورلڈ کپ میں آپ کی بہترین کارکردگی کا کیا راز تھا؟
و ہاب ریاض: سب سے پہلے تو میں نے عہد کر رکھا تھا کہ میں نے خود پر تنقید کرنے والے لوگوں کو اپنی بہترین کارکردگی سے غلط ثابت کرنا ہے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سرزمین پر 1992 عالمی کپ والی تاریخ دوہرانی ہے، میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں وسیم اکرم جیسی کارکردگی دکھاؤں تاکہ پاکستان ورلڈ کپ جیت کر 92 عالمی کپ کی تاریخ دوہرانے میں کامیاب ہو جائے۔ میری بہترین کارکردگی سامنے لانے میں کوچ وقار یونس اور کپتان مصباح الحق کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے مجھے بھرپور سپورٹ کیا وقار یونس نے مجھے حریف ٹیموں کے بلے بازوں کی خامیوں بارے آگاہ کیا۔ ان کے علاوہ سڈنی میں زمبابوے کے خلاف میچ سے قبل میری وسیم اکرم سے ملاقات ہوئی تو وسیم بھائی نے مجھے آسٹریلوی وکٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے حوالے سے خصوصی ٹپس دیں۔ چونکہ وسیم اکرم بھائی میرے آئیڈیل ہیں لہٰذا ان کی طرف سے ملنے والی رہنمائی کے بعد میں نے ان کی بتائی ہوئی ٹپس پر خوب محنت کی جس کا فائدہ مجھے عمدہ کارکردگی کی صورت میں ملاتھا۔

سوال: کواٹر فائنل جیسے اہم ترین میچ میں شین واٹسن سے تلخ کلامی کیوں ہوئی؟
و ہاب ریاض: جب میں بیٹنگ کرنے کیلئے کریز پر آیا تو شین واٹسن نے مجھ پر فقرے کسے تھے۔ دوران بیٹنگ واٹسن نے مجھے کہا کہ لگتا ہے تم اپنا بیٹ ڈریسنگ روم میں بھول آئے ہو۔ میں نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔لیکن جب شین واٹسن میرے مد مقابل آئے تو میں نے پرُجوش انداز میں باؤلنگ کی۔ میں نے جارحانہ انداز اپنا کر واٹسن کو شاٹ پچ گیندیں کیں اور پھر میں نے واٹسن کو قریب جا کر کہا کہ اب لگتا ہے کہ تم اپنا بیٹ ڈریسنگ روم میں بھول آئے ہو اور یوں میں نے حساب برابر کر دیا۔ میچ کے اختتام پر میں نے شین واٹسن سے مصافحہ کر کے اس کی بیٹنگ کی تعریف کی تو شین واٹسن نے مسکرائے ہوئے میری باؤلنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بڑے عرصے بعد اتنے خطرناک باؤلنگ سپیل کا سامنا کیا ہے۔

سوال: جب آپ کی گیند پر فائن لیگ پر کھڑے فیلڈر راحت علی نے شین واٹسن کا کیچ ڈراپ کیا تو آپ کے کیا احساسات تھے؟
و ہاب ریاض: اگر کیچ ڈراپ نہ ہوتا تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے لیکن یہ سب کھیل کا حصہ ہے قومی ٹیم کی جانب سے کھیلنے والا ہر کھلاڑی پوری کوشش کرتا ہے کہ کسی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ راحت علی نے بھی کبھی سوچا نہ ہو گا کہ کیچ ڈراپ ہو جائے گا وہ ایک اچھے ساتھی کھلاڑی ہیں۔

سوال: آسٹریلیا سے کواٹر فائنل ہارنے پر کیا احساسات تھے؟
و ہاب ریاض: ورلڈ کپ کے اہم ترین میچ میں شکست پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ ورلڈ کپ میں شکست پر میں قوم سے معذرت چاہتا ہوں۔ کواٹر فائنل میں آسٹریلوی ٹیم کے ہاتھوں شکست پر گراؤنڈ میں میری آنکھیں نم ہو گئیں تھیں۔

سوال: پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے کا آپ کا خواب توکب کا پورا ہو چکا ہے، آپ کہاں تک جانا چاہتے ہیں؟
و ہاب ریاض: میرا ارادہ بلکہ خواہش تو یہی ہے کہ میں تینوں طرز کی کرکٹ میں لمبے عرصے تک پاکستان کی نمائندگی کروں لیکن اب کرکٹ بہت زیادہ ہو چکی ہے اور ہر روز کھیلنا محنت کرنا، کیمپوں میں شریک ہونا، دورے کرنا اور ایسے میں خود کو فٹ رکھنا خاصا مشکل کام ہے مگر میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں اپنی فٹنس کو مزید بہتر بنا ؤں اور وسیم اکرم کی طرح عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کروں ۔ میرا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ مستقل بنیادوں پر قومی ٹیم کے لیے کھیلتا رہوں اور مثبت طریقے سے اپنا کردار ادا کروں۔ میری خواہش آرزو اور تمنا صرف یہی ہے کہ اپنے ملک کے لیے لمبے عرصے تک کھیلتا رہوں اور اللہ پاکستان کو جو فتوحات دے ان میں میرا بھی حصہ ہو۔

سوال: پاکستان کی سرزمین پر انٹرنیشنل کرکٹ میچز نہ ہونے سے کیا نقصانات ہو رہے ہیں؟
و ہاب ریاض: جب غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں پاکستان آکر میچز کھیلتی ہیں تو اس سے ملکی کرکٹ کا انفراسٹرکچر بہتر ہوتا ہے۔ دنیا کے نامور پلیئرز کو اپنے سامنے کھیلتا ہوا دیکھ کر نوجوان نسل میں کرکٹ کھیلنے کا شوق بڑھتا ہے۔ غیر ملکی ٹیم جب ٹور پر آتی ہے تو وارم اپ پریکٹس میچز کھیلے جاتے ہیں۔ جس میں نوجوان کرکٹرز کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پلیئرز کو فوری طور پر اچھی پرفارمنس کا صلہ ٹیسٹ یا ون ڈے ڈیبیو کی صورت میں مل جاتا تھا لیکن بد قسمتی سے غیر ملکی ٹیموں کا پاکستان آکر نہ کھیلنے کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہورہا ہے کہ نوجوان نسل کرکٹ کھیلنے کی جانب راغب نہیں ہو رہی بلکہ نوجوان نسل زیادہ وقت میدانوں میں گزارنے کے بجائے کمپیوٹر کے استعمال میں ضائع کر رہے ہیں۔ پھر انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی نقصان ہو رہا ہے۔

سوال: پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرنے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
و ہاب ریاض: پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدارتو پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں جلد انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو ۔پی ایس ایل نے پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحالی کی راہ ہموار کر دی ہے ۔ آئی سی سی کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مقابلوں کو بحال کرانے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے پر امن ملک ہے۔آپریشن ضرب عضب کی بھرپور کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کی وجہ سے پاکستان کے حالات میں دن بدن بہتری آرہی ہے۔ حکومت اور پاک فوج کی دن رات کی محنت نے رنگ لانا شروع کر دیا ہے اُمید ہے کہ بہت جلد پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے گا اور غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آکر کرکٹ کھیلیں گی۔ مئی 2015 میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان آکر ون ڈے اور T20 کرکٹ میچز کھیلی ۔اس کے بعد2017 میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل میچ لاہور میں منعقد ہوا ،پھر ورلڈ الیون نے 3 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلی اور اس کے بعد سری لنکا کی ٹیم نے ایک ٹی ٹونٹی میچ کھیلا۔2018 میں پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کے دو پلے آف میچز اور اس کے بعد فائنل میچ کراچی میں منعقد ہونے سے ثابت ہوگیاہے کہ پاکستان کرکٹ کھیلنے کیلئے ایک محفوظ ملک ہے۔ملکی کرکٹ کے میدان آباد کرنے کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدار پوری ایمانداری سے کوششیں کر رہے ہیں ۔

سوال: پاک بھارت کرکٹ روابط کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
و ہاب ریاض: پاک بھارت کرکٹ میچز ہونے چاہئیں۔ سپورٹس اور سیاست دونوں الگ الگ چیزیں ہیں اور ویسے بھی کھلاڑی تو امن، محبت اور بھائی چارے کے سفیر ہوتے ہیں۔ سیاست کھیل میں دراڑیں پیدا کرتی ہے۔ اس لیے میں سیاست کو پسند نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کرکٹ مقابلے ہی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ عوام بھی پاک بھارت کرکٹ میچز دیکھنے کیلئے بڑی بے تاب ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین میچز ہونے سے اس خطے میں کرکٹ کے کھیل کو فروغ حاصل ہو گا۔

سوال: وہاب بھائی آپ کی شادی گھر والوں کی پسند سے ہوئی یا پھر آپ نے لو میرج کی ہے؟
و ہاب ریاض: میں بچپن ہی سے کرکٹ کی محبت میں گرفتار ہو گیا تھا اس لیے کبھی کسی لڑکی سے محبت کرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔میرے لیے دُلہن میری والدہ محترمہ نے ہی پسند کی۔ اسی لیے میری شادی ارینج میرج ہے۔پہلے منگنی ہوئی تھی اس کے چند دن بعد نکاح کی رسم 18 یا 19 اپریل 2014 کو مسجد میں بڑی سادگی کے ساتھ ہوئی تھی۔ اہلیہ کو پہلی مرتبہ منگنی کی رسم پر دیکھا تھا۔ میرا سسرال لاہور کے معروف علاقے کینٹ میں ہے۔ میرے سسر محترم کا نام شاہد چوہدری ہے اور وہ بزنس مین ہیں۔ جبکہ میری بیگم کا نا زینب ہے۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں ۔ چار بہنیں اور ایک بھائی۔ بیگم نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ ان کے دیگر بہن بھائی بھی اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔

سوال: شادی دھوم دھام سے ہوئی تھی یا پھر سادگی کے ساتھ؟
و ہاب ریاض: شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ شادی میں میرے خاندان کے افراد کے علاوہ قریبی عزیزوں، دوستوں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی تھی۔ سلمان بٹ، کامران اکمل، انضما الحق، اظہر علی، حماد اعظم، اعزاز چیمہ، اختر رسول، رانا مجاہد، کامل علی آغا، لیاقت بلوچ سمیت دیگر کئی شخصیات نے شادی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
سوال: شادی کی تقریبات کا آغاز کس طرح ہوا تھا؟

و ہاب ریاض: شادی کی تقریبات کا آغاز محفل میلاد سے ہوا تھا۔ ہمارے گھر بھی اور اہلیہ کے گھر بھی محفل میلاد منعقد کی گئی تھی۔
سوال: شادی میں کیا کیا رسمیں ہوئی تھیں اور آپ نے کون سا لباس زیب تن کیا تھا؟
و ہاب ریاض: سب سے پہلے مایوں کی رسم ہوئی تھی جس میں صرف فیملی سمیت خاندان کے قریبی افراد نے ہی شرکت کی تھی۔ اس کے بعد مہندی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ مہندی کے روز میں نے ہلکے سبز رنگ کا کرُتا اور سفید لٹھے کی شلوار زیب تن کی تھی۔ میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ بگھی میں بیٹھ کر پنڈال میں آیا تھا۔ مہندی کی رسم ادا کرتے ہوئے بہنوں اور کزنز نے میرے ساتھ خوب چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ جسے میں نے خوب انجوائے کیا تھا چونکہ خوشی کا موقع تھا اسی لیے بہنوں، بہنوئی، بھائی اور کزنوں نے مل کر خوب ڈانس کیا اور بھنگڑا ڈالا تھا۔ بارات والے دن میں نے آف وائٹ کلر کی شیروانی پہنی تھی سفید رنگ کا کھسہ پہنا تھااور سر پر لال رنگ کی پگڑی باندھی تھی۔ میں گھوڑی پر بیٹھ کر پنڈال میں آیا تھا۔ ولیمے کی تقریب میں سیاہ رنگ کا سوٹ زیب تن کیا تھا۔ میں نے اپنی شادی کی تقریب کو اپنی فیملی، بہنوں، بھائی احسن ریاض، بہنوئی خواجہ شاہ زیب اکرم اور اپنے کزنز کے ساتھ مل کر خوب انجوائے کیا تھا۔

سوال: اپنی تیز باؤنسرز پر مخالف بلے بازوں کونروس کرنے والا وہاب اپنی بارات والے دن نروس کیوں تھا؟
و ہاب ریاض: اس لیے کہ میں قید ہونے والا تھا کیونکہ میں ایک آزاد پنچھی تھا جو اپنی مرضی سے زندگی انجوائے کرتا تھا۔ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کیلئے فیملی اور بیگم کو ٹائم دینا پڑتا ہے۔ ہر کام مشاورت سے کرنا پڑتا ہے۔ من مرضی نہیں چلتی، اسی لیے میں نروس تھا۔

سوال: اپنی سوئنگ سے بھرپور تیز گیندوں پر شین واٹسن سمیت دنیاکے بہترین بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچانے والے وہاب نے کیا کبھی خود بھی ڈانس کیا ہے؟
و ہاب ریاض: جی بالکل کیا ہے۔ اپنی شادی کی تقریبات کے دوران مہندی کی رسم پر اپنے چھوٹے بھائی احسن ، بہنوئی خواجہ شاہ زیب اکرم اور اپنے کزنز کے ساتھ مل کر خوب ڈانس کیا تھا۔ بھنگڑا بھی ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ اپنی چھوٹی بہن کی شادی پر بھی کزنز کے ساتھ مل کر خوب ڈانس کیا تھا۔ جس پر مجھے تمام مہمانوں سے خوب داد ملی تھی۔

سوال: آپ کے نزدیک کامیاب ازدواجی زندگی کا راز کیا ہے؟
و ہاب ریاض: ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کا راز میرے نزدیک بیگم کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہی پوشیدہ ہے۔ بیگم کی باتوں پر عمل کرنے سے ہی گھر کا ماحول خوشگوار رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیوی کے سامنے کوئی احمق انسان ہی شیر بننے کی کوشش کرے گا۔ پیار و محبت اور سہانے خواب دکھا کر ہی بیوی سے اپنی بات منوائی جا سکتی ہے۔

سوال: شدید تھکن کے باوجود کہاں جانا پسند کرتے ہیں؟
و ہاب ریاض: آئس کریم کھانے کیونکہ آئس کریم کھا کر خوب انجوائے کرتا ہوں کیونکہ میری ساری تھکن دور ہوجاتی ہے۔ سردی میں تو آئس کریم کھانے کا اپنا ہی مزا ہے۔مجھے سردیوں کا موسم مجھے بے حد پسند ہے۔

سوال: کرکٹ کے علاوہ کون سے کھیل پسند ہیں؟
و ہاب ریاض: فٹ بال، ہاکی، اسکواش، سوئمنگ اور رائڈنگ میرے پسندیدہ کھیل ہیں جبکہ یوسین بولٹ، ماریہ شراپوا، رونالڈو، شہباز احمد سینئر،جان شیر خان اور جہانگیر خان پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔

سوال: کھانے میں کیا پسند ہے؟
و ہاب ریاض:سبزیوں سے بڑی جان جاتی ہے۔ باربی کیو خوش ہو کر کھاتا ہوں۔ بھوک لگی ہو تو شور مچانا شروع کر دیتا ہوں۔

سوال: فرصت کے لمحات میں کیا کرتے ہیں؟
و ہاب ریاض: کرکٹ کھیلنے سے فرصت ملے تو میں اپنی فیملی کو ٹائم دیتا ہوں اور اپنے بہترین دوستوں، سلمان قادر، سلمان بٹ، احمد ڈار، احمد فراز، وقاص، ٹومی، محسن

سوال: پاکستانی سپورٹس کو بہتر بنانے کیلئے کیا تجاویز دیں گے؟
و ہاب ریاض: ہمارے کھلاڑی باصلاحیت ضرور ہیں مگر اچھے اتھلیٹ نہیں ہیں۔ترقی یافتہ ملکوں کے پلیئرز کی فٹنس کا معیار کئی گنا بہتر ہوتا ہے کھلاڑی سپر فٹ نہ ہوں تو مضبوط ٹیموں کی تشکیل کا خواب دیکھنا فضول ہو گاہمیں سکول کالج سطح پر سپورٹس کلچر کو فروغ دینا ہو گا نوجوان جسمانی طور پر مضبوط اور ان کے اعصاب مشقت کے عادی ہوں گے تو ہر کھیل میں اپنا لوہا منوائیں گے۔ ہاکی، فٹبال، سکواش، ٹینس سمیت مختلف کھیل ایک اچھے اتھلیٹ کو مطلوبہ فٹنس کے قریب لے جاتے ہیں اوائل عمری میں جسم کو سخت مقابلوں میں پرفارم کرنے کے قابل بنا لیا جائے تو انٹرنیشنل سطح پر بڑی کامیابیاں سمیٹی جا سکتی ہیں صرف کرکٹ کی پریکٹس سے عالمی معیار کے سپرفٹ کھلاڑی تیار کرنے میں مدد نہیں ملتی کرکٹرز کو بھی ابتدائی مراحل میں مختلف کھیلوں کے ذریعے سمیٹنا بڑھانے کی ترغیب دی جانا
چاہیے اسی صورت میں کھلاڑی ٹونٹی 20 کے ساتھ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سو فیصد کارکردگی دکھا پائیں گے۔

سوال: آپ کی زندگی کے سنہری اصول کیا ہیں؟
و ہاب ریاض: ہمیشہ سچ بولو، وقت کی پابندی کرو، والدین اساتذہ اور اپنے سینئرز کا ادب و احترام کریں۔ کبھی کسی شخص کا برا مت سوچو۔ ہر ایک کی مدد کرو اور صرف اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھو کیونکہ وہی ذات عزت دیتی ہے۔ پاکستان کی بہتری کے لیے سوچنا، میدان میں جا کر صرف پاکستانی پرچم کو بلند کرنے کے بارے میں سوچنا، کرکٹ کے کھیل کے ذریعے سے امن، محبت اور بھائی چارے کا پرچار کرنا۔ ہر وقت اللہ پاک سے ڈرتے رہنا، اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا اور اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ہر ممکن کوشش کرنا۔ میں وطن پاک کی مٹی سے بے پناہ محبت اور کرکٹ سے عشق کرتا ہوں۔

سوال: آپ نوجوان کرکٹرز کو کیا پیغام دیں گے؟
و ہاب ریاض: میں نوجوان کھلاڑیوں کو یہی پیغام دوں گا ہمیشہ سخت محنت کریں کیونکہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔میری نوجوان کھلاڑیوں کو یہی ہدایات ہیں کہ وہ اپنے والدین ، بہن، بھائیوں، اساتذہ، کوچز اور سینئرز کی عزت کریں کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی توجہ دیں تاکہ اگر آپ کھیل میں کامیاب نہ ہو سکیں تو تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے کسی اچھی جگہ نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان نسل قومی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کرتی ہے لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھیلوں میں بھی بھرپور حصہ لے۔ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔ نوجوان نسل پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ خواہ وہ کسی بھی شعبے میں ہوں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ملک کو ترقی یافتہ اور مہذب بنانے کے لیے
تعلیمی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا میں نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے صرف کریں۔ سکولوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو انسانی سرگرمیوں کا حصہ بنانے سے طالب علموں کی ذہنی استعداد اور صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے طالب علموں کی جسمانی کارکردگی میں بھی نکھار آجاتا ہے۔ پڑھائی کے ساتھ کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنا کر کئی مسائل اور بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور صحت مند زندگی گزارنے کی کامیاب کوشش کی جا سکتی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے