Voice of Asia News

کیا بروقت شفاف انتخابات ہو پائیں گے۔۔ ؟ تحر یر : جمال احمد

’’احتساب‘‘ کے نعرے سے روایتی سیاسی جماعتیں جو ماضی میں حکمرانی سے لطف اندوز ہوتی رہی ہیں، سخت خوف زدہ ہیں اور وہ اس بیانیہ کو تقویت دے رہی ہیں کہ ’’خلائی مخلوق‘‘ (جس کے معنی سب جانتے ہیں) اور عدلیہ میں ایک بار پھر گٹھ جوڑ ہوگیا ہے اور وہ احتساب کے کٹہرے میں صرف سیاست دانوں کو کھڑا کرتے ہیں، حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں اصل حکمرانی جرنیلوں، بیوروکریٹس اور ججوں نے کی ہے، یہ لوگ بھی کوئی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں، جو خود قابلِ احتساب ہیں انہیں احتساب کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ احتساب کا نعرہ سیاسی انجینئری کیلئے لگایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ بیانیہ بے وزن نہیں ہے۔ ہمیں نوآبادیاتی دور سے جو طرزِ حکمرانی و سیاست ورثے میں ملا ہے اْس میں اصول و نظریات اور اخلاق و کردار کا حکمرانی سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔ آزادی حاصل کیے ہوئے 70 برس سے زائد گزر چکے ہیں، حکمراں طبقے کے کردار اور ذہنی سانچے میں بہتری کے بجائے مزید ابتری آئی ہے۔ اس بیانیہ میں وزن کے ساتھ یہ بھی مسئلہ ہے کہ سفید و خاکی افسر شاہی کے مقابلے میں سیاسی اداروں کی بالادستی کے دعویداروں نے طرزِ حکمرانی اور اہلیت کا کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کیا، اسی وجہ سے فوجی آمریت و استبداد کے بعد سیاسی آزادی کا تصور بھی سیاسی بحران کو حل نہیں کرسکا۔ اس تناظر میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی جانب سے ایک سابق جج کو نگران وزیراعظم بنانا خوش آئند پیش اقدام ہے۔ نگران وزیراعظم کا اصل کردار تو صرف یہ ہے کہ وہ صاف اور شفاف انتخابات کرانے کے بعد اقتدار نئی حکومت کو منتقل کردیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ انتخابات ملک کو سیاسی استحکام دینے کا ذریعہ نہیں بن سکے ہیں، اس کے باوجود ہر سطح پر یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ انتخابات ہر صورت میں منعقد ہونے چاہئیں۔ امید یہ ہے کہ ہر قسم کے خدشات کے باوجود انتخابات اپنی مقررہ تاریخ کو ضرور منعقد ہوں گے، لیکن یہ انتخابات ایسے ہیں جن کے نتائج کی شفافیت پر پہلے سے ہی سوالیہ نشان لگادیے گئے ہیں۔ یہ نشان پاکستان کی سب سے طاقتور اور مقبول جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔ اس لیے اس امر کا خدشہ بھی موجود ہے کہ انتخابات کے نتائج اور اس کے بعد قائم ہونے والی حکومت نئے سیاسی بحران کا ذریعہ بنے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہر انتخاب اور اس کے نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، شکایات کا اظہار کرنے والی جماعتیں چھوٹی تھیں، اس لیے کبھی اْن کے اعتراضات کو وزن نہیں دیا گیا۔ پاکستان میں انتخابی دھاندلی کے خلاف سب سے بڑی عوامی تحریک 1977ء میں چلی جو ایک غیر معمولی تحریک تھی۔ بھٹو صاحب اور ان کی پیپلز پارٹی مقبول جماعت تھی لیکن وہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرسکتی تھی جو سیاسی آمریت کی ضرورت تھی، اس لیے انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ جنرل ضیا کی حادثاتی موت کے بعد ہونے والے انتخابات میں شفافیت کے سوالات اصغر خان کیس میں دستاویز بن چکے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف نے دھرنا تحریک چلائی۔ خاص بات یہ ہے کہ جو شخصیت نگران وزیراعظم بنی ہے اْس کے پاس انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ گیا تھا۔ جسٹس(ر) ناصرالملک کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا گیا تھا جسے اس بات کی تحقیق و تفتیش کرنی تھی کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی کہ نہیں۔ انہیں تحقیقات کے دوران 40 بے قاعدگیاں نظر آگئی تھیں مگر وہ ’’منظم دھاندلی‘‘ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ جسٹس(ر) ناصرالملک کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے حکومت ایک مشکل بحران سے نکل گئی تھی، اس لیے شاید جسٹس (ر) ناصرالملک حکومت کا انتخاب قرار پائے اور ان کی نیک نامی کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں بھی اتفاقِ رائے ہوگیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاست عالمی طاقتوں کی کشمکش کی اسیر ہے۔ بظاہر بیرونی قوتیں منظر پر نظر نہیں آرہی ہیں جس طرح وہ 2002ء اور 2008ء کے انتخابات سے قبل اور بعد نظر آئیں۔ سیاسی امور میں امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ملکوں کے علاوہ سعودی عرب، ترکی، عرب امارات کا کردار بھی تھا، اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتیں اس عمل کا حصہ رہی ہیں۔ اِس مرتبہ الیکشن کمیشن کی جانب سے خدشات سامنے آئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے قانون کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے عرض کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں جن کے مطابق عالمی قوتیں انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے سیکورٹی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں تفصیلات صرف ’’بند کمرے‘‘ کے اجلاس میں بتانے کے لیے تیار ہیں۔ صرف یہ ایک خبر نگران وزیراعظم کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
نئے انتخابات کے لیے 25 جولائی کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔نگراں وزیراعظم جناب ناصر الملک نے عزم ظاہر کیا ہے کہ بروقت اور شفاف انتخابات اولین ترجیح ہیں ہم اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہیں غفلت سے کام نہیں لیں گے۔ انہوں نے بھی وہی بات کہی ہے جو کئی برس سے موجودہ اور سابق چیف جسٹس اور خود چیف جسٹس ناصر الملک کہا کرتے تھے کہ تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہنا ہوگا۔ اور ادارے ہیں کہ اپنے دائرہ کار میں آتے ہیں نہ رہتے ہیں بلکہ اب تو ہر ادارہ دوسرے کے دائرے میں ہی گھسا جارہاہے۔ اس وقت نگراں وزیراعظم کیلئے چیلنج یہی ہے کہ بروقت اور شفاف انتخابات کرادیں۔ لیکن یہ کام ہوگا کیسے۔۔۔ شاید انتخابات بروقت ہوجائیں۔ لیکن شفاف اور دھاندلی سے پاک ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے کیونکہ اس کام کے لیے تیاری ہی نہیں کی گئی۔ انتخابی حلقہ بندیاں، مردم شماری، ووٹر لسٹ، انتخابی عملہ، ووٹر کے انگوٹھے پر لگائی جانے والی روشنائی، الیکٹرونک ووٹنگ، شناختی کارڈز کس کس چیز کو روئیں، کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کیاگیا۔ پھر انتخابات شفاف کیونکر ہوں گے۔ نامزدگی فارم کا مسئلہ الگ متنازع ہوچکا ہے۔ کیا جسٹس (ر) ناصر الملک یہ مسائل حل کرلں گے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ جسٹس ناصر الملک یہ مسائل حل نہیں کرسکیں گے۔ زیادہ سے زیادہ بروقت انتخابات کرائے جاسکتے ہیں، اس میں بھی شبہات بڑھتے جارہے ہیں ۔ فی الحال تو جسٹس ناصر الملک بروقت انتخابات کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن کیا وہ اس سلسلے کو روک سکیں گے جو عدالتوں کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کیلئے کیا جارہاہے۔ یہ درست ہے کہ حکمرانوں کے معاملات کبھی ٹھیک نہیں رہتے۔ میاں شہباز شریف کے معاملات بھی شاید سارے نہیں تو بیشتر خراب ہوں گے لیکن جس طرح انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد تبادلے و تقرر پر پابندی لگ جاتی ہے تو اسی طرح سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کا یا تو فیصلہ سنادیا جائے یا پھر ان پر کارروائی انتخابات کے بعد تک روک دی جائے۔ یہ روزانہ طلبی اور ریمارکس تو براہ راست انتخابی عمل میں حصہ لینے کے مترادف ہیں۔ اگر کسی نے غلط کام کیا ہے تو اس کا فیصلہ کریں ورنہ انتخابات تک یہ ریمارکس اور سماعتوں کا چکر بند کریں۔ یہ تو براہ راست سیاسی معاملات میں مداخلت ہے۔ نگران وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے لیے رابطے شروع کیے ہیں ۔ انہوں نے سابق بیوروکریٹس، سابق فوجی افسران، ریٹائرڈ ججوں اور کاروباری افراد سے رابطے کیے ہیں۔ گویا ملک چلانے کے لیے سیاست دان مناسب نہیں اور یہ سابق بیوروکریٹس ہمیشہ ملک کی بربادی والے اقدامات کرتے رہنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ فوجی افسران کا کام ہی ملک چلانا نہیں ریٹائرڈ ججوں کو بھی ملکی امور چلانے کا تجربہ نہیں ہوتا۔ یہ کام تو سیاسی کارکن ہی کرسکتا ہے اس میں کیا حرج ہے کہ غیر متنازع سیاسی رہنماؤں کو نگراں کابینہ میں شامل کیا جائے۔ غیر جانبداری کی خواہش میں صرف برائے نام کچھ لوگ کابینہ میں شامل کرلیے جاتے ہیں جو دو تین ماہ تصویریں کھنچوانے اور اجلاس کرانے میں لگادیتے ہیں۔ نگراں کابینہ میں سب سے اہم انتخاب وزیر داخلہ کا ہوگا آیا اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ انتخابات کی نگرانی کراسکے پورے ملک میں بیک وقت انتخابات کے نظام کو چلاسکے اور شکایات کی صورت میں غیر جانبدار رہتے ہوئے فیصلے بھی کرسکے۔ ہر صورت میں ذمے داری جسٹس ناصر الملک ہی پر عاید ہوتی ہے۔ بروقت انتخابات تو مسئلہ نہیں لگ رہے لیکن شفاف اور دھاندلی سے پاک پر سوالات موجود رہیں گے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اتنے اعتراضات ہیں تو الیکشن کیوں کرائے جارہے ہیں تو اس کا جواب یہی ہے کہ ہسپتالوں سے سیکڑوں شکایات کے باوجود علاج ہسپتال میں ہی ہوتا ہے کبھی موچی کے پاس جاکر آپریشن نہیں کرایاجاتا اس لیے بروقت الیکشن تو ہوجانے چاہیں۔

jamalahmad50000@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے