Voice of Asia News

چین میں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کیلئے ایک مخصوص فٹ پاتھ قائم

بیجنگ (وائس آف ایشیا)شمالی چین کے ایک شہر کی انتظامیہ نے فٹ پاتھ پر ایک مخصوص لائن بنائی ہے، جہاں صرف سمارٹ فونز استعمال کرنے والے چل سکیں گے۔سمارٹ فونز استعمال کرنے والے سمارٹ "فونز زومبیز” کہلاتے ہیں اور دورانِ استعمال آہستہ چلتے ہیں۔ لہذا انتظامیہ نے ان کیلئے ایک علیحدہ لائن متعارف کرائی ہے۔نیوز ویب سائٹ شانزی آن لائن کے مطابق ژیان نامی شہر کی یانتا روڈ پر پیدل چلنے کے لیے پختہ رستے پر ایک مخصوص لائن بنائی گئی ہے جس پر فبرز(اپنے ارد گرد کے تمام حالات سے بے خبر اپنے موبائل فون پر مصروف رہنے والے لوگ)آہستہ آہستہ چل سکیں گے۔یہ لین سرخ، سبز اور نیلے رنگ کی بنائی گئی ہے اور 80 سینٹی میٹر چوڑی ہے اور سو میٹر لمبی ہے۔ اس لین پر لگی سمارٹ فونز کی تصویروں کے ذریعے اس میں اور پیدل چلنے والوں کے لیے عام فٹ پاتھ کی لین میں فرق کیا جاتا ہے۔شانزی آن لائن کے مطابق شہر کا ایک بڑا شاپنگ مال ایک مہینے سے اس لائن کو بنانے کے لیے کوششیں کررہا تھا۔اس شاپنگ مال کی انتظامیہ کا کہنا تھا کے بعض اوقات کاریں بھی پیدل چلنے والوں کیلئے بنے فٹ پاتھ پر کھڑی ہوجاتی ہیں جب وہاں پر لوگوں کا بہت ہجوم ہوتا ہے اور وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے ہیں۔مقامی انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے ایک اخبار دی پیپر نے رائے عامہ کا جائزہ لیا، تو لوگوں نے اس علحیدہ لین کے قیام کا خیر مقدم کیا۔وئی زیووائی نے کہا کہ اس نے پہلی مرتبہ ایک ایسی لین دیکھی ہے اور اس کے خیال میں یہ ایک اچھا اقدام ہے۔اس لین پر چلتا ہوا اب اپنے آپ کو بہت محفوظ سمجھتا ہوں۔ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر کاریں ہیں اور کبھی یہ یہاں آجاتی ہیں، اور بعض اوقات آپ بچ جاتے ہیں۔ایک اور مقامی شخص ہو شوآ نے کہا کہ نوجوانوں کی زندگیوں کی رفتار اب بہت تیز ہوچکی ہیں اور یہ ہر وقت اپنے فونز کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس لین کے بن جانے سے اب ہم ذہنی پریشانی سے بچ گئے ہیں، کیونکہ یہ ایک قسم کی ہماری حفاظت ہے۔تاہم ایک مائیکرو بلاگ سینا وائیبو کو استعمال کرنے والے اس لین کو ایک مزیدار تفریح سمجھتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ اب نوجوان سمارٹ فون کے اسی طرح عادی ہوچکے ہیں جس طرح ماضی کی چنگ سلطنت میں لوگ افیون کے عادی تھے۔ایک اور شخص نے کہا کہ سمارٹ فونز استعمال کرنے والے اندھے لوگوں کی طرح ہو چکے ہیں، جبکہ ایک اور نے کہا کہ فبرز کے لیے اب بھی خطرہ ہے کہ وہ فون استعمال کرتے ہوئے کسی کار سے ٹکرا جائیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے