Voice of Asia News

’’کوئی تو ہے جو انتخابات نہیں چاہتا‘‘:تحر یر : جمال احمد

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنی مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئی ہے۔ وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتیں قائم ہوچکی ہیں۔ نئے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوچکا ہے، کاغذاتِ نامزدگی کے فارم کے اجرا اور وصولی کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک، چیف جسٹس ثاقب نثار اور الیکشن کمیشن واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ انتخابات بروقت ہوں گے۔نگراں وزیراعظم، عدالت عظمیٰ کے سربراہ اور الیکشن کمشنر کے ڈو ٹوک اعلان کے باوجود شکوک و شبہات کے بادل نہیں چھٹ رہے۔
انتخابات کے نظام الاوقات کا اعلان ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے یہ خدشہ پیدا کردیا تھا کہ انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں کیونکہ لاہور ہائی کورٹ کی سنگل بینچ نے ایک صحافی کی درخواست پر کاغذاتِ نامزدگی کے سابقہ فارم کو بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا جسے انتخابی ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بعد تبدیل کردیا گیا تھا۔ لیکن عدالت عظمیٰ نے اسپیکر قومی اسمبلی کی درخواست پر عدالت عالیہ لاہور کے حکم کو معطل کردیا اور انتخابی عمل کو جاری رکھا۔ البتہ یہ درخواست عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اور سابقہ کاغذاتِ نامزدگی فارم میں امیدوار کو جن تفصیلات کو بیان کرنے کا پابند کیا گیا تھا انہیں ایک حلف نامے کے ساتھ جمع کرانے کا پھر پابند کردیاگیا ہے۔
نئے انتخابات جس ماحول میں ہورہے ہیں اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ ارکانِ پارلیمان کی اہلیت کے بارے میںآئین کی دفعات 62،63 کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم تاحیات نااہل قرار پاچکے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور اْس کی اتحادی جماعتوں نے دفعہ 62،63 کی موجودگی کے خلاف تحریک شروع کردی تھی۔ اسی تحریک کے پس منظر میں انتخابی ایکٹ میں جو تبدیلی کی گئی تھی اس کا سبب یہ تھا کہ رکن پارلیمان بننے کے لیے نااہل وزیراعظم کی سیاسی جماعت کی سربراہی کی نااہلیت کو اہلیت میں تبدیل کردیا جائے۔ اسی قانون کے تحت انتخابات لڑنے والے سیاست دانوں کو یہ ریلیف بھی فراہم کیا گیا کہ تعلیم، کاروبار، خاندان، دہری شہریت، اثاثوں اور ذرائع آمدنی کی تفصیلات جو کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ جمع کرانا ضروری قرار دی گئی تھیں انہیں بھی ختم کردیا جائے۔ اب تک کی صورتِ حال کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو تو معطل کرکے کاغذاتِ نامزدگی کے فارم کو برقرار رکھا ہے لیکن ساتھ ہی حلف نامے کے ساتھ ساری تفصیلات جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدوار سے یہ ریلیف واپس لے لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے سیاست دانوں کی اہلیت اور نااہلیت کی بحث پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس بحث کو تبدیل کرنے کے لیے ہی پارلیمان کی بالادستی کی بحث کو نئے زاویے سے شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر نظر رکھنے والے اکثر اہلِ نظر اب بھی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ مسلسل انتخابی عمل کے باوجود پاکستان کی سیاست میں حکومتوں کے قیام اور اختتام پر پسِ پردہ قوتوں کا کردار ختم ہوگیا ہے۔ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد نے اس بحث کو ایک بار پھر زندہ کیا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان میں آئندہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں سوالات مسلسل اٹھائے جارہے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی سے آنے والی قرارداد نے بھی شک پیدا کیا۔ ہر ذمے دار فرد مسلسل اس بات کی یقین دہانی کرا رہا ہے کہ انتخابات اپنی مقررہ تاریخ کو ہی ہوں گے، تقریباً ہر سیاسی جماعت کا قائد انتخابات کے التوا کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالات بھی ایسے ہی نظر آرہے ہیں کہ انتخابات اپنے وقت پر منعقد ہوں گے، البتہ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ کیا نئی آنے والی حکومت پاکستان کو درپیش بحرانوں اور خطرات کا مقابلہ تدبر، بصیرت اور اخلاقی قوت کے ساتھ کرسکے گی؟
موجودہ حکومت کی مدت کی تکمیل بھی منسوخ شدہ این آر او کی تکمیل ہے۔ ایک وقت تھا کہ دو بڑی پارٹیوں کے سابق وزرائے اعظم جلاوطن تھے۔ دونوں میثاقِ جمہوریت کے نام پر ایک معاہدے پر دستخط کی تیاری کررہے تھے، ساتھ ہی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویزمشرف سے سیاسی معاہدے کے لیے مذاکرات بھی کررہی تھیں۔ انہی مذاکرات نے سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کی وطن واپسی کا راستہ کھولا۔ حالانکہ اس سے قبل میاں نوازشریف نے وطن واپسی کا ارادہ کیا لیکن اپنی عوامی مقبولیت کے باوجود ملک میں داخل نہیں ہوسکے۔ جب پاکستان کی سیاسی حرکیات نے ناقابلِ شکست جنرل(ر) پرویزمشرف کو کمزور کردیا تو دونوں سیاسی رہنما ایک بار پھر پاکستان میں داخل ہوئے۔ وطن واپسی کے بعد بے نظیر بھٹو تو قتل کردی گئیں لیکن سیاسی معاہدہ برقرار رہا۔ اسی معاہدے کے تحت پہلے پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی، اس کے بعد میاں نوازشریف کی حکومت بنی۔ اس نے اپنی مدت پوری کرلی ہے لیکن وزیراعظم میاں نوازشریف نااہل قرار دے کر حکومت سے معزول کردئیے گئے۔اس پس منظر میں پاکستان میں انتخابی عمل شروع ہوچکا ہے۔ سیاسی فضا میں انتخابات اور اْن کے نتائج پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کے منصوبوں کی بازگشت موجود ہے۔ افسوس یہ ہے کہ پاکستان کی قومی زندگی کے اصل مسائل اور عالمی سیاست سے اس کے تعلق کے بارے میں کوئی بیانیہ موجود نہیں ہے۔ ایک بات پر اتفاق ہوا تھا کہ بدعنوانی اور بدعنوانوں کا احتساب ہونا چاہیے، اخلاقی قوت اور کردار قومی قیادت کی بنیادی شرط ہے، لیکن ہماری سیاسی قیادت کی اکثریت احتساب کے عمل سے خوف زدہ ہے اور اس نے اسے عوامی نمائندگی اور جبر و استبداد اور آمرانہ قوتوں کی کش مکش سے تبدیل کردیا ہے۔ احتساب کے عمل کو جس طرح سابق حکومتوں نے ضمیروں کی خرید و فروخت کا ذریعہ بنایا ہے اس نے غیر جانب دار عناصر کو بھی محتاط کردیا ہے۔ لیکن باکردار اور اصولوں پر قائم قیادت کے بغیر سیاست کے مسائل حل نہیں ہوسکے۔
نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کہتے ہیں کہ میں صرف دو ماہ کے لیے آیا ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے اور ملک میں تمام کام صرف آئین کے مطابق ہوں گے۔ نگران عبوری حکومت کے سربراہ کی جانب سے یقین دہانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، تاہم 2018ء کے عام انتخابات ایک ایسی فضا میں ہورہے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد و اعتبار کو فروغ ملے۔ انتخابات کے لیے نگران وزیراعظم کے طور پر جسٹس (ر) ناصرالملک کا انتخاب اور پھر بروقت اور شفاف الیکشن کرانے کے لیے اْن کے علاوہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کے بھی دوٹوک اعلانات اور پختہ عزائم نہایت حوصلہ افزا اور اطمینان بخش ہیں۔ ملک کے تین اعلیٰ ترین ذمے داروں کی گفتگو کے باعث غیر یقینی کے بادل چھٹنے چاہئیں، تاکہ انتخابی عمل کی حامی قوتیں آئینی لحاظ سے ملک کو جمہوری راستے کی جانب گامزن کرسکیں۔ عبوری حکومت کے آئینی سربراہ جسٹس(ر) ناصرالملک کس قدر بااختیار ہیں، ان کے اختیارات نظر بھی آنے چاہئیں۔ چاہیے تھا کہ وہ حلف لے کر سب سے پہلے الیکشن کمیشن سے بریفنگ لیتے، لیکن وہ وزارتِ خارجہ اور توانائی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے بریفنگ ان کی ترجیحات میں کس درجے پر ہیں؟ آئینی لحاظ سے اس وقت الیکشن کمیشن ہی ایک طاقت ور ادارہ ہے اور نگران حکومت کے پاس بھی وہ اختیارات نہیں ہیں جو الیکشن کمیشن کے پاس ہیں، لیکن وہ انتخابی عمل کی راہ کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی دہلیز پر کھڑا ہے کہ ہائی کورٹ نے نامزدگی فارم میں ان تمام تبدیلیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے جو انتخابی اصلاحات پیکیج کے ذریعے سبک دوش ہونے والی پارلیمنٹ کرکے گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے اور الیکشن کمیشن بھی اس اپیل میں فریق بنا ہے۔ اس اپیل پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پانچ رکنی بینچ میں ابتدائی سماعت کی اور اس دوران اگرچہ ایک بار پھر عبوری ریلیف دیا گیا، لیکن یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ امیدواروں کے نامزدگی فارم میں ہائی کورٹ نے جو معلومات مانگی ہیں وہ ضروری ہیں، لہٰذا انتخابی عمل روکنے کے بجائے تمام امیدوار الگ سے نیا حلف نامہ بھی دیں جس میں وہ تمام معلومات دی جائیں جو ہائی کورٹ کے فیصلے کی رو سے مانگی گئی ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ سپریم کورٹ اس پیل کی سماعت بڑے بینچ کے ذریعے کرے گی۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عبوری ریلیف دیا، اس اپیل پر فیصلہ کیوں نہیں دیا؟ یہ کام بڑے بینچ کی تشکیل پر کیوں چھوڑ دیا گیا؟ یہی وہ صورتِ حال ہے جو ’’کوئی تو ہے جو انتخابات نہیں چاہتا‘‘ کو فروغ دے رہی ہے۔ ایسی تمام افواہیں ختم کرنا سپریم کورٹ کی ذمے داری ہے تاکہ انتخابات 25 جولائی کو ہوجائیں۔
jamalahmad50000@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے