Voice of Asia News

گوادر ،گرم پانی اور گہرے سمندر کی بندرگاہ:رپورٹ : محمد قیصر چوہان

گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔(نام گوادر اصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوات یعنی "کھلی ہوا” اور در کا مطلب” دروازہ” ہے۔ یعنی (ہوا کا دروازہ) گواتدر سے بگڑ کر گوادر بن گیا ہے) 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل کا وقت جوں جوں قریب آ رہا ہے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔
گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاص اہمیت کا حا مل رہا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آ گئے۔ مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔ ایرانی بادشاہ افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا۔325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار Admiral Nearchos نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات ،گوادر، پشوکان اور چابہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل Seleukos Nikator کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو303قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا۔303قبل مسیح میں برصغیر کے حکمران چندر گپت نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کر لیا مگر 100سال بعد 202قبل مسیح میں پھر یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی۔ 711عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا جب کہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581ء میں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچ کیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اورگچ کی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پزیرائی ملی جب انھوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچ کی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے۔1740ء تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچ کیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ 1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کیلئے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیاء کے ممالک کی تجارت کیلئے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات، گرم مصالحے، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی۔
1783ء میں مسقط کے بادشاہ کا اپنے بھائی سعد سلطان سے جھگڑا ہو گیاجس پر سعد سلطان نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آ جانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کے لیے سلطان کے نام کر دیا۔ جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آ کر رہائش اختیار کر لی۔1797میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی حکومت حاصل کر لی۔1804میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلیدیوں نے ایک بار پھر گوادر پر قبضہ کر لیا جس پر مسقط سے فوجوں نے آ کر اس علاقے کو بلیدیوں سے واگزار کروایا۔1838 ء کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اس علاقہ پر ہوئی تو بعد میں1861میں برطانوی فوج نے میجر گولڈ سمتھ کی نگرانی آکر اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور1863 میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا چنانچہ ہندوستان میں برطانیہ کی برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہازوں نے گوادر اور پسنی کی بندر گاہوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔1863میں گوادر میں پہلا تار گھر (ٹیلی گرام آفس )قائم ہوا جبکہ پسنی میں بھی تار گھر بنایا گیا۔1894کو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903کو پسنی اور1904کو اورماڑہ میں ڈاک خانے قائم کیے گئے۔1947میں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور بھارت اور پاکستان کے نام سے دو بڑی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو گوادر اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ یہ علاقہ قلات میں شامل تھا۔1955ء میں اس علاقے کو مکران ضلع بنا دیا گیا۔
پاکستان بننے کے بعد 1954میں محمد علی بوگرہ کی حکومت میں پہلی دفعہ اس علاقے کی اہمیت کا احساس کیا گیا لیکن اسے حاصل کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا۔ 1958میں پاکستانی وزیر اعظم ملک فیروز خان نون جو کہ خود زمیندارہ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا تھا کو اس زمین کی اہمیت کا احساس ہوا تو اس نے اسے خریدنے کے لئے مذاکرات شروع کئے،با لاآخر 8ستمبر1958کو یہ ٹکڑا مبلغ 3 ملین ڈالرز (5.5بلین روپے) میں خرید لیا گیا۔حکومت کے پاس اتنی رقم ادا کرنے کی سکت نہ تھی لہٰذا اسوقت کے پرنس آغاخان سے امداد کی درخواست کی گئی تو اس نے دو حصہ معاوضہ ادا کردیا۔تیسرے حصہ کی ادائیگی کے لئے حکومت پاکستان نے عوام پر ٹیکس لگایا جس سے ادائیگی کی گئی۔اس خرید کو قانونی حیثیت دینے میں مزید 3ماہ خرچ ہوئے اور 8دسمبر1958میں مارشل لا کے دور میں یہ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ قرار پایا۔اس وقت تک گوادر محض چند ہزار ماہی گیروں کی بستی تھی۔1977میں اسے ضلع کا درجہ دے کر بلوچستان میں ضم کردیا گیا۔یہ علاقہ پاکستان کے جنوب مغرب میں بحیرہ عرب کے ساحل پر اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے۔تجارتی شاہراہ آبنائے ہرموز بھی نزدیک ہی سے گزرتی ہے جہاں سے دنیا کے 40فیصد تیل کے جہاز گزرتے ہیں۔یہ کراچی سے 700کلو میٹرز اور ایرانی باڈر سے محض 120کلومیٹر دور ہے۔اس ساحلی علاقے کی ایک بڑی بندرگاہ بننے کی قدرتی صلاحیت اس سے پہلے ہی سامنے آ چکی تھی جب 1954 میں امریکی جیالوجیکل سروے نے گوادر کو ڈیپ سی پورٹ کیلئے بہترین مقام قرار دیا تھا۔یکم جولائی 1970کو جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان بھی ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا تو مکران کو بھی ضلعی اختیار مل گئے۔1977میں مکران کو ڈویڑن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی1977کو تربت، پنجگور اور گوادر تین ضلعے بنا دےئے ۔گوادر محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہم جگہ پر واقع ہے ،گوادر کا موجودہ شہر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس شہر کو سمندر نے تین طرف سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ہر وقت سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک خوبصورت اوردلفریب منظر پیش کرتا ہے ویسے بھی گوادرکے معنی "ہوا کا دروازہ” ہے۔گوا کے معنی ہوا اور در کا مطلب دروازہ ہے۔ گہرے سمندر کے علاوہ شہر کے ارد گرد مٹی کی بلند بالا چٹانیں موجود ہیں۔ اس شہر کے باسیوں کا زیادہ تر گزر بسر مچھلی کے شکار پر ہوتا ہے اور دیگر اقتصادی اور معاشی ضرورتیں ہمسایہ ممالک ایران، متحدہ عرب امارات اور اومان سے پوری ہوتی ہیں۔پا ک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد گوادر شہر ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کر جائے گااور نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا اقتصادی لحاظ سے ایک اہم شہر بن جائے گا اور یہاں کی بندرگاہ پاکستان کے علاوہ چین، افغانستان، وسط ایشیاء کے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں آئے گی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا۔
گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے اب لوگوں کی توجہ اس طرف ہو چکی ہے چنانچہ ایسے میں بے شمار فراڈیوں اور دھوکے بازوں نے بھی جعلی اور دو نمبر رہائشی سکیموں اور دیگر کالونیوں کی آڑ میں لوگوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے کیونکہ پاکستان کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد گوادر کی اصل صورت حال سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان فراڈیوں کی چکنی چپڑی باتوں اور دلفریب اشتہارات کی وجہ سے ان کے جال میں پھنس کر اپنی جمع پونجھی سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ یہاں ایسی سکیمیں جن کو گوادر دویلپمنٹ اتھارٹی نے این او سی بھی جاری کر رکھی ہیں مگر ان کی ابھی ابتدا بھی نہیں ہو سکی اور وہ اپنے پوسٹروں اور پمفلٹوں پر دوبئی اور ہانگ کانگ کے مناظر اور عمارتیں دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں ویسے بھی گوادر میں پینے کے پانی کی کمیابی، سیوریج کے نظام کی عدم دستیابی اور دیگر عمارتی سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر بلکہ سرکاری سیکٹر میں بھی کوئی خاص کام شروع نہیں ہو سکا ماسوائے سی پورٹ اور چند ایک عمارتیں جن میں پرل کانٹی نینٹل اور دیگر منصوبوں کے جن پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ جبکہ موجودہ گوادر شہرمیں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں اوربازاروں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماسٹر پلان کے مطابق گوادر شہر کا علاقہ موجودہ پوری گوادر تحصیل کے برابر ہے اور شہر کی بڑی سڑکیں 200فٹ چوڑی اور چار لین پر مشتمل ہو نگی جبکہ ان سڑکوں کے دونوں جانب 2/2لین کی سروس روڈ ہو گی اور شہر کے مین روڈ کا نام جناح ایونیو رکھا گیا ہے جو تقریبا14کلو میٹر طویل ہے اور اسی طرح بلوچستان براڈوے بھی200فٹ چوڑی اور سروس روڈ پر مشتمل ہو گی اور اس کی لمبائی تقریبا60کلو میٹر ہے جبکہ سمندر کے ساتھ ساتھ تقریبا24کلو میٹر سڑک تعمیر ہو گی اور جو چوڑائی کے لحاظ سے جناح ایونیو کی ماند ہو گی۔ یہ سڑکیں نہ صرف ایشیاء بلکہ یورپ کے بہت سے ممالک کے شہروں سے بھی بڑی سڑکیں ہو نگی۔ ابتک ترقیاتی کاموں پرکافی بھاری رقم خرچ ہو چکے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اخراجات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔ موجودہ گوادر شہر صرف 800میٹر لمباہے جبکہ ماسٹر پلان کے مطابق آنے والے دنوں میں گوادر تقریبا40کلومیٹر عریض اور60کلو میٹر طویل ہو گا۔ اب تک جی ڈی اے نے قانون کے مطابق رہائشی، انڈسٹریل اور کمرشل نوعیت کی30 سے زائد سکیموں کے این او سی جاری کیے ہیں جبکہ سرکاری سکیمیں اس وقت 2ہیں جن میں سنگار ہاؤسنگ سکیم جو تقریبا 13کلو میٹر لمبی اور4.5کلو میٹر چوڑی سمندر میں مٹی کی پہاڑی پر ہے جبکہ دوسری سرکاری سکیم نیو ٹاؤن کے نام سے ہے جس کے 4فیز ہو نگے اور اس میں 120گز سے 2000گز کے پلاٹ ہو نگے۔ گوادر فری پورٹ نہیں بلکہ ٹیکس فری زون شہر ہو گا۔ جی ڈی اے نے این او سی جاری کرتے وقت پرائیویٹ اداروں کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی سکیموں میں پینے کے پانی کا انتظام کریں گے اور سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائے گے جبکہ سیوریج کے پانی کے نکاس کا بھی ایسا انتظام کیا جا رہا ہے کہ گندا پانی سمندر میں شامل ہو کر اسے آلودہ نہ کرے اور کراچی جیسی صورت حال پیدا نہ ہو اور اس مقصد کے لیے ہر پرائیویٹ سکیم کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کے ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹ لگائیں اور اس پانی کو گرین بیلٹ اور پارکوں میں استعمال کیا جائے۔ اب گوادر شہر میں آکڑہ ڈیم سے پینے کا پانی آتا ہے جو 45ہزار کی آبادی کے لیے کافی تھا مگر اب آبادی میں اضافہ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہو گیا اور موجودہ پانی کی مقدار کم پڑ گئی کیونکہ اب گوادر کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جس کے لیے میرانی ڈیم کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے مگر یہ گوادر سے 120کلو میٹر دور ہے جہاں سے پانی لانا بہت مشکل کام ہو گا جبکہ میرانی ڈیم کے پانی کا سردیوں کی بارشوں پر منحصر ہے اور جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ کئی کئی سال بارشیں نہیں ہوتی تو ڈیم میں پانی بھی نہیں آئے گا لہٰذا یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ گوادر میں اصل مسئلہ پانی کا ہی ہو گا جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔گوادر شہر اور آس پاس کے دیہاتوں کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ کے قریب ہے اور شہر اور اس کے قریبی علاقوں کی روزانہ کی بنیاد پرضرورت 63 لاکھ گیلن ہے جبکہ شہر کو اس وقت تقریباً 18 لاکھ گیلن پانی مل رہا ہے جو اس ساحلی شہر سے 155 کلو میٹر دور بنائے گئے ڈیموں سے ٹینکر وں کے ذریعے لایا جا رہا ہے۔اس ساحلی شہر اور نواحی علاقوں میں زیر زمین پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث یہ پینے کے قابل نہیں۔ گوادر شہر میں اس وقت بھی پانی کی قلت جاری ہے شہری شادی کور سے ٹینکرز کے ذریعے لا یا جانے والا پانی خر ید نے پر مجبور ہیں۔ اس وقت شہر میں60 ہزار گیلن کا ٹینکر 40000 اور 16000 ہزار والا ٹینکر پندرہ سے اٹھارہ ہزار روپے تک فروخت ہوتا ہے۔بلوچستان کاساحلی شہرگوادر اربوں ڈالر مالیت کے پاک چین اقتصادی راہداری اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کا مر کز ہے لیکن اس شہر کے شہریوں کو پینے کا پانی بھی تاحال میسر نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ اربوں ڈالر ز کی سر مایہ کاری سے بندرگاہ کی تعمیر کا کام آخری مراحل میں ہے۔ گوادر بندرگاہ سے روزانہ کی بنیاد پر مال بردار جہاز آتے اور یہاں سے سامان لے جاتے ہیں۔
گوادر مکران کوسٹل ہائی وے کے ذریعے کراچی اور بلوچستان کے دیگر ساحلی شہروں سے منسلک ہے ۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ہی گوادر میں جدید بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بن گیا تھا مگرفنڈ کی کمی اور دیگر ملکی اور بین الااقوامی معاملات اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ اس کی تعمیر کاکام شروع نہ ہو سکا۔ مگر جب امریکہ نے طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تو اس کے بعد ابھی چار ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ پاکستان اور چین نے مل کر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں کے مطابق بندرگاہ بنانی شروع کر دی۔ چینیوں کے اس شہر میں داخلے کے ساتھ ہی شہر کی اہمیت یکدم کئی گنا بڑھ گئی اور مستقبل کا بین الاقوامی شہر اور فری ٹیکس زون کا اعلان ہوتے ہی ملک بھرکے سرمایہ دار اور دولت مند کھربوں روپے لیکر اس شہر میں پہنچ گئے اور زمینوں کو خرید نے کے لیے مقامی شہریوں کو ان کے منہ مانگے روپے دینے شروع کر دیے جس کی وجہ سے دو سو روپے کرایہ کی دکان تیس ہزار روپے تک ہو گئی اور تیس ہزار روپے فی ایکڑ زمین کی قیمت دو سے تین کروڑ روپے تک پہنچ گئی چنانچہ گوادر کا عام شہری جو چند ایکڑ کا مالک تھا دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی اورارب پتی بن گیاچنانچہ اب شہر میں بے شمار چمکتی دمکتی اور قیمتی گاڑیوں کی بھرمار ہو گئی ہے جس کی وجہ سے چھوٹی اور تنگ سڑکیں مزید سکڑ گئیں۔ شہر کے تقریباً تمام بے روز گار افراد نے پراپرٹی ڈیلر کے دفتر کھول لیے جبکہ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے افراد نے پراپرٹی کو منافع بخش کاروبار سمجھتے ہوئے بڑے بڑے ادارے قائم کر لیے۔ شہر کی ابتر حالت کو بہتر بنانے اور منظم کرنے کے لیے حکومت نے 2003میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنایا جس کا قانون بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے2002 میں منظور کیا تھامگر یہ ادارہ تاحال شہر کی حالت کو سدھارنے میں کامیاب نہیں ہو سکاہے ۔
گوادر بندرگاہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے گوادر میں بحیرہ عرب پر واقع ایک گرم پانی، گہرے سمندر کی بندرگاہ ہے۔گوادر بندرگاہ بحیرہ عرب کے سرے پر خلیج فارس کے دھانہ پر واقع ہے۔ کراچی کے مغرب میں تقریبا 460 کلومیٹر پاکستان کی سرحد کے مشرق میں ایران سے 75 کلومیٹر اور شمال مشرق میں بحیرہ عرب کے پار عمان سے 380 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔گوادر بندرگاہ کلیدی مقام آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جو خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد بحری راستہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ زمین بند افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں جو توانائی کی دولت سے مالا مال ہیں کی قریب ترین گرم پانی کی بندرگاہ ہے۔گوادر بندرگاہ کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ سمندر کے جس حصے پر واقع ہے وہاں کا پانی گرم ہے جو دنیا کے بہت ہی کم بندرگاہوں کی یہ خصوصیت ہوتی ہے، گرم پانی والے سمندری حصے پر تمام سال تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو جاری و ساری رہتے ہیں یوں تجارت اور مختلف اشیاء کو براستہ سمندر ترسیل کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی، اس کے برعکس جو بندرگاہیں ٹھنڈے پانی پر واقع ہیں ان کے ذریعے تجارت کرنا مشکل ہوتاہے بلکہ مختلف موسموں میں تو ناممکن ہوجاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تومختلف تہذیب بھی ساحلی علاقے کے ساتھ ساتھ اپنا پڑاؤ ڈالتی رہیں ہیں،ساحلی یا سمندری راستے زمانہ قدیم سے تجارتی راستے کے طو ر پر استعمال کیے جا رہے اور جدید تجارت نے سمندری راستے سے تجارت کی ضرورت میں مزیداضافہ کیا ہے،ان سب میں پاکستان کی اہمیت ایک گیٹ وے یا اہم تجارتی دروازے کی سی ہے پاکستان کو بحر ہند میں اہم حرموزآبنائے اورچھپے ہوے حزانوں سے نوازگیا ہے اور دو اسلامی ریاستوں کی سرحد سے ملحق ہے،افغانستان اور ایران کی ہمیشہ علاقائی سیاست میں ایک اہمیت اور مرکزی کردا رہا ہے ایک متحرک اور محاشی مرکز کے طور پر ترقی کرتی گوادر بندرگاہ نے علاقائی اور ملحقہ طاقتوں کو مجبور کر دیا ہے کے وہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے توانائی کے وسائل تک رسائی کے لیے اپنا انفراسٹریکچر تیار کریں۔ ایران اور دبئی پورٹ ورلڈ(متحدہ عرب امارات) کے مفادات گوادر کی بندرگاہ کو مقابلے سے باہر رکھنے میں ہیں کیونکہ آبنائے ہرموز پر یہ ممالک ایک گیٹ وے کے طور پر کام کرتے ہیں۔
پاکستان گوادربندرگاہ کی وجہ سے خطے میں سب ممالک سے زیادہ اہم جیوسٹریٹجک پوزیشن کا حامل ہے۔ جنوبی ایشیاء ، مغربی ایشیاء اور وسطی ایشیاء کی ریاستوں کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ، تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کی تعمیر ساحلی تجارت جیسی تجارتی اور صنعتی سہولتوں سے اس خطے کے تمام ممالک افغانستان، ترکمانستان، قازقستان، عمان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ایران، قطر، چین میں معاشی اور صنعتیں ترقیوں کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر گوادر بندرگاہ کے ذریعے دنیا کے ممالک میں تجارتی لین دین شروع ہو جائے اور مختلف ممالک اپنی اپنی کرنسیوں میں لین دین (تجارت) شروع کریں گے تو پاکستان میں ڈالر کی قیمت کافی حد تک کم ہو جائیگی اور اس کے علاوہ بلوچستان جو پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے، میں بہت سارے مقامی افراد کو روز گار مل جائے گا بلکہ نہ صرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان بلکہ ملک کے دیگر علاقوں کو بہترین مواقع فراہم ہونگے۔اس بندرگاہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک مستفید ہوسکتے ہیں جن میں چین سرفہرست ہے، چین کے دفاعی، تجارتی، علاقائی، مفادات کے لیے گوادر بندرگاہ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ چین نے اب تک 198 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کوسٹل ہائی وے تعمیر کیا ہے جو گوادر بندرگاہ کو کراچی سے ملاتا ہے۔ چین اس بندرگاہ کو سب سے زیادہ اہم اس لیے بھی سمجھتا ہے کیونکہ چین کے پاس گرم پانیوں کی کوئی بھی بندرگاہ تاحال موجود نہیں ہے جو تمام سال تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔گوادر بندرگاہ کا ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ اگر امریکہ ابنائے ملاکا کو بند بھی کر دے توپاکستان اور چین کیلئے بحیرہ عرب کا تجارتی راستہ ہمیشہ کیلئے کھلا رہے گا۔ گوادر بندرگاہ کے ذریعے پاکستان خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کیلئے گزرنے والے تمام جہازوں کی نقل و حمل کو مانیٹر کر سکتا ہے۔
امریکا،اسرائیل اور بھارت گوادربندرگاہ کے سب سے بڑے مخالف ہیں ، پاکستان اس بندرگاہ کو بنانا اپنی سب سے بڑی ضرورت سمجھتا ہے لہٰذاتمام خدشات کو سامنے رکھتے ہوے گوادر توانائی راہداری بنانا پاکستان کے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ مختلف قسم کے حادثات و دہشت گردانہ کارروائی سے اس بندرگاہ پر جاری کام اور عاملین کی حفاظت کے لیے مختلف فورسز بالخصوص فوج کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔بلوچستان کا جنوبی ساحلی شہر گوادر تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ایک جزیرہ نما ہے۔ یہ وسط ایشیا کا گیٹ وے کہلاتا ہے اور اس کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب 2002ء میں یہاں گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ دنیا کی گہری بندرگاہوں میں سے ایک ہے اور اپنی افادیت اور اہمیت کی وجہ سے واقعی وسط ایشیا کے لیے گزرگاہ بن سکتی ہے۔ گوادر بین الاقوامی بحری راستوں میں ایک اہم آبی گزرگاہ کا کردار ادا کر سکتا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں اس کا کردار بہت اہم ہوگا۔سی پیک کے تحت 57 ارب ڈالرز کے میگا پروجیکٹس بن رہے ہیں جن سے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے اور گوادر ایک نئے روپ میں دنیا کے سامنے آئے گا۔ گوادر کا بین الاقوامی ایئرپورٹ اور ریلوے لائن کے منصوبے بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس ترقی سے نہ صرف علاقے میں بلکہ گوادر، بلوچستان اور پورے ملک کیلئے بھی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔گوادر مکران کا پہلا بڑا پورٹ ہے اور اس سے مکران اور پورے صوبے کو صنعت کے حوالے سے فروغ ملے گا اور کئی منصوبے شروع ہوں گے۔ اس سے نہ صرف صوبے کی معیشت میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں بے روزگاری میں کمی ہوگی۔گوادر پورٹ کو دنیا سے ملانے کے لیے سی پیک روٹ کے ساتھ ساتھ گوادر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام ہورہا ہے جبکہ ریلوے نظام کے ذریعے بھی شہر کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملایا جائے گا۔ ریلوے نظام سے گوادر پورٹ نہ صرف ملک بلکہ ہمسایہ ممالک سے بھی مل جائے گا۔ گوادر پورٹ کی وجہ سے مکران کے تین شہر اقتصادی مراکز بنیں گے، گوادر، پسنی اور تربت۔ یوں گوادر علاقے کے سیاسی، سماجی اور معاشی تمام حوالے سے عوام کے لیے زندگی کے درازے وا کرے گا۔
بندر گاہ خلیج فارس، بحیرہ عرب، بحر ہند، خلیج بنگال اور اسی سمندری پٹی میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہو گی اور اس میں بڑے بڑے کارگو بحری جہاز باآسانی لنگر انداز ہو سکیں گے۔ جن میں ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز تک شامل ہیں۔ اس بندر گاہ کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان، چین اور وسط ایشیاء کی تمام ریاستوں کی تجارت ہوگی۔ بندر گاہ کی گہرائی 14.5 میٹر ہوگی یہ ایک بڑی ،وسیع اور محفوظ بندر گاہ ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر بہت سے ممالک کی اس پر نظریں ہیں۔ بندرگاہ کا ایک فیز مکمل ہو چکا ہے جس میں 3 برتھ اور ایک ریمپ شامل ہے۔ ریمپ پر Ro۔Ro جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے جبکہ 5 عدد فکس کرینیں اور 2 عدد موبائل کرینیں جبکہ ایک R T G کرین آپریشنل حالت میں لگ چکی ہیں۔ ایک برتھ کی لمبائی 600 میٹر ہے جس پر بیک وقت کئی جہاز کھڑے ہو سکیں گے جبکہ دوسرے فیز میں 10 برتھوں کی تعمیر ہو گی۔ بندر گاہ چلانے کے لیے تمام بنیادی سامان اور آلات بھی لگ چکے ہیں مگر یہاں پر کام اس لیے نہیں ہو رہا کہ دوسرے علاقوں جیسے وسط ایشیاء کے ممالک کے لیے رابطہ سڑکیں موجود نہیں ہیں اور اس مقصد کے لیے کئی بین الاقفوامی معیار کی سڑکیں بنوائی جا رہی ہیں مثلاً M8 کی تعمیر پر کام شروع ہو چکا ہے جو تقریباً 892 کلو میٹر طویل موٹروے ہوگی جو گوادر کو تربت، آواران، خزدار اور رٹوڈیرو سے ملائی گی جو پھر ایم 7، ایم 6 اور انڈس ہائی وے کے ذریعے گوادر کا چین کے ساتھ زمینی راستہ قائم کرنے میں مددگار ثابط ہو گی۔ اس کے علاوہ گوادر کو ایران اور افغانستان کے ساتھ ملانے کے لیے بھی سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔
2002میں چین اور پاکستان نے مل کر Warm Water Strategic Deep Seaportبنانے کا کام شروع کیا۔ 248ملین ڈالرز کی لاگت سے یہ پورٹ تیار ہوئی تو 20مارچ 2007کو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اس کا افتتاح کیا۔ 750ملین ڈالرز کے مزید خرچ سے اسے کمرشل پورٹ بنایا گیا۔حکومت نے اس نئی نویلی بندرگاہ کو چلانے کا ٹھیکہ سنگاپور کی ایک کمپنی کو بین الاقوامی بولی کے بعد دے دیا۔گوادر کی بندرگاہ پہلی بار تنازع اور شکوک و شبہات کی زد میں اس وقت آئی جب 2013 میں حکومت پاکستان نے اس بندرگاہ کو چلانے کا ٹھیکہ سنگاپور کی کمپنی سے لے کر ایک چینی کمپنی کے حوالے کر دیا۔اسی دوران نواز شریف کی سربراہی میں بننے والی حکومت نے اعلان کیا کہ چینی حکومت نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ 2013 میں حکومت پاکستان نے اس بندرگاہ کو چلانے کا ٹھیکہ سنگاپور کی کمپنی سے لے کر ایک چینی کمپنی کے حوالے کر دیا۔اس منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کا نام دیا گیا جو بنیادی طور پر خنجراب کے راستے چین کو گوادر کی بندرگاہ سے ملانے کا منصوبہ ہے۔اس معاہدے پر 2015 میں دستخط ہوئے اور اس وقت معلوم ہوا کہ اس منصوبے میں سڑکیں، ریلوے لائن، بجلی کے منصوبوں کے علاوہ متعدد ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔چونکہ یہ راہداری گوادر سے شروع ہوتی ہے (یا ختم ہوتی ہے) اس لیے گوادر اور اس کی بندرگاہ کو اس سارے منصوبے میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔چین کے لئے گوادر بندرگاہ بہت اہم ہے کیونکہ اس کاتیل لے جانیکا راستہ 16000کلومیٹر سے کم ہوکر محض 5000کلومیٹر رہ جائیگا۔لہٰذا چین اس کے انفراسٹرکچر پر مزید 12بلین ڈالرز خرچہ کررہا ہے۔ اسے کوسٹل ہائی وے کے ذریعے کراچی سے ملادیا گیا ہے اور موٹر وے کے ذریعے رتو ڈیرو سندھ سے ملایا جا رہا ہے۔ یہ شہر اب تیزی سے ترقی کرے گا۔گوادر میں زیر تعمیرمنصوبے مکمل ہونے پر یہ دنیا کے چند بڑے شہروں میں شمار ہوگا۔ 10لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار ملے گا جس کا تمام تر فائدہ بلوچستان کی عوام کو ہو گا۔پاکستانی حکومت نے پہلے سے ہی گوادر میں فری ٹریڈ زون کے لئے زمین مختص کر دی ہے اور حکومت نے گوادر بندرگاہ اور بلوچستان میں فری ٹریڈ زون کے لئے ا سپیشل رعایات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں ایکسکلسوانڈسٹریل پارک پروسیسنگ منرل زون اور اکنامک پروسیسنگ زون کے منصوبے بھی ترجیحی بنیادوں پر شروع کئے گئے ہیں۔موجودہ حکومت پاکستان نے صرف اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت ہی گوادر کی ترقی پر توجہ نہیں دی بلکہ گوادر اور بلوچستان کی ترقی موجودہ حکومت کی شروع ہی سے اولین ترجیح رہا ہے۔
گوادر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے 25 ارب روپے کا منصوبہ گوادرشہر کو ترقی دینے کیلئے بنایاگیا اور اس پر عملدر ا?مد ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو پوری طرح اس معاملے میں خود مختار کیا۔ صوبائی حکومت نے اپنی مرضی سے گوادر کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بنایا اور اس کو عملی جامہ پہنا رہی ہے جبکہ تمام مالی وسائل وفاقی حکومت فراہم کر رہی ہے۔اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی کی ضروریات کے پیش نظر سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لئے پلانٹ لگانے کے لئے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو مالی وسائل مہیا کئے۔ حکومت پاکستان نے 2015۔16 میں گوادر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لئے تقریباساڑھے گیارہ ارب روپے کا ایک اضافی منصوبہ شروع کیا ہے۔گوادر کے ہسپتال کو 300 بستر کا ہسپتال بنایا جائے گا۔تربیت یافتہ افرادی قوت بھی مہیا کی جائے گی اس کے لئے گوادر میں یونیورسٹی اور ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹیٹوٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ ان اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر مقامی افراد کو داخلہ دیا جائے گا تا کہ مقامی آبادی اس سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے۔اقتصادی راہداری کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں توانائی اور شاہراؤں پر توجہ دی گئی ہے۔گوادر کو بجلی فراہم کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر300 میگاواٹ پاور پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے اور اس کی ترسیل اور فراہمی قومی گرڈ سے بھی ملائی جا رہی ہے۔چینی سرمایہ کاروں کو مالی اور جانی تحفظ دینے کے لئے خاص انتظام کیا گیا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے سی پیک اسپیشل سیکورٹی فورس کا قیام اور گوادر شہر کو سیف سٹی منصوبے کے تحت بنایا جا رہا ہے جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ایک نیاانٹرنیشنل ایئر پورٹ بھی تعمیر کیا جارہاہے جس سے سرمایہ کاروں کی آمدورفت بہتر ہو گی اور بزنس کو فروغ ملے گا۔گوادر شہر کو ملک کے دوسرے شہروں سے ملانے کے لئے روڈ اور ریل کا جال بھی بچھایا جا رہا ہے۔موجودہ حکومت نے سڑکوں کی تعمیرپر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔اب خواب پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ گوادر سے اندرون ملک زمینی فاصلہ کم ہو رہا ہے ا ور جوں جوں فاصلے کم ہوں گے ان منصوبوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔گوادر سے تجارتی کارگو کی آمد ورفت شروع ہوچکی ہے ۔
گوادر پورٹ کے ذریعے بلوچستان سمیت پاکستان بھر کے نوجوانوں کے رو زگار کے مواقع کے علاوہ ملک میں تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔ گوادر پورٹ میں ایک ہزار میٹر طویل نئے ٹرمینل کی تعمیر کے سلسلے میں چین کی کمپنی کی جانب سے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرنے کے بعد اس پورٹ کی توسیع کے سلسلے میں کام کا آغاز کیا جائے گا۔ اس وقت گوادر پورٹ پر 2 لاکھ 10ہزار اسکوائر میٹر گارگو اسٹوریج کی سہولت ہے۔ 2018۔19کے دوران ٹرمینل میں توسیع کی جائے گی جس کے بعد گوادر پورٹ معدنیات اور دھاتوں کے لیے برتھ کی تعمیر کی جائے گی۔اسی طرح گوادر بندرگاہ کی توسیع کرتے ہوئے2لاکھ 50ہزار ٹن پر مشتمل کروڈ آئل لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا برتھ بھی بنایا جائے گا جو 515میٹر لمبا اور 14ہیکٹر پر مشتمل ہو گا۔ اسی طرح گوادر بندرگاہ کی توسیع کرتے ہوئے 70ہزار ٹن پر مشتمل جنرل بر تھ تعمیر کیا جائے گا جو 285میٹر لمبا اور 21 ہیکٹر اراضی پر مشتمل ہو گا۔ ان سہولتوں کے اضافے کے ساتھ گوادر میں تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی اور چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت بھی پاکستان کی معیشت کو فائدہ حاصل ہو گا۔واضح رہے کہ اس وقت گوادر میں سی پیک کے تحت ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، ایئرپورٹ اوردیگر منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تمام وزارتوں اور متعلقہ محکموں کو گوادر میں جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ پاکستان سی پیک کے تحت گوادرپورٹ سے بھرپور مستفید ہو سکے۔پاکستان کیلئے گوادر پورٹ قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک تحفہ ہے جس کو چین کی دوستی اور بے مثال معاونت نے مزید گراں قدر بنا دیا ہے۔تاریخی اعتبار سے یہ ایک نیا سنگ میل ہے جسے عبور کرکے ہم بین الاقوامی سطح پر تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔گوادر پورٹ صرف پاکستان اور چین کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے نئے امکانات سے مالا مال ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے