Voice of Asia News

فاسٹ باؤلر بننے کیلئے پائپ فیکٹری میں مزدوری کی پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد عرفان کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو: محمد قیصر چوہان

کرکٹ کے کھیل میں محمد عرفان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے وہ 6جون 1982 کو گگومنڈی کے نواحی علاقے اڈا مانا موڑ کے قریبی گاؤں /ای ،بی 203  شرقی کے ایک متوسط کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں فٹبالر بننے کے خواب دیکھنے والے محمد عرفان نے جب سرخ چمکتی ہوئی گیند ہاتھ میں پکڑی تو اپنی شاندار اور خطرناک باؤلنگ سے مخالف ٹیموں کے بہترین بیٹسمینوں کو آؤٹ کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا عالمی سطح پر منوایا۔ محمد عرفان 7 فٹ اور ایک انچ قد کی وجہ سے دُنیا کے سب سے بڑے قد والے کرکٹر بھی ہیں ان میں میچ ونر باؤلر والی تمام تر خوبیاں موجود ہیں۔ دراز قد، مضبوط جسم، فولادی شانے، بہترین اسپیڈ، خطرناک آؤٹ سوئنگ، مہلک اِن سوئنگ اور ریورس سوئنگ جیسی غیر معمولی خصوصیات انہیں دیگر ہم عصر باؤلرز سے ممتاز کرتی ہیں۔ محمد عرفان جس طرح ایک بہترین میچ ونر باؤلر ہیں اسی طرح وہ ایک انسان دوست شخصیت کے مالک آدمی بھی ہیں۔ وہ دوستوں پر جان نچھاور کرتے ہیں وہ ہمیشہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔انہوں نے اب تک4ٹیسٹ ،60 ون ڈے انٹر نیشنل اور 20 ٹونٹی 20 انٹر نیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیاء‘‘ نے’’چھوٹو‘‘ کی عرفیت سے مشہور دُنیائے کرکٹ کے طویل قامت پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد عرفان سے ان کی رہائش گاہ پران سے انٹرویو کیا وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
محمد عرفان: میرا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے گگو منڈی کے نواحی علاقے اڈا مانا موڑ کے قریبی گاؤں 203/E.B شرقی کے ایک متوسط کسان گھرانے سے ہے۔ میرے والد محترم کا نام چوہدری محمد اسلم (مرحوم)ہے جو بنیادی طور پر ایک کسان تھے۔ میری والدہ محترمہ کا نام مختار بی بی ہے ہم 8بہن بھائی ہیں 6 بھائیوں اور 2بہنوں میں میرا نمبر آخری ہے۔ اس لیے سب گھر والوں کا لاڈلہ بھی ہوں۔ مجھ سے بڑے بھائی محمد اکرم 2002 میں ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ (اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین) میں 6 جون 1982 کو اپنے گاؤں میں پیدا ہوا۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 255/E.B سے پاس کیا۔ میری سب سے بڑی بہن غزالہ ہیں ان کے بعد محمد عابد، محمد طاہر، محمد عاصم ان کے بعد بہن ادیبہ ناز کا نمبر آتا ہے۔ ان کے بعد محمد عمران پھر محمد اکرم (مرحوم) سب سے آخر میں میر ا نمبر آتا ہے۔ ہم سب بہن بھائی شادی شدہ ہیں میرا تعلق ارائیں برادری سے ہے۔
سوال: آپ بچپن میں کون سے کھیل شوق سے کھیلتے تھے؟
محمد عرفان: میں نے کرکٹر بننے کا خواب کبھی نہیں دیکھا تھا کیونکہ میں بچپن میں فٹبال کا دیوانہ تھا۔ میرا ڈونا اور رونالڈو کی طرح کا عالمی شہرت یافتہ فٹبالر بننا چاہتا ہے ان دنوں میرا شمار اپنے گاؤں سمیت قریبی گاؤں کے بہترین فٹبالر کے طورپر ہوتا تھا۔ میں نے گگو منڈی فٹبال کلب کی طرف سے بے شمار فرینڈلی اور مختلف ٹورنامنٹس کے میچز کھیلے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے خوب داد سمیٹی۔
سوال: عرفان بھائی آپ فٹبال کے کھیل کو الوداع کہہ کر کرکٹ کے کھیل سے کب اور کس طرح منسلک ہوئے تھے؟
محمد عرفان: میں 2000 میں گگو منڈی فٹبال کلب کی طرف سے ٹورنامنٹ کا میچ کھیل رہا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹر وقار یونس کے باؤلنگ پارٹنر ندیم اقبال صاحب وہ میچ دیکھ رہے تھے تو میچ کے اختتام پر وہ میرے پاس آئے اور میری قد و قامت کو دیکھ کر کہنے لگے کہ عرفان آپ کا قد فاسٹ باؤلنگ کیلئے سازگار ہے لہٰذا تم فٹبال کو چھوڑ کر کرکٹ کے کھیل کر اپنا پروفیشن بناؤ تو تم پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کر سکتے ہو۔ ندیم اقبال صاحب نے ساتھ ہی مجھے گگو کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلنے کی پیشکش بھی کر دی اور یوں میں نے فٹبال کے کھیل کو الوداع کہہ کر کرکٹ کے کھیل سے ناطہ جوڑ لیا اور یوں 2000 میں پہلی مرتبہ ہارڈبال کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا آغاز کر دیا۔ میں ہارڈبال سے کرکٹ گگو منڈی میں جا کر کھیلتا تھا کیونکہ ہمارے گاؤں میں کرکٹ کھیلنے کیلئے کوئی گراؤنڈ نہیں تھی۔ اپنے گاؤں میں بھنسیں چرانے کے دوران گاؤں کے قریب سے گزرنے والی ریلوے کی لائن کے ساتھ خالی جگہ پرٹینس اور ٹیپ بال سے کرکٹ کھیل کر اپنا شوق پورا کیا کرتا تھا۔
سوال: آپ کا تعلق ایک متوسط کسان گھرانے سے تھا تو کرکٹ کو پروفیشن بنانے کے بعد کرکٹ کھیلنے کیلئے آنے والے اخراجات کس طرح پورے کئے؟
محمد عرفان: اپنے کرکٹ کیریئر کو پروان چڑھانے کی خاطر مجھے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے سخت محنت کو اپنا وطیرہ بنا رکھا تھا اسی لیے میں نے تمام مشکلات کا بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کیا۔ کرکٹ کھیلنے پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کیلئے میں نے گگو منڈی میں ایک پائپ بنانے والی فیکٹری جماعت پائپ فیکٹری میں 2000میں ملازمت کرنا شروع کر دی تھی۔ میں صبح سات بجے سے شام سات بجے تک مزدوری کیا کرتا تھا۔ ان دنوں میری تنخواہ 1300 روپے ماہوار تھی۔میرے محسن اور کلب کے ہیڈ شفقت ظہور مجھے فیکٹری سے لینے آتے بلکہ وہ فیکٹری والوں سے بات کر کے چھٹی بھی لیکر دیا کرتے تھے وہ اکثر فیکٹری کی انتظامیہ سے کہتے کہ عرفان ایک دن بڑا کرکٹر بنے گا۔ شفقت ظہور جن کا انتقال ہو چکا ہے وہ میری ابتدائی کرکٹ کا سہارا تھے۔ شفقت ظہور اپنی جیب سے کلب چلاتے تھے کسی سے ایک پیسہ نہیں لیتے تھے۔ جس دن میچ ہوتا تھا میں نائٹ شفٹ میں ڈیوٹی لگوا لیتا تھا رات کو کام کرتا اور صبح گگو کرکٹ کلب کی طرف سے میچ کھیلتا تھا۔ میں نے 2000 میں جماعت پائپ فیکٹری میں مزدوری شروع کی اور 2003 تک کام کرتا رہا۔ مجھ پر ایسا وقت بھی آیا کہ میں کرکٹ سے مایوس ہو گیا تھا کیونکہ دن بھر فیکٹری میں کام کرنے کے بعد مجھے کرکٹ کھیلنے کا ٹائم نہیں مل پاتا تھا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اب فیکٹری میں ملازمت چھوڑ کر تمام تر توجہ کرکٹ کھیلنے پر مرکوز کروں گا اور یوں میں نے 2003 میں جماعت پائپ فیکٹری میں ملازمت چھوڑ کر تمام تر توجہ کرکٹ کھیلنے پر مرکوز کر لی اور اپنے دوست محسن اور اپنے تایا زاد بھائی محسن رزاق کے ہمراہ سائیکل پر بیٹھ کر گگو منڈی کرکٹ کی پریکٹس کرنے جایا کرتا تھا۔ اس دوران ندیم اقبال صاحب نے میری کوچنگ کی اور مجھے فاسٹ باؤلنگ کی بنیادی باتوں سے آشنا کیا۔
سوال: اگر آپ کرکٹر نہ بنتے تو پھر کون سی فیلڈ جوائن کرتے؟
محمد عرفان: میں 2004میں اپنے گاؤں کے دوستوں کے ہمراہ لاہور شہر کی سیر کرنے کیلئے آیا تھا۔ ہم رات کو گوالمنڈی میں واقع فوڈ اسٹریٹ میں کھانا کھا رہے تھے۔ وہاں پر ایک آرمی آفیسر اپنی فیملی کے ہمراہ کھانا کھا رہا تھا اس نے میرے دراز قد کو دیکھ کر مجھے پاس بلا کر میری بڑی تعریف کی۔ انہوں نے پوچھا کہ ینگ مین تم کیا کام کرتے ہو۔ میں نے کہا سر صرف کرکٹ کھیلتا ہوں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتا تو انہوں نے مجھے اپنا ٹیلی فون نمبر دیا اور رابطہ کرنے کی تاکید کی۔ لاہور کی سیرکرنے کے بعد جب میں اپنے گاؤں واپس گیا تو ایک دن میں نے جنرل صاحب کو فون کر کے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے مجھے فوج میں نوکری کی پیشکش کرتے ہوئے مجھے اٹک آرٹلری بلایا تو میں اٹک پہنچ گیا تو وہاں پر جنرل صاحب کے علاوہ دیگر آرمی آفیسرز نے میرے دراز قد کو دیکھ کر بڑی تعریف کی اور مجھے اٹک آرٹلری کی باسکٹ بال ٹیم میں سلیکٹ کر لیا۔ ان دنوں آرمی کی انٹریونٹ باسکٹ بال چمپئن شپ ہو رہی تھی اور اگلے ہی دن فائنل میچ تھا تو باسکٹ بال ٹیم کے کوچ نے مجھے چند گھنٹے ٹریننگ دی اور باسکٹ بال کے کھیل کی بنیادی باتیں اور تکنیکس کے بارے میں بتایا۔ خاص طور پر انہوں نے مجھے بال کورنگ میں ڈال کر پوائنٹ اسکور کرنے کے فن سے آشنا کیا۔ چند گھنٹے کی پریکٹس کے بعد میں نے آرام کیا اور اگلے دن اٹک آرٹلری کی یونٹ کی ٹیم انتظامیہ نے مجھے آرمی انٹریونٹ باسکٹ بال چمپئن شپ کے فائنل میچ کیلئے میدان میں اتار دیا۔ میں نے کمال مہارت سے اپنے دراز قد کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بال کورنگ میں ڈال کر اپنی ٹیم کیلئے پوائنٹس اسکور کر کے اپنی یونٹ کو چمپئن بنوا دیا۔ مجھے فائنل میچ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ پوائنٹس اسکور کرنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا اور پانچ ہزار روپے انعام دیا گیا۔ میں نے تقریباً 6 ماہ تک پاک آرمی میں اٹک کی ایک یونٹ کی طرف سے باسکٹ بال کھیلی لیکن جب مجھے بتایا گیا کہ اب آپ کو فوجی وردی پہن کر جنگی مشقوں میں حصہ لینا پڑے گا تو میں نے 10ہزار روپے ماہوار تنخواہ کی پاک آرمی کی نوکری چھوڑ دی۔ میں واپس گاؤں آگیا لیکن اس کے بعد پھر مجھے واپس بلایا گیا اور میں نے اکاڑہ چھاؤنی میں باسکٹ بال میچز کھیلے۔ لیکن اس کے بعد میں نے آرمی کی طرف سے مزید باسکٹ بال کھیلنے سے معذرت کر لی اور پھر سے کرکٹ کھیلنا شروع کر دی۔
سوال: نیشنل کرکٹ اکیڈمی تک آپ کی رسائی کیسے ممکن ہوئی؟
محمد عرفان: برطانیہ کااٹک کرکٹ کلب پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا ۔ان کی انتظامیہ کا ندیم اقبال سے رابطہ تھاتوانہوں نے اٹک کرکٹ کلب کو ایک دوستانہ میچ کھیلنے کیلئے گگو منڈی کھیلنے کیلئے بلایا ۔میں نے اس میچ میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔گورے کھلاڑی میری باؤلنگ سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے واپس انگلینڈ جا کرسابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید سے میرا ذکر کیا۔ اس کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ، سابق چیف سلیکٹر اور سابق افتتاحی بلے باز عامر سہیل صاحب ندیم اقبال صاحب کی دعوت پر گگو منڈی کرکٹ اکیڈمی کے دورے پر آئے تھے تو ندیم اقبال صاحب اور شفقت ظہورصاحب نے میری عامر سہیل صاحب نے ملاقات کروائی تھی اور ان سے سفارش کی کہ عرفان کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بلا کر ٹریننگ کا موقع فراہم کیا جائے اور یوں مجھے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت کا موقع ملا جہاں پر عاقب جاویداور عامر سہیل نے میری صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اہم ترین کردار اداکیا۔ اسی دوران میری ملاقات پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق منیجر اظہر زیدی صاحب سے ہوئی تو انہوں نے مجھے اپنی کلب پی اینڈ ٹی کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلنے کی آفر کی جو میں نے قبول کر لی۔ بعدازاں اظہر زیدی صاحب نے مجھے اپنے گھر رہنے کی آفر بھی کی جو میں نے شکریہ کے ساتھ مسترد کر دی۔ میں اظہر زیدی صاحب کی بھرپور سپورٹ پر ان کا بے حد مشکور و ممنون ہوں۔مجھے میڈیا میں متعارف کرانے کا سہرا میرے دوست یاسر عباس جٹ جو موٹر وے پولیس میں پٹرولنگ آفیسر ہیں کے سر ہے میں بروقت سپورٹ پر ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔ مجھے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی طرف سے ملائیشیا جانے کا موقع ملا۔
سوال:نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کیسا وقت گزرا؟
محمد عرفان: دیہات کی سادہ اور پسماندہ زندگی سے اٹھ کر ایک دم لاہور جیسے بڑے شہر آنا اور پھر این سی اے جیسے جدید سہولیات سے بھرپور ادارے میں رہنا میرے لیے خواب سے کم نہ تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ جن کھلاڑیوں کو میں ٹی وی پر دیکھتا تھا ان کے ساتھ ٹریننگ کروں گا اور وقت گزاروں گا۔ وہاں چھ ماہ تک میری ٹریننگ کی گئی۔ میری خوراک، جم اور پریکٹس کا شیڈول بنا۔ میں روٹی کا عادی تھا وہاں روٹی کھانے کے بجائے مجھے پروٹین سے بھرپور خوراک کھانے کا کہا گیا جس میں 12 انڈے (بغیر زردی کے) دوپہر میں ٹریننگ کے بعد چکن اورسلاد، رات کو دال، پاستہ، مٹن یا فش ہوتی تھی۔ جب ٹیم میں سلیکٹ ہوا تو صبح ناشتے میں پھل یا پھلوں کا جوس، دو توس اور انڈا آملیٹ کھا کر میچ کھیلنے جاتا تھا۔
سوال:آپ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کیسے آئے؟
جواب: اظہر علی کے آر ایل میں تھے انہوں نے میری باؤلنگ دیکھی ہوئی تھی۔کے آر ایل کو فاسٹ باؤلر کی ضرورت تھی۔ اظہر علی نے ان سے بات کی اور انہوں نے مجھے بیس ہزارروپے ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیا۔ اس طرح اظہر علی کی وجہ سے 2008 میں مجھے قائداعظم ٹرافی کھیلنے کا موقع ملا۔
سوال: آپ کے کیرےئر کا ٹرننگ پوائنٹ کونسا ثابت ہوا؟
محمد عرفان: 2008 میں مجھے وسیم اکرم نے انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے سری لنکا میں منعقد ہونے والے ایڈیشن کیلئے کولکتہ نائٹ رائیڈر کی ٹیم میں شامل کرایا تھا۔
سوال: وہ کون سی پرفارمنس تھی جس کے بل بوتے پر آپ کوپاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے سلیکٹ کیا گیا تھا؟
محمد عرفان: میں نے 2009 کے فرسٹ کلاس سیزن میں 43 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ اس پرفارمنس کی بنیاد پر ہی سلیکٹروں نے مجھے 2010 میں انگلینڈ کا ٹور کرنے والی پاکستان ٹیم میں سلیکٹ کیا تھا۔ میں نے انگلینڈ کے خلاف اپنا ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کا ڈیبیو کیا تھا۔
سوال: قومی ٹیم میں منتخب ہونے کی خوشخبری کیسے ملی؟
محمد عرفان: قومی ٹیم انگلینڈ گئی ہوئی تھی وہاں ایک کھلاڑی کے زخمی ہونے پر ٹیم انتظامیہ نے پاکستان سے متبادل کھلاڑی بھجوانے کیلئے کہا۔اس وقت این سی اے کے کوچ تھے مہتشم ر شید۔ انہوں نے مجھے سب سے پہلے بتایا کہ ’’اوئے لمیا مبارک ہوئے تینوں ٹیم لئی بلایا اے‘‘ وہ لمحہ بڑا ہی یاد گار تھا ۔ پاکستان ٹیم میں نام آنے کا سن کر میں تین دن تین راتیں میں خوشی سے سو نہیں سکا اور جب میچ کا وقت آیا تو مجھے نیند آنے لگی۔
سوال: جب آپ کوقومی کرکٹ ٹیم میں طلب کیا گیا تو یہ آپ کیلئے خاصی حیران کن بات نہ تھی؟
محمد عرفان: جی نہیں، کیونکہ جب میں نے کرکٹ کے کھیل کو سنجیدگی کے ساتھ اپنانے کا فیصلہ کیا تو پھر میر ا اولین مقصد صرف پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کرنا تھا میں بچپن سے ہی سخت محنت کرنے کا عادی ہوں اور میرے اندر آخری گیند تک لڑنے کا جذبہ اور چیلنج قبول کرنے کی عادت ہے مجھے اچھی طرح علم تھا کہ اگر میں نے تسلسل کے ساتھ اپنی انتھک محنت کا سلسلہ جاری رکھا تو مجھے اللہ تعالیٰ ضرور اس کا صلہ دے گا میں نے اس یقین کے ساتھ سنجیدگی سے سخت محنت شروع کی تھی کہ مجھے ایک نہ ایک دن پاکستانی ٹیم کیلئے ضرور طلب کر لیا جائے گا جس یقین کے ساتھ اور جس طرح سخت محنت کے ساتھ میں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی تھی اسے دیکھ کر یہ امکان کافی روشن تھا کہ میں پاکستان کیلئے کھیل سکتا ہوں لیکن یہ بات بھی ہے کہ میں نے اتنی جلدی پاکستان کی نمائندگی کرنے کا کبھی نہیں سوچا تھا یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے میرے مقصد کے حصول میں جلد ہی سر خرو کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے میری سخت محنت کا صلہ پاکستان کی نمائندگی کی شکل میں دیاہے۔
سوال: وہ کون سی پرفارمنس تھی جس کے بل بوتے پر آپ کوپاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے سلیکٹ کیا گیا تھا؟
محمد عرفان: میں نے 2009 کے فرسٹ کلاس سیزن میں 43 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ اس پرفارمنس کی بنیاد پر ہی سلیکٹروں نے مجھے 2010 میں انگلینڈ کا ٹور کرنے والی پاکستان ٹیم میں سلیکٹ کیا تھا۔
سوال: قومی ٹیم کے ساتھ ڈریسنگ روم میں پہلا دن کیسا تھا؟
محمد عرفان: ظاہر ہے اس وقت بڑے بڑے نام تھے یونس خان، عمرگل، شعیب ملک، شاہد آفریدی تھے اور میں نیا تھا ڈرا ہوا تھا تو کسی سے بات نہیں کرتا تھا زیادہ وقت خاموش رہتا تھا۔ جھجھک بھی تھی لیکن پھر شاہد آفریدی نے حوصلہ دیا وہ کپتان بھی تے تو وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ کوئی بات نہیں سارے تمہارے جیسے ہی ہیں ہنسی مذاق سے رہنا ہے خاموش نہیں رہنا۔
سوال: ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو پر آپ انگلینڈ کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر سکے تھے اور اس ٹور کے بعد آپ کو ڈاپ کر دیا گیا تھا تو اس وقت آپ کیا سوچ رہے تھے ؟
محمد عرفان: انگلینڈ کے خلا ف اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہ منوا سکنے پر مجھے اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔ قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد میں خاصا پریشان تھا۔ ان دنوں میرے کوچ ندیم اقبال نے میری ہمت بندھائی اور میری خامیوں پر ورک آؤٹ کر کے ان کو دور کرانے میں میری مدد کی۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں عاقب جاوید نے بھی میری بڑی مدد کی اور مجھے پھر سے عمدہ کارکردگی دکھانے کیلئے تیار کیا۔
سوال: 2010 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت سے قبل تک تو عرفان ایک گمنام کرکٹر تھا لیکن بھارتی سرزمین پر موقع ملتے ہی آپ شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے،دورۂ بھارت فاسٹ باؤلرز بالخصوص نوجوان فاسٹ باؤلرز کیلئے کڑا امتحان ہوتا ہے تو آپ نے اس امتحان میں کامیابی کیلئے کیا منصوبہ بندی کی تھی؟
محمد عرفان: انڈیا کے ٹور پر جانے والی پاکستان کرکٹ ٹیم میں جب میری واپسی ہوئی تو کوچ ڈیواٹمور اور ٹی ٹونٹی کے کپتان محمد حفیظ بھائی اور ون ڈے کے کپتان مصباح الحق نے میرا بڑا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے مجھے بھارتی بلے بازوں کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں بتایا اور سخت محنت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ بھارت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے بھی مجھے مفید مشورے دیئے۔ وسیم اکرم نے مجھے بھارتی بلے بازوں کی کمزور یوں کے بارے میں بتایا میں آؤٹ سوئنگرز کرتا ہوں اور مجھے وسم اکرم نے اِن سوئنگ پر محنت کرنے کا مشورہ دیا اور پھر اپنے قد اور کریز کے استعمال کے بارے میں بھی مفیدباتوں کے متعلق بتایا۔ انڈیا کے ٹور پر میری کامیابیوں میں کنگ آف سلطان وسیم اکرم کے مفید مشوروں کا اہم کردار تھا۔ انڈیا کے ٹور نے ہی مجھے زیرو سے ہیرو بنایا تھا۔جس پر میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔
سوال:اس وقت آپ کونسے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کھیل رہے ہیں ؟
محمد عرفان: میں پہلے کے آر ایل کی طرف سے کھیلتا تھا اب واپڈا کی طرف سے کھیلتا ہوں وہاں میرا 18 واں سکیل اور 70 ہزار ماہانہ تنخواہ ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں فاسٹ باؤلنگ کے کیا تصورات ہیں؟
محمد عرفان: میں سمجھتا ہوں کہ فاسٹ باؤلنگ دراصل جارحانہ پن کا دوسرا نام ہے اور فاسٹ باؤلرز کو یہ بات یقینی بنانا پڑتی ہے کہ میدان میں کھڑے بلے باز کسی بھی لمحے پر سکون نہ رہ سکیں، میں سمجھتا ہوں کہ میرے پاس مخالف بلے بازوں کو بے سکون اور پریشانی میں مبتلا کرنے کیلئے کچھ خاص گیندوں کا ہتھیار موجود ہے۔ میں اپنی ان سوئنگ پر بھی کافی محنت کر رہا ہوں جو کہ میرا مثبت پوائنٹ ہے میں اپنے سینئرز اور کوچز سے مسلسل رابطہ میں ہوں اور نیٹ پر سخت محنت کرتا ہوں میں اپنی گیندوں کے تنوع پر کام کرتا ہوں اس سلسلے میں بھی سینئرز سے گفت وشنید کرتا ہوں کہ میں گیند کو درست جگہ پر گرانے میں کامیاب رہوں۔ میں اپنے سینئرز سے اپنی باؤلنگ کے متعلق پوچھتا ہوں اور وہ میری مدد اور حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے مفید مشورے بھی دیتے ہیں کہ کریز کس طرح استعمال کی جاتی ہے گیند کو کس جگہ پھینکنا ہے اور یہ باتیں مجھے ذہنی طور پر مضبوط کر رہی ہیں۔
سوال: آپ کی باؤلنگ کا اصل فلسفہ کیا ہے؟
محمد عرفان: میرافلسفہ بڑا سادہ اور آسان ہے مثبت اپروچ کے ساتھ لائن ولینتھ پر گیندیں کرتے رہو میں سمجھتا ہوں کے بنیادی طور پر کسی بھی فاسٹ باؤلر کی پہلی کوالٹی اس کی توجہ ہوتی ہے آپ خواہ کتنے ہی عمدہ باؤلر ہیں مگر آپ توجہ کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کر رہے اگر آپ کی لائن ولینتھ پر اور مخالف بیٹسمین کی خامیوں پر گہری نگاہ نہیں تو آپ ہاتھ آنے والے مواقع بھی کھو بیٹھیں گے لہٰذا میری اولین ترجیح ہمیشہ سے یہی توجہ رہی ہے توجہ محض ایک لفظ ہے مگر میں اسے بہت زیادہ اہمیت دیتا ہوں میں میدان میں جا کر پوری توجہ کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ سنجیدگی اور توجہ ہی میری باؤلنگ کا اصل فلسفہ ہے۔ توجہ، سنجیدگی اور عمدہ لائن ولینتھ کی بدولت ہی کورنٹی والش، وقار یونس اور وسیم اکرم نے وکٹوں کے ڈھیر لگائے ہیں ان عظیم باؤلروں نے مسلسل توجہ کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہی کامیابی حاصل کی تھی۔
سوال: موجودہ کرکٹ میں دنیا بھر کی وکٹیں بلے بازوں کے حق میں بنائی جا رہی ہیں کیا آپ کو یقین ہے کہ ایسے میں فاسٹ باؤلرز کے کھیل میں کوئی جگہ رہ گئی ہے؟
محمد عرفان: فاسٹ باؤلرزکی جگہ تو ہمیشہ سے ہی رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ میرے خیال میں تو فاسٹ باؤلرز ہی اصل کرکٹ کا حُسن ہیں اگر کسی ٹیم میں فاسٹ باؤلرز شامل نہ کئے جائیں تو مخالف ٹیم کے بلے بازوں کا آدھا خون بڑھ جائے اور وہ آؤٹ ہونے کا نام ہی نہ لیں۔ آج کل کرکٹ اتنی فاسٹ ہو چکی ہے کہ جو ٹیم اچھے فاسٹ باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترتی ہے کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے کیونکہ فاسٹ باؤلرز ہی اسپنرز کیلئے اسٹیج تیار کرتے ہیں کہ وہ بعد میں آکر اپنا کام انجام دیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کرکٹ فاسٹ باؤلرز کے بغیر بالکل ادھوری ہے۔
سوال: یہ بتائیں کہ کیا ایک فاسٹ باؤلر کیلئے نئی گیند سے باؤلنگ کرنا آسان ہوتا ہے؟
محمد عرفان: میرے خیال میں تو کرکٹ میں آسان کوئی چیز بھی نہیں آپ کسی بھی شعبے میں ہوں محنت کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ نئی گیند سے فاسٹ باؤلرز کو رفتار کے لحاظ سے مدد مل جاتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی گیند کو کنٹرول کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔
سوال: کرکٹ کا کھیل جو کہ بلے بازوں کی حمایت کرتا دکھائی دے رہا ہے آپ جیسے فاسٹ باؤلرز اس ماحول میں خود کو کس طرح متحرک رکھتے ہیں؟
محمد عرفان: میں سمجھتا ہوں کہ مجھ میں رنز روکنے اور وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مجھے عمدہ لائن ولینتھ کے ساتھ باؤلنگ کرنا پسند ہے۔ آپ کوبین الاقوامی معیار پر کامیابی کیلئے چند خصوصیات کا حامل ہونا ضروری ہے۔ میں کسی حد تک ایک منظم کھلاڑی ہوں میرے پاس ٹمپرا منٹ موجود ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دن بدن ہر چیز بلے بازوں کے حق میں جارہی ہے۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر لوگ گیند کو چھکے کے لئے روانہ ہوتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ بیٹسمین کو بولڈ ہوتے، ایل بی ڈبلیو اور وکٹوں کے عقب میں کیچ ہوتا دیکھیں۔ میں خود کو متحرک رکھنے کیلئے ذہن سے ہر چیز نکال کر صرف کامیابی سے آگے بڑھنے کے بارے میں سوچتاہوں۔ مجھے سخت محنت اور نظم وضبط کے ساتھ کھیلتے ہوئے لطف محسوس ہوتا ہے۔ کامیابی کا راستہ صلاحیت، سخت محنت اور اپنے آپ پر یقین رکھنے سے ہی آسان ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ایک چیز اپنی جگہ پر نہ ہو تو پھر کامیابی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔اپنے ملک کیلئے کھیلتے ہوئے آپ میں خود بخود تحریک پیدا ہوتی رہتی ہے اور میں توکرکٹ کے کھیل سے جنون کی حد تک محبت بلکہ عشق کرتاہوں۔ اسی لئے میں نے اس کھیل کا انتخاب کیا تھا۔ کرکٹ ہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے یہی محبت اور وطن پاک کی خدمت کا جذبہ ہی مجھے ہر وقت متحرک رکھتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فاسٹ باؤلنگ ایک مشکل ترین آرٹ ہے اور میں اس آرٹ کو دل وجان سے عزیز رکھتا ہوں۔ مجھے میچز جتوا کر جو طمانیت حاصل ہوتی ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ زخم اور چوٹیں فاسٹ باؤلر کی زندگی کا حصہ ہیں۔
سوال: آپ پی ایس ایل میں ملتان سلطان میں کیسے شامل ہوئے؟
محمد عرفان: وسیم اکرم نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں مجھے اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں شامل کرایا تھا اس کے بعد انہوں نے ہی مجھے ملتان سلطان کی ٹیم میں شامل کرایا۔ملتان سلطان نے مجھے گولڈ کیٹگری میں منتخب کیا۔
سوال:پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے دوران آپ پر فکسنگ الزامات کے بعد جو پابندی لگی تھی تو آپ کو اپنا مستقبل کیسا نظر آ رہا تھا؟
محمد عرفان: مجھے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا تھا۔چھ ماہ کی پابندی ایسے ہی تھی جیسے چھ سال کیلئے جیل ہو گئی ہے۔ وہ بہت مشکل دن تھے لیکن اس دوران میری فیملی اور دوستوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ لیکن وہ چھ ماہ میرے لیے خوش قسمت بھی ثابت ہوئے کیونکہ ان چھ ماہ میں میں نے اپنی فٹنس پر بھرپور توجہ دی اور جب ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس آیا اور پھر پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی دکھائی۔
سوال: جدید کرکٹ میں فاسٹ باؤلرز کیلئے سخت قوانین بنا دیئے گئے ہیں اس سے باؤلنگ کرانے میں مسئلہ نہیں ہوتا؟
محمد عرفان: اصل میں جب سے ٹی ٹونٹی کرکٹ آئی ہے یا ونڈے میچز میں پاور پلے کا طریقہ کار ہے ایک سے زیادہ باؤنس کرانے پر نوبال ہے زیادہ فل ٹاس گیند کو خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ ان سب میں بیٹسمین کیلئے فائدے ہیں کیونکہ اب انٹرٹینمنٹ زیادہ ہے، چوکے ، چھکے زیادہ لگیں تو تماشائی بھی خوش ہوتے ہیں۔ اب باؤلر ایک پیس سے گیند نہیں کر سکتا اسے ہر سپیل میں اپنا پلان بدلنا پڑتا ہے۔ اب باؤلر کو زیادہ سمجھداری سے گیند کرانی پڑتی ہے کبھی یارکر دی، کبھی فل لینتھ، کبھی شارٹ پچ اور کبھی ایکسٹرا باؤنس۔
سوال: آپ کی اپنی پسندیدہ گیند یا باؤلنگ ہتھیار کیا ہوتا ہے؟
محمد عرفان: دراز قد ہونے کی وجہ سے میں ایکسٹرا باؤنس گیند اچھی کراتا ہوں اور اسی کے ذریعے بیٹسمین کو لائن لینتھ میں گیند کراتا ہوں میرے ایکسٹرا باؤنس سے ہربلے باز پریشان ہوتا ہے جب بیٹسمین پریشان ہوتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے کپتان سے بھی یہی بات ہوتی ہے کہ وکٹ ٹو وکٹ بال کر کے بیٹسمین کو غلطی کرنے دو پھر وکٹ مل جاتی ہے۔
سوال: نئے ٹیلنٹ کے آنے اور بڑھتی عمر کی وجہ سے کیا آپ نہیں سمجھتے کہ طویل فارمیٹ کی بجائے آپ کی کرکٹ صرف ٹی ٹونٹی تک محدود ہو گئی ہے؟
محمد عرفان:عمر کا اتنا زیادہ نہیں ہوتا اگر آپ فٹ ہیں تو آپ پرفارم کر سکتے ہیں ہمارے سامنے مصباح الحق اور یونس خان کی مثالیں ہیں جو عمرکے زیادہ ہونے کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے رہے۔ ڈومیسٹک میں جو ون ڈے کپ ہوا تھا اس میں میری کارکردگی اچھی رہی تھی لیکن زیادہ فوکس ٹی ٹونٹی پر ہے جس میں اپنی پرفارمنس دکھا کر آپ اوپر آسکتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ میں جلد قومی ٹیم کا دوبارہ حصہ بنوں گا۔ سپیڈ بڑھانے کیلئے سپرنٹ کرتا ہوں جتنی زیادہ طاقت ہو گی اور جتنی زیادہ اچھی فٹنس ہو گی اتنی تیز رفتاری سے باؤلنگ ہو گی۔

سوال: آپ اب تک اپنے کیریئر کی بہترین ’’ڈلیوری‘‘ کسے سمجھتے ہیں؟
محمد عرفان: ورلڈ کپ کے میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف اوپنر بلے باز ڈی کاک کو دوسری ہی گیند پر آؤٹ سوئنگ بال پر آؤٹ کیا تھا جسے میں اپنی بہرتین اور یادگار ڈلیوری سمجھتا ہوں۔ جبکہ میری یادگار وکٹ 2012 میں کلکتہ ٹی ٹونٹی میچ میں بھارتی بلے باز ویرات کوہلی کی تھی۔ پاکستان میں مجھے سب لوگ کہتے تھے کہ ویرات کوہلی کو آؤٹ نہ کیا تو تمہارا سر پھاڑ دیں گے۔ ویرا کوہلی ایک بڑا بلے باز ہے اور اچھا انسان بھی ہے اسے آؤٹ کر کے مزا آیا۔
سوال: یادگار ٹور اور پسندیدہ سٹیڈیم کون سا ہے؟
محمد عرفان:میرا یادگار دورہ جنوبی افریقہ کا رہا۔ ون ڈے سیریز میں بہترین باؤلر کا ایوارڈ ملاتھا۔پسندیدہ سٹیڈیم اور گراؤنڈ جنوبی افریقہ کے سنچورین کی ہے جبکہ پاکستان میں مجھے ملتان کا کرکٹ سٹیڈیم پسند ہے۔ اس کا گراؤنڈ بھی اچھا ہے وہاں سہولیات اچھی ہیں اور خوبصورت بنا ہوا ہے۔
سوال: ڈریسنگ روم میں زیادہ بے تکلفی کن کھلاڑیوں کے ساتھ ہے؟
محمد عرفان: زیادہ تر مصباح بھائی، حفیظ بھائی اور سعید اجمل کے ساتھ میری بے تکلفی تھی۔ ان سے ہی مذاق چلتا رہتا تھا۔ جو جونیئر تھے ان میں سرفراز، اسد شفیق، انور علی الگ بیٹھ کر بھی گپ شپ اور شرارتیں کرتے رہتے تھے۔ مصباح اور حفیظ بھائی نے مجھے طنزاً ’’چھوٹو‘‘ کہنا شروع کیا تو وہ مشہور ہو گیا۔ بس پھر مجھے پور ی ٹیم میرے اصل نام کی بجائے ’’چھوٹو‘‘ کے نام سے ہی پکارتی تھی۔
سوال: اپنے کیریئر کے دوران آپ کو اکثر فٹنس مسائل کا سامنا رہا ہے تو اس سے کیسے نمٹتے تھے؟
محمد عرفان: دراز قد ہونے کی وجہ سے یہ مسائل ہوتے ہیں جو ہمارے ٹرینرز تھے ان کو بھی اتنا پتا نہیں تھا کیونکہ ان کا بھی زیادہ تر پانچ سے چھ فٹ کھلاڑیوں کے ساتھ ہی واسطہ رہا تھا۔ سات فٹ سے زیادہ کھلاڑی جس سے مضبوطی نہیں ملی رہی تھی اور تھکاوٹ زیادہ ہوتی تھی۔ جیسے ہی باہر کے ٹور کئے گوروں کے ساتھ ملا جو لمبے قد والے کھلاڑی تھے ان سے ملاقات ہوئی کچھ ان سے ٹپس لیں، کچھ این بی اے والوں کے ساتھ باسکٹ بال والوں سے بات کی تو انہوں نے مجھے ٹریننگ بتائی۔ دوگرے اگر دو گھنٹے ٹریننگ کرتے تھے تو مجھے اپنی فٹنس برقرار رکھنے کیلئے تین گھنٹے ٹریننگ کرنی پڑتی تھی۔
سوال: کون سے بیٹسمین کو باؤلنگ کرانا مشکل لگا؟
محمد عرفان شروع میں ویسٹ انڈیز بلے باز کرس گیل کو گیند کرانے میں گھبراہٹ ہوئی تھی لیکن بعد میں وہ بھی مشکل نہیں لگا۔ دوسرے بلے باز جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ ہیں وہ چونکہ اٹیکنگ کرکٹ کھیلتا ہے اس لیے اسے بعض اوقات مشکل ہو جاتی ہے۔
سوال: اچھا عرفان بھائی یہ بتائیں کہ آپ کی شادی گھر والوں کی پسند سے ہوئی تھی یا پھر آپ نے لو میر ج کی ہے؟
محمد عرفان: میری شادی 18نومبر 2011 کو گھر والوں کی پسند سے ہوئی تھی میری بیگم کا نام سعدیہ ہے اور وہ حافظ قرآن ہیں۔ میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ٹریننگ کر رہا تھا کہ مجھے گاؤں سے فون آیا تو سب سے پہلے امی نے مجھے بتایا کہ بیٹا ہم نے آپ کی منگنی کر دی ہے اور جلد ہی تمہاری شادی کردیں گے۔ میں نے صرف اتنا پوچھا تھا کہ کہاں پر میرا رشتہ طے کیا ہے تو ابو نے بتایا تھا کہ ماچھی وال میں۔ میری اور سعدیہ کی منگنی تقریباً ساڑھے تین ماہ تک رہی تھی اس دوران میں نے سعدیہ سے تین یا چارمرتبہ ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ اس دوران ہم نے ایک دوسرے کی پسند کی چیزوں کے بارے میں پوچھا تھا۔ شادی کے دن میں نے بوسکی کی شلوار قمیض زیب تن کی تھی۔دودھ پلائی کی رسم ہوئی تھی بیگم سعدیہ کی بہنوں اور سہیلیوں نے مجھ سے پانچ ہزار روپے بطور لاگ مانگا تھا جومیں نے فوری طور پر ادا کر دیا تھا۔ پھر جوتا چھپائی کی رسم ہوئی تھی تو میں اپنے ساتھ ایک اضافی جوتا لے کر گیا تھا کہ اگر سالیوں نے زیادہ رقم کا مطالبہ کیا تو اضافی جوتا گاڑی سے نکال کر پہن لوں گا۔ لیکن 10 ہزار روپے میں ہی میری جان چھوٹ گئی تھی۔ شادی کے فوری بعد میں نے لاہور پہنچ کر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کیمپ جوائن کر لیا تھا۔ میں نے بیگم سے کہا تھا کہ جب بھی ٹائم ملے گا امی اور ابو کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کیلئے جائیں گے۔ پھر رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی میں اپنی بیگم اور امی، ابو سمیت عمرہ کی ادائیگی کیلئے گیا تھا۔ خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ پر جب پہلی نظر پڑی تو اس وقت میرے دل کی جو کیفیت تھی وہ بیان سے باہر ہے، دل پُر سکون ہو گیا تھا۔خانہ کعبہ اورروضہ رسولؐ پر گزرا وقت میری زندگی کا بہترین وقت ہے۔
سوال: عرفان آپ سے بیگم کس چیز کی زیادہ فرمائش کرتی ہیں؟
محمد عرفان: بیگم ہمیشہ خرچے والی باتیں کرتی ہے۔ اتنے زیادہ کپڑے ہونے کے باوجود بھی ہمیشہ کپڑوں کی کمی کی شکایت کرتی ہیں۔ میں اکثر یہ کہہ کر ٹال دیتا ہوں کہ پاکستان ٹیم کے ٹور سے واپس آکر اکٹھے شاپنگ کریں گے اور آپ کو ڈھیر سارے کپڑے خرید کر دوں گا۔
سوال: بیگم کے ساتھ شاپنگ کرنا کیسا لگتا ہے؟
محمد عرفان: مجھے ہاشم آملہ، اے بی ڈویلئر، ڈیوڈ وارنر، کرس گیل، مارٹن گپٹل اور ویرات کوہلی جیسے بہترین بیٹسمینوں کو باؤلنگ کرنا تو آسان لگتا ہے مگر بیگم کے ہمراہ شاپنگ کرنا بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ بیگم شاپنگ کے دوران بہت زیادہ خرچہ کراتی ہیں۔ پھر لوگ بھی آٹو گراف لیتے ہیں اور تصاویریں بھی بنواتے ہیں جس سے بیگم ڈسٹرب ہوتی ہے۔ اس لیے میں بیگم کو پیسے دے دیتا ہوں وہ خود شاپنگ کر لیتی ہیں۔
سوال: آپ اپنے لیے شاپنگ کہاں سے کرتے ہیں؟
محمد عرفان: میرے سائز کی چیزیں پاکستان سے مشکل سے ہی ملتی ہیں اس لیے اپنی شاپنگ دبئی اور انگلینڈ سے کرتا ہوں۔ جوتے اور جینز کی پینٹیں اسپیشل آرڈر پر تیار کرواتا ہوں۔
سوال: عرفان بھائی آپ کو اہلیہ، گھر والے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھی کھلاڑی کس نام سے پکارتے ہیں؟
محمد عرفان: امی، ابو، بہن، بھائی سمیت گاؤں کے لوگ مجھے میرے نک نیم ’’فوما‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ میری بیگم مجھے عرفان کہہ کر پکارتی ہیں جبکہ قومی کرکٹ کے ساتھی کھلاڑی مجھے ’’چھوٹو‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں ۔ چھوٹو کا لقب مجھے حفیظ بھائی نے دیا ہے جس کو میں خوب انجوائے کرتا ہوں۔
سوال: کن باتوں پر آپ کا دل اداس ہو جاتا ہے؟
محمد عرفان: اَن فٹ ہو کر ٹیم سے باہر ہونے پر دل اداس ہو جاتا ہے یہی سوچتا ہوں کہ جلد از جلد مکمل فٹ ہو کر قومی ٹیم کا حصہ بن کر مخالف بلے بازوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی فتح کا پرچم بلند کروں۔ اَن فٹ ہونے پر یوں محسوس کرتا ہوں جیسے کہ زخمی پرندہ اپنی اُڑان بھول گیاہو۔
سوال: غیر ملکی ٹورز پر کس کو مس کرتے ہیں؟
محمد عرفان: اپنی بیگم کے ہاتھوں کی بنی ہوئی مٹن کڑاہی اور چکن بریانی جو مجھے بے حد پسند ہے کو بڑا مس کرتا ہوں۔
سوال: آپ کس قسم کی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں اور آپ کے پسندیدہ اداکار اور اداکارائیں کون سی ہیں؟
محمد عرفان: مجھے فائٹنگ فلمیں اچھی لگتی ہیں بالخصوص مارش آرٹس کے فن سے بھرپور فلمیں دیکھتا ہوں۔ بروسلی، جیکی چن پسندیدہ اداکار ہیں۔ انڈین اداکاروں میں مجھے شاہ رخ خان اور عامر خان کی اداکاری اچھی لگتی ہے۔
سوال: میوزک سے کتنا لگاؤ ہے اور پسندیدہ سنگرز کون سے ہیں؟
محمد عرفان: میوزک سے بہت زیادہ لگاؤ نہیں ہے۔ ابرارالحق کے گانے زیادہ تر دیسی ٹاپ ہوتے ہیں اور میری بیک گراؤنڈ چونکہ پنجابی فیملی اور گاؤں سے ہے اس لیے انہی کے گانے زیادہ تر پسند ہیں۔
سوال: آپ کو موسم کون سا اچھا لگتا ہے؟
محمد عرفان: جب دل کا موسم اچھا ہو تو پھر سارے موسم ہی اچھے لگتے ہیں۔ ویسے مجھے مارچ، اپریل، اکتوبر اور نومبر کے مہینے اچھے لگتے ہیں کیونکہ ان میں باؤلنگ کرنے کا بے حد مزا آتا ہے۔
سوال: شادی کے بعد زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
محمد عرفان: شادی سے پہلے زندگی میں ڈسپلن نہیں تھا، لیکن اب ڈسپلن آگیا ہے ہر کام بیگم سے مشورہ کر کے کرتا ہوں۔
سوال: آپ کی کامیابیوں کا راز کیا ہے؟
محمد عرفان: یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو میری کامیابی کے پیچھے ایک نہیں بلکہ دو عورتوں کا ہاتھ ہے۔ پہلی میری ماں مختار بی بی اور دوسری میری اہلیہ سعدیہ۔ ان کے علاوہ میرے والد محترم چوہدری محمد
اسلم اور میرے اُستاد ندیم اقبال صاحب،وسیم اکرم اور عاقب جاوید صاحب نے بھی میری کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سوال: کرکٹ کے کھیل میں آپ نے اپنے لئے کن منزلوں کا تعین کر رکھا ہے؟ آپ کہاں تک جانے کے خواہشمند ہیں؟
محمد عرفان: میری یہی خواہش ہے کہ میں جتنی بھی کرکٹ کھیلوں عزت کے ساتھ کھیلوں اورجب کرکٹ چھوڑوں تو میرا شمار کامیاب باؤلرز میں کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے میں سخت محنت کر رہا ہوں۔ویسے کرکٹ میں تو ہر کھلاڑی کو ہر میچ میں پرفارم کرنا پڑتا ہے ہر ایک میچ نیا ہوتا ہے اور صورتحال مختلف ہوتی ہے مگر آپ نے اپنے لئے بعض منزلوں کا تعین کر رکھا ہوتاہے جن تک رسا ئی کیلئے مسلسل محنت لازمی ہوتی ہے جو میں کر رہا ہوں میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں اب تک اپنی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ابھی بہت زیادہ بہتری کی گنجائش ہے میری آرزو میری تمنا میری خواہش بس یہی ہے کہ جس طرح وسیم اکرم اور وقار یونس نے پاکستان کیلئے فتوحات حاصل کیں اور شہرت حاصل کی میں بھی اسی راہ پر چلتے ہوئے پاکستان کیلئے فتوحات حاصل کرنے کا متمنی ہوں۔
سوال: انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعدکیا کرنے کا ارادہ ہے؟
محمد عرفان ابھی تو کوشش ہے کہ پاکستانی ٹیم کی طرف سے کھیلتا رہوں جب میں دیکھوں گا کہ پرفارمنس اچھی نہ رہی تو پھرمختلف ممالک میں ہونے والیT20 لیگ کرکٹ کھیلوں اور اس کے بعد کوچنگ کورس کروں گا اور اپنے گاؤں میں کرکٹ اکیڈمی بناؤں گا اور بچوں کو کرکٹ سیکھاؤ ں گا۔
سوال: آپ کی کوئی ایسی آرزو یا تمنا جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
محمد عرفان: کرکٹ کیریئر ختم کروں تو لوگ مجھے میچ ونر باؤلر کے ساتھ ساتھ انسان دوست شخص کے طور پر بھی یاد کریں۔ میں مستقبل میں اپنے گاؤں میں ایک عالمی معیار کا جنرل ہسپتال بنانا چاہتا ہوں جہاں پر غریبوں کو علاج و معالجے کی مفت سہولیات میسر ہوں گی۔ اس طرح ایک سکول بھی قائم کروں گا جہاں پر بچوں کو مفت تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی قوم کو تعلیم کی روشنی سے منور کیا جا سکے۔
سوال: آپ کی زندگی کا اصول کیا ہے؟
محمد عرفان: جو کام بھی کرو بڑی سنجیدگی کے ساتھ سخت محنت اور لگن کے ساتھ کرو۔ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھو کیونکہ وہ جسے چاہے عزت سے نوازے اور جسے چاہے ذلت دے۔ بڑوں اور والدین کا ادب و احترام کرو۔ وقت کی پابندی کرو۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے