Voice of Asia News

عید کے موقع پر کشمیری قیدیوں کو رہا کیا جائے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک

سری نگر(وائس آف ایشیا) جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کشمیری اسیروں کی حالت زار اور عید کے موقع پر انہیں رہا کردینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جیلوں میں قید کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے مظالم غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہیں۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ کشمیر کو ایک پولیس ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کسی کو اپنی بات کہنے کا کوئی حق نہیں بلکہ جہاں ہر مخالف سیاسی آواز کو فوجی اور پولیسی طاقت سے خاموش کرنے کا دور دورہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہزاروں کشمیری تہاڑ جیل جیسے جیلوں اور امپھالہ جموں ،کورٹ بلوال، ادھمپور، کٹھوعہ،ہیر انگر اور کشمیر کی مختلف جلوں میں تکالیف برداشت کرنے پر مجبور کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال کے بچے سے لیکر سال کے بزرگ اور علیل خواتین تک کو جیلوں اور قید و بند میں جکڑا گیا ہے اور آج بھی روزانہ کی بنیاد پر مزید لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں کی نذر کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اپنی فورسز اور ایجنسیوں جن میں این آئی اے اور ای ڈی بھی شامل ہے کو استعمال میں لاکر سینئر مزاحمتی قائدسید شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، اکبرایاز، پیر سیف اللہ، راجہ میرج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ،شاہد یوسف شاہ وغیرہ کو بے بنیاد کیسوں میں پھنسا کر نیز سرینگر سے اغوا کرنے کے بعد دہلی کے تہاڑ جیل میں مقید کررکھا ہے جہاں ان کے ایام اسیری کو طول دینے کیلئے نت نئے حربے آزمائے جارہے ہیں۔اسی طرح درجنوں کشمیر ی جن میں ڈاکٹر قاسم فکتو، ڈاکٹر شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، شوکت احمد خان، عبدالغنی گونی، لطیف احمد واجا، جاوید احمد خان، محمود ٹوپی والا، افتخار مرزا، فیروز احمد، پرویز احمد، طارق احمد ، منظور احمد ، محمد اسلم وانی،مظفر احمد ڈار، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، شوکت احمد خان، غلام،مراز نثار حسین، لطیف احمد وازہ ، محمد لطیف بڈگام وغیرہ قابل ذکر ہیں کو عمر قید کی سزائیں سناکر پس زندان کررکھا گیا ہے اور ان میں سے کئی ایک کو اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور جیلوں میں ڈال کر مذید تکلیف میں مبتلا کررکھا گیا ہے۔کئی دوسرے کشمیری بھی ہیں جن میں مسرت عالم بٹ، سراج الدین میر، عبدالرشیدمغلو، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف فلاحی، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، طارق احمد ڈار، مولانا سرجان برکاتی، اسداللہ پرے، شوکت حکیم ،محمد خان سوپوری ،محمد رمضان خان ،بلال احمد کو ٹہ، فاروق تو حیدی، علی محمد بٹ ، محمد یوسف میر شکیل احمد بٹ، عبدالغنی، محمد سبحان وانی اور دوسرے قابل ذکر ہیں جنہیں کالے قوانین پی ایس اے یا دوسرے الزامات کے تحت جیلوں اور پولیس تھانوں کی نذر کردیا گیا ۔ مزید برآن کچھ اور بھی معصوم ہیں جن میں شہر خاص سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ بچے قابل ذکر ہیں کہ جنہیں ڈی ایس پی قتل کیس میں ملوث ٹھہرا کر جیل خانوں کی نذر کردیا گیا ہے جنہیں فرضی اور من گھڑت کیسوں میں الجھا کر زندان خانون کی زینت بنادیا گیا ہے۔ یاسینملک نے کہا کہ ظلم کی حد یہ ہے کہ ایک علیل خاتون سیدہ آسیہ اندرابی کو دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہید نسرین کے ہمراہ کئی ماہ سے پولیس کے جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ یاسین ملک نے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر قائدین سراج الدین میر اور عبدالرشید مغلو بھی کالے قانون پی ایس اے کے تحت کورٹ بلوال جیل میں جبکہ ایک اور قائد شیخ نذیر احمد بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور جیلوں میں ان کی صحت بھی زور افزوں بگڑتی جارہی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے